☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل فیشن صحت دین و دنیا متفرق خواتین کیرئر پلاننگ ادب
اصل مقابلہ تو اب شروع ہو گا

اصل مقابلہ تو اب شروع ہو گا

تحریر : طیبہ بخاری

05-26-2019

بزرگ شاعراجمل سلطانپوری کی نظم کا کچھ حصہ جو انڈیا کے حالات کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلماں اور ہندو کی جان ۔۔۔کہاں ہے میرا ہندوستان ۔ ۔ ۔ میں اُس کو ڈھونڈ رہا ہوں جہاں تھے تلسی اور کبیر۔۔۔جائسی جیسے پیر فقیر۔۔۔جہاں تھے مومن غالب میر۔۔۔جہاں تھے رحمن اور رسخان ۔۔میں اس کو ڈھونڈ رہا ہوں ۔۔۔

جہاں کی پاک پوتر زمین ۔۔۔جہاں کی مٹی خلد نشین ۔ ۔ ۔

جہاں مہاراج معین الدین۔۔۔غریب نواز ہند سلطان ۔ ۔ ۔ میں اس کو ڈھونڈ رہا ہوں

مجھے ہے وہ لیڈر تسلیم ۔۔۔جو دے یکجہتی کی تعلیم۔۔۔مٹا کر کنبوں کی تقسیم۔۔۔جو کر دے ہر قالب اِک جان ۔۔۔میں اس کو ڈھونڈ رہا ہوں

یہ بھوکا شاعر پیاسا کوی ۔۔۔سسکتا چاند سلگتا روی۔۔۔ہو جس مدرا میں ایسی چھوی ۔۔۔کرا دے اجمل کو جلپان۔۔۔میں اس کو ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔

لوک سبھا الیکشن کے ساتویں مرحلے سے قبل ہی ’’اپوزیشن اتحاد ‘‘ کیلئے سیاسی سرگرمیوں میں زبردست تیزی آ گئی تھی ، شائد اپوزیشن اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی اور الیکشن کے دوران ہی اپنی تیاری اور سارا کام مکمل کرلینا چاہتی تھی۔ لوک سبھا الیکشن کے ساتویں مرحلے سے قبل یعنی 18مئی کو اپوزیشن کے کیمپوں میں زبردست ہلچل شروع ہو چکی تھی اور اپوزیشن رہنمائوں نے آئندہ حکومت کیلئے اتحاد قائم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں ۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ وہ حکومت سے باہر ہوں یا اندرانکا اصل کردار اور امتحان اب شروع ہو گا کیونکہ انتخابات کے دوران انہوں نے عوام سے جو وعدے کئے اور انتہا پسند نظریات کیخلاف جو موقف اپنایا ہے وہ ’’پرانا‘‘ ہونیوالا نہیںبلکہ ابھی اس میں مزید ’’رنگ ‘‘ اور مزید ’’تیزی ‘‘ آئیگی اور اعتدال پسند جماعتوں کی بقاء انکے اپنے موقف پر جمے رہنے میں ہی ہے اور اصل’’ مقابلہ‘‘ تو اب شروع ہو گا

فرق صرف اتنا ہے کہ ’’گیم ‘‘ پہلے عوامی ریلیوں اور جلسوں میں کھیلی جا رہی تھی اب سمٹ کر ایوانوں تک آجائیگی جہاں ’’کھلاڑیوں کے کھلاڑی ‘‘ موجود ہونگے اور ہر کھلاڑی دوسرے کو ’’ٹف ٹائم ‘‘ دیگا اور ’’کھل کھیلنے ‘‘ کی اجازت نہیں دیگا ایسی صورتحال میں صاف نظر آ رہا ہے کہ اقتدار کی گیم انتہائی دلچسپ رہے گی اور حکومت کسی کی بھی بنے اس کو اپنی ’’طاقت ‘‘ ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہو گا۔

اسی اہمیت اور مقابلے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے تلگو دیشم پارٹی کے سربراہ اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو جو پہلے این ڈی اے یعنی بی جے پی اتحاد کا حصہ رہے ہیں نے چند ماہ قبل اپنی راہیں بی جے پی سے جدا کر لی تھیں اب وہ بی جے پی مخالف اتحاد کیلئے سرگرم ہیں۔ بابو جی نے کانگریس اور کمیونسٹ رہنمائوں سے اہم ملاقاتیں کیں ،کانگریس کے صدر راہول گاندھی سے ملاقات میں انہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے اور متحدہ اپوزیشن اتحاد قائم کرنے کے پر غور و فکر کیا آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ نے صبح کے ناشتے سے ہی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا

سی پی آئی کے لیڈر سدھاکر ریڈی اور ڈی راجا سے ملاقات کی اور ان سے ’’ایک ساتھ آنے ‘‘ کیلئے کہا ۔ چندرا بابو نائیڈو نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شردپوار اور ایل جے ڈی لیڈر شرد یادو سے بھی ملاقاتیں کیں ۔ یہاں ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ تلگو دیشم پارٹی کے سربراہ نائیڈو ترنمول کانگریس سپریمو ممتا بینر جی ، عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال اور سی پی ایم کے جنرل سیکرٹری سیتا رام یچوری سمیت مختلف اپوزیشن رہنمائوں سے بات چیت کے کئی دور مکمل کر چکے ہیں ۔ وہ لکھنئو میں بی ایس پی لیڈر مایاوتی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو سے بھی ملے ۔ سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو نے تمام رہنمائوں سے کہا ہے کہ ہمیں ایک ساتھ آنا چاہئے اور مل کر کام کرنا چاہئے۔

نئی حکومت میں علاقائی جماعتوں کی اہمیت سے ہر گز انکار نہیں کیا جا سکتا ۔2014ء کے عام انتخابات میں جب نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے اکیلے ہی اکثریت حاصل کر لی تھی تو سیاسی مبصرین کی رائے تھی علاقائی جماعتیں حاشیہ پر پہنچ جائیں گی اور سیاست میں بے حیثیت ہو کر رہ جائیں گی انکا نام و نشان بھی نہیں ملے گا کیونکہ طاقت کا کھیل دو جماعتوں تک محدود ہو چکا ہے، قوی سطح پر بی جے پی اور کانگریس کا عمل دخل بڑھ جائیگا ۔ مگر ہوا کیا 5سال کے اندر ہی ساری توجہ علاقائی سیاسی جماعتوں کی طرف منتقل ہو گئی ۔

ثابت ہوگیا کہ جمہوریت کے بارے میں کوئی بھی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی ۔ ایک دور تھا جو سیاسی جماعتیں کمزور دکھائی دیتی تھیں اور حاشیہ پر تھیں انہوں نے مضبوطی حاصل کر لی ۔بہر جلد یہ احساس ابھرا کہ وفاقی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کیلئے منتخب نمائندوں کو جوابدہ ہونا چاہئے ۔ چھٹے مرحلے کے بعد تو بی جے پی کے لیڈر خود یہ تسلیم کر رہے تھے کہ بی جے پی نہیں بلکہ این ڈی اے اتحاد 272کے جادوئی عدد تک پہنچ کر حکومت بنائے گا ۔

اسی طرح کانگریس کی قیادت والا یوپی اے اتحاد بھی علاقائی جماعتوں کی بنیاد پر دعویٰ کرتا رہا کہ سب مل کر نئی سرکار بنائیں گے جبکہ سٹہ بازار سے ایسی رپورٹس آتی رہیں کہ ’’تیسرا محاذ ‘‘ مطلوبہ ہدف حاصل کرلے گا ۔ ان سب دعوؤں میں بس ایک بات سوچنے اور سمجھنے کی ہے کہ علاقائی سیاسی جماعتوں نے گذشتہ 5سال کی اقتدار سے دوری کے باوجود اپنی اہمیت کو کامیابی سے منوایا یہی وجہ ہے کہ وہ آج 2 بڑی جماعتوں کی ’’ضرورت ‘‘ اور ’’توجہ کا مرکز ‘‘ ہیں ۔

بھارت کی سیاسی تاریخ میں جھانکیں تو 1947ء کے بعد مرکز میں پہلی اتحادی حکومت 1977ء میں اقتدار میں آئی تھی مگر ناکام ثابت ہوئی۔ لیکن اسے ناکام حکومت نہیں بلکہ’’ ناکام تجربہ ‘‘ کہنا چاہئے 1980ء کے بعد علاقائی سیاسی جماعتوں کا اثر و رسوخ آہستہ آہستہ بڑھنے لگا اسکی وجہ یہ تھی کہ مرکزی سطح پر علاقائی مسائل کو اہمیت نہیں دی جا رہی تھی ۔

علاقائی جماعتوں کے اثرات بڑھنے سے قومی سیاسی جماعتیں خوش نہیں تھیں اور اس زعم میں بھی مبتلا تھیں کہ کوئی انکی طاقت کو مرکز میں چیلنج نہیں کر سکتا لیکن وقت نے بڑی جماعتوں کی اس سوچ کو ’’بڑی غلطی ‘‘ اور چھوٹی جماعتوں کی محنت کو ’’بڑا ‘‘ کر دکھایا ۔ دلیل کے طور پر 2019ء کے پورے کے پورے لوک سبھا الیکشن اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم ہے ۔ کانگریس اور بی جے پی نے ٹی وی مباحثوں ، انٹرویوز ، انتخابی ریلیوں اور جلسوں میں تقریروں کے دوران کھلم کھلا علاقائی سیاسی جماعتوں کی اہمیت کو تسلیم کیا اور انکے ساتھ مل کر آگے بڑھنے اور حکومت سازی کے عمل کو مکمل کرنے کی باتیں کیں ۔

انتخابی نتائج سے پہلے اور بعد کی صورتحال واضح کر چکی ہے کہ علاقائی سیاسی جماعتوں کامرکز میں نئی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ہو گا جن علاقائی جماعتوں کو قوم کی تعمیر میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جاتا تھا مکافات عمل دیکھئے آج انکے بغیر کوئی بڑی جماعت راج سنگھاسن تک نہیں پہنچ سکتی اور اگر پہنچ بھی جاتی ہے تو انکی مدد کے بغیر اپنا اقتدار قائم نہیں رکھ سکتی ۔اپنی اسی اہمیت کے دیکھتے ہوئے علاقائی سیاسی جماعتوں نے ماضی میں کبھی دھمکیوں اورکبھی حمایت کی آڑ میں اپنے مفادات کا کھیل کھیلا ، بعض اوقات اس کھیل میں وسیع تر مفاد کی بھی پرواہ نہیں کی جس کے باعث انکی حیثیت علاقائی تھی اور علاقائی ہی رہی اس سے آگے کا سفر طے نہ کر سکیں لیکن شائد اپنے علاقوں سے نکل کرآگے بڑھنا ان جماعتوں کا مقصد ہی نہ تھا

وہ تو بس اپنے پیروں کے نیچے کی زمین کو مضبوط کرنے میں لگی تھیں اور لگی رہیں وقت انہیں کبھی اقتدار کے قریب اور کبھی دور لے جاتا رہا اور وہ وقت اور نظریہ ٔ ضرورت کے تحت آگے پیچھے چلتی رہیں اور آج وہ اس مقام پر آن پہنچی ہیں کہ مرکز میں کوئی بھی بڑی جماعت ان کے بغیر حکومت بنانے کا خواب نہیں دیکھ سکتی۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ علاقائی سیاسی جماعتیں بات بات پہ حکومتیں گرانے کی دھمکیاں دیتی ہیں جن کے باعث کئی اہم ایشوز کو سردخانے میں ڈال دیا جاتا ہے ، ہر الیکشن میں طاقت کا توازن ہی متاثر رہتا ہے اور قومی سطح کی جماعتیں ہمیشہ ہی الیکشن کے موڈ میں رہتی ہیں اس طرح علاقائی جماعتوں کو اپنے مفادات کے تحفظ کا موقع مل جاتا ہے ۔ ایک خوش آئندامر یہ بھی ہے کہ بعض علاقائی جماعتوں نے اپنا مزاج بدلا ہے اور مرکز سے تصادم کی پالیسی کو تبدیل کر کے تعاون کا رویہ اپنا یا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ حکومت تصادم والی بنتی ہے یا تعاون والی ۔۔۔؟

انتہا پسندوں نے گنگا جمنی تہذیب

کوبھی تقسیم کر دیا : سوامی اگنی ویش

سینئر سوشل ایکٹویسٹ سوامی اگنی ویش نے کہا ہے کہ مالیگائوں بم دھماکوں کی اہم ملزمہ پرگیہ ٹھاکر کو بی جے پی میں شامل کرنا خود بی جے پی کی دہشتگردی کیخلاف بلند و بانگ دعوے کی نفی کرتا ہے ، اگر دہشتگردوں میں بطور مذہب تفریق ہونے لگے تو دہشتگردی کیخلاف سینہ سپر ہونا بے معنی ہو جاتا ہے ، بی جے پی کے قول و فعل کے تضاد کو 5برسوں نے بہت گہرائی سے دیکھا ۔ 2014ء کے عام انتخابات کے وقت کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کر کے بی جے پی نے خود اس بات پر مہر لگا دی کہ وہ سب وعدے اقتدار حاصل کرنے کیلئے کئے گئے تھے۔

مودی دور کے 5برسوں میں عوام بالخصوص عام آدمی نے جو اذیت جھیلی اس سے وہ عاجز آ گئے ہیں۔ بی جے پی حکومت زور زبردستی سے دستور کو بالائے طاق رکھ کر ہر وہ عمل انجام دیا جو جمہوریت اور انڈیا کی تہذیب و تمدن کے منافی ہے۔ اقتدار کی ہوس نے بی جے پی رہنمائوں کو بُری طرح یرغمال بنا لیا ، کرسی کے لالچ میں سیاستدانوں نے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو 2گروپوں میں تقسیم کر دیا اس لئے متحد ہو کر انتہا پسندوں (فرقہ پرستوں ) کیخلاف صف آراء ہونا ہو گا ، اسی لئے میری درخواست ہے کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کریں جو وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

بی جے پی مجھے قتل کرا سکتی ہے اروند کیجریوال

دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے ایک انگریزی نیوز چینل سے گفتگو میں بی جے پی پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میرا سیاسی قتل ہو سکتا ہے ، میرے سیکیورٹی اہلکار بی جے پی کو رپورٹ کرتے ہیں اور اندرا گاندھی کی طرح مجھے دو منٹ میں موت کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے ۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ کے اس بیان پر عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھاردواج نے کہا ’’ کیجریوال پروزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد پولیس کی موجودگی میں کم از کم 6مرتبہ حملے ہوئے ہیں اور ایسے واقعات کے بعد کوئی کارروائی نہیں کی گئی ،

ہمیں دہلی پولیس پر کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔ ‘‘ وزیر اعلیٰ اور ان کی پارٹی کے تحفظات پر دہلی پولیس نے اپنا جواب ایک بیان کی صورت میں جاری کیا ۔ محکمہ پولیس کے پی آر اواورنائب ترجمان انل متل کا کہنا ہے کہ ’’دہلی پولیس کی سیکیورٹی بے حد تربیت یافتہ جوانوں کی ٹیم ہے ، اہلکارپوری طرح ایماندار اور وقف ہو کر کام کر رہے ہیں ۔ دہلی پرلیس کا سیکیورٹی یونٹ بھارت کے بڑے لیڈروں کو سیکیورٹی کور مہیا کر رہا ہے اور دہلی کے وزیر اعلیٰ کی سیکیورٹی میں لگے جوان بھی اتنے ہی اہل ، قابل اور ڈیوٹی کے تئیں وقف ہیں ۔‘‘

یہاں یہ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد اروند کیجریوال نے سیکیورٹی لینے سے منع کر دیا تھا لیکن بعد میں انہیں زیڈ زمرے میں سیکیورٹی دی گئی اور اتنی سیکیورٹی کے باوجود ان پر کئی بار حملے ہو چکے ہیں ۔ ان میں مرچی پائوڈر پھینکنے سے لے کر تھپڑ مارنے کی وارداتیںبھی شامل ہیں ۔

نئی حکومت کی حکمت عملی پر سب کی نظر

سب کی نظریں جمی ہیں کہ نئی حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ تفصیلات میں جانے کی بجائے صرف چند پوائنٹس میں ذکر کیا جائے تو ذہن میں سوال ہے کہبھارت کی نئی حکومت کے خدوخال کیا ہونگے ؟

٭:مخلوط حکومت بنی تو وہ ’’سنگھ پریوار ‘‘ یعنی شدت پسند یا انتہا پسندنظریات رکھنے والوں سے کیسا سلوک کریگی ؟صاف نظر آیا کہ علاقائی سیاسی جماعتوں نے خوف کی فضاء میںالیکشن لڑا۔

٭:مودی مخالفین کو میدان بالکل صاف نہیں ملے گا بالکل اسی طرح مودی کے ساتھیوں کو بھی سنبھل کر چلنا ہو گا ؟

٭:عوام میں انتہا پسندی کیخلاف تاثر زور پکڑ چکا ہے سب نے سمجھ لیا ہے کہ اگرانتہا پسندوں (سنگھ پریوار ) کی حکومت دوبارہ آئی تو نہ صرف سیکولر و جمہوری نظریات رکھنے والوں کا وجود ختم ہو جائیگا بلکہ بھارتی سالمیت اور یکجہتی کا قائم رہنا بھی مشکل ہو جائیگا ۔گذشتہ 5برس میںیہ آزمائش بھی ہو گئی کہ جس علاقائی جماعت نے نریندر مودی کیساتھ مخلوط بنائی یا اسکی حمایت کی اس کے ارکان اسمبلی کو جلد یا بدیر خرید و فروخت کر کے بی جے پی کا حصہ بنا لیا گیا ۔

٭: مخلوط حکومت بنتی ہے توکانگریس کو اپنی ہم خیال تمام سیاسی جماعتوں کو لیکرانتہا پسندی کیخلاف ’’فرنٹ فٹ ‘‘ پر آ کر کھیلنا پڑیگا ۔انتہا پسند جماعتوں کو پیچھے کی طرف دھکیلنا ہو گا ، سیکولر ازم کی ’’حوصلہ افزائی ‘‘کیلئے ’’سنگھ پریوار ‘‘کی حوصلہ شکنی کرنی پڑے گی ۔مودی نے گذشتہ 5برس میں جن جن اداروں میں اپنے خاص بندوں کو اہم نشستوں پر بٹھایا انہیں واپس گھر کا راستہ دکھانا ہو گا ۔

٭:بی جے پی اپنے اتحادیوں کیساتھ دوبارہ اقتدار میں آنے کی کوشش کرتی ہے تو مودی کے علاوہ کئی اور نام بھی وزارت عظمیٰ کیلئے میز پر زیر غور رہیں گے ۔اور اگر مودی ہی دوبارہ حلف اٹھاتے ہیں تو اس بار یہ ’’وزن ‘‘اٹھانا ان کیلئے اتنا آسان نہ ہو گا جتنا پہلے تھا کیونکہ یہ تو طے ہے کہ وہ اپنی ’’لہر ‘‘ الیکشن سے پہلے ہی کھو چکے ہیں ۔ 

٭:نئی حکومت کیلئے یہ بھی ضروری ہو گا کہ وہ تحقیقات کرائے کہ سنگھ پریوار نے فوج میں کس حد تک اور کس طرح اپنے ہمدرد پیدا کئے ۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور مجرموں کو سزائیں بھی نئی حکومت کیلئے کڑ ا امتحان ثابت ہوں گی ۔ اقلیتوں کو عدم تحفظ اور احساس محرومی سے باہر لانے کیلئے خاص اور فوری اقدامات کی ضرورت ہو گی ۔

٭:2000ء کے بعد سے بھارت میں ہونیوالے تمام فسادات کی غیر جانبدارانہ و آزادانہ تحقیقات کرانے کا حوصلہ مند قدم بھی اٹھانا ہو گا وگرنہ انتہا پسندی سے چھٹکارا پانا ممکن نہ ہو گا ۔

٭:بڑھتی بے روزگاری ، مہنگائی اور بھاری بھر کم جی ایس ٹی پر قابو پانا ہو گا ۔ وگرنہ وہ طاقتیں پھر سے سر اٹھائیں گی جنہیں جھکانے یا کمزور کرنے کیلئے الیکشن جنگ لڑی گئی۔

 

 

وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں آگے کون؟

اس بار لوک سبھا الیکشن میں عوام اور سیاسی جماعتوں نے ایک ایسی لکیر (لکشمن ریکھا )کھینچی جس میں لکیر کے ایک طرف سیکولر و جمہوری نظریات رکھنے والے تھے اور دوسری جانب انتہا پسند ، ہندو راشٹرواد نظریات کے حامل افراد ۔ ۔ ۔ 2014ء میں تو نریندر مودی کے علاوہ وزارت عظمیٰ کے عہدے کیلئے حامیوں اور مخالفین میںدور دور تک کوئی امیدوارنہیں تھا مگر اس بار ایک نہیں ’’انیک ‘‘ یعنی کئی امیدوار میدان میں ہیں اور دیکھیں قسمت کی دیوی کس پر مہربان ہوتی ہے ؟ یہ بھی واضح ہے کہ اس بار ایک ایسی شخصیت کوپردھان منتری پت پر بیٹھنے کا موقع دیا جائیگا جو معتدل نظریات کا حامل ہو اور سب کیلئے قابل قبول ہو ۔ اور اگر قرعہ فال کسی نہ کسی طرح ایک بار پھر مودی جی کے نام کا نکلتا ہے تو انہیں اپنے مزاج اور پالیسیوں میں وہ تبدیلیاں لانی پڑیں گی جو صرف ان کی اور انکی جماعت کیلئے بلکہ سب کیلئے قابل قبول ہوں کیونکہ اب کی بار اپوزیشن آسان ہدف نہیں ۔ سیکولر و جمہوری جماعتوں کوبھارتی عوام نے ظلم ، جبر اور حق تلفی کیخلاف لڑنے کاووٹ دیا ہے جبکہ انتہا پسند ہندو راشٹر کا خواب آنکھوں میں سجائے آئے ہیں ۔ اگر اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کی گئی تو اس میں بھارت کی یکجہتی اور اکھنڈتا کے نظرئیے کا بھاری نقصان یقینی ہے ۔ 

انڈیا میں گذشتہ 5برسوں میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی رہا کہ جمہوریت اور سیکولر ازم کے مخالفوں کو انکے ہی انداز میں روکا نہیں گیا ، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ عوام اور سیکولر طبقہ ’’موقع‘‘ دینا چاہتا تھاکہ انتہا پسند ی ملک کو کیا دے پاتی ہے ؟ اور اگرکچھ نہ ملا تو جواب ووٹ کی طاقت سے دیا جائیگا اور اگر ووٹ کی طاقت پر ڈاکہ ڈالا گیا تو پھر جو جنگ چھڑے گی تاریخ اس کے نقصان کے ذمہ داروں کو آسانی سے بے نقاب کر پائے گی ۔ 

2014ء کے انتخابات میں نوجوانوں کی جو لہر مودی کے حق میں تھی اس بار اسکارخ راہول گاندھی کی طرف ہے اور پرینکا گاندھی نے بھی ملک بھر میں کانگریس کی ترجمانی کا حق کمال ہنر مندی سے نبھایا ۔ وہ ایک منجھی ہوئی سیاستدان کے روپ میں ابھری ہیں اور عوام کے دل میں گھر بنانے میں بھی کامیاب رہی ہیں ۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ راہول گاندھی گذشتہ 5برسوں میں ڈٹ کر جمہوریت کی بحالی کیلئے کوشاں رہے اور کسانوں ، مزدوروں، غریبوں کیلئے لڑتے رہے ۔ راہول گاندھی کہہ چکے ہیں کہ اگر عوام انہیں وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ اس کیلئے تیار ہیں لیکن انکی اپنی کوئی خواہش نہیں ہے۔وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔ 

ممتا بینر جی ،مایا وتی ، اکھلیش یادواور چندا بابو نائیڈو بھی اپنے اپنے مینڈیٹ کے ساتھ میدان میں ہیں اور ان ناموں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ممتا بینر جی(دیدی ) جن کو نریندر مودی بھی اپنے لئے چیلنج سمجھتے رہے کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ مایاوتی کی بہ نسبت مضبوط ، فسطائی طاقتوں سے خوف نہ کھانے والی وزیر اعظم ثابت ہو سکتی ہیں ۔دوسری جانب بی جے پی رہنما سبرامنیم سوامی انتخابات کے دوران’’ اشارہ‘‘ دے چکے ہیں کہ اگر نریندر مودی دوبارہ وزیر اعظم نہ بنے تویہ اتحادی جماعتوں پر منحصر کریگا جو ہمیں 30 یا 40 نشستیں دیں گی،اتحادی منع کرتے ہیں تو ہم مودی کو قبول نہیں کر پائیں گے۔اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ اور بیجو جنتادل کے صدر نوین پٹنایک آن ریکارڈ یہ کہہ چکے ہیںکہ مودی دوسری بار عہدے پر آنے کے اہل نہیں ۔ اس لئے مودی کی جگہ نتن گڈکری کو لایا جاسکتا ہے ۔سبرامنیم سوامی کی نظر میں ’’ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بہترین ہوگا۔ وہ لائق آدمی ہیں۔ گڈکری مودی کی طرح اچھے ہیں۔‘‘ 

امیت شاہ اور چند ایک اور ناموں کی باز گشت بھی ہے لیکن ممتا بینر جی کی شخصیت ایک ایسی شخصیت ہے جن پر سیاسی رہنمائوں کے علاوہ امن پسند بھارتی عوام کا بھی اتفاق ہے ۔۔۔۔یہ تو وہ نام تھے جن کو دوڑ میں شامل قرار دیا جا رہا ہے ہو سکتا پس پردہ کوئی اور بھی ہو اور اچانک سب کو سرپرائز دیدیا جائے ۔۔۔۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔

پہلا مرحلہ

 

 20ریاستیں : 91نشستوں کیلئے پولنگ

14 کروڑ 20 افراد نے حق رائے دہی استعمال کیا

جن ریاستوں میں پولنگ ہو ئی : آندھرا پردیش، ارونچل پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، مقبوضہ جموں کشمیر، مانی پور، میگھالیہ، میزورام، ناگالینڈ، اوڑیسہ، سکم، تلنگانہ، اتر پردیش ، اترکھنڈ، مغربی بنگال، آندامن، لکشدیپ ، ترائپورا 

بہار 50.26فیصد

تلنگانہ 60.57فیصد 

میگھالیہ 62فیصد 

اُتر پردیش 59.77فیصد 

منی پور 78.20فیصد 

آسام 68فیصد 

لکشدیپ 65.9فیصد 

مقبوضہ جموں و کشمیر : 57.31فیصد ( نئی دہلی کا دعویٰ)

دوسرا مرحلہ

 

11ریاستیں 95نشستیں، 66فیصد پولنگ

ریاستیں نشستیں ووٹ فیصد

مغربی بنگال   3 76.43

آسام    5 76.22

پڈوچیری   1 76.19

منی پور   1 76.15

تمل ناڈو   38 72.00

چھتیس گڑھ   3   71.40

کرناٹک 14   67.76

بہار  5 62.52

اتر پردیش 8    62.06

مہاراشٹر 10   61.22

 

تیسرا مرحلہ ---پولنگ 66 فیصد

 

 

13ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام2 علاقوں میں پولنگ ہوئی 

1630سے زائد امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند 

مختلف مقامات پر تشدد جھڑپیں اور ای وی ایم میں گڑ بڑ کی شکایتیں 

آسام میں سب سے زیادہ 80.74فیصد ووٹ ڈالے گئے 

اتر پردیش میں 61.14اور بہار میں 59.97رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا 

ریاستیں نشستیں ووٹ فیصد 

آسام 4 80.74فیصد 

بہار 5 59.97فیصد 

گوا 2 71.74فیصد 

گجرات 26 62.89فیصد 

جموں و کشمیر 1 12.86فیصد 

کرناتک 14 66.82فیصد 

مہاراشٹر 14 57.74فیصد 

کیرالہ 20 70.50فیصد 

اڈیشہ 6 58.55فیصد 

اترپردیش 10 61.14فیصد 

تری پورہ 1 78.84فیصد 

مغربی بنگال 5 79.36فیصد 

چھتیس گڑھ 7 68.30فیصد 

دمن ودیو 1 65.34فیصد 

دادرنگر حویلی 1 71.43فیصد 

کل اوسط :117نشستوں پر 66.00فیصد

چوتھا مرحلہ

 

لوک سبھا الیکشن 2019ء کے چوتھے مرحلے میں بہار کی 5، جھار کھنڈ کی 3، مدھیہ پردیش کی 6، راجستھان کی 13، مہاراشٹر کی 17، اڈیشہ کی 6، اتر پردیش کی 13اور مغربی بنگال کی 8نشستوں کیلئے ووٹ کاسٹ کئے گئے ۔راجستھان میں پارلیمینٹ کی 13نشستوں پر جہاں جہاں عوام نے ووٹ کاسٹ کئے ان میں ٹونک ، سوائے مادھو پور، اجمیر ، پالی ، جودھپور ، باڑ میر ، جالور ، اودے پور ، بالیشواڑہ ، چیتور گڑھ ، راجسمنڈ، بھیلواڑہ ، کوٹا اور جھالا واڑ رھاون شامل تھے۔

چوتھے مرحلے میں کئی بڑے بڑے رہنمائوں سمیت مجموعی طور پر 961امیدوارمیدان میں تھے۔چوتھے مرحلے میں کل ووٹرز کی تعداد 12.79کروڑ تھی مجموعی رائے دہندگان میں 6,73,22,777مرد اور 6,06,31,574خواتین اور 4,126ٹرانس جینڈر تھے جبکہ ووٹنگ کیلئے 1.4 لاکھ پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے ۔

پانچواں مرحلہ پولنگ 62 فیصد

 

٭:674امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند 

٭:مختلف مقامات پر تشدد جھڑپیں اور ای وی ایم میں گڑ بڑ کی شکایت 

٭:بنگال میں سب سے زیادہ 74فیصد ووٹ ڈالے گئے 

٭:اتر پردیش میں 55اور بہار میں 58فیصد رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے 

کہاں کتنی پولنگ ہوئی (فیصد میں ) 

ریاستیں نشستیں ووٹ فیصد

مغربی بنگال 07 74.15

جھار کھنڈ 04 64.23

مدھیہ پردیش 07 63.40

راجستھان 12 63.24

اتر پردیش  14 54.44

بہار 05 57.86

جموں و کشمیر (لداخ) 02 61.02

کل اوسط 51 61.89

چھٹے مرحلے میں پولنگ 63 فیصد

 

٭:979امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند 

٭:مختلف مقامات پر تشدد ، جھڑپیں، ای وی ایم میں گڑ بڑ کی شکائتیں 

٭:مغربی بنگال میں سب سے زیادہ 80.16فیصد ووٹ ڈالے گئے 

٭:دہلی میں 60فیصد ، بہار میں 59.29فیصد اور اتر پردیش میں 54.27فیصد رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا 

کہاں کتنی پولنگ (فیصد میں ) 

ریاستیں نشستیں ووٹ فیصد 

مغربی بنگال 08 80.16

دہلی 07 60.00

ہریانہ 10 65.59

اترپردیش 14 54.27

بہار 08 59.29

جھارکھنڈ 04 64.50

مدھیہ پردیش 08 63.29

کل اوسط : 59 63.03

ساتویں مرحلے کی ووٹنگ 63 فیصد

 

٭:مختلف مقامات پر تشدد ، جھڑپیں اور ای وی ایم میں گڑ بڑ کی شکایات 

 مغربی بنگال میں سب سے زیادہ 73.51فیصد ووٹ ڈالے گئے 

٭:پنجاب میں حملہ ، اکالی کارکن کی موت 

٭:اتر پردیش میں 57.93اور بہار میں 53.67فیصد رائے دہندگان نے حق رائے دہی کا استعمال کیا 

ریاستیں نشستیں ووٹ فیصد 

مغربی بنگال 09 73.51فیصد 

ہماچل پردیش 04 70.16فیصد 

چندی گڑھ 01 63.57فیصد 

اتر پردیش 13 57.93فیصد 

بہار 8 53.67فیصد 

جھارکھنڈ 03 71.16فیصد 

مدھیہ پردیش 08 72.99فیصد 

پنجاب 13 60.43فیصد 

کل اوسط 59 63.28فیصد 

 

 

مزید پڑھیں

گزشتہ چند روز میں دل دہلا دینے والی خبروں نے قنوطیت کاشکار کر دیا،اناامیدی کی اتھاہ گہرایوںمیں دھکیل دیا جہاں امید کی کوئی کرن دکھائی نہ ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:درد کی تصویر ۔۔۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر خطرے کے بادل مدتوں سے منڈلا رہے تھے ۔۔۔

...

مزید پڑھیں

کسی نے پوچھا ضمیر کب سے ہے ۔۔۔عمر کتنی ، مزاج کیسا ہے ۔ ؟

رفتار کتنی، گفتار کیسی ۔۔۔کیا دِکھتا ، چلتا ، بولتا بھی ہے ۔۔۔

...

مزید پڑھیں

ہرمعاشرے کے کچھ مخصوص رسم ورواج ہوتے ہیں، آج ہم آپ کو سویڈن میں ایک ایسے رواج کے بارے میں بتائیں گے کہ وہاں رات 10 بجتے ہی زوردار چیخ کیو ...

مزید پڑھیں