☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل خواتین کچن کی دنیا سفر نامہ دین و دنیا فیشن متفرق کیرئر پلاننگ ادب
بھارت میں’’انتخابی جنگ‘‘ عروج پر۔۔۔

بھارت میں’’انتخابی جنگ‘‘ عروج پر۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

05-05-2019

٭:بھارت میں لوک سبھا الیکشن کا فائنل رائونڈ شروع ہو چکا ،سیاسی جنگ میں تیزی بڑھتی جا رہی ہے ’’چور چوکیدار کی بحث عروج پر پہنچ چکی۔ ٭:الیکشن کا ہاف رائونڈمکمل ۔۔پر پکچر ابھی باقی ہے دوست ٭:لوک سبھا نشستوں کی کل تعداد ۔۔۔۔545 ہے

٭:پہلا مرحلے میں 91نشستوں پر20ریاستوں میں پولنگ ہوئی۔۔۔ ٭:دوسرے مرحلے میں95نشستوں پر11ریاستوں میں پولنگ ہوئی ۔۔۔ ٭:تیسرے مرحلے میں 116نشستوں پر 13ریاستوں میں پولنگ ہوئی ۔۔۔ ٭: اب تک545نشستوں میں سے 302نشستوں پر پولنگ مکمل ہو چکی ہے ۔۔۔ ٭: 90 کروڑ ووٹرز ووٹ کی طاقت استعمال کر رہے ہیں 23 مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی اور نئی حکومت کا اعلان کیا جائیگا۔۔۔ ٭:اے وی ایم مشینوں کی’’ معنی خیزخرابی‘‘پر اپوزیشن سراپا احتجاج ہے، الیکشن کمیشن سے ناراض ہے اور عدالتوں سے انصاف کے تقاضے کر رہی ہے ۔۔۔ ٭:اپوزیشن اتحا د ’’مودی لہر ‘‘ کا زور توڑنے کیلئے سرگرم ۔۔

٭:بی جے پی اپنا اقتدار اور وقار بچانے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف ۔۔۔ ٭:کوئی جماعت آسانی سے شکست تسلیم نہیں کریگی،تازہ ترین بھارتی سروے کے مطابق آندھرا پردیش ، پنجاب ، کیرالہ اور تامل ناڈو میں راہول گاندھی کو برتری حاصل ہے ٭: پوری’’انتخابی جنگ ‘‘ پاکستان کے نام پر لڑی گئی اور لڑی جا رہی ہے، کوئی قائد اعظم کی تعریف کر رہا ہے تو کوئی تعریف کرنیوالے پر تنقید کر رہا ہے ’’چور چوکیدار ہے ‘‘ کانعرہ انتخابی جنگ میں ایسے مقبول ہوا جیسے بالی وڈ فلم میں’’آئٹم سانگ ‘‘ مقبول ہوتا ہے۔ اس باربالی وڈ ستارے بھی خوب متحرک ہیں نصیر الدین شاہ اور ان جیسے نظریات رکھنے والے فلم ، ٹی وی ، تھیٹر کے سینکڑوں فنکار ، ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرزانتہا پسندوں کو ووٹ نہ دینے کی اپیلیں کر رہے ہیں

، احتجاجی خطوط لکھ رہے ہیں جبکہ اکشے کمار نے نریندر مودی کا ’’غیر سیاسی انٹرویو ‘‘ بھی کر ڈالا۔شاہ رخ خان عوام پر ہر حال میں ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے زور دے رہے ہیں ۔کئی اداکار اور کھلاڑی باقاعدہ الیکشن بھی لڑ رہے ہیں کانگریس کے پلیٹ فارم سے شتروگھن سنہا اور ارمیلا متونڈکر کے نام قابل ذکر ہیں تو بی جے پی سے ہیما مالنی اور سمرتی ایرانی ایک بار پھر لوک سبھا تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔یہاں بی جے پی کے ’’سیاسی یو ٹرن ‘‘یا سیاسی دھوکہ دہی کا ذکر ضرور کریں گے اور وہ یہ ہے کہ بھاجپا نے اپنے 4مرتبہ رکن پارلیمینٹ رہنے والے آنجہانی ونود کھنہ کی موت کے بعد انکے خاندان سے بھی آنکھیں پھیر لیں گورداس پور کے حلقے کیلئے ونود کھنہ کی 20سال کی خدمات تھیں ، انکی بیوہ کویتا کھنہ نے یہاں سے الیکشن لڑنے کیلئے بھاجپا کا ٹکٹ حاصل کرنا چاہا لیکن بھاجپا نے کویتا کی بجائے سنی دیول کو ٹکٹ جاری کر دیا جس پر کویتا نے نہ صرف مایوسی کا اظہار کیا بلکہ یہ اعلان کیاکہ اُن کے پاس آزادامیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑنے سمیت تمام آپشن موجود ہیں۔ونود کھنہ اپنے حلقوں کے دور دراز دیہات کو آپس میں ملانے کی وجہ سے ’’پلوں کا سردار‘‘کے نام سے شہرت رکھتے تھے لیکن بھاجپا نے پلوں کے سرداراور اسکے خاندان سے ناطہ توڑنے میںذرا بھی دیر نہیں لگائی ۔ ۔۔۔۔

علاوہ ازیں بھارتی سپریم کورٹ نے وزیراعظم نریندر مودی کی فلم بائیوپک پر عائد پابندی ختم کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ پابندی 19مئی تک جاری رہے گی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے اپنے حکم میں اس فلم پر عائد پابندی کوختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس حالت میں ہمارا مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ بنچ نے الیکشن کمیشن کے حکم میں بھی کوئی تبدیلی کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ اس پوزیشن میں ہم الیکشن کمیشن کے حکم میں کوئی تبدیلی نہیں کررہے۔۔۔دوسری جانب وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کیخلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ کانگریس کی رکن پارلیمینٹ سشمیتا دیو نے سپریم کورٹ میں جو درخواست دائر کی اُس میں مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کو ہدایت دے کہ وزیر اعظم مودی اور امت شاہ کیخلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں جو شکایت کی گئی ہے اس میں الیکشن کمیشن کارروائی کرے ۔ سپریم کورٹ نے کانگریس رکن پارلیمینٹ سشمیتا دیو کی درخواست سماعت کیلئے قبول کرلی ۔ گفتگوکا سلسلہ آگے بڑھائیں تو بھارت میں پارلیمانی انتخابات کے چوتھے مرحلیکی پولنگ بھی مکمل ہو چکی ہے۔

چوتھے مرحلے کیلئے مقبوضہ کشمیر کے حلقے اننت ناگ سمیت 9 ریاستوں کی 71 نشستوں کیلئے ووٹ ڈالے گئے۔حریت قیادت کی جانب سے انتخابات کابائیکاٹ اور مکمل ہڑتال کی گئی۔ بھارت میں انتخابات کا پانچواں مرحلہ کل(6 مئی )کو ہوگا ، 7 ریاستوں کی 51 نشستوں پر پولنگ ہو گی۔12 مئی کو چھٹے اور 19 مئی کو ساتویں اور آخری مرحلے کیلئے ووٹ کاسٹ کئے جائیں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو ہو گی اور اسی دن نتائج کا اعلان بھی کیا جائے گا ۔ ۔ بہر حال ’’انتخابی گیم ‘‘میں اس وقت خوب دھواں دھار پرفارمنسز جاری ہیں ، نتائج آنے سے پہلے کسی کی ہار جیت کا گمان یا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ معاملات پیشگوئیوں کی سٹیج پار کر چکے ہیں اور اب وقت واقعی کم رہ گیا ہے اور مقابلے سخت سے سخت تر ہوتے جا رہے ہیں ۔

سدھواور گوتم گھمبیر کے ’’سیاسی چوکے چھکے ‘‘

بالی وڈ کے بعد اب رُخ کرتے ہیں کرکٹ کے میدانوں سے سیاست کے میدانوں میں اترنے والے دو کھلاڑیوں کاجو دو مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے زبردست سیاسی چوکے چھکے لگا رہے ہیں ۔ جی ہاں ہم ذکر کر رہے ہیں نوجوت سنگھ سدھو اور گوتم گمبھیر کا ، انڈین کرکٹ ٹیم کے یہ دونوں اوپنرز لوک سبھا کی گرائونڈ پر اپنا روایتی جارحانہ اندازاپنائے ہوئے ہیں ، سدھو کانگریس کیلئے کھیل رہے ہیں اور گھمبیر بی جے پی کی طرف سے قسمت آزما رہے ہیں ، دیکھنا یہ ہے کہ کون کلین بولڈ ہوتا ہے اور کو ن ’’سکور بورڈ‘‘ پرجھنڈے گاڑتا ہے یعنی زیادہ سے زیادہ ووٹ لیکر کامیابی حاصل کر تا ہے ۔ سدھو کہتے ہیں کہ ’’ سنی دیول کا مشہور ڈائیلاگ تھا وہ ایک فلم میں کہتے تھے ’’تاریخ پہ تاریخ۔۔۔تاریخ پہ تاریخ ‘‘جبکہ بی جے پی والے کہتے ہیں ’’جھوٹ پہ جھوٹ ۔۔۔جھوٹ پہ جھوٹ ‘‘ کسان جو اَن داتا تھا آج بھوکا مر رہا ہے ۔۔۔کپڑا بُننے والا آج ننگا کھڑا ہے ۔۔۔مکان بنانے والا بے گھر ہو چکا ہے ۔۔۔ہم اقتدار میں آئے تو سارے جھوٹ اُکھاڑ پھینکیں گے

جھکتے وہ ہیں جِن میں جان ہوتی ہے

اکڑنا تو مُردوں کی پہچان ہوتی ہے

نریندر مودی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو اپنی کامیابی بتا رہے ہیں میں انکو چیلنج کرتا ہوں اگر یہ انکی کامیابی ہے تو انہیں اپنی انتخابی مہم میں شامل کیوں نہیں کیا ؟مودی اور بی جے پی نے نوٹ بندی کے فیصلے کو غیرمعمولی بتایا تھا اسی طرح جی ایس ٹی کے نفاذ کیلئے آدھی رات کو پارلیمینٹ بلائی گئی تھی لیکن یہ دونوں فیصلے عوام کیلئے نقصان دہ ثابت ہوئے۔ نوٹ بندی کا فیصلہ صرف مودی کا تھا اعلان کے آدھے گھنٹے بعد تک وزیر خزانہ کو اس کی اطلاع نہیں تھی ۔ جب ملک کے وزیر خزانہ کو نوٹ بندی جیسے بڑے فیصلے کے بارے میں اطلاع نہیں تھی تو اگلی صبح کے اخبارات میں آن لائن ادائیگی کرنے کیساتھ وزیر اعظم کا اشتہار کیسے شائع ہو گیا؟ ‘‘ اب چلتے ہیں گوتم گمبھیر کی طرف جو اس وقت کانگریس کی جانب سے شاندار بائولنگ کا سامنا کر رہے ہیں ۔۔ گوتم جم کر سیاسی بیٹنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن غلطیاں کچھ زیادہ ہی کر رہے ہیں گوتم مشرقی دہلی سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور ان کیخلاف بغیر اجازت کے سیاسی ریلی نکالنے پر مقدمہ درج ہو چکا ہے،

الیکشن کمیشن کی ہدایت پر نئی دہلی پولیس نے مقدمہ درج کیا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ بی جے پی میں حال ہی میں شامل ہونیوالے سابق کھلاڑی نے 25 اپریل کو دہلی کے علاقے جنگ پورا میں ریلی کیلئے اجازت نہ لے کر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔ دوسری جانب عام آدمی پارٹی نے گوتم پر 2 ووٹر شناختی کارڈ رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔عام آدمی پارٹی کی رہنما آتشی کا کہنا ہے کہ گوتم گمبھیر کے دہلی کے 2 مختلف حلقوں کرول باغ اور راجندر نگر کے الگ الگ شناختی کارڈز ہیں، گوتم نے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت یہ بات چھپائی کہ اُن کا کرول باغ میں بھی ووٹ رجسٹرڈ ہے، جو عوامی نمائندگی کے ایکٹ کی شق 125اے کی خلاف ورزی ہے جس پر 6ماہ قید کی سزا ہوسکتی ہے۔آتشی نے ٹوئٹر پر کرول باغ اور راجندر نگر کے الیکٹورل رول کی تصاویر بھی شیئر کیں جن میں گوتم گمبھیر کا نام درج ہے۔یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ گوتم نے 22مارچ کو بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی، وہ وزیراعظم نریندر مودی کے وژن سے متاثر ہیں،بھارت کیلئے مزید کچھ کرنے کی امید کے ساتھ سیاست میں آئے ہیں۔دہلی میں لوک سبھا کی 7نشستوں پر 12مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 23مئی کو ہوگی۔

دارالحکومت دہلی میںلوک سبھا الیکشن 2014

ء میں کس کو کتنے ووٹ ملے

بی جے پی 46.63فیصد

کانگریس 15.22فیصد

عام آدمی پارٹی 33.07فیصد

اسمبلی الیکشن 2015ء

عام آدمی پارٹی 54.59فیصد

بی جے پی 32.78فیصد

کانگریس 9.70فیصد دیگر 2.93فیصد

’’دوسری اِندرا ‘‘۔۔۔۔

پرینکا فیکٹر ’’اثر ‘‘ دکھا رہا ہے

اب رُخ کرتے ہیں سیاسی میدان کا جہاں ’’دوسری اِندرا‘‘ کی دھانسو انٹری ہوئی ہے جی ہاں ہم ذکر کر رہے ہیں سابق بھارتی وزیر اعظم اِندرا گاندھی کی پوتی پرینکا گاندھی کا جو اپنی ماں سونیا گاندھی اور بھائی راہول گاندھی کی سیاسی مدد کیلئے انتخابی اکھاڑے میں اُتر چکی ہیںاور وہ ایک بڑے نام نریندر مودی کو للکارا ہے لہٰذا اس بار لوک سبھا الیکشن میں ایک نہیں بلکہ 2 گاندھی میدان میں ہیں۔۔۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی اور دونوں گاندھیز کو اپنی ماں سونیا گاندھی کی بھرپور حمایت اور مدد حاصل ہے۔ پرینکا گاندھی کو’’دوسری اِندرا ‘‘ کہا جائے توبے جا نہیں ہو گا ، وہ انتخابی مہم کے سلسلے میںجس شہر گائوں یا دیہات میں جا رہی ہیں انکے استقبال میں اِندرا گاندھی کا نام لیکر نعرے لگائے جا رہے ہیں ۔ کانپور میں اِن نعروں کا جواب پرینکا نے کچھ اس طرح دیا کہ ’’ میری دادی ایک قابل سیاستدان اور عوام کی طاقت سمجھنے والی رہنما تھیں ، وہ عوام کی خدمت کرتی تھیں ، میں اُن کے آگے کچھ نہیں ہوں لیکن اپنی دادی کی طرح عوام کی خدمت کا جذبہ مجھ میں ہے ، میرے بھائی راہول میں ہے اور یہ جذبہ ہمارے اندر سے کوئی نہیں نکال سکتا ۔ میں اِس الیکشن میں کانگریس کیلئے نہیں دیش کیلئے ووٹ مانگنے آئی ہوں اگر آپ نے آج دیش کو بچانے کیلئے ووٹ نہ دیا تو آپ پچھتائیں گے۔

‘‘ راہول گاندھی کا ذکر کریں تو اب اُن کا ’’پپو امیج ‘‘ بہت پیچھے رہ گیا ہے ، بھارتی عوام انہیں’’ نجات دہندہ ‘‘اور آئندہ بڑے عہدے پر دیکھنے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں ۔ راہول گاندھی نے گذشتہ دنوں دہلی میں ایک تقریب میں شرکت کی جس میں عوام نے ان سے سوالات پوچھنے کیساتھ ساتھ شکایات کے انبار لگا دئیے۔ یہاں سوالات اور جوابات کی تفصیل بیان نہیں کی جا سکتی صرف خواتین کی ایک ’’شکایت ‘‘ کا مختصراًذکر کیا جا سکتا ہے۔ ایک خاتون مائیک تھامتے ہی بڑے غصے سے بولی آنکھوں میں آنسو بھی تھے ’’ میں11سال سے ایڈہاک لیکچرار کے طور تعلیمی خدمات نبھا رہی ہوں ، ہمیں کوئی چھٹی نہیں دی جاتی ، ہم کوئی شکایت نہیں کر سکتے ، بطور پی ایچ ڈی اور اکنامکس پڑھانے والے کے ہم کہیں کوئی آرٹیکل لکھ نہیں سکتے ، کسی کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکتے ، بغیر وجہ بتائے کسی بھی وقت نوکری سے نکالا جا سکتا ہے ، ہمیں ایڈہاک سے مستقل کیوں نہیں کیا جاتا ؟

پی ایچ ڈی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ہماری حالت نہیں بدلی تو عام شہری کا کیا حال ہو گا؟‘‘ ہال سے ایک اور نوجوان خاتون اُٹھیں اوریوں بولیں کہ ’’میں بھی ایڈہاک لیکچرار ہوں ، مجھے بیمار ہونے کے باوجود چھٹی نہیں دی گئی میں ماں بننے والی تھی مجھے اس قدر ٹینس کیا گیا کہ میں نے اپنا 8ماہ کا بچہ کھو دیا ۔ میں ہسپتال میں زیر علاج تھی کہ نوکری سے نکال دیا گیا۔ ہمارے ملک میں نہ تو بیٹی بچ رہی ہے اور نہ بیٹی پڑھ رہی ہے ، کوئی سیکیورٹی نہیں ہے اِس دیش میں اِ س سماج میں ، میں بطور اکنامکس پروفیسر آپ کو بتا رہی ہوں کہ انڈیا میں ہر سال 10لاکھ بے روزگاروں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ہمارے مسائل کب حل ہونگے ؟‘‘راہول گاندھی نے دونوں خواتین کو تسلی دی اورکہا کہ انکی پارٹی اقتدار میں آئی تو’’ایڈہاک ‘‘ کا لفظ ختم کر دیں گے۔

مدھیہ پریش میں 2014ء کے لوک سبھا الیکشن میں کس جماعت کو کتنے ووٹ ملے

بی جے پی 54.8فیصد

کانگریس 35.3فیصد

بی ایس پی 3.8فیصد

دیگر 6.1فیصد

بھارتی میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ پرینکا گاندھی کارکنوں اور عوام کے مسائل پر بہت غور اور سوچ بچار کرتی ہیں ، انتخابی مہم کے دوران گاڑی یا ٹرک پر سوار ہونے کے بوجود وہ جلسے کے شرکاء سے بات کرتیں اور ان کی شکایات سنتی ہیں اور انہیں حل کرنے کی ہر ممکن یقین دہانی کرواتی ہیں ۔ لوک سبھا انتخابات میں’’پرینکا فیکٹر ‘‘صاف دیکھا جا سکتا ہے اور یہ فیکٹر بڑا کام دکھا رہا ہے، یوپی اور دیگر ریاستوں میں یہ فیکٹر بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے سیاسی مخالفین کی نیندیں اڑ چکی ہیں تبھی تو کہا جا رہا ہے کہ ’’ پرینکاآئی ہیں ، کانگریس کی آندھی لائی ہیں ‘‘ایک انتخابی ریلی میں شام کے 4بج گئے ریلی میں بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے ، ایک ٹرے میں مٹی کے 3کلہڑ وں میں چائے رکھ کر ایک شہری نے کسی نہ کسی طرح راہول گاندھی ، پرینکا گاندھی کی گاڑی تک پہنچا اور انہیں چائے پیش کی ،گاڑی میں راج ببر اور کانگریس کے کئی دیگر رہنما بھی سوار تھے ، راہول گاندھی نے گاڑی میں سوار ایک رہنما کو ٹرے پکڑنے کو کہا ،

لوگوں نے یہ دیکھ کر خوب تالیاں بجائیں ، راہول گاندھی نے چائے کا ایک کلہڑ راج ببر کو دیا ، ایک ٹرے پکڑنے والے ساتھی کو دیا اور تیسرے کلہڑ سے خود چائے پینے لگے۔ ریلی کے شرکاء عام آدمی کی چائے قبول کرنے پر بہت خوش ہوئے ، تالیاں بجائیں اور نعرے بھی لگائے جبکہ پرینکا گاندھی اس دوران گاڑی سے جھک کر مسلسل لوگوں کے مسائل سنتی رہیں اور جواب دیتی رہیں اور بھارتی ٹی وی چینلز اس منظر کو بار بار دکھاتے رہے، پرینکا کی تعریفیں کرتے رہے اور یہ تبصرے کرتے رہے کہ کانگریس کے متعدد رہنمائوں کی موجودگی کے باوجود لوگ جس طرح ہاتھ اُٹھا کر پرینکا کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں ، ان سے بات کرنے کی کوشش کررہے ہیں اسے دیکھ کر صاف کہا جا سکتا ہے کہ انہیں پرینکا کے سوا کوئی اور نظر نہیں آ رہا،

ہر آنکھ پرینکا کی طرف تھی ، اسے کہتے ہیں ’’پرینکا فیکٹر ‘‘ جو صرف کانگریس کے پاس ہے ۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی اور جنرل سیکرٹری پرینکا گاندھی یعنی دونوں بھائی بہن کا روڈ شو رمضان المبارک سے قبل تک جاری رہیگا ۔ مسلمان رائے دہندگان چونکہ روزے سے ہوتے ہیں اس لئے روڈ شو 5مئی تک کرانے کا فیصلہ ہوا مشرقی دہلی ، شمال مشرقی دہلی اور چاندنی چوک کی سیٹ پر مسلم رائے دہندگان کی تعداد کافی زیادہ ہے ، کانگریس نے ان نشستوں نامور چہروں کو امیدوار بنایا ہے ۔ شمال مشرقی دہلی کیسیٹ سے شیلا ڈکشٹ ، چاندنی چوک سے جے پی اگروال اور مشرقی دہلی سیٹ سے اروند ر سنگھ لولی اپوزیشن امیدواروں کیساتھ کڑا مقابلہ کر سکتے ہیں اسی لئے راہول اور پرینکا کے روڈ شو کو رمضان سے قبل پلان کیا گیا ۔روڈ شو کیلئے کانگریس نے سٹار کمپینرز کی لسٹ تیار کی جس میں راہول گاندھی کے علاوہ بالی وڈ سٹار ارمیلا ماتونڈکر کا نام شامل ہے۔ ارمیلا دہلی میں عوامی جلسوں سے خطاب بھی کریں گی جبکہ دوسری جانب عوام پرینکا کے روڈ شوز کی تعدادبڑھانے کا مطالبہلر رہے ہیں بہاری بابو شتروگھن سنہا ، جیوتی راجے سندھیا اور سچن پائلٹ بھی کانگریس کی عوامی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔

لوک سبھا الیکشن 2019ء ۔۔۔

تیسرا مرحلہ۔۔۔پولنگ 66فیصد

13ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام2 علاقوں میں پولنگ ہوئی 1630سے زائد امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند مختلف مقامات پر تشدد جھڑپیں اور ای وی ایم میں گڑ بڑ کی شکایتیں آسام میں سب سے زیادہ 80.74فیصد ووٹ ڈالے گئے

اتر پردیش میں 61.14اور بہار میں 59.97رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا

ریاستیں نشستیں ووٹ فیصد

آسام 4 80.74فیصد

بہار 5 59.97فیصد

گوا 2 71.74فیصد

گجرات 26 62.89فیصد

جموں و کشمیر 1 12.86فیصد

کرناتک 14 66.82فیصد

مہاراشٹر 14 57.74فیصد

کیرالہ 20 70.50فیصد

اڈیشہ 6 58.55فیصد

اترپردیش 10 61.14فیصد

تری پورہ 1 78.84فیصد

مغربی بنگال 5 79.36فیصد

چھتیس گڑھ 7 68.30فیصد

دمن ودیو 1 65.34فیصد

دادرنگر حویلی 1 71.43فیصد

کل اوسط :117نشستوں پر 66.00فیصد

چوتھے مرحلے کی ووٹنگ

لوک سبھا الیکشن 2019ء کے چوتھے مرحلے میں بہار کی5، جھار کھنڈ کی 3، مدھیہ پردیش کی 6، راجستھان کی 13، مہاراشٹر کی 17، اڈیشہ کی 6، اتر پردیش کی 13اور مغربی بنگال کی 8نشستوں کیلئے ووٹ کاسٹ کئے گئے ۔راجستھان میں پارلیمینٹ کی 13نشستوں پر جہاں جہاں عوام نے ووٹ کاسٹ کئے ان میں ٹونک ، سوائے مادھو پور، اجمیر ، پالی ، جودھپور ، باڑ میر ، جالور ، اودے پور ، بالیشواڑہ ، چیتور گڑھ ، راجسمنڈ، بھیلواڑہ ، کوٹا اور جھالا واڑ رھاون شامل ہیں۔ چوتھے مرحلے میں کئی بڑے بڑے رہنمائوں سمیت مجموعی طور پر 961امیدوارفتح کی امید لئے بیٹھے ہیں

لیکن ہار جیت کا فیصلہ سننے کیلئے انہیں 23مئی تک انتظار کرنا ہو گا ۔چوتھے مرحلے میں کل ووٹرز کی تعداد 12.79کروڑ تھی مجموعی رائے دہندگان میں 6,73,22,777مرد اور6,06,31,574 خواتین اور4,126ٹرانس جینڈر تھے جبکہ ووٹنگ کیلئے 1.4 لاکھ پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے ۔ یہاں ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ گڑگائوں میں لوک سبھا انتخابات کے چھٹے مرحلے میں 12مئی کو پولنگ ہو گی ، گڑ گائوں کے لوک سبھا میں 9اسمبلی حلقے آتے ہیں ان میں میوات کے 3اسمبلی حلقے نوح ، پنہانا اور فیروز پور جھرکہ میو مسلم اکثریتی علاقے ہیں ۔

وہیں 4اسمبلی حلقوں بادشاہ پور ، پٹودی ، ریواڑی اور باول میں اہیر ووٹوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ گڑ گائوں کی پارلیمانی نشست سے 2مسلمان امیدوار میدان میں ہیں اگر دونوں مسلم امیدوار اپنے حق میں مسلم ووٹ حاصل کر لیتے ہیں تو کانگریس کو نقصان ہو سکتا ہے۔ جن نائیک جنتا پارٹی( جے جے پی )نے محمودخان کو میدان میں اتارا ہے جس سے کانگریس کی مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔ بی ایس پی نے بھی ایک مسلم امیدوار رئیس احمد کو ٹکٹ دیا ہے ،بی ایس پی اور جے جے پی کی طرف سے مسلم امیدواروں کو انتخاب لڑانے سے میوات میں مسلم ووٹ تقسیم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ سیاسی اعدادو شمار میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ مقابلہ سہ رخی ہو سکتا ہے اصل مقابلہ بی جے پی ، کانگریس اور جے جے پی -آپ اتحاد کے درمیان ہو گا ۔

بغیر سوچے سمجھے ووٹ نہ دیں وگرنہ بھارت بچے گا

دہلی میں کس کا مقابلہ کس سے

مقام    کانگریس  بی جے پی   عام آدمی پارٹی

چاندنی چوک                             جے پرکاش اگروال                 ہرش وردھن        پنکج گپتا 

 شمال مشرقی  دہلی شیلا ڈکشٹ    منوج تیواری  دلیپ پانڈے

مغربی دہلی مہا بل مشرا    پردیش صاحب سنگھ   بلبیر سنگھ جاکھڑ

جنوبی دہلی    وجندر سنگھ  رمیش بھدوڑی    راگھو چھڈا

مشرقی دہلی    اروند سنگھ لولی                گوتم گمبھیر   آتشی مارلینا

نئی دہلی اجے ماکن  میناکشی لیکھی  برجیش گوئل

شمال مغربی  دہلی رامیش للوٹھیا                ہنس راج ہنس    گنجن سنگھ

آپ نے دیکھا کہ دہلی میں کئی نامور شخصیات انتخابی میدان میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہیںاور 3جماعتوں میں کانٹے کا مقابلہ ہو گا اب جائزہ لیتے ہیں کہ لوک سبھا 2014ء کے انتخابات میں کس سیاسی جماعت کو کتنے ووٹ ملے تھے لیکن ضروری نہیں کہ جس جماعت کو 5سال قبل جس اوسط سے ووت ملے تھے 2019ء میں بھی اتنے ہی ملیں ۔ اس بار ’’سیاسی گھٹائیں ‘‘ بتا رہی ہیں کہ ووت کی طاقت سے بڑے بڑے برج الٹنے والے ہیں ۔

نہ جمہوریت : کیجریوال دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال جو اپنے ’’دبنگ انداز ‘‘ کے باعث خاصی شہرت رکھتے ہیںنے گذشتہ دنوں دارالحکومت دہلی کے ماتا سندری رود پر واقع ایوان غالب میں شیعہ سنی فرنٹ اور گلوبل حسینی مشن کے زیر اہتمام ایک محفل میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی جس میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میںصاف صاف اور سیدھی باتیں کیں ۔ یہاں اُن کی گفتگو کا کچھ حصہ پیش کرنا اس لئے ضروری ہے کہ بھارت سے باہر بسنے والے یہ جان سکیں کہ لوک سبھا کے انتخابات کی اہمیت کیا ہے اور کس ماحول ، نظرئیے اور جذبے کو لیکر عوام اور سیاستدان انتخابی عمل میں شریک ہیں ؟

اروند کیجریوال کہتے ہیں کہ ’’انتخابات میں کسی پارٹی کو بغیر سوچے سمجھے اور غور و فکر کئے بھارت کو سامنے رکھ کر ووٹ نہ کیا گیا تو میرا ذاتی طور پر ماننا ہے کہ نہ بھارت بچے گا اورنہ ہی جمہوریت باقی رہے گی ۔ اس بار لوک سبھا الیکشن بس ایک الیکشن نہیں بلکہ اپنے آپ میں ایک انقلاب ہے جس میں اگر وہی لوگ جیت گئے جنہوں نے گذشتہ 5سال بھارت کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے تو یاد رکھیے اگلی بار یہ لوگ بھارت کا آئین بدل دیں گے اور پھر کبھی الیکشن نہیں ہو گا یہ آخری الیکشن ثابت ہو گا ۔ یہ بات میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ وہی لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایک بار ہمیں جِتا دواس کے بعد بھارت میں کوئی الیکشن نہیں ہو گا یہ اُن کا منصوبہ ہے جس کو ناکام بنانے کا کام آپ سب کو مل کر کرنا ہے ۔

بھارت، آئین، جمہوریت اور بھائی چارے کو بچانے کیلئے یہ بے حد ضروری ہے کہ سوچ سمجھ کر ووٹ کاسٹ کریں، ووٹ تقسیم مت ہونے دیں ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ اُتر پردیش کے عوام نے کس طرح متحد ہو کر انتہا پسندی کیخلاف ووٹ کی طاقت کا استعمال کیا ہے ایسا ہی عمل دہلی کے عوام کو بھی انجام دینا ہو گا ۔‘‘۔۔۔یہ تھی اب تک کی بھارت کی الیکشن کہانی جس میں ہیرو اور ولن کون ہے کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیںفیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔۔۔23مئی کواعلان کچھ بھی ہو ۔ ۔ ۔ حکومت کسی کی بھی بنے ۔دیکھنا یہ ہے کہ اگلے 5سال بھارت اور بھارت میں بسنے والوںکیساتھ کیا کچھ ہوتا ہے ۔۔۔۔ ٭٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی بے یقینی بڑھ رہی ہے: آئی ایم ایف کا اعتراف۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں موت کا خوف ختم ہوچکا اور اب’’ بے خوف ...

مزید پڑھیں

امن کے دیوانے اور نفرت کے پجاری میں ملاقاتوں اور گفتگو کا سلسلہ تو بند ہے لیکن ایک دوسرے پر الزامات اور لفظی حملوں کا سلسلہ عروج پر ہے ۔۔۔ ...

مزید پڑھیں

٭:معیشت میں بہتری کے آثار نے جنم لیا ہے۔۔۔

...

مزید پڑھیں