☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل دین و دنیا کھیل کچن کی دنیا ادب فیشن خواتین صحت کیرئر پلاننگ متفرق
تخت یا تختہ۔۔۔۔

تخت یا تختہ۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

04-21-2019

٭:کون ہو گا تخت پر اور کس کا مقدر ’’تختہ‘‘ ؟ فیصلہ ہو کر رہیگا ۔

٭: پہلے مرحلے میں ہی دھاندلی کا ’’شور‘‘ ،اپوزیشن سپریم کورٹ جانے کی تیاری میں۔۔۔

٭:1947ء میں’’ تقسیم ‘‘اعلانیہ ہوئی تھی۔۔۔

اب کی بار ’’تقسیم ‘‘ کا خاموش عمل جاری ہے ۔۔۔

٭:اند ر ہی اندر لاوا پک رہا ہے اور اُبلنے کیلئے تیار ہے ۔۔۔

٭:لوک سبھا الیکشن سیکولرازم یا جمہوریت سے زیادہ مکتلف قومیتوں کیلئے ’’بقاء کی جنگ ‘‘ بن چکے ہیں ۔۔۔

٭:سیاسی جماعتیں ہار اور جیت کیلئے نہیں اپنا نظریہ ، وجود اور حیثیت تسلیم کروانے کیلئے میدان میں ہیں ۔۔۔۔

٭:سیاسی جماعتیں بھی قومیت اور علاقائیت کے نام پر دو حصوں میں ’’تقسیم ‘‘ ہو چکی ہیں۔۔۔۔

٭:بھارتی عوام کوانتخابات میںجنگ جیسے ماحول کا سامنا ہے اور یہ’’ ماحول ‘‘ بنانے کی ذمہ دار کونسی جماعتیں اور طاقتیں ہیںسب بے نقاب ہو چکا مزید تعارف کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ٭:انتخابی اکھاڑہ سج چکا ، الیکشن ریس شروع ہو چکی ، عوام اپنے ووٹ کی طاقت آزمانے نکل پڑے ہیں ۔۔۔دیکھیں ہاتھ میں کیا آتا ہے ۔۔۔یا جو کچھ پاس ہے وہ بھی جاتا ہے ۔ ٭:بی جے پی اقتدار میں ہونے کے باوجود صرف 5 سال میں’’کرو یا مرو ‘‘ کی پوزیشن پر آ گئی ، لوک سبھا الیکشن تخت یا تختے کی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔۔۔۔

سادہ اور سیدھے لفظوں میں بیان کیا جائے توبھاجپا کی بطور سیاسی جماعت اور نریندر مودی کی بحیثیت وزیر اعظم اور ہندو توا سیاسی رہنما دونوں حیثیتیں دائو پر لگی ہیں یعنی بی جے پی کا سب کچھ دائو پر لگا ہے اور وہ آسانی سے یہ الیکشن اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دے گی ۔ علاقائی جماعتیں جو ایک بڑے اتحاد کی شکل میں بی جے پی کا’’تعاقب ‘‘ کر رہی ہیں اپنے اپنے حصے کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں جسکا قوی امکان ہے تو دوبارہ اقتدار ملنے کی صورت میں بھی بھاجپا کو ’’سکھ کا سانس‘‘ نہیں لینے دیں گی اور بی جے پی الیکشن میں اپنا آپ بچانے کی صورت میں کسی نہ کسی طرح کامیاب ہو بھی گئی تب بھی’’ستہ ‘‘ کے ’’س‘‘ کو ترستی رہے گی

اقتدار کے رتھ کو اپنی مرضی کی سمت میں سرپٹ دوڑانا بھی آسان نہیں ہو گا کیونکہ ’’سپیڈ بریکر‘‘ الیکشن سے قبل سامنے آ چکے ہیں ۔ دوسری جانب سیکولر نظریات رکھنے والی جماعتیں، پریشرگروپس ، جتھے اور اقلیتیں ہیں جو بھارت میں اپنا وجود، رائے اور اہمیت تسلیم کروانے نکلے ہیں اس بار اگر یہ سب مل کر انتہا پسند نظریات یا ’’ستہ ‘‘ یعنی طاقت کے سیلاب کے سامنے بند باندھنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو اِن سب کو ’’بڑی تبدیلی ‘‘ کا سامنا کرنا ہو گا اور کافی حد تک یہ تبدیلی ان سب کے حق میں نہیں ہو گی اس لئے وہ ’’پاور گیم ‘‘سے باہر رہنے کو تیار نہیں ۔۔۔اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ لوک سبھا الیکشن کارپوریٹ سیکٹر اور پبلک سیکٹر کے درمیان ریفرینڈم کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ۔ 23

مئی کو اعلان ہو گا کہ جیت کس کا مقدر بنے گی ۔۔پہلے مرحلے کی ووٹنگ ختم ہونے کے بعد سٹرانگ روم میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کی حفاظتبھی بڑا چیلنج ہے جبکہ 23مئی تک مستقبل کے ارکان پارلیمنٹ کی جان بھی ایک طرح سے اٹکی رہے گی۔لوک سبھا انتخابات کیلئے 6 مراحل میں ووٹنگ ہوگی اس کے علاوہ 4 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات بھی ہونے جا رہے ہیں تمام انتخابات کی ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو ایک ساتھ ہو گی۔لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کیلئے باقی مراحل میں ووٹنگ ختم ہونے کے ساتھ ہی سٹرانگ روم میں ای وی ایم کی حفاظت کے چیلنجز بڑھتے جائیں گے۔

بہرحال پہلے مرحلے کا الیکشن ختم ہونے کے بعدای وی ایم کو سٹرانگ روم میں پہنچایا جا چکا ہے۔ اہم سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہی علاقائی جماعتوں کے علاوہ آزاد امیدواروں سمیت 1279 امیدواروں کا نصیب ای وی ایم میں بند ہو چکا ہے اور اب یہ 23 مئی کو کھلے گا۔پہلے مرحلے کیلئے ووٹنگ کیلئے ابھی چند دن ہی ہوئے ہیں کہ سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں ، صرف کیرانہ پارلیمانی نشست کو لے لیجئے جہاں پر 67.46فیصد ووٹ کے حساب سے کل 11لاکھ 21ہزار 221ووٹ پڑے جبکہ سرکاری مشینری نے اس نشست پر ووٹنگ فہرست کو 2 دن میں3 بار جاری کیا ۔

پہلے فہرست میں 62.10فیصد پھر 64.50فیصد اور تیسری بار کہا گیا کہ 67.46فیصد ووٹ کاسٹ کئے گئے ۔اسی مسئلے جیسے اور متعدد معاملات کو لیکر اپوزیشن جماعتوں نے ووٹنگ عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔21 اپوزیشن جماعتوں نے الیکٹرانک مشینوں پر ووٹنگ (ای وی ایمز) کو نامناسب طورپر کام کرنے اور مشینوں میں ہیر پھیرکے مسئلے کو لیکر متحدہ طور پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔اس سلسلے میں اہم اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں نے دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں میڈیا کے سامنے ای وی ایمز کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھائے اور الیکشن کمیشن پر کڑی نکتہ چینی کی۔

کانگریس کے سینئر لیڈر ابھشیک منوسنگھوی نے کہاکہ کسی ایک جماعت کو ووٹ دینے کیلئے بٹن دبانے پر کسی دوسری جماعت کو ووٹ جارہا ہے وی وی پیٹ میں نشان صرف3 سیکنڈز تک ہی دکھائی دے رہا ہے۔ہم’’ جمہوریت بچائو‘‘ کیلئے آئے ہیں اپوزیشن جماعتیں اس مسئلے کو قانونی طورپر آگے لے جائیں گی ۔ بغیر کسی تحقیقات کے لاکھوں ووٹرز کے نام فہرستوںسے آن لائن حذف کر دیئے گئے پارٹیوں نے اس بارے میں الیکشن کمیشن کو طویل فہرستیں دی ہیں کم از کم 50وی وی پیاٹس کے ٹرائلز کی گنتی ضروری ہے ۔

الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں ہمارے مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی ہم نے شفافیت کا مطالبہ کیا تھا ہمارے پاس اب سپریم کورٹ کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔الیکشن کمیشن وی وی پیٹس کی سپلس کی گنتی کرتا ہے تو اس کیلئے 5 سے زائد دن درکار ہونگے الیکشن کمیشن اپنی ٹیم کے ارکان کی تعداد میں اضافہ کرے ایسا کرنے سے 5دن نہیں لگیں گے۔ آندھراپردیش کے وزیراعلیٰ این چندرابابو نائیڈو جنہوں نے اس مسئلے پر الیکشن کمیشن سے ملاقات کے بعد عدم اطمینان کا اظہا رکیاتھا کہا کہ اس مسئلے کو کئی دنوں سے اٹھاتے آرہے ہیںاس سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپوزیشن جماعتیں مطمئن نہیں ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ ہر اسمبلی حلقے میں 1 تا 5 وی وی ایمز کے وی وی پیاٹس کی درمیان میں جانچ پڑتال کرے۔ پہلے مرحلے کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر ای وی ایمز میں ہیرا پھیری کی گئی ہے ہماری تشویش دور کی جائے۔دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجروال بھی اس مسئلے پر بول اٹھے ہیں انکا کہنا ہے کہ ای وی ایمز پر سے بھروسہ اٹھ گیا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پیپر بیلٹ سے انتخابات کروائے جائیں اگر دوبارہ نریندرمودی برسراقتدار آگئے تو بھارت سے جمہوریت کا خاتمہ کردیں گے جس طرح ہٹلر نے جرمنی کے چانسلر بننے کے بعد کیا تھا۔

دوسری جانب کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر لوک سبھا انتخابات کے دوران بے حساب دولت خرچ کرنے کا الزام عائد کر دیا اور مطالبہ کر دیا ہے کہ کرناٹک کے چتردرگ میں مودی کے ہیلی کاپٹر سے اتارے گئے’’ کالے باکس‘‘ کی تحقیقات کروائی جائیں۔ کانگریس کے سینئر رہنمااور ترجمان آنند شرما نے پارٹی ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ بی جے پی دنیا کی سب سے امیر سیاسی پارٹی بن گئی ہے اسی لئے مودی اور انکی جماعت انتخابات میں بے حساب پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔

کانگریس کے ہی ایک اور سینئر رہنما اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے وزیراعظم مودی پر ملک بھرمیں صرف اپنے کارناموں کا ڈھول پیٹنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں اقتدار سے باہر ہونے کا ڈر ستا رہا ہے۔ وزیراعظم کے اصلی کارنامے نوٹوں کی منسوخی،چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کوختم کرنا،4.70کروڑ نوکریوں کو نہ دے پانا خواتین ،دلتوں اقلیتوں ،مصنفوں،فنکاروں اور غیر سرکاری تنظیموں میں عدم تحفظ کا جذبہ پیدا کرنا رہے ہیں۔برائے مہربانی کیا وہ اپنی ان ’’کامیابیوں‘‘ کے بارے میں عوام کو بتائیں گے۔سابق وزیر خزانہ نے ٹویٹ کیا’’وزیراعظم ہر دن تلخ سے تلخ الفاظ کا استعمال کیوں کررہے ہیں۔کیا انہیں اقتدار سے باہر ہونے کا ڈر ستا رہا ہے۔‘‘

’’ذہنی مریض ‘‘ اور’’الگ وزیر اعظم ‘‘

مقبوضہ جموں وکشمیر میں جموں اور بارہمولہ پارلیمانی نشستوں کیلئے ہوئی پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران پولنگ کی مجموعی شرح 57.31 فیصد رہنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ پونچھ اور راجوری اضلاع میں بالترتیب 70 اعشاریہ 4 اور 65 اعشاریہ 7 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ کپواڑہ ضلع میں سب سے زیادہ 51 اعشاریہ 7 فیصد ووٹنگ در ج کی گئی۔ مقبوضہ کشمیر میںبی ایس ایف پر رائے دہندگان کو زبردستی بی جے پی کو ووٹ دینے کا الزام بھی سامنے آیا ۔

نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی)نے پہلے مرحلے کی پولنگ میں بی ایس ایف اہلکاروں کے ذریعے عوام کو بی جے پی کو ووٹ دینے کیلئے مجبور کرنے اور ای وی ایم میں کانگریس کے بٹن کے کام نہ کرنے سمیت متعدد خرابیوںپر سوال اٹھائے۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ٹوئٹر پر ویڈیو بھی شیئر کی جس میں ووٹرز بی جے پی مخالف نعرے لگاتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ بی جے پی کو ووٹ نہ دینے پر ان سے بد سلوکی کی گئی تھی۔

محبوبہ مفتی کہتی ہیں’’ووٹرزکو بی جے پی کو ووٹ دینے کیلئے مجبور کرنا اقتدار کی بھوک اور ناامیدی کو دکھاتا ہے بی جے پی کے تمام رہنما ذہنی بیماری میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ بھارت میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی گنگا جمنی تہذیب کے تحت مل جل کر رہتے ہیں۔ جو اس گنگا جمنی تہذیب کیخلاف بولے گا اسے ڈاکٹر کے پاس جاکر اپنا دماغی توازن ٹھیک کرنا چاہیے۔

یہ گاندھی کا ہندوستان ہے، امت شاہ یا مودی کا نہیں ۔‘‘ مقبوضہ کشمیر میں لوک سبھا انتخابات کا پہلا مرحلہ کس قدر شفاف تھا اس کا اندازہ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اس بیان سے لگا لیجئے وہ کہتے ہیں ’’پونچھ میں ای وی ایم ٹیمپرنگ ہوئی کانگریس کے سامنے کا بٹن نہیں دب رہا تھا۔‘‘عمر عبداللہ نے بھی ایک پریزائڈنگ آفیسر کی ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ پونچھ علاقے میں ای وی ایم بٹن خراب ہونے کو تسلیم کر رہے ہیں۔

عمر عبداللہ نے تومقبوضہ کشمیر کیلئے الگ وزیر اعظم کا مطالبہ بھی کر دیااس مطالبے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کہتے ہیں ’’میں ان رہنمائوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ ایسی مانگ جاری رکھتے ہیں، تو ہمارے پاس آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو رد کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا۔دوبارہ اقتدار میں آنے پر بی جے پی سیڈیشن لاء کو اور زیادہ سخت بنائے گی تاکہ اس پروویژن کی یاد آتے ہی لوگوں کی روح کانپ اٹھے۔ ‘‘

’’سیاسی فائدے کیلئے فوج کا استعمال روکو‘‘

سابق فوجی افسران کا صدر کو خط لوک سبھا الیکشن کا عمل کس قدر شفاف ہے اس کا اندازہ مختلف ’’خطوط ‘‘ سے لگایا جا سکتا ہے جو بھارت کے صدر اور الیکشن کمیشن کو مختلف طبقہ ہائے فکر کی جانب سے لکھے جا رہے ہیں ۔ کبھی فنکار شکوے بھرا خط بھیج رہے ہیں تو کبھی سابق اعلیٰ بیوروکریٹس اور اب تو معاملہ اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ بھارت کی تینوں ا فواج کے8 سابق چیفس سمیت 150 سے زیادہ سابق فوجی افسران نے صدر رام ناتھ کووند کو خط لکھ ڈالا ہے جس میں اپیل کی گئی ہے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ فوج کا سیکولر اورغیر سیاسی کردار محفوظ رہے۔ 150

سے زیادہ سابق فوجی افسران جن میں آرمی کے سابق چیف سنیت فرانسس راڈرگج، جنرل شنکر رائے چودھری، جنرل دیپک کپور، نیوی کے سابق چیف ایڈمرل لکشمی نارائن رام داس، ایڈمرل وشنو بھاگوت، ایڈمرل ارون پرکاش، ایڈمرل سریش مہتہ اور سابق ایئر چیف مارشل این سی سوری ہیں نے خط میں لکھا’’ صدر ہر طرح کے ضروری قدم اٹھاکر تمام سیاسی جماعتوں کو فوراً ہدایت دیں کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد یا ایجنڈے کیلئے فوج، فوج کی وردی یافوج سے متعلق علامتوں کااستعمال کسی طرح کی سرگرمی میں نہ کریں سرحد پر سٹرائیک جیسی فوجی مہم کا سہرا لینا پوری طرح سے ناقابل قبول ہے یہاں تک کہ فوج کو’’مودی جی کی سینا‘‘ کہنے سے حاضر فوج اور سبکدوش فوجیوں میں بے چینی ہے۔

ہم آپ سے یہ یقینی بنانے کی اپیل کرتے ہیں کہ ہماری فوج کے سیکولر اورغیر سیاسی کردارکو محفوظ رکھیں۔ ‘‘ دوسری جانب بھارتی فوج میں ناقص کھانے کو لیکر شکایت کرنے کے بعد مقبولیت حاصل کرنیوالے بی ایس ایف کے برخاست جوان تیج بہادر یادو جنہوں نے وارانسی سے وزیر اعظم نریندر مودی کیخلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کیاہے کہتے ہیں ’’ مودی جی نے جوانوں پر سیاست شروع کی اب ہم جوان ہی ان کو سیاست سکھائیںگے۔ہم کسی کیخلاف نہیں ہماری لڑائی سڑے گلے سسٹم سے ہے۔ حکومت میں آنے سے پہلے ہی مودی نے فوج پر سیاست شروع کر دی تھی۔

جتنے جوان پچھلے10 سال میں شہید نہیں ہوئے اتنے پچھلے ایک سال میں شہید ہوئے ہیں۔ سب سے بڑی چیز جو میڈیا بھی نہیں دکھاتا وہ یہ کہ صرف پیراملٹری میں پچھلے ایک سال میں 997 جوانوں نے خودکشی کی ہے۔ اس کے ذمہ دار مودی ہیں۔ مودی جی نے کچھ ایسا قانون بنا دیا ہے کہ جوان خودکشی کر رہے ہیں،جوانوں کو بہت زیادہ پریشان کیا جاتا ہے وقت پر چھٹی نہیں ملتی موبائل سے بات نہیں کرنے دیا جاتا۔

جب میں نے بی ایس ایف کے کھانے کا معاملہ اٹھایا تھا، اس کے بعد سے موبائل کے استعمال پرپابندی لگا دی گئی کیونکہ (حکومت کو)خطرہ ہو گیا کہ بہت سارے جوانوں نے بد عنوانی کے خلاف بولنا شروع کر دیا ہے۔ کسان، بنکر کے بارے میں بات ہوتی ہے لیکن جوانوں کا مدعا تو کسی نے اٹھایا ہی نہیں اس لئے ہم اس مہم کو شروع کر رہے ہیں مودی فوج کو اپنی مرضی سے چلاتے ہیں۔ اگر کوئی فوجی مخالفت کریگا تو اس کو گھر بٹھا دیا جائیگا۔ جمہوریت کا تو قتل ہو گیا ہے۔‘‘

قرضے ، قبضے ،بے روزگاری اور رافیل

بھارت میں بڑھتی بے روزگاری عوام کیلئے درد سر بن چکی ہے بھلے اسکا تعلق کسی بھی مذہب اور علاقے سے ہو ۔نیشنل سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ گجرات میں بیروزگاری کی شرح سب سے تیزی سے بڑھی یہ شرح سال12-2011 میں 0.5 فیصد تھی جبکہ18-2017 ء میں بڑھ کر 4.8 فیصد پر پہنچ گئی۔نیشنل سیمپل سروے آفس (این ایس ایس او) کے اعداد و شمار کے مطابق سال18-2017 میں ملک کی 11 ریاستوں میں بیروزگاری کی شرح قومی اوسط سے زیادہ رہی۔بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ کے مطابق ہریانہ، آسام، جھارکھنڈ، کیرل، اڑیسہ، اتراکھنڈ اور بہار میں12-2011 کی طرح بیروزگاری کی شرح18-2017 میں بھی قومی اوسط سے زیادہ رہی ہے۔اس کے علاوہ،18-2017 کی اس فہرست میں پنجاب، تامل ناڈو، تلنگانہ اور اتر پردیش نئی ریاست شامل ہوئی ہیں۔

غور طلب ہے کہ مودی حکومت نے اس رپورٹ کو سرکاری طور پر جاری نہیں کیا، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ابھی مسودہ ہے جبکہ اس کیلئے تمام منظوریاں مل چکی ہیں۔ اسی طرح گذشتہ 10 برسوں میں 7 لاکھ کروڑ کا قرض رائٹ آف کیا گیایعنی نہ ادا کیے گئے قرض کو بٹے کھاتے میں ڈالا گیا جس کا 80 فیصدی حصہ جو تقریباً555603 کروڑ روپے ہے مودی حکومت کے گذشتہ 5 برسوں میں رائٹ آف کیا ۔جہاں ایک طرف مودی حکومت ٹیکس دینے والوں کے پیسوں سے بینکوں کو سرمایہ دستیاب کرا رہی ہے وہیں دوسری طرف بڑی تعدادمیں قرض واپس نہ کرنیوالوں کے کیسز کو ’’سرد خانے‘‘ کی نذر کیا جا رہا ہے جو بڑے بحران کا پیش خیمہ اور نا انصافی کا کھلا ثبوت ہے ۔

یہاں ایک اور افسوسناک انکشاف بھی کرتے چلیں کہ مودی دور میں صرف گذشتہ برس 2 لاکھ افراد کو زبردستی ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا۔سال 2018 میں ہر دن 554 اور ہر گھنٹے 23 افراد کو بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ لوگ بے دخلی اور نقل مکانی کے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ’’رافیل ڈیل ‘‘ کی بات کیجائے تو انل امبانی کے 1100 کروڑ روپے کا ٹیکس معاف کیاگیا۔ فرانسیسی اخبار لے موندے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ2015 میں جب فرانس، بھارت کیساتھ رافیل معاہدہ کر رہا تھا اسی دوران فرانس نے انل امبانی کا 143.7 ملین یورو کا ٹیکس معاف کر دیاتھا۔واضح ہو کہ انل امبانی کی ریلائنس ڈیفینس ہندوستان اور فرانس کے درمیان ہوئے اس رافیل معاہدے کے تحت آفسیٹ پارٹنر ہے جس کا اعلان اپریل 2015 میں وزیر اعظم مودی نے کیا تھا۔علاوہ ازیں کانگریس نے بی جے پی حکومت کیخلاف تہلکہ خیز سکینڈل میڈیا کے سامنے پیش کردیا ہے۔

کپیل سبل نے انکشاف کیا کہ ’’مودی دور میں ریزرو بینک کے ذریعے مہم چلائی گئی جس میں’’ را‘‘ کے لوگ بھی شامل تھے ۔ نوٹ بندی بھارتی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہے مودی نے ایجنسیوں کو اپنے مخالفین کیخلاف استعمال کیا، ایک لاکھ کروڑ کے جعلی کرنسی نوٹ بیرون ملک چھاپے گئے۔ بھارتی فضائیہ کے ٹرانسپورٹ طیاروں میں جعلی کرنسی لائی گئی، اس سب کام کیلئے لاجسٹکس سپورٹ امت شاہ نے فراہم کی، ایکسچینج ٹرانزیکشن ریٹ پہلے 15فیصد بعد میں 40 فیصد کردیا گیا، معاملے کیلئے وزیر اعظم آفس میں علیٰحدہ شعبہ تھا ۔

ٹرانزیکشنز کے وقت کوئی محکمہ دخل اندازی نہیں کرسکتا تھاکیونکہ دخل اندازی کرنے والوں کو دہلی سے ’’باس‘‘ کا فون آجاتا ۔ فراڈ کا جو پول کھولنا چاہتا اسے انتہائی سفاکی سے ختم کر دیا جاتا بھارتی میڈیا بھی یہ نہیں دکھائے گا، دکھائے گا تو اوپر سے کال آجائے گی۔ جب یہ چوری ہو رہی تھی تو چوکیدار کیا سورہا تھا ’’را‘‘ کے آدمی نے کہا یہ سب اوپر جاتا ہے، تو کیا چور اور چوکیدار ملے ہوئے ہیں۔‘‘ یہ تھی لوک سبھا الیکشن سے چند اہم معلومات ۔۔۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔۔۔۔ ٭٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:درد کی تصویر ۔۔۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر خطرے کے بادل مدتوں سے منڈلا رہے تھے ۔۔۔

...

مزید پڑھیں

کسی نے پوچھا ضمیر کب سے ہے ۔۔۔عمر کتنی ، مزاج کیسا ہے ۔ ؟

رفتار کتنی، گفتار کیسی ۔۔۔کیا دِکھتا ، چلتا ، بولتا بھی ہے ۔۔۔

...

مزید پڑھیں

ہرمعاشرے کے کچھ مخصوص رسم ورواج ہوتے ہیں، آج ہم آپ کو سویڈن میں ایک ایسے رواج کے بارے میں بتائیں گے کہ وہاں رات 10 بجتے ہی زوردار چیخ کیو ...

مزید پڑھیں