☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل) دین و دنیا(طاہر منصور فاروقی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(سید وقاص انجم جعفری) کچن خواتین فیشن(طیبہ بخاری ) تاریخ(عذرا جبین) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) متفرق(اسد اسلم شیخ)
انڈیا بول رہا ہے ۔۔۔۔۔

انڈیا بول رہا ہے ۔۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

04-28-2019

٭:انڈیامیں لوک سبھا کے الیکشن جاری ہیں اور انتخابی مہم بھی۔۔۔۔

٭:کسی کو تھپڑ پڑ رہا ہے تو کسی کو دھکا اور کسی کو جُوتا ۔۔۔۔

٭:اچھے دن والوں کے بُرے دن آنیوالے ہیں ۔۔۔

٭:الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر پہلے کچھ اور چل رہا تھا اب مزاج میں ’’ہلکی پُھلکی تبدیلی‘‘ آئی ہے لیکن سوشل میڈیا’’ مکمل تبدیلی ‘‘ دِکھا رہا ہے گالیوں اور بھاشن کا آزادانہ استعمال جاری ہے اور جنتا مودی کو دوسری باری دینے کو تیار نہیں ۔۔۔

٭:’’الیکٹرانک دھاندلی ‘‘نہ ہوئی تو انڈیا میں بھی تبدیلی کی ہوا چلے گی ۔۔۔اور انتہا پسندی کی جڑیں ہِلا دے گی ۔۔۔

٭:لوک سبھا الیکشن بھارت ، انڈیا یا ہندوستان میںہو رہے ہیں لیکن اب کئی اور نام بھی سامنے آئے ہیں جن میں ’’بھگواستان ‘‘ اور ’’ہندو راشٹرستھان ‘‘قابلِ ذکر اور قابلِ غور ہیں ۔۔۔۔ لیکن مسلمان اور دیگر اقلیتیں اِن استھانوں کے نقشے میں نہیں ۔۔۔۔

٭:لوک سبھا الیکشن کو کیا کہا جائے ۔۔۔؟انتہا پسندی کیخلاف ریفرینڈم۔۔۔سیکولر ازم کا مستقبل ۔۔۔ سرمایہ داروں کی جنگ یا جمہوریت کا مقدر ۔۔۔۔مطلب اِس بار انڈیا میں ’’ووٹ کی پرچی ایک اور مقابلے انیک ‘‘ہیں

٭:انتخابی موسم میں ایک تبدیلی صاف اور سیدھی دیکھی جا سکتی ہے کہ انتخابی ریلیوں اورٹرن آئوٹ کی صورت میں’’انڈیا بول رہا ہے ‘‘ خاموش یا انتہا پسندوںسے ڈرا ہوا نہیں ہے ۔۔۔

٭:جواب ملے نہ ملے سوال پوچھے جا رہے ہیں، احتجاج کیاجا رہا ہے ، ووٹ کے ذریعے غصہ نکالا جا رہا ہے۔۔۔۔

٭:ایک سوال یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ مودی حکومت میں دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طالبعلم رہنما نجیب اللہ کو کیوں اور کس نے اغواء کیا ، وہ کئی مہینوں سے لاپتہ کیوں ہے ۔۔۔؟

٭:یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ ٹرین میں بے گناہ حافظ جنید کو کیوں قتل کیا گیا۔۔۔۔؟قاتلوں کو عبرتناک سزا ملی ۔؟

٭:ہجوم کی صورت میں کسی کو بھی قتل یا زخمی کرنے کا لائسنس کیوں اور کون دے رہا ہے ؟ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے انتہا پسندوں کیسامنے بے بس کیوں ہیں ۔۔۔؟

٭:مودی سرکار نے بڑے تاجروں اور صنعتکاروں کے ذمے 3لاکھ 60ہزار کروڑ کے قرضے تو معاف کر دئیے ، کسانوں کے قرضے معاف کیوں نہیں کئے گئے ۔۔۔۔؟

٭:مودی حکومت کی جانب سے انڈیا میں بسنے والے 5کروڑ غریب ترین گھرانوں کی فلاح کیلئے 6ہزار روپے ماہانہ (سالانہ 72ہزار روپے ) امداد دینے کی مخالفت کیوں اور کس بنیاد پر کی ۔؟

٭:BSNLسالانہ 8ہزار کروڑ روپے کے گھاٹے میں کیوں جا رہی ہے ؟ اور ایک نئی نویلی کمپنی ’’جیو ‘‘ نے آتے ہی صرف ایک سال میں 900کروڑ روپے کیسے کما لئے ۔۔۔؟

٭: بھاجپا نے2کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا وہ کیا ہوا ۔ ؟

٭: مودی جی نے کہا تھا کہ وہ بڑے بڑے سرمایہ داروں سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے اور ہر انڈین شہری کے اکائونٹ میں 15لاکھ روپے جمع کروائیں گے جبکہ گذشتہ 5برسوں میں 15روپے بھی نہیں آئے ۔۔۔۔۔

٭: جیٹ ایئر ویز کو کیوں بند کیا گیا ، 22ہزار ملازمین کو کیوں فوری بے روزگار کیا گیا، دہلی میں کمپنی کے ملازمین تنخواہیں نہ ملنے پر سراپا احتجاج ہیں ، مودی حکومت انکا سامنا کیوں نہیں کر رہی ؟ دہلی کے جنتر منتر پر ہاتھوں میں بینرز اٹھائے جٹ ایئر ویز کے ملازمین کا کہنا تھا ’’5لاکھ افراد بے روزگار ی کے دہانے پر کھڑے ہیں لیکن ہم اپنی کمپنی کیساتھ ہیں ، امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے ۔ مظاہرے میں شامل ایک خاتون نے کہا’’ 22سال سے میرا شوہر اس ایئر ویز میں کام کر رہا ہے میری ساس کو کینسر ہے انکا علاج بند ہو چکا ہے دوائیں خریدنے کیلئے پیسے نہیں تنخواہیں کیوں نہیں دیں جا رہیں۔‘‘

مظاہرے میں شریک 14سال سے کام کرنیوالے ایک ملازم نے کہا’’ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو گا جس طرح ہم زندگی گزار رہے ہیں یا جو ہم پر گزر رہی ہے وہ ہم ہی جانتے ہیں ۔ ہماری25سال پرانی کمپنی ہے جب ایئر انڈیا کو بچایا جا سکتا ہے تو ہمیں کیوں نہیں ۔ گھر والے پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہو گا ، کوئی کچھ نہیں کر رہا ، کوئی سامنے نہیں آ رہا ، ہمیں واجبات نہیں مل رہے،کہاں گئے مودی صاحب آپ کے اچھے دن ؟صرف میڈیا میں سب اچھا ہے باقی کچھ اچھا نہیں ہے۔ہم کسی حکومت کیخلاف احتجاج کیلئے اکٹھے نہیں ہوئے کسی کیخلاف نعرے نہیں لگانا چاہتے ،ہم کام کرنا چاہتے ہیں ، اپنے ادارے کو بچانا چاہتےہیں۔‘‘

بھارت سنچار نِگم لیمیٹیڈکی تباہی کا ذمہ دار بھی بی جے پی حکومت کو ٹھہرایا جا رہا ہے ، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جو کچھ کہا جا رہا ہے اور میڈیا رپورٹس میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان اعدادوشمارکا مختصراً ذکر کیا جائے تو

 

 

٭:ادارہ سالانہ 8ہزار کروڑ روپے کے خسارے میں چل رہا ہے

 

٭:2018-19ء میں 7ہزار 500کروڑ روپے کا خسارہ

 

٭:2017-18ء میں 7ہزار 993کروڑ روپے کا خسارہ

 

٭:2016-17ء میں 4ہزار 793کروڑ روپے کا خسارہ

 

٭:2015-16ء میں 4ہزار 859کروڑ روپے کا خسارہ

چند تلخ سولات کے بعد انڈین الیکشن کمیشن کا ذکر کریں تو

’’چوکیدار چور ہے‘‘ کے نعرے کے بعد کمیشن نے وزیراعظم نریندر مودی پر بنائی گئی ویب سیریز ،’’مودی، عام آدمی کا سفر ‘‘ کو فوری ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ویب سیریز کو تاحکم ثانی ہٹادیا جائے ۔اس سے قبل الیکشن کمیشن نے کانگریس کی طرف سے جاری کئے گئے ایک نعرے ’’ چوکیدار چور ہے ‘‘ پر پابندی یہ کہہ کر لگا دی تھی کہ اس نعرے میں مودی کو چور کہا جارہا ہے۔ لیکن اِن بیانات پر الیکشن کمیشن نے کیا اقدامات کئے کسی کو کچھ نہیں معلوم ذرا ملاحظہ کیجئے کہ بارہ بنکی کے بی جے پی کے سینئر رہنما رنجیت بہادر شریواستونے ایک جلسے میں کہا ’’ بی جے پی لوک سبھا الیکشن کے بعد چین سے مشینیں منگوا کر مسلمانوں کی حجامت کرائے گی اور پھر ان کا جبراً مذہب تبدیل کرا کر ہندو بنائے گی۔ اگر مسلمانوں کی نسلوں کو برباد کرنا چاہتے ہیں تو مودی کو ووٹ دیں۔ گذشتہ 5 برسوں میں مودی نے مسلمانوں کے حوصلے توڑنے کی کوشش کی ہے بٹوارے کے باوجود مسلم آبادی انڈیا میں بڑھ رہی ہے اور جلد ہی یہ ووٹنگ کے ذریعے اقتدار حاصل کر لے گی۔

آپ نے بی جے پی کو ووٹ نہ دیا تو اسکا خمیازہ بھگتنے کیلئے تیار ہو جاؤ۔‘‘رنجیت بہادر بارہ بنکی کی نواب گنج میونسپلٹی کے چیئر مین رہ چکے ہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ اس طرح کی متنازعہ بیان بازی کو لے کر الیکشن کمیشن کئی رہنماؤں پر پابندی لگا چکا ہے ان میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، بی ایس پی سپریموں مایاوتی،مرکزی وزیر مینکا گاندھی اور اتر پردیش کے رام پور سے ایس پی کے سینئر رہنما اعظم خان شامل ہیںلیکن رنجیت بہادر کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔

دوسری جانب بی جے پی کے 59سالہ مرکزی وزیر منوج سنہا جو غازی پور سے لوک سبھا الیکشن لڑرہے ہیںکہتے ہیں ’’ کوئی بی جے پی کے کارکنوں کو ترچھی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا کسی نے ایسا کرنے کی حماقت کی تو اس کی آنکھیں نہیں رہیں گی۔جو بھی شخص کسی کارکن کی طرف انگلی اٹھائے گا اُس کو صرف ’’4گھنٹے ‘‘ میں اسکی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ہم بدعنوانی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے ذریعے جمع کی گئی آمدنی کو ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ہندوستان کو دہشتگردی کا سامنا نہیں کر نا پڑتا اگر جواہر لال نہرو کی جگہ سردار ولبھ بھائی پٹیل پہلے وزیر اعظم ہوتے۔

‘‘مرکزی وزیر منوج سنہا مافیا سے لیڈر بنے ہیں اور اب وہ مختار انصاری کے بھائی افضال انصاری کیخلاف الیکشن لڑ رہے ہیں۔ منوج سنہا بی جے پی سے 3بار ایم پی رہ چکے ہیں اِس وقت منوج سنہا ریلوے اور آئی ٹی کے وزیر مملکت ہیں۔ غازی پور میں ساتویں مرحلے کے تحت 19 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

 

 

11ریاستیں 95نشستیں، 66فیصد پولنگ

 

ریاستیں نشستیں ووٹ فیصد

 

مغربی بنگال 3 76.43

 

آسام 5 76.22

 

پڈوچیری 1 76.19

 

منی پور 1 76.15

 

تمل ناڈو 38 72.00

 

چھتیس گڑھ 3  71.40

 

کرناٹک  14 67.76 

 

بہار 5   62.52

 

اتر پردیش 8 62.06

 

مہاراشٹر 10 61.22


گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھائیں تواِن دنوں انڈین میڈیا کا

ہاٹ ایشو سادھوی پرگیا ٹھاکر ہیں جنہیںکون نہیں جانتاانکی داستان ’’مالیگائوں بم دھماکوں سے لیکر ممبئی بم دھماکوں تک ‘‘پھیلی ہوئی ہے آر ایس ایس سے شروع ہونیوالی اس داستان کو اب بی جے پی نے ’’کریڈٹ ‘‘ دینے کی کوشش کی ہے اور سادھوی کو بھوپال سے الیکشن لڑنے کا ٹکٹ دیا ہے ۔ 9سال تک جیل کاٹنے والی اور مقدمات میں گھری سادھوی کو انتخابی میدان میںکیوں اُتارا گیا اور پس پردہ مقاصد کیا ہیں اس پر تفصیلی گفتگو پھر کبھی آج صرف سادھوی کے 2 متنازع بیانات کا مختصر ذکر کریں گے ۔ پہلا بیان انہوں نے ممبئی حملوں میں ایک اعلیٰ پولیس افسر ہیمنت کُرکُرے کی موت پہ د یا، انکے بچوں اور بیوہ کو بھی مار دینے کی دھمکی دی ۔

دوسرا بیان جیل میں اپنے اوپر ہونیوالے تشدد اور تحقیقات پر دیا سادھوی کہتی ہیں’’ مجھے جیل میں دن رات ٹارچر سیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ، اتنا تشدد کیا جاتا کہ نروس سسٹم کام کرنا بند کر دیتا ‘‘میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ ’’پرگیا ٹھاکر ٹارچر سیل میںگزارے گئے جن 572گھنٹوں کی دکھ بھری کہانی سنا رہی ہیں تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس خصوصاً این ایچ آر سی کے مطابق وہ سراسر جھوٹی ہے اس کا سچ سے کوئی تعلق نہیں ، جیل میں ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا اگر پولیس یا جیل حکام نے ان کیساتھ کوئی غیر انسانی سلوک کیا ہوتا تو وہ عدالت میں حاضریوںکے دوران جج کو اس کی شکایت کر سکتی تھیں لیکن ان کی طرف سے کبھی کوئی شکایت نہیں کی گئی ۔

تشدد والا بیان صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے دیا گیا ، پرگیا جس طرح میڈیا کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رونے کا ڈرامہ کر رہی تھیں دراصل وہ کانگریس کیخلاف ’’دھرم یودھ ‘‘ کا اعلان ہے وہ ’’بدلہ‘‘ لینا چاہتی ہیں ۔‘‘پرگیا کی بڑی بہن نے میڈیا سے گفتگو میںکہا کہ اعلیٰ پولیس افسر ہیمنت کُرکُرے بھی سازش کا شکار ہوئے تھے دوسری جانب آئی پی ایس ایسوسی ایشن نے مالیگاؤں بم دھماکوںکی ملزم سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کے ذریعے ممبئی حملے میں مارے گئے مہاراشٹر اے ٹی ایس کے چیف ہیمنت کرکرے کے بارے میں دئیے گئے بیان کی مذمت کی ہے ۔ ٹوئٹ کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کی طرف سے لکھا گیا’’اشوک چکر یافتہ ہیمنت کرکرے، آئی پی ایس نے دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے سب سے بڑی قربانی دی۔

ہم ان کے بارے میں توہین آمیز بیان کی مذمت کرتے ہیں اور مانگ کرتے ہیں کہ تمام شہیدوں کی قربانی کا احترام کیا جائے۔‘‘ یہاں ہم آپ کو تازہ ترین خبر سے آگاہ کرتے چلیں کہ جیسے ہی بی جے پی نے سادھوی کو ٹکٹ جاری کیا اس کے اگلے روز عدالت میں سادھوی کیخلاف سانحہ مالیگائوں کے متاثرین نے رٹ دائر کی کہ سادھوی کو الیکشن لڑنے سے روکا جائے کیونکہ وہ ملزم ہے اور اس نے الیکشن لڑنے کیلئے غلط بیانی سے کام لیا ہے ۔

عدالت نے سادھوی کو اس عرضی پر جواب دینے کو کہا ہے۔عرضی گزار نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ سادھوی نے اس بنیاد پر ضمانت لی تھی کہ وہ سہارے کے بغیر چل بھی نہیں سکتی حالانکہ اب وہ سخت گرمی میں الیکشن لڑ رہی ہے۔

اب چلتے ہیں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق طالبعلم رہنما کنہیا کمار کی طرف جو اپنے کندھوں پر غداری کے الزامات اٹھائے نریندر مودی کو چیلنج کرتے آئے ہیں اور کُھل کر بول رہے ہیں کنہیا کا تعلق انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار کے بیگوسرائے ضلع کے ایک گاؤں سے ہے اور یہیں سے اب وہ لوک سبھا کے امیدوار ہیں ۔الیکشن کمیشن نے انتخابات کیلئے ایک امیدوار کے خرچ کرنے کی حد 70 لاکھ روپے مقرر کر رکھی ہے۔ کنہیا نے عوام سے سوشل میڈیا پر چندے کی اپیل کی اور صرف 5 دنوں میں ہی انہیں مطلوبہ رقم حاصل ہو گئی ۔

کانگریس کے سینیئر رہنما ششی تھرور کہتے ہیں ’’ کنہیا ملکی سطح کے سٹار بن گئے ہیں میں بی جے پی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے اس طرح کا سٹار پیدا کر دیا۔‘‘کنہیا کی انتخابی مہم چلانے کیلئے بالی وڈ کے معروف اداکار پرکاش راج بیگو سرائے میں موجود ہیں اور بالی وڈ کے کئی اور بڑے نام بھی کنہیا کی حمایت کیلئے بیگو سرائے جا رہے ہیں معروف نغمہ نگار اور سکرپٹ رائٹر جاوید اختر اور شبانہ اعظمی بھی ان کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔بیگو سرائے سے کنہیا کے مخالف بی جے پی کے امیدوار گری راج سنگھ ہیں کانگریس اور راشٹریہ جنتادل کے بڑے اتحاد کے امیدوار تنویر حسن ہیں جو گذشتہ انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ کنہیا سے ایک صحافی نے جب یہ سوال پوچھا کہ جب وہ جیت کر پارلیمان جائیں گے تو وزیر اعظم مودی کے سامنے کس طرح سوال کریں گے تو کہنیا نے کہا ’’ اگر وہ جیت کر جائیں گے تو مودی وزیر اعظم نہیں ہوں گے ۔

‘‘ کنہیا بی جے پی ، کانگریس اور دیگر جماعتوں کی موجودگی میں اپنے زور پر انتخابی میدان میں اترے ہیں وی جیتیں یا ہاریں اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا اسکے برعکس باقی تمام جماعتوں کا ووٹ بینک ضرور متاثر ہو گا۔ کنہیا کو عوام سے خوب پذیرائی مل رہی ہے وہ کیا کچھ’’ بول‘‘ رہے ہیں آئیے آپ کو بتاتے ہیں ۔ کنہیا کا کہنا اور مانناہے ’’ایک بار رافیل میں اُڑنے والوں کو دھول ضرور چٹانی ہے رہی ہماری بات تو ہم تو دھول مٹی میں پل کر بڑے ہوئے ہیں مر جائیں گے مٹ جائیں گے لیکن غلط کے سامنے نہیں جھکیں گے ۔

ان انتخابات میں لوک شاہی کو بچائو طعنہ شاہی کو گھر بھیجو اگر نہیں سنبھلے تو یہ آخری چنائو ہو گا ۔ بھارت کے مسلمانوں کو پاکستان ہی جانا ہوتا تو وہ یہاں کیوں رُکتے مسلمانوں سے بار بار حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کیوں مانگا جا تا ہے ۔ ہماری لڑائی مندر ، مسجد کی نہیں ہم سب آزادی پر یقین رکھتے ہیں ، سب بھارتی ہیں ہم یہی بچانا چاہتے ہیں چوکیدار کی چوری ہم نے پکڑ لی ہے اب کی بار مودی سرکار نہیں بیڑہ پار کا نعرہ ہے ۔ہم مودی کو دیش برباد نہیں کرنے دیں گے مودی جی آپ کو اسرائیل نہیں فلسطین کیساتھ کھڑے ہونا چاہئے تھا ٹرمپ کی سالگرہ آپ منائو ، بریانی آپ کھائو سیلفی آپ بنوائو اور پاکستان ہم چلے جائیں ایسا نہیں ہو گا ۔

آپ نے ایڈوانی جی کا جو حال کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو چند حقائق سامنے آتے ہیں 2002ء میں مسلم فسادات ہوئے تو عبدالکلام جی کو صدر بنا دیا گیا 1984ء میں سکھ فسادات ہوئے تو گیان سنگھ جی کو صدر بنا دیا گیا آج جب دلتوں کو مارا جا رہا ہے تو کوند جی کو صدر بنا دیا گیا اور مینا کماری جی کو سپیکر ۔ ووٹرز حقیقت کو سمجھیں اور جانیں ورنہ پھنسیں گے، دنیا کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں جب کبھی حکومتیں یا اقتدار والے مغرور ہو جاتے ہیں تو صحافی ، قلمکار ان کے سامنے اٹھتے ہیں بھارت کے صحافیوں کو بھی اٹھنا ہو گا ۔‘‘ کنہیا کیلئے سوشل میڈیا پر بہت کچھ لکھا اورسنایا جا رہا ہے اس میں سے ایک نظم ہم آپ کو بھی سناتے ہیں ’’بھگائو بی جے پی سرکار ۔۔۔کبھی نہ آئیں گے توہرے دوار۔۔۔

یہ انڈیا بول رہا ہے ۔۔۔اِس بار کوئی ایسا نیتا چُنو۔۔جو تیری سُنے تم اُس کی سُنو ۔۔۔جو دیگا سب کو ہی بیوپار ۔۔۔وہ چاہے بنیا ہویا لوہار ۔۔۔یہ انڈیا بول رہا ہے ۔۔۔سنسد کی سبھا سُلجھانے کو ۔۔۔تم اپنا وجود بچانے کو ۔۔۔جس کی شیر سی ہو للکار ۔۔لائو ایسا کنہیا کمار ۔۔۔یہ انڈیا بول رہا ہے ‘‘۔۔۔۔انڈیا اور بھی بہت کچھ بول رہا ہے جس سے ہم لوک سبھا الیکشن کے نتائج آنے تک آپ کو آگاہ کرتے رہیں گے ۔ ابھی سناتے ہیں آپ کو وہ دبنگ آواز جو انڈیا میں کئی برسوں سے بلا کسی خوف کے بلند ہوتی آئی ہے ۔۔۔جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں اچاریہ پرمود کرشنن کی ۔۔۔

 

اچاریہ پرمود کرشنن کا’’ دبنگ خطاب‘‘

 

انتہا پسندوں کیخلاف کھل کر بولے

کیا آپ جانتے ہیں کہ اچاریہ پرمود کون ہیں ۔۔۔۔نہیں تو ہم چند ایسے واضح اشارے پیش کریں گے جن سے آپ فوری کہہ اٹھے گے کہ آپ بھی اچاریہ جی کو جانتے ہیں ۔۔۔اونچا لمبا قد، اچھی صحت، لمبی داڑھی مونچھوں والے ہندو سادھو اچاریہ پرمود کرشنن جو بلا کے شاعربھی ہیںنے’’ مہاراشٹر سٹیٹ اردوساہتیا اکیڈمی‘‘ کے اشتراک سے ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں اپنا کلام سنایا تھا ، اس کلام کو پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں سوشل میڈیا پر خوب سنا اور سراہا گیا ، کلام کچھ اس طرح تھا کہ

 

محبت کے بِنا اپناگزارا ہو نہیں سکتا

 

نبیؐ کے بِن نظاروں کا نظارہ ہو نہیں سکتا

 

مجھے اپنا کہو چاہے مجھے تم غیر کہہ دینا

 

نہیں ہے جو محمد ؐ کا ہمارا ہو نہیں سکتا

 

میرے سینے کی دھڑکن ہیں میری آنکھوں کے تارے ہیں

 

سہارا بے سہاروں کا، خدا کے وہ دُلارے ہیں

 

سمجھ کر تم فقط اپنااُنہیں تقسیم نہ کرنا

 

نبی ؐ جتنے تمہارے ہیں نبیؐ اُتنے ہمارے ہیں

 

سبق تمؐ نے محبت کا ہراِک انساں کو سکھلایا

 

مقدس راستہ دے کر دین دنیا میں پھیلایا

 

تمہی ساگر، تمہی دریا، تمہی کشتی، تمہی ملاح

 

رسولؐ اللہ، رسول ؐاللہ، رسولؐ اللہ، رسولؐ اللہ

اب آپ سب بخوبی جان گئے ہونگے کہ اچاریہ پرمود کرشش کون ہیں ۔ ۔ ۔

انڈیا میں لوک سبھا انتخابات میں کس کو ووٹ دینا ہے اور کس کو نہیں کے بارے میں اچاریہ جی بھی کُھل کر بول رہے ہیں ’’قدم قدم پہ ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگا جا رہا ہے ، ہندو ہونے کا ثبوت مانگا جا رہا ہے ، یہ کیا ہے ؟یہ ثبوت مانگنے والی پارٹی نہ ہندوئوں کی ہے نہ مسلمانوں کی یہ تجارتی ہیں ، دکاندار ہیں ۔کچھ دِنوں سے لگ رہا ہے کہ اب اِن کی بنیاد ہلنے لگی ہے لیکن یہ پھر اُسی مورچے پہ آئیں گے کیونکہ اِن کے پاس طرح طرح کے مداری ہیں ۔

مودی سرکار پہلی ایسی سرکار ہے جس سے سوال پوچھو تو کہتی ہے ’’تم دیش دروہی ہو ، غدار ہو ‘‘ یہ پہلی ایسی حکومت ہے کہ اگر حق سچ کی بات کرو تو ملزم ٹھہرا دیا جاتا ہے ، گنہگار ٹھہرا دیا جاتا ہے ،وطن پرستی کا ثبوت مانگا جاتا ہے اور افسوس وطن پرستی کا ثبوت وہ مانگ رہے ہیں کہ جب ہندوستان کو خون کی ضرورت پڑی تو اِس جماعت کے تمام رہنما انگریزوں کے پِٹھو بن چکے تھے۔

میں دعوے سے کہہ رہا ہوں کہ انڈیا کے عوام اِن کا تختہ اُلٹنے کا فیصلہ کر چکے ہیں بس وقت آنے دو ۔۔۔۔ہاتھ جوڑ کر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم جھوٹ اور ظلم کیخلاف ہیں کسی دھرم کیخلاف نہیں ہماری روایات اور آئین یہ سکھاتا ہے کہ انڈیا کسی ایک دھرم کا نہیں سب کا ہے ۔‘‘ اچاریہ جی اس سے بھی زیادہ کُھل کر بولے بولے یہاں ہم وہ تمام تفصیلات قارئین کی نذر نہیں کر سکتے جو کچھ انتخابی ماحول کی مناسبت سے نذرِ قارئین کیا جا سکتا تھا وہ ہم نے کر دیا ۔۔۔۔ ٭٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  کورونا کی مہلک وبا ء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ، کسی ملک میں لاک ڈائون ختم ہو چکا ہے تو کہیں پھر سے لاک ڈائون کی تیاریاں کی جا رہی ہیں کیو نکہ وبا ءکے باعث مریضوں اور اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کی 22 فیصد آبادی کے کوروناکے شدید مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جان لیوا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ اور اثرات کی تجزیاتی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا کہ دنیا کے1 ارب 70 کروڑ افراد ذیابیطس، دل اور پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والے امراض میں مبتلا ہیں، اور ایسے امراض میں مبتلا افراد میں کورونا کی علامات انتہائی سنگین شدت کی ہونگی ۔

مزید پڑھیں

  ٹرمپ کے دماغ میں گوبر بھرا ہے،صدارتی دفتر کیلئے فٹ نہیں، ذاتی عملہ انکی نقل اُتارتا ہے، روسی صدر پیوٹن کا خیال ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ ایک مچھلی کی طرح کھیل سکتے ہیں :جان بولٹن کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو

مزید پڑھیں

  چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملٹری اکیڈمی میں گریجویشن تقریب میں شرکت کی،خطاب کے دوران پانی انہوں نے سپ بھرنے کے انداز سے پیا، وہ اپنا گلاس ایک ہاتھ سے تھام نہ سکے دوسرے ہاتھ سے گلاس سنبھالنا پڑا۔ تقریب میں آتے ہوئے سیڑھیاں اترتے ہوئے بھی ٹرمپ لڑکھڑائے ۔ ۔ ۔ ان تمام باتوں نے ماہرین اور عام عوام کو چونکا دیا ہے ، خاص کر ماہرین بول اْٹھے ہیں کہ ٹرمپ کو اپنے دماغ کا سکین کروالینا چاہیے۔ ٹرمپ کے دونوں ہاتھوں سے گلاس تھامنے پر ماہر نفسیات ڈاکٹر بینڈے لی نے کہا ’’ یہ ایک اعصابی علامت ہے اور انہیں دماغ کا سکین کرواناچاہیے۔‘‘

مزید پڑھیں