☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ کھیل فیشن دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ
چور ، چوکیدار ، جیل اور’’ انتخابی ہتھیار ‘‘

چور ، چوکیدار ، جیل اور’’ انتخابی ہتھیار ‘‘

تحریر : طیبہ بخاری

04-14-2019

بھارت میں انتخابی دنگل شروع ہو چکا ہے پر چور ، چوکیدار، جیل اور ’’انتخابی ہتھیار‘‘ کا کھیل جاری ۔۔۔ الزامات کا رُخ ایک بار پھر پاکستان کی جانب ۔۔۔انتہا پسندوں کا ’’نیا پینترہ‘‘ ہندو اپنے ہی دیس میں غیر محفوظ ہیں، مسلمانوں سے نفرت کے نام پر ووٹ دو ۔

مودی کو 3 خواتین سیاسی رہنمائوںممتا بینر جی ، مایاوتی اور پرینکا گاندھی کی ’’ٹرائیکا ‘‘ کی کڑی ٹکر کا سامنا ۔ ۔ ۔ اب کی بار لوک سبھا کے انتخابات صرف بھارت کے اگلے وزیر اعظم کا ہی نہیں بلکہ یہ فیصلہ بھی کریں گے کہ چور کون ہے اور چوکیدار کون ۔ ۔ ؟کون ایوان میں ہو گا اور کون جیل میں ۔۔۔ یہ فیصلہ کریں گے صرف اور صرف بھارتی عوام اور ان کے ووٹ اگر دھاندلی نہ ہوئی تو ۔ ۔ کیونکہ بھارتی الیکشن کمیشن پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی مسلسل شکایتوں کا بوجھ بڑھتاجارہا ہے۔اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن کی طرف سے حکمران جماعت (بی جے پی)کے رہنمائوں کیخلاف سخت کارروائی نہ کیے جانے سے ناراض ہیں اور کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کر رہی ہیں۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی الیکشن کمیشن نے ان تمام الزامات کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی ہے۔ مشن شکتی کے بعد قوم کے نام وزیر اعظم مودی کے خطاب کیخلاف اپوزیشن کی شکایت پر کمیشن نے مودی کو کلین چٹ دیدی۔اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کو مستقبل میں اپنی تقریر کے دوران محتاط رہنے کے لیے کہا گیا۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ان فیصلوں پر طنز کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا، کمیشن مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو’’ لو لیٹر‘‘ لکھ رہا ہے۔۔۔ ان ’’لو لیٹرز ‘‘ کی موجودگی میں بی جے پی الیکشن جیتے یا ہارے بات بہت آگے نکل چکی ہے ،

بھاجپا کا ’’زور ‘‘ اور ’’خوف ‘‘ تینوں خواتین رہنمائوں نے جنکا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے کافی حد تک توڑ چکی ہیں اور بی جے پی معاملات کو دوبارہ حکومت سازی تک لیجانے میںکامیاب ہو بھی گئی تو تب بھی یہ تینوں خواتین رہنما اس کے زور کے سامنے دیوار بن کر کھڑی رہیں گی ۔۔۔ شائد یہی خطرہ اور اس سے متعلقہ کئی اور دیگر خطرات ہیں کہ اندرونی صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خطرہ بتا کر ’’انتخابی ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کرنی کی سازشیں رچی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔

پاکستان میں نئی قیادت کی جانب سے اس تمام صورتحال میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ بھارت ایک بار پھر کارروائی کرسکتا ہے۔۔۔جنگ ،دہشت اور خوف کے سائے ہیں کہ مسلسل پیچھا کر رہے ہیں امن کی فاختہ کا ’’تعاقب ‘‘ جاری ہے ۔ ۔ بھارت میںہر معاملے میںپاکستان کو کیوں گھسیٹا جاتا ہے تو جواب بس اتنا ہے کہ ’’سافٹ ٹارگٹ ‘‘ جو ہوا اور اکثریتی آبادی مسلمان ہے ، ایٹمی ملک ہے ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتا ہے ۔۔۔اس لئے انتخابی سودا بیچنا آسان ہے کہ پاکستان سے جنگ کیلئے ووٹ دو۔۔۔آخر کب تک بھارت میں پاکستان کو انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہیگا ، کب تک زندہ انسانوں کو نفرت کی آگ میں جلایا جاتا رہیگا۔۔۔

اس موضو ع پر لکھتے لکھتے قلم تھک چکے ، متعدد دانشور منوں مٹی تلے سو چکے ۔۔۔کئی نسلیں موت کی وادی میں منتقل ہو چکیں لیکن انتہا پسند سیاستدان اس ڈھول کو پیٹنے اور گلے سے اُتارنے کو تیار نہیں اُلٹا دوسروں کے گلے ڈالنے کی زبردستی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔جو امن کی بات کرتا ہے اس کیخلاف ’’ڈر‘‘ پھیلایا جاتا ہے ۔۔۔مثال کے طور پر’’کپتان ‘‘کو ہی لے لیجئے، بی جے پی کی جانب سے انتخابی ہتھیار کے طور پر اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ’’بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کی نسبت عمران خان سے زیادہ خطرہ ہے‘‘ جبکہ عمران خان امن کی جانب ایک قدم کے جواب میں دو قدم آگے آنے کی پیشکش کر چکے ہیں اور بارہا کر چکے ہیں،خیر سگالی کے طور پر اور جنگ کے خطرے کو ٹالنے کیلئے ابھی نندن کو بلا مشروط رہا کر چکے لیکن جواب میں ملی دھمکیاں،غیر یقینی صورتحال،پاکستانی قیدیوں کی لاشیں ۔ ۔

عمران خان کیسے بی جے پی کیلئے خطرہ ہیں اس کا حال احوال یہ ہے کہ گذشتہ دنوںبھاجپاکے چندبڑوں کا اہم اجلاس نئی دہلی میں ہوا جسکی صدارت وزیر اعظم نریندر مودی نے کی۔ مودی جی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے اہم مشاورت کی اور کہا کہ بی جے پی کو بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کی نسبت پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے زیادہ خطرہ ہے ۔کرتار پور راہداری کے حوالے سے عمران خان نے جو اقدامات کئے ان کا فائدہ کانگریس کوزیادہ ملا جبکہ بی جے پی نے راہداری کی تعمیر کے حوالے سے جو بھی کام کرنے کی کوشش کی ان سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا سکھوں کی حمایت بھی نہ مل سکی ۔

شائد یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت پاکستان پر جنگ کے سائے مسلط رکھنا چاہتی ہے اور بھارت کے اندرونی مسائل کی بجائے پاکستان سے جنگ کو اپنی انتخابی مہم کا ’’ہتھیار‘‘ بنائے ہوئے ہے۔ بھاجپا اس ہتھیار کا بھرپور اور سرعام استعمال کر رہی ہے ، بھارتی سیکولر جماعتیں اس کیخلاف لڑنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن عالمی سطح پر کوئی سیاسی طاقت اس ’’ہتھیار ‘‘ کیخلاف کھل کرسامنے نہیں آ رہی جس سے ایک اکیلا پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے کا امن عمل متاثر ہو رہا ہے ۔

پاکستان کی جانب سے بار بار اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ بھارت پاکستان میں’’ کارروائی‘‘ کرسکتا ہے اور اس حوالے سے قابل بھروسہ اطلاعات ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اطلاع کو عالمی برادری کے ساتھ شیئر کرے، ہم خطے میں امن چاہتے ہیں اسی ماہ 360 بھارتی قیدی رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ابھی بھارت میں انتخابات ہیں، الیکشن کے دوران بھارتی حکومت کی طرف سے ہمت اور جرأت کا مظاہرہ مشکل ہے لیکن انتخابات کے بعد کشمیر، پانی، سیاچن، راہ داری یہ مسائل بیٹھ کر بات چیت سے حل کیے جاسکتے ہیں، امید ہے بھارت اس اہمیت کو سمجھے گا۔ 71ء کے بعد پہلی مرتبہ ایل او سی کو عبور کیا جاتا ہے،

اس پر دنیا خاموش رہتی ہے، بہت سے ذمہ دار ممالک جانتے ہوئے کہ یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے پھر بھی خاموش رہتے ہیں۔۔۔ یہ خاموشی کیوں ہے، یہ جیو پولیٹیکس ہے جو خاموشی کی وجہ بن رہی ہے۔ عالمی برادری کو خطے کی حساسیت کو سامنے رکھتے ہوئے خاموش نہیں رہنا چاہیے، انہیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور کرنا چاہیے۔ پلوامہ واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی گنا شدت آئی ہے، جبر اور تشدد بڑھا ہے اور عالمی برادری کو اسے صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری جانب امریکی دفاعی حکام کی تصدیق کے بعد کہ پاکستانی بیڑے میں سے ایک بھی F-16 جہاز کم نہیں ، پاکستان کا طیارہ گرانے کا بھارتی دعویٰ بے نقاب ہوگیا اور جنگی جنون کو ہوا دے کر انتخاب جیتنے کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی کوشش بھی ناکام ہوگئی۔امریکی جریدے ’’فارن پالیسی ‘‘کے مطابق امریکہ کے محکمہ دفاع کے اہلکاروں نے حال ہی میں پاکستانی ایف 16 طیاروں کی گنتی کی اور وہ تعداد میں پورے ہیں۔

پلوامہ ڈرامہ ناکامی چھپانے کیلئے رچایا گیا

پاکستان سے ہی نہیں بھارت سے جھوٹ کیخلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں جو کسی ایک ملک کے حق میں نہیں بلکہ خطے کے مفاد اور ایک ایسی جماعت کیخلاف ہیں جس کے باعث سب کا مستقبل دائو پر لگا ہے۔ انتخابی نتائج کچھ بھی ہوں ، بر سر اقتدار کوئی بھی آئے ، نئی سمت کا تعین ہو چکا ہے ۔۔۔ذرا غور کیجئے کہ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کیا کہہ رہے ہیں ، انکے مطابق’’ پلوامہ ڈرامہ مودی نے اپنی ناکامی چھپانے کیلئے رچایاتھا، مودی ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں میں پوچھتا ہوں کہ کب تک جھوٹ بولتے رہوگے؟ پارلیمنٹ کے آخر ی دنوں میں مودی کو جب دیکھتا تھا توان کا سر جھکا ہوتاتھا،ایسا لگتا تھا کہ انہیں محسوس ہورہا ہو کہ ان کاتختہ اُلٹ رہاہے۔

اراکین کہتے تھے یہ ضرور کوئی تماشہ کریگا، پاکستان پر حملہ کریگا۔ بالا کوٹ واقعہ ہوا، اب امریکی سرکار نے بیان دیا ہے جتنے بھی ایف سولہ پاکستان کے پاس بالکل ٹھیک ہیں، ایک بھی نہیں گراہے، جھوٹ کی بھی بنیاد ہوتی ہے، مودی جی،کب تک جھوٹ بولتے رہوگے۔ جو بھی سرکار کل آئیگی دلی میں، خدا کرے یہ نہ آئے وہ پاکستان سے ضروربات کریگی۔ کشمیر کامسئلہ پہلے نمبر پر ہوگا، کشمیری نہ غلام تھے اور نہ کبھی غلام رہیں گے۔‘‘

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی جو ریاست میں بی جے پی کی اہم اتحادی تھیں نے ایک انتخابی ریلی میں کھل کر کہا ہے کہ اگر بھارت نے کشمیر کو خصوصی اختیارات دینے والی دفعہ 370 کو ختم کر دیا تو وہ کشمیر سے اپنا رشتہ کھو دیگا اور اس کی حیثیت اسرائیل کی طرح قابض ملک کی ہوگی۔علاوہ ازیں مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنمائوں کی جھوٹے فنڈنگ کیسز میں گرفتاریوں اور حریت جماعتوں پر پابندیوں کا نئی سازش پر کام شروع کر دیا ہے جس کیخلاف شدید غم و غصے اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔

ممتا ، مایا اور پرینکا گیم کا پانسہ پلٹ سکتی ہیں

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کیلئے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں لیکن اس مرتبہ کامیابی کیلئے انہیں بھارت کے اندر سے وہ حمایت اور مقبولیت حاصل نہیں جو 2014ء میں تھی۔ بھارت کی 3 اہم اور سیاسی طاقت کی حامل خواتین ڈٹ کر کھڑی ہیں جنہیں مودی کی وزارت عظمیٰ کی راہ میں بڑی رکاوٹ کہا جارہا ہے ۔لوک سبھا الیکشن 11 سے 19 اپریل تک 7 مراحل میں ہونیوالے ہیں، تینوں خواتین کی مقبولیت اور عوامی سطح پر پذیرائی بی جے پی کیلئے درد سر بن چکی ہے اور یہ تینوں خواتین بی جے پی کی الیکشن گیم کا پانسہ پلٹ سکتی ہیں ،

ان میں سرفہرست ممتا بنرجی ہیں جو گذشتہ 5 سال سے مغربی بنگال کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں 64 سالہ ممتا بنرجی کا شمارمودی کی سخت ترین مخالفین میں ہوتا ہے جو نہ صرف اُن پر کھلم کھلا تنقید کرتی ہیں بلکہ نئے سیاسی اتحادوں کی تشکیل میں بھی پیش پیش ہیں،عوامی مقبولیت کے پیش نظر ممتا بینر جی کی کامیابی کے دعوے کئے جارہے ہیں اور کہا جارہا ہے اگر ممتابنرجی کامیاب ہوگئیں تو حکومت سازی میں انکا اہم کردار ادا ہوگا اور وہ بی جے پی کو ٹف ٹائم دیں گی ۔

اُترپردیش کی سابق وزیراعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کی سربراہ مایاوتی دلت کمیونٹی کی واحد نمائندہ خاتون ہیں جن پر دلت آنکھیں بند کر کے یقین اور اعتماد کرتے ہیں،یو پی کی آبادی 200 ملین سے بھی زیادہ ہے جن میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 18 فیصد ہے مایاوتی کا مخلوط حکومت بنانے میں کلیدی کردار ہو گا۔ راجیو گاندھی کی صاحبزادی اور کانگریس رہنما راہول گاندھی کی بہن پرینکا گاندھی بھارتی سیاست کے رموز اور عوام کے مزاج سے بخوبی واقف ہیں، 47 سالہ پرینکا اتر پردیش میں کانگریس کی بھرپور اور پُرجوش نمائندگی کر رہی ہیں کیونکہ بھارتی پارلیمنٹ کی کل 543 میں سب سے زیادہ 80 نشستیںیو پی میں ہی ہیں،

کانگریس کی جنرل سیکرٹری اور مشرقی یوپی کا انچارج بنائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ لکھنوکے روڈ شو میں صوبے سے لاکھوں افراد شامل ہوئے جسے اس لئے نظر انداز کرنا مشکل ہے کہ نریندر مودی بھی یو پی کی بنارس نشست سے پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ اپنی دادی جیسا مزاج رکھنے والی پرینکا یوپی میں بی جے پی کو وہ نتائج آسانی سے حاصل نہیں کرنے دیں گی جنکی مودی سرکار کو اشد ضرورت ہے پرینکا بھارت کی 170 ملین مسلمان آبادی کیساتھ ساتھ ہندو اکثریت کو بھی کانگریس کی طرف واپس لاسکتی ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی کے بانیوں میں سے ایک، ایل کے ایڈوانی کی طرف سے لکھے گئے بلاگ کو وزیراعظم مودی پر ڈھکی چھپی تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کے قلعے میں دراڑ پڑ چکی ہے ۔

اپنے بلاگ میں 91 سالہ ایڈوانی لکھتے ہیں ’’تنوع کا احترام اور آزادی اظہار رائے انڈین جمہوریت کی روح ہے۔اپنے آغاز سے، بی جے پی نے سیاسی طور پر عدم اتفاق کرنے والوں کو کبھی ’’دشمن ‘‘ نہیں مانا بلکہ ہمیشہ مخالف سمجھا ہے۔ اسی طرح قوم پرستی کے تصور میں ہم نے سیاسی طور پر عدم اتفاق کرنے والوں کو کبھی ’’ملک مخالف ‘‘نہیں سمجھا۔‘‘بی جے پی نے ایڈوانی کو گجرات سے ٹکٹ نہیں دیا وہ گجرات سے 6 مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ ایڈوانی کے بلاگ کو نریندر مودی اور امت شاہ پر براہِ راست حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈوانی سینئر رہنما ہیں اوربی جے پی کے بانیوں میں انکا شمار ہوتا ہے ،انہوں نے جمہوریت کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ ہمارے موقف کی تائید کرتا ہے۔ بی جے پی اپنی انتخابی مہم میں نیشنل ازم کا سہارا لے کر مخالفین کو ملک دشمن بتانے میں لگی ہے ، اور بی جے پی کے کئیامیدواروں نے بھی کہا ہے کہ مودی کے مخالفین ملک کے دشمن ہیں۔ایسے پُرآشوب حالات میں ایڈوانی جیسے سنیئر رہنما کا بلاگ آنا اہمیت رکھتا ہے ۔‘‘

600فنکاروں کی بغاوت

دوسری جانب بالی وڈ کے معروف اداکار نصیر الدین شاہ سمیت بھارت کے 600 تھیٹر فنکار وں نے وزیر اعظم مودی کیخلاف مہم شروع کردی ہے۔ نصیرالدین شاہ سمیت سنجنا کپور، رتنا پاتھک اور کونکونا سین سمیت 600 سے زائد فنکاروں نے اپنے مشترکہ بیان میں موقف اختیار کیا کہ نفرت انگیز سیاست کو مسترد کردیں اور بے حسی کو طاقت سے باہر کریں۔فنکاروں کا یہ بیان 12 مختلف زبانوں میں شائع کیا گیا ہے ۔ فنکاروں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحفظ، مذہبی آزادی اور بربریت کے خلاف اور اندھیرے کو شکست دینے کیلئے ووٹ دیں مودی سرکار نے ’’ہندوتوا ‘‘کے غنڈوں کو کھلی چھٹی ہے، اختلاف رائے اور آزادی اظہار کے جمہوری حق کو کچل دیا گیا آئین اور جمہوری روایات کے تحفظ کیلئے بی جے پی کو شکست دینا عوامی فریضہ ہے۔

اپنا ووٹ بااختیار، تحفظ ماحول، تحفظ آزادی اور نشوونما والی سوچ کو دیں کیونکہ یہ انتخابات بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ مشکل ہیں۔ بی جے پی ترقی کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی لیکن اس نے آکر ہندو انتہا پسندی کو ہوا دی، وہ شخص (بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی) جس نے اپنے آپ کو قوم کا ہمدرد ہونے کا دکھاوا کیا اسی کی پالیسیز نے لاکھوں افراد کی جان لے لی ۔ بھارتی نظریہ اور آئین دھمکیوں کا شکار ہوچکا ہے اور آج گانا، رقص کرنا، ہنسنا سب ہی خوف کی زد میں ہے۔

کانگریس سے لوک سبھا کی امیدوار ارمیلا ماٹونڈکر نے بھی بی جے پی کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’میری انڈسٹری کمزور ہے۔لوگوں کو ملک کاغدار اور وطن چھوڑنے کو کہاجاتا ہے۔ ان کی حب الوطنی پر شبہ کیاگیا کیونکہ انہوں نے اپنے بچوں کے مستقبل کو لے کر تشویش ظاہر کی تھی۔‘‘۔۔۔۔یہی وہ نظریات ہیں جن پر اب بھارت میں کھل کر بات اور تنقید ہو رہی ہے اور جن پر خود بی جے پی کے اندر سے ایڈوانی اور دیگر رہنمائوں کی شکل میں آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں اور صاف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ اب ڈرایا دھمکایا نہیں جا سکتا ۔

مودی نے اقتصادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا

یہاں لوک سبھا انتخابات کیلئے کانگریس کے جاری کردہ منشور کا حوالہ دینا ضروری ہے جس میں کانگریس کا کہنا ہے ’’ گذشتہ 5 برسوں میں مودی حکومت کی پالیسیوں سے بھارت کا اقتصادی ڈھانچہ پوری طرح سے تہس نہس ہوگیا ہے۔5 برسوں میں مائیکرو چھوٹی اوردرمیانہ صنعت (ایم ایس ایم ای) شعبے کو کافی نقصان جھیلنا پڑا۔ تمام سیکٹرز میں نئی گراوٹ آئی ہے اور سماجی انصاف سماجی ناانصافی کی شکل لے چکا ہے۔اقتصادی خوشحالی اور سماجی امپاورمنٹ بھارت کے 2 ستون ہیں جنہیں گذشتہ 5 برسوں میں شدید نقصان پہنچا،دلتوں کی ماب لنچنگ اور 36ہزار سے زائد کسانوں کے خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور ایک کروڑ دس لاکھ روزگارختم ہوگئے۔

نریندر مودی نے ’’اچھے دنوں‘‘ کے بارے میں بولنا ہی چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اب اس پر کہنے سے کچھ نہیں ہونا۔ شہریوں کے اکائونٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کئے جانے کی بات سب سے بڑا جھوٹ ثابت ہوئی ۔اسی لئے ہم نے ’’ کانگریس وعدہ نبھائے گی ، ہم جو کہیں گے ، اسے پورا کریں گے ‘‘کے عنوان سے منشور جاری کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی حکومت پرائیویٹ کمپنیوں کو بچانے اور بھارتی سرکاری کمپنیوں کو بندکرکے وہاں کے ہزاروں ملازمین کو نکالنے کی سازش کررہی ہے۔ مودی حکومت نے5 برس کے دوران ان دونوں کمپنیوں کو ’’سلو پوائزن‘‘ دیا ہے اور اس نے بی ایس این ایل کے 54ہزار سے زیادہ ملازمین کو باہر کا راستہ دکھانے اور ایم ٹی این ایل کاوجود پوری طرح مٹانے کی تیاری کرلی ہے۔

راہول گاندھی نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس بار کانگریس کی حکومت آئی تو وہ رافیل معاہدوں کی تحقیقات کرائیںگے اور’’ چوکیدار‘‘ جیل میں ہوگا5سال پہلے نعرہ تھا ’’اچھے دن آئیں گے‘‘۔ اب یہ بدل کر ’’چوکیدار چور ہے‘‘ ہو گیا ہے اگر انتخابات کے بعد کانگریس مرکز میں اقتدار میں آتی ہے، تو مجرم کو سزا ملے گی۔وزارتِ دفاع کی دستاویزات بتاتی ہیں کہ نریندر مودی نے اصل سودے میں تبدیلی کی اور ایک طیارے کو 1600 کروڑ روپے میں خریدااور مہنگے طیارے خرید کر انل امبانی کو فائدہ پہنچایا۔ وجئے مالیا، نیرو مودی، میہول چوکسی، للت مودی جیسے لٹیروں نے ہزاروں لاکھوں کروڑ روپے لوٹ کر بڑی آسانی سے ملک سے راہ فرار اختیار کی اور چوکیدار (نریندر مودی) مجرمانہ غفلت کی نیند سوتا رہا۔

مودی حکومت نے صنعتکاروں کے 3.5 لاکھ کروڑ روپے کا قرض معاف کیا جبکہ ملک کے ہزاروں کسانوں نے صرف اس لئے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا کہ ان پر قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا تھا۔ مودی جھوٹے ہیں 2014ء میں انہوں نے جو وعدے کئے تھے ان میں سے کسی وعدہ کو وفا نہیں کیا بلکہ فرقہ پرستی، مذہبی انتہاء پسندی، درندگی، بیروزگاری، ظلم و زیادتی، اقلیتوں، دلتوں کمزور طبقات پر مظالم کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کے علاوہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس کے منشور میں ویسے تو 15 اہم نکات یا وعدوں کو شامل کیا گیا ہے لیکن ان میں نفرت پر مبنی جرائم کے خاتمہ کا جو وعدہ کیا ہے وہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کیلئے کافی اہمیت رکھتا ہے۔ ٭٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭: برصغیر ماضی کی’’ سونے کی چڑیا‘‘۔۔بھوکی ہے۔۔ پائیدار امن کی ۔۔۔ترقی کی ۔۔۔انسانیت کے احترام کی۔۔۔

 

٭: خطے کو ہے ...

مزید پڑھیں

٭:کوئی تمہید ، کوئی برائی ،کوئی اچھائی نہیں۔۔۔

٭:بات ہو گی بولتے حقائق پر ۔۔۔اعدادوشمار پر ۔۔۔

٭:جن کا کسی سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔

مزید پڑھیں

٭:لوک سبھا الیکشن 2019ء کئی سوالات ، شبہات اور تصورات کی داستانیں تاریخ کے سپرد کر گئے

٭:بڑے بڑے برج ہی نہیں الٹے سیاسی پنڈتوں کی پیشگو ...

مزید پڑھیں