☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل سپیشل رپورٹ دنیا اسپیشل دین و دنیا کچن کی دنیا فیشن کھیل خواتین متفرق کیرئر پلاننگ ادب
اب کی بار ’’کھچڑی سرکار ‘‘۔۔؟

اب کی بار ’’کھچڑی سرکار ‘‘۔۔؟

تحریر : طیبہ بخاری

05-12-2019

٭:کائونٹ ڈائون شروع ۔۔۔

٭:دہلی میں آج الیکشن’’ دنگل‘‘ ہو گا دیکھیں چاندنی چوک میں کس کی ’’چاندی‘‘ ہوتی ہے ۔۔۔

٭:اب کی بار پھرمسلمان امیدوار کم ایشوز اور مسائل زیادہ ۔ ٭:مہاراشٹر میں نکسل باغیوں کے حملے میں 16پولیس کمانڈوز مارے گئے ۔۔۔

٭:دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو بھی تھپڑ پڑ گیا۔۔۔

٭:انتہا پسندوں کی معروف شاعرجاویدا ختر کو قتل کی دھمکیاں ۔۔۔

٭: ’’ون مین شو اور ٹو مین آرمی‘‘ کیخلاف سیکولر نظریات رکھنے والی جماعتیں الیکشن سے نہیں امتحان سے گزر رہی ہیں ۔۔۔

٭:صرف مسلمان ہی ’’حب الوطنی ‘‘ کا ثبوت نہیں دے رہے ، راہول گاندھی کی شہریت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں ۔۔۔

٭:مودی حکومت کے دعوے اور ان کی زمینی حقیقت پر اسپیشل سیریز چل رہی ہے جن میں انکشافات کی بھرمار ہے ۔۔۔

٭:پہلا انکشاف :گنگا کی صفائی کیلئے ملی رقم سے مودی حکومت نے 100 کروڑ روپے کمائے۔۔۔

٭:دوسرا انکشاف : مودی حکومت کی دیرینہ سکیم پردھان منتری کسان سمان ندھی(پی ایم-کسان)کے تحت کسانوں کو جاری کی گئی رقم میں سے کروڑوں روپے ان کے اکاؤنٹ سے واپس لے لئے گئے ۔۔۔

٭:داعش نے بھار ت اور بنگلہ دیش میں حملوں کی دھمکی دی ہے، انگریزی، اردو اور ہندی زبان میں ایک پوسٹر جاری کیا جس میں ریاست بنگال کیلئے ابو محمد البنگالی کو امیر مقرر کردیا ۔۔۔

٭:سری لنکا کی طرح بھارت میں بھی نقاب اور برقعے پر پابندی لگائی جائے : انتہا پسند ہندو گروہ

٭: سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے فیصلے کی ہر پارٹی نے اپنے مطابق تشریح کرنا شروع کر دی ہے۔ بی جے پی کہہ رہی ہے یہ دھماکہ کانگریس کے ایماء پر ہندوئوں کو دہشتگرد قرار دینے کیلئے کروایا گیا تھاجبکہ اس کیس کی تحقیقات سپیشل تحقیقاتی ٹیم نے 2007 ء سے 2011 ء تک کی لیکن وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تھی۔۔۔

٭:بی جے پی سانحہ پلوامہ کیساتھ ساتھ اب مسعود اظہر کیخلاف کارروائی کو بھی انتخابی ماحول میں’’کیش ‘‘ کروانا چاہ رہی ہے جبکہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ واضح کہہ چکے ہیں کہ کالعدم جیش محمدکے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشتگرد قرار دینے کے اقوام متحدہ کے فیصلے سے پاکستان یا بھارت میں کسی ایک کی نہ تو فتح ہوئی نہ ہی کسی کی شکست قرار دیا جا سکتاہے بلکہ دہشتگردی سے جس طرح بھارت کوخطرات لا حق ہیں اسی طرح نہ صرف پوری دنیا بلکہ پاکستان کو بھی ہیں۔پاکستان کے ساتھ مذاکرات نئی حکومت کے قیام کے بعد ہوں گے۔ دعا ہے کہ بھارتی انتخابات کے باقی تمام مراحل بھی خیروعافیت سے گزر جائیں اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی کا واقعہ نہ ہو۔۔۔۔۔

لوک سبھا الیکشن کے 5مرحلے طے ہو چکے ہیں اور اب صرف 2مرحلے باقی ہیں یعنی انتظار کی گھڑیاں جلد ہی ختم ہونیوالی ہیں ، کون جیتے گا اورہار کس کا مقدر بنے گی؟ اسکا فیصلہ 23مئی کو نتائج کی صورت میں سامنے آئیگا ۔ اتر پردیش کی 14لوک سبھا نشستوں کیلئے 6مئی کو ووٹ ڈالے جا چکے ہیں کانگریس کے صدر راہول گاندھی ، یو پی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی اور بی جے پی کے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سمیت 181امیدواروں کی قسمت کے فیصلے ای وی ایم میںقید ہو چکے ہیں۔ اتر پردیش میں پانچویں مرحلے کے تحت دھورہرا، سیتا پور ، موہن لال گنج ، لکھنو ، رائے بریلی ، امیٹھی ، باندہ ، فتح پور ، کوشامبی ، بارہ بنکی (ریزرو )، اجودھیا (فیض آباد )، بہرائچ (ریزرو )، قیصر گنج اور گونڈہ میں ووٹ ڈالے گئے ۔ ان پارلیمانی حلقوں پر رائے دہندگان کی مجموعی تعداد 2.47کروڑ تھی جن میں سے 1.32کروڑ مرد اور 1.14کروڑ خواتین ووٹرز اور 1321 ٹراس جینڈر ووٹرز تھے ۔ پانچویں مرحلے میں نوجوان ووٹرز کی تعداد 3لاکھ 39ہزار 64 تھی جنہوں نے پہلی بار اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ 80سال سے زیادہ عمر کے رائے دہندگان کی تعداد 484757تھی ۔ گذشتہ انتخابات میں بی جے پی نے ان 14پارلیمانی نشستوں میں سے 12پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ بقیہ 2 نشستوں پر رائے بریلی سے سونیا گاندھی اور امیٹھی سے راہول گاندھی نے کامیابی کا پرچم لہرایا تھا ۔قابل غور بات یہ ہے کہ 2014ء میں اس مرحلے کے تحت ہونیوالی14پارلیمانی نشستوں میں سماج وادی پارٹی (ایس پی ) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی ) کو ایک بھی نشست نہیں ملی تھی ۔ امیٹھی کو کانگریس کا آبائی حلقہ ، گڑھ یا قلعہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ یہاں گاندھی خاندان کو ایک طرح سے پوجا جاتا ہے ۔راجیو گاندھی بھی اس حلقے سے منتخب ہوتے آئے ہیں انہیں اس حلقے سے خاص پیارتھا، انہوں نے بھارت میں جن جن سہولیات یا سکیموں کو متعارف کروانا ہوتا انکا آغاز وہ سب سے پہلے امیٹھی سے کرتے ۔ اس بات پر سیاسی مخالفین راجیو گاندھی کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا کرتے تھے لیکن راجیو اسکا جواب یوں دیا کرتے تھے کہ ’’میں اپنی کسی بھی نئی سکیم یا عوام کی دی جانیوالی سہولت کو امیٹھی میں اس لئے سب سے پہلے لیکر آتا ہوں کہ یہ جان سکوں کہ اسکا میرے حلقے کو کوئی فائدہ ہوا یا نہیں، فائدہ ہوتا ہے تو پھر میں اسے پورے انڈیا کیلئے لاگو کرتا ہوں تا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اپنے حلقے کیلئے پالیسی کچھ اور باہر کچھ اور ۔‘‘ راجیو گاندھی انتخابی مہم کیلئے امیٹھی میں کئی کئی دن قیام بھی کیا کرتے اور مقامی آبادی سے ملاقاتیں بھی کیا کرتے تھے انکا یہی انداز گاندھی خاندان کو آج بھی امیٹھی میں ناقابل شکست بنائے ہوئے ہے ۔ لیکن اب سمرتی ایرانی جو نریندر مودی کی کابینہ میں پہلے تعلیم اور پھر ٹیکسٹائل انڈسٹری کی وزیر رہیں ، امیٹھی سے الیکشن لڑ رہی ہیں سمرتی اپنے حلقے میں خواتین کا دل جیتنے کیلئے اب تک10ہزار سے زیادہ ساڑھیاں تقسیم کر چکی ہیں ، مردوں میں جوتے تقسیم کر چکی ہیں 20ہزار ہندوئوں کو کمبھ کے میلے میں مقدس شنان کیلئے بھجوا چکی ہیں۔ وسری جانب کانگریس بھی خاموش نہیںراہول گاندھی نے امیٹھی کے کسانوں کیلئے 5ہزار کیلے کے پودے بطور تحفہ بھجوائے ہیں تا کہ کسان کیلا اگائیں اورمنافع کمائیں ۔ بی جے پی کی سمرتی ایرانی نے گذشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ایک انٹرویو میں کہا کہ’’ راہول تو اپنے حلقے میں ووٹ مانگنے نہیں آتے وہ امیٹھی کے کسی چوراہے پر بغیر سیکیورٹی گارڈز کے کھڑے نہیں ہو سکتے، امیٹھی میں پہلا پاسپورٹ آفس مودی اور سشما سوراج نے بنوایاہم نے یہاں سے الیکشن ہارنے کے باوجودترقیاتی کام کروائے اور عوام کو روزگار دیا جبکہ یہ کام کانگریس کو کروانے چاہئیں تھے ۔‘‘پروگرام میں سمرتی ایرانی سے سوال کیا گیا کہ ’’بی جے پی ووٹ حاصل کرنے کیلئے فوج کا نام استعمال کر رہی ہے اور بالی وڈ کی فلم ’’اوڑی ‘‘ دکھا کر عوام کے جذبات کو بھڑکارہی ہے ۔ ‘‘اس کا جواب سمرتی ایرانی نے کچھ یوں دیا کہ ’’میںامیٹھی کی ’’دیدی‘‘ ہوں یہاں ایک بھی سینما ہال نہیں ہے اگر میں نے دیدی ہونے کے ناطے مقامی نوجوانوں کو فلم دکھا دی تو کون سا گناہ کیا، جن کے پاس فلم دیکھنے کے پیسے نہیں ہوتے جن کے پاس فلم دیکھنے کیلئے پیسے نہیں ہوتے انہیں فلم دکھانا کوئی جرم نہیں ۔‘‘

یہ تو تھی امیٹھی کی صورتحال اب چلتے ہیں رائے بریلی جوسابق وزیر اعظم اِندرا گاندھی کا حلقہ تھا اور یہاں سے سونیا گاندھی میدان میں ہیں ۔ یہ تو تھی ان دو حلقوں کی مختصر کہانی جہاں پانچویں مرحلے کے دوران ووٹنگ ہو چکی ہے کانگریس اپنے ماضی کی شاندار روایت دہرانے کیلئے پورا زور لگا رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ لوک سبھا الیکشن میںکانگریس اپنا جادو دکھا پاتی ہے یا نہیں؟ مودی کو دوبارہ راج سنگھاسن پر بیٹھنے سے روکنے کیلئے انتخابی اعدادوشمار کی جنگ جیت پاتی ہے یا نہیں؟جبکہ دوسری جانب بی جے پی دوبارہ اقتدار تک پہنچنے کیلئے میچ کو ’’آخری گیند ‘‘ تک لیکر جائیگی۔ و زیر اعظم نریندر مودی اپنی اور اپنی جماعت کی ساکھ بچانے کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں مخالفین انہیں ’’چور ‘‘ ثابت کر رہے ہیں اور وہ خود کو’’چوکیدار ‘‘ منوانے کیلئے کوشاں ہیں ۔

انڈیا میں شاید ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ الیکشن میں روپے پیسے کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے ، لین دین تو ماضی کے انتخابات میں بھی ہوتا رہا لیکن اس بار تو ’’ہیلی کاپٹر ‘‘ اور’’ کالے بیگز ‘‘ کا ذکر کچھ زیادہ ہی ہے اور اسکی شکایت مبصرین ، تجزیہ کار اور عام عوام بھی کر رہے ہیں ، ریلیوں میں عوام کی بھیڑ دکھانے کیلئے پیسے ماضی میں بھی لٹائے جاتے تھے اور اب بھی ایسا کھلم کھلا جاری ہے لیکن اس بار فلم ، ویب سائیٹس اورٹی وی چینلز تک کھولے گئے، میڈیا پرسنز کو نہیں میڈیا ہائوسز کو خریدا گیا ۔ اتنی بھاری کم ’’خریداری‘‘ دیکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اب کی بار انڈیا میں الیکشن غریبوں کی نہیں امیروں کیلئے مخصوص ہو چکا ہے۔ بی جے پی چونکہ اقتدار میں ہے اس لئے سب کی نظریں اُس پر ہیں کہ وہ کب کہاں اور کس کی ’’شاپنگ ‘‘ کر رہی ہے ۔ بی جے پی الیکشن جیتنے کیلئے کیا کر رہی ہے؟ یہ جاننے کیلئے کانگریس کی جنرل سیکرٹری و مشرقی اترپردیش کی انچارج پرینکا گاندھی کے ایک بیان کا ذکر کرتے چلیں جس میںانہوں نے بھاجپا پر امیٹھی میں پردھانوں کو کو رشوت دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’ کانگریس تو عوام کے درمیان اپنا انتخابی منشور تقسیم کر رہی ہے لیکن بی جے پی والے پردھانوں کو روپوں سے بھرے لفافے سونپ رہے ہیں ۔ بھگوا پارٹی کو غلط فہمی ہے کہ پُشتوں سے چلی آ رہی محبت اور سچی سیاست کو رقم سے خریدا جا سکتا ہے ۔ راہول گاندھی امیٹھی میں جا کر عوام کیساتھ گائوں میں رہتے ہیں، بی جے پی نے راہول کے مقابلے میں سمرتی ایرانی کو یہاں سے امیدوار کھڑا کیا ہے جو میڈیا کو بلا کر لوگوں میں جوتے تقسیم کرتی ہیںیہ امیٹھی کے عوام کی بے عزتی ہے پورے ملک میں بی جے پی ایسا ہی کر رہی ہے عوام سے بڑے بڑے دعوے کئے گئے لیکن زمین پر کچھ نہیں کیا گیا ۔ ‘‘

دوسری جانب مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی جو اپوزیشن اتحاد میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں اور ’’دبنگ ‘‘ انداز میں بی جے پی اور مودی سرکار کو للکارتی ہیں کو وزیر اعظم نریندر مودی نے ’’چتائونی ‘‘ دے ڈالی ہے کہ ’’ دیدی آپکے 40ایم ایل اے میرے رابطے میں ہیں مجھے کوئی خطرہ نہیں ہاں آپکی حکومت جانیوالی ہے ۔‘‘مودی جی کی اس دھمکی کو غیر جانبدار صحافتی و سیاسی حلقے کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم سر عام ہارس ٹریدنگ کی بات کر رہے ہیںجسکی کسی طور حمایت نہیں کی جا سکتی ۔ اس وقت مغربی بنگال میں پارٹی پوزیشن یہ ہے کہ

مغربی بنگال اسمبلی میں نشستوں کی کُل تعداد295

اسمبلی الیکشن ہوئے 2016ء میں

ترنمول کانگریس کی حاصل کردہ نشستیں :213

بی جے پی کی حاصل کردہ نشستیں:2

وزیر اعلیٰ : ممتا بینر جی

اپوزیشن لیڈر : عبدالمنان

مغربی بنگال میں پارٹی پوزیشن سے صاف ظاہر ہے کہ وہاں ممتا بینر جی کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا لیکن مودی وہاں من چاہی ’’تبدیلی ‘‘ کیسے اور کس کے زور پر لائیں گے اسکا بہتر جواب تو خود مودی جی ہی دے سکتے ہیں۔ بہرحال ممتا بینر جی نے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ مودی نے سرعام ہارس ٹریڈنگ کی بات کی اور عوام کی منتخب کردہ حکومت کو دھمکی دی ، سوال یہ نہیں ہے کہ ممتا بینر جی اپنی اکثریت ثابت کرنے کیلئے مغربی بنگال اسمبلی کا اجلاس بلائیں گی ، الیکشن کمیشن سے رابطہ کریں گی یا صدر بھارتی جمہوریہ کو احتجاجی خط لکھیں گی ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا بیان دینے پرنریندر مودی کیخلاف الیکشن کمیشن کیا اقدام کرتا ہے جس نے اب تک ان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور اس الیکشن کمیشن کی اس ’’خاموشی ‘‘ اور ’’چشم پوشی ‘‘پرغیر جانبدار حلقے اور سیاسی جماعتیں کڑی تنقید کر رہی ہیں ۔5اپریل کو نریندر مودی الیکشن کمیشن کو ایک شکایت موصول ہوئی تھی لیکن اب تک اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ، صدر جمہوریہ کو گورنر کلیان سنگھ کیخلاف شکایت کی گئی تھی کہ وہ گورنر ہوتے ہوئے بھی بی جے پی کی انتخابی مہم چلا رہے ہیںانکے خلاف کارروائی کی جائے لیکن الیکشن کمیشن نے کارروائی کرنے کی بجائے شکایت وزیر داخلہ یاوزارت داخلہ کوبھجوا دی اور وہاں سے بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔مطلب صاف نظر آ رہا ہے کہ اب تک لوک سبھا الیکشن 2019ء کے جتنے بھی مراحل طے ہو چکے ہیں ان میں بھارتی اداروں کی ’’کمزوری اورجانبداری ‘‘ صاف نظر آ رہی ہے یہ بھارت میں پہلی بار ہے کہ ایسا لگ رہا ہے ریاستی اداروں میں ریڑھ کی ہدی ہی نہیں ہے ۔

رہا بھارت میں دہشتگردی کا مسئلہ تو پلوامہ کے بعد مہاراشٹر کے گڑھ چرولی میں نکسلیوں کے حملے میں پولیس کمانڈوزکیخلاف بڑی کارروائی ہوئی جس میں 16 پولیس کمانڈوز مارے گئے لیکن نریندر مودی انتخابی ریلیوں، جلسوں اور ٹیوی پروگرامز میں دعویٰ کر ر ہے ہیں کہ ’’اب آپ کو مندروں ، بازاروں ، ریلوے اسٹیشن بس اسٹیشن پر بم دھماکوں کی خبریں نہیں سنائی دیتی ہیںیہ سب میرے ڈر کی وجہ سے بند ہوا ہے ۔ میرے ڈر سے ملک میں دہشتگردانہ حملے رُکے ہیں ، مگر اس خطرے کو پوری طرح سے ٹالنے کیلئے مرکز میں مودی کی قیادت والی مضبوط سرکار دوبارہ بنانی ہوگی۔ اس علاقے کو رامائن سرکٹ اور بدھ سرکٹ کے ذریعے پورے ملک سے جوڑا جارہا ہے ،لیکن یاد رکھیے جب دہشت گردی بڑھتی ہے تو اس کا پہلا شکار آستھا کے ایسے ہی مرکز ہوتے ہیں۔ کیا دہشتگردی کی اس نرسری کو ایس پی اور بی ایس پی بند کرسکتی ہیں؟ کیا دہشتگردی سے لڑنے والے فوجیوں کے خصوصی اختیارات کو ہٹا دینے کی بات کرنیوالی کانگریس دہشتگردی سے لڑ سکتی ہے؟ملک کی سب سے پرانی پارٹی کی آج ایسی حالت ہے کہ اس کو اس بات کا پتہ ہی نہیں ہے کہ اس کو اپوزیشن کا رہنما بننے کا موقع ملے گا یا نہیں۔ 2014ء میں تو موقع ملا نہیں تھا۔ اس بار تو عوام اتنے غصے میں ہیں کہ 2019ء میں ان کو کچھ نصیب نہیں ہوگا۔جو لوگ 55-50 سیٹیں لے کر اپوزیشن رہنما بننے کی حالت میں بھی نہیں ہیں وہ وزیر اعظم بننے کیلئے درزی کے پاس کپڑے سلوا رہے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح کھچڑی سرکار بن جائے۔ کمزور سرکا ربن جائے۔تب 3 مہینے کوئی وزیر اعظم بنے گا اور 3 مہینے کوئی اور۔ آپ کو کیا ایسا منظور ہے؟ ‘‘٭٭٭٭

مودی کو ’’کھلی چھٹی‘‘ اور بچوں کے نعرے لگانے پر پرینکا گاندھی کو نوٹس

لوک سبھا الیکشن کے دوران کئی دلچسپ اور قابل غور واقعات رونما ہو رہے ہیں کہیں کوئی ووٹر اپنی انگلی کاٹ رہا ہے تو کہیں وزیر اعظم نریندر مودی کیخلاف الیکشن لڑنے والے سابق فوجی تیج بہادر کے کاغذات نامزدگی مسترد کروانے کیلئے ’’ خصوصی دبائو‘‘ ڈالا گیا ، کہیں الیکشن کمیشن بی جے پی اور پردھان منتری نریندر مودی کیخلاف ملنے والی شکایات پر اقدامات نہیں کر رہا تو کہیں ’’دوسری اِندرا ‘‘یعنی پرینکا گاندھی کو بچوں سے ملنے پر نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہوا کچھ یوں کہ کانگریس کی جنرل سیکریٹری ینکا گاندھی وردا کو انتخابی ریلی کے دوران مبینہ طور پر بچوں کواستعمال کرنے پر نوٹس جاری کردیا گیا۔ بھارت میں قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال نے پرینکا گاندھی کو جاری نوٹس میں کہا ہے کہ کمیشن کو شکایت اور ایک ویڈیو لنک موصول ہوا ہے جس میں بچوں کو انتخابی ریلی کے دوران نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور آپ کی موجودگی میں ناپسندیدہ ریمارکس اور ناشائستہ زبان استعمال کی گئی ۔نوٹس میں پرینکاگاندھی سے پوچھا گیا کہ اس موقع پر موجود بچوں کے نام، پتے بتائے جائیں اور یہ بھی بتایاجائے کہ یہ کونسی جگہ ہے اور بچوں کو ریلی کے مقام پر کیسے لایا گیا؟واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں پرینکا گاندھی کے ساتھ بچوں کا ایک گروپ گرمجوشی کے ساتھ نعرے بازی کررہا ہے پرینکا بچوں کو پیار کر رہی ہیںجبکہ انہوں نے ایک ننھے بچے کی شرٹ کے بٹن بھی بند کئے ۔

پورا بھارت اور سماج ڈرا ہوا ہے ، جو پردے میں تھے بے نقاب ہو چکے ہیں

23مئی تک کہانی میں ٹوئیسٹ نہ آیا تو سب بدل جائیگا ، جاوید اختر

معروف نغمہ نگار ، شاعر جاوید اختر جو بالی وڈ میں خدمات کے علاوہ بھارت میں اپنے سیکولر امیج کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتے ہیں کو انتہا پسندوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔یہ دھمکیاںکیوں دی جا رہی ہیں اسکی تفصیل بتانے اور سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بھارت میں جو سیکولر ازم کی بات کر رہا ہے وہ انتہا پسندوں کے نشانے پر آجاتا ہے ، سو اس بار یہ کام جاوید اختر کر بیٹھے۔۔۔معروف صحافی رویش کمار جو نریندر مودی کی پالیسیوں کے سخت نقاد مانے جاتے ہیں کے پروگرام میں جاوید اختر گئے اور ان کیساتھ اپنے مخصوص انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اب بالی وڈ میں انتہا پسندی پر مبنی فلمیں بنائی جا رہی ہیں تو وہ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ فلم انڈسٹری سماج کا حصہ ہے سماج میں زہر پھیلے گا تو فلموں میں بھی آئے گا ۔ ایسے ماحول میں کوئی کیسے جرأت دکھائے کیسے ’’ویرزارا ‘‘ اور ’’ریفیوجی ‘‘ اور ’’بارڈر ‘‘جیسی فلمیں بنائیںجب ہمارا سسٹم کسی کو سیکیورٹی نہیں دے سکتا تو اُسے ہمت دکھانے کا سبق کیسے دے سکتا ہے۔ لوگ لیڈر کو قوم اور پارٹی کو دیش سمجھ لیتے ہیں جبکہ یہ ضروری نہیں سیاسی جماعتیں آتی جاتی رہتی ہیں قوم اور دیش کہیں نہیں جا سکتے ۔بے روزگاری ، صحت ، تعلیم اور کسانوں کے حقوق کی بات کرنا ہی حب الوطنی ہے کوئی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتا اور کسی کو یہ حق نہیں کہ دوسروں کو کہے کہ تم دیش بھگت نہیں ہو میں ہوں ۔ ایک سوال کے جواب میں جاوید اختر کا کہنا تھا کہ 1947ء کے بعد بہت سے الیکشن ہوئے لیکن اس بار الیکشن خاص ہیں کیونکہ یہ بھارت کی سمت متعین کریں گے ۔ بی جے پی نے پہلے کانگریس کو ’’مُکت ‘‘ کرنے کیلئے ووٹ مانگا تھا اب نریندر مودی اور انکی ٹیم نے بی جے پی کو بھی ’’مُکت ‘‘ کر دیا ہے ۔بی جے پی کو یہ پتا ہوتا کہ ہم جیت رہے ہیں تو کبھی پرگیا ٹھاکر جیسے امیدواروں کو ٹکٹ نہ دیا جاتا ، یہ ہر حال میں جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ آہستہ آہستہ انکے چہروں سے سب پردے اُٹھ چکے ہیں ۔ پرگیا ٹھاکر نے کچھ نہ کیا ہوتا تو اِنہیں اتنی اچھی کیوں لگتی ؟ اُس نے کچھ نہ کیا ہوتا تو بی جے پی کا ٹکٹ بھی نہ ملتا۔پورا بھارت اور بھارتی سماج ڈرا ہوا ہے ، سیاسی جماعتیں اور عام آدمی بھی ڈرا ہوا ہے، جو نہیں بتا رہا وہ بھی ڈرا ہوا ہے ، جو مودی اور امت شاہ سے agreeنہیں کرتا وہ بھی ڈرا ہوا ہے ۔ جب میں تیس بتیس سال کا تھا تب میں نے بھارت میں ایمرجنسی کا دور دیکھا تھا اُس وقت جو ڈر تھا جو خاموشی تھی ویسی ہی آج بھی ہے ۔ 23مئی تک کہانی میں کوئی ٹوئیسٹ نہ آیا تو سب بدل جائیگا ، پولنگ بوتھ میں عوام ڈر کر ووٹ نہیں ڈالتے لیکن اگر اس بار وہاں بھی ڈر گئے تو حالت نہیں بدلیں گے ۔ ڈرنے کیلئے مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے آج ہندو اکثریت بھی ڈر رہی ہے ۔

بی جے پی سے تعلقات اور سوشل میڈیا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں جاوید اخترکا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر صرف نفرت اور گالیوں کا پلیٹ فارم بن چکا ہے جبکہ اِس سے بہت اچھا کام لیا جا سکتا تھا ۔ رہی بات بی جے پی کی تو میں نے کبھی پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا ، اس بار میں جن سے محبت کرتا ہوں انکی انتخابی مہم میں گیا ۔ اچھے لوگ ہر پارٹی میں ہوتے ہیں ، اٹل بہاری واجپائی سے میرے اور میری فیملی کے بہت اچھے تعلقات تھے ، ہمارا انکے گھر آنا جانا تھا ، پرمود مہاجن اچھے رہنما ہیں ، ارون جیٹلی اور سشما سوراج نے ہماری انڈسٹری کیلئے بہت اچھا کام کیا ۔

مودی دور میں اقتصادی بد نظمی ، قرضوں کے بوجھ میں 57فیصد اضافہ

مارچ 2014ء تک انڈیا پر 53لاکھ 11ہزار 81کروڑ روپے کا قرض تھا

دسمبر 2018ء تک یہ قرض 57فیصد بڑھ کر 83لاکھ 40ہزار 26کروڑ روپے ہو گیا

کانگریس نے مودی حکومت پر انڈیا کو قرض میں غرق کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ 5سال میں اقتصادی بد نظمی کی وجہ سے شہریوں پر قرض کا بوجھ 57فیصد بڑھ کر 90لاکھ کرور تک پہنچ گیا ہے اور ہر شہری 23ہزار روپے سے زیادہ کا مقروض ہو گیا ہے کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے پارٹی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس میں کہا ’’وزارت خزانہ کے اعدادو شمار کے مطابق مارچ 2014ء کے بعد 30لاکھ 28ہزار 945کروڑ روپے کا اضافی قرض لے کر انڈیا کے عوام کو قرض میں ڈبو دیا گیا ہے مارچ 2014ء تک انڈیا پر 53لاکھ 11ہزار 81کروڑ روپے کا قرض تھا لیکن دسمبر 2018ء تک یہ قرض 57فیصد بڑھ کر 83لاکھ 40ہزار 26کروڑ روپے ہو گیا ہے ۔ 5سال میں مودی حکومت نے جتنا قرض لیا ہے پہلے کسی حکومت نے اتناقرض نہیں لیا ۔ اس قرض پر سود کی بھی بڑی رقم ادا کرنی ہو گی اور اس طرح سے انڈیا کو کنگال بنا دیا گیا ہے ۔ دسمبر 2018ء سے مارچ 2019ء تک کے قرض کے تفصیلی اعدادو شمار نہیں دئیے گئے لیکن کانگریس کی ریسرچ ٹیم نے وزارت خزانہ کے ذریعے چھپائے گئے اعدادوشمار کا پتہ لگا لیا اور 3ماہ کی مدت میں 7لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے قرض لینے کا انکشاف ہوا ہے ۔ اس طرح مودی حکومت نے 5سال کے دوران انڈیا کو 90لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ قرض دار بنا دیا گیا ۔ مسٹر سرجے والا کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سرکاری محکموں میں اس مدت میں زیادہ سے زیادہ قرض لینے کی دوڑ شروع ہو گئی تھی ۔ صرف نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اس دوران ایک لاکھ 67ہزار 399کروڑ روپے کا قرض لیا پہلے اس ادارے نے کبھی اتنا قرض نہیں لیا تھا ۔ اسی طرح سے مودی حکومت نے پبلک سیکٹر کی کمپنی سیل گیل ایچ اے ایل وغیرہ کو بھی قرض میں ڈبو دیا ہے ۔ مودی حکومت نے گذشتہ 5سال کے دوران جتنا اضافی قرض لیا ہے اس کی وجہ سے انڈیا کے 130کروڑ شہری بھی قرض کے زبردست بوجھ تلے دب گئے ہیں اب انڈیا کا ہر شہری اوسطاً 23ہزار 300روپے سے زیادہ کا مقروض ہو گیا ہے ۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے ایک طرح سے انڈیا کے ہر شہری کو قرض میں ڈبو دیا ہے اور دوسری طرف اپنے منظور نظر صنعتکار دوستوں کے 5لاکھ 50ہزار کروڑ روپے معاف کر دئیے ہیں ، اس مدت میں بینکوں میں این پی اے بڑھ کر 12لاکھ کروڑ روپے پہنچ گیا ہے جبکہ سرکاری کمپنیوں کو قرض میں دھکیل کر ڈبویا یا بند کیا جا رہا ہے ۔

 

 

٭:مختلف مقامات پر تشدد جھڑپیں اور ای وی ایم میں گڑ بڑ کی شکایت

 

٭:بنگال میں سب سے زیادہ 74فیصد ووٹ ڈالے گئے

 

٭:اتر پردیش میں 55اور بہار میں 58فیصد رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے

 

کہاں کتنی پولنگ ہوئی (فیصد میں )

 

ریاستیں  نشستیں ووٹ فیصد 

 

مغربی بنگال 07   74.15 

 

جھار کھنڈ   04  64.23 

 

مدھیہ پردیش   07  63.40 

 

راجستھان 12   63.24 

 

اتر پردیش 14   54.44 

 

بہار   05  57.86 

 

جموں و کشمیر (لداخ) 02   61.02 

 

 

 

دہلی اسمبلی ، لوک سبھا اور ایم سی ڈی انتخابات میں آپ ، کانگریس اور بی جے پی کے حاصل کردہ ووٹ

 

لوک سبھا الیکشن 2014

 

ء بی جے پی    46.10فیصد

 

عام آدمی پارٹی    34.90فیصد

 

کانگریس    15.10فیصد

 

اعدادو شمار سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ گذشتہ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نمبر ون ، آپ دوسرے اور کانگریس تیسرے نمبر پر آئی

 

اسمبلی الیکشن 2013

 

ء عام آدمی پارٹی    29.54فیصد

 

کانگریس    24.06فیصد

 

بی جے پی    33فیصد

 

اسمبلی الیکشن 2015

 

ء عام آدمی پارٹی    54.03فیصد

 

کانگریس    9.7فیصد

 

بی جے پی    32.03فیصد

 

ایم سی ڈی الیکشن 2017

 

ء عام آدمی پارٹی    26.23فیصد

 

کانگریس 21.0 فیصد

 

بی جے پی    36.08فیصد

 

 

 

پارٹی    نشستیں

 

کانگریس    112

 

بی جے پی    73

 

بی ایس پی    06

 

بھارتیہ ٹرائل پارٹی   02

 

سی پی آئی (ایم )  02

 

راشٹریہ لوک دل    01

 

آزاد    01

 

راشٹریہ لوک تانترک پارٹی   03

 

راجستھان پارٹی پوزیشن 2013

 

ء پارٹی    نشستیں

 

بی جے پی    163

 

کانگریس    21

 

بی ایس پی    03

 

این یوزیڈ بی   02

 

این بی پی    04

 

آزاد    07

 

مغربی بنگال لوک سبھا الیکشن 2014

 

ء میں کس پارٹی کو کتنا ووٹ ملا

 

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی ) 45 فیصد

 

بائیں بازو کی جماعتیں   27فیصد

 

کانگریس    12فیصد

 

بی جے پی 11 فیصد

 

دیگرجماعتیں 5 فیصد

 

اسمبلی الیکشن 2016ء میں کس کو کتنا ووٹ ملا

 

اے آئی ٹی سی

 

44.8فیصد

 

سی پی ایم 19.7 فیصد

 

کانگریس    12.3فیصد

 

بی جے پی 10.2 فیصد

 

این او ٹی اے    1.5فیصد

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

گزشتہ چند روز میں دل دہلا دینے والی خبروں نے قنوطیت کاشکار کر دیا،اناامیدی کی اتھاہ گہرایوںمیں دھکیل دیا جہاں امید کی کوئی کرن دکھائی نہ ...

مزید پڑھیں

بزرگ شاعراجمل سلطانپوری کی نظم کا کچھ حصہ جو انڈیا کے حالات کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلماں اور ہندو کی جان ۔۔۔کہاں ہے میرا ہندوستان ۔ ۔ ۔ میں ...

مزید پڑھیں

٭:انڈیا کے لوک سبھا الیکشن 2019ء اپنے انجام کو پہنچے ،7دور مکمل۔۔۔انتخابی دوڑ ختم ۔۔۔اب سب کو انتظار ہے نتائج کا۔۔۔ ٭:قسمت کی دیوی کس پر ہو ...

مزید پڑھیں