☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل فیشن صحت دین و دنیا متفرق خواتین کیرئر پلاننگ ادب
جرم اور دہشت کا ماحول، ذمہ دار کون؟

جرم اور دہشت کا ماحول، ذمہ دار کون؟

تحریر : صہیب مرغوب

05-26-2019

گزشتہ چند روز میں دل دہلا دینے والی خبروں نے قنوطیت کاشکار کر دیا،اناامیدی کی اتھاہ گہرایوںمیں دھکیل دیا جہاں امید کی کوئی کرن دکھائی نہ دی۔پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون اسی اندھیرے میں انصاف کیلئے دربدر بھٹک رہی ہے۔ مدد کرنے والا کوئی نہیں،کوئی حجاج بن یوسف نہیں جو یہ کہہ دے کہ اے قوم کی بیٹی۔

۔۔تم نے اللہ کو گواہ بنایا ،ہمیں آنا پڑے گا،اور ہم آ رہے ہیں۔ مگر ہماراقانون اپنے آہنی ہاتھوں کے باوجود خاتون پر صلح کیلئے دبائو ڈال رہا ہے۔ ایک اور قوم کی بیٹی سیالکوٹ میں ہے۔جہاں اس نے باپ پر ریپ کا الزام عائد کر دیا ۔اس سے بھی خوفناکی ہمیںایک اور کیس میں پڑھنے کو ملی۔زیادتی کابدلہ لینے کے لئے ایک لڑکی کے بھائی نے دوسری 17سالہ لڑکی کو اغواء کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ ایبٹ آباد میں اس سے بھی برا کیس رجسٹر ہوا جہاں 3سالہ بچی ریپ کے بعد قتل ہوگئی۔ اور اسلام آباد۔۔ وہاں تو پولیس اہل کار کو بھی انصاف نہ مل سکا۔وہاں خاتون پولیس کمانڈو کے ساتھ زیادتی کے مجرم کھلے پھر رہے ہیں، پولیس کا قانون اندھا ہے انہیں دیکھ نہیں پا رہا۔

اسی قسم کا ایک اور کیس بدین کا ہے جہاں سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ کے خوف سے لڑکی نے مو ت کو گلے لگا لیا۔ اس کی گھٹی گھٹی صدائیں کسی جہانگیری عدل کی تلاش میں تھیں۔ مظلوم لڑکی سے اسی کے بعض رشتہ داروں نے جعلی تصویروں کے ذریعے 50ہزار لینے کے بعد منہ کھول دیا۔ یہ آمدن کا سستا ذریعہ دکھائی دیا اور ان سے راتوں رات امیر بننے کا خواب دیکھنا شروع کر دیا یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنے ہی ارد گرد رہنے والی معصوم بچیوں کو زندہ درگور کر کے اپنی روٹی پوری کرناچاہتے ہیں۔ معصوم بچی نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر کیس کو زندہ کیا ہے۔ دیکھتے ہیں بعد از موت انصاف ملتا ہے کہ نہیں۔

کچھ آگے جانے سے پہلے ہم یہ نہ دیکھ لیں کہ سال بھر میں پنجاب میں جرائم کی صورتحال کیسی رہی۔ ڈاکو تبدیلی کے نعرے سے خوش ہوئے یا انہیں اپنے بچائو کی فکر لاحق ہوئی۔ لگتا ہے کہ ڈاکوئوں کو تبدیلی راس آگئی ہے ۔جرائم کی شرح میں اضافہ تو یہی کہانی سناتا ہے۔ ورنہ جہاں پچھلے سال میں مارچ تک ایک لاکھ 2ہزار کیسز رپورٹ ہوئے تھے وہاں اس سال 9مہینوں میں 1لاکھ 20ہزار 554کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ۔ مجرموں نے سر اٹھا لیا ہے۔یوں ملک میں سیاسی تبدیلی کے ساتھ سماجی ، معاشی اور معاشرتی تبدیلیوں نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔

پچھلے سال مارچ تک ملک میں بچوں اور خواتین کے اغواء کی 3550 کیسز رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ اس سال مقدمات کے اندراج میں پولیس نے ضرورت سے زیادہ ٹال مٹول سے کام لیا۔ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے سافٹ وئیر نئے آئی جی پنجاب کو بہت فکر انگیز انداز میں دکھائے گئے جیسے یہیں سے اٹھے گا شور محشر اور یہیں پہ انصاف ہوگا۔ مگر رواں سال میں مارچ کے مہینے تک بچوںاور خواتین کے اغواء کی 3192کیسز میں سے پولیس صرف 734 مقدمات کو چلان کرنے میں کامیاب ہوسکی۔ 1353کیسز اب تک زیر تفتیش ہیں اور 6کو شجر ممنوعہ سمجھ لیا گیا ہے۔

یعنی ان پر غور کرنا لا حاصل ہے۔ 3192میں سے 1099کیسز منسوخ کر دئیے گئے ہیں۔ کچھ بچے گھر آگئے اور کچھ لاپتہ خواتین کا پتہ مل گیا۔ مگرحیف کہ 2ہزار بچوں اور بچیوں کو پنجاب میں انصاف نہیں مل سکا۔ اسی عرصے میں صوبے میں گینگ ریپ کی 44وارداتوں نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا۔ جائیں تو جائیں کہاں ، کس کو اوپر لائیں اور کس کو نیچے ، کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔ 44کیسوں میں سے 7کیسز منسوخ کر دئیے گئے۔ اللہ جانے کیا سچ تھا کیا جھوٹ جبکہ صرف 28 کیسوں میں چالان ہو چکا ہے۔ 9کیسوں میں پولیس سرٹکرانے میں مصروف ہے۔ یعنی یہ کیسز زیر تفتیش ہیں۔

جہاں ہم خواتین اور بچوں کو ہونے والے ظلم و ستم پر بحث کر رہے ہیں وہاں تھوڑی سی نظر قتل و غارت گری، راہزنی اور دوسری وارداتوں پر بھی ڈال لیتے ہیں ان سب کا تعلق خاندانوں سے ہے۔ اور بچے اور عورتیں بھی انہی خاندانوں کا حصہ ہیں۔ رواں سال مارچ کے مہینے تک 8061 قتل کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں ۔ پولیس تقریباً نصف کیسوں میں مجرم کی گردن تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ 416کیسوں کا چالان بھیجا جاچکا ہے۔ 24مقدمات منسوخ کر دئیے گئے اور ایک پر لا حاصل سمجھتے ہوئے تفتیش روک دی گئی۔ حد تک یہ ہے کہ 420مقدمات اب تک زیر تفتیش ہیں۔ انسانوں کیخلاف آدمی کی بربریت یعنی قتل کے آدھے سے کچھ کم کیسز اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ ایسا ہی کوئی اور سنگین مقدمہ ڈکیتی کا سمجھا جاتا ہے۔

جسے پولیس جائیداد کیخلاف جرم تصور کرتی ہے۔ انگریز سرکار ڈکیتی کے ایک مقدمے پر تفتیش کیلئے دن رات ایک کررہی تھی ڈاکو دراصل ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ڈاکو ہی نہیں ہر بردہ فروش ، قاتل ، چور اور حتیٰ کہ رہزن بھی ریاستی رٹ کو چیلنج کرتا ہے اور ریاست چیلنج کو قبول کرلیتی ہے۔ کیونکہ ہر معاملے میں ہم نے یہی سنا ہے کہ مجرموں سے آہنی ہاتھوں سے نبٹا جائے گا۔

یہ آہنی ہاتھ ہم نے سائنسی فلموں میں بہت دیکھیں ہیں ۔ ربوٹ بھی آہنی ہاتھ استعمال کرتے ہوئے دیکھیں گئے ہیں مگر پاکستان میں وہ قانون ہم کو اب تک نظر نہیں آیا جو کسی مجرم کو حقیقی معنوں میں مقررہ وقت کے اندر اندر آہنی ہاتھوں سے نبٹ سکے بحر حال زیر بحث مارچ تک کے نومہینوں میں رواں سال پنجاب میں ڈکیتی کی 182مقدمات رجسٹرڈ ہوئے۔ 9کو منسوخ اور ایک پر بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل حل قرار دے دیا گیا۔

99میں چالان پیش ہوا اور 73زیر تفتیش ہیں۔ یہی حال چوریوں کا ہے۔ اخبارات میں دن رات چوریوں کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن کیسز صرف پنجاب بھر میں 9مہینوں میں 348درج ہوئے ہیں۔ یہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 382کے تحت درج ہوئے۔ ان میں سے بھی 28منسوخ اور 149زیر تفتیش ہیں۔ نصف سے بھی کم یعنی 171 کا چالان پیش ہوا۔ دیہات ، مویشی چوروں سے محفوظ نہیں۔

شاذو ناذر ہی کوئی دن گزرتا ہو جب کاشتکار کو اپنے مویشی پورے ملتے ہوں۔ نمبر پلیٹ تو ہوتی نہیں۔ سال بھر میں درجنوںہزار نہیں تو کئی ہزار مویشی چوری کر لیے جاتے ہیں۔ البتہ پنجاب پولیس کے بقول 9مہینوں میں محض 1757 مویشی چوری ہوئے۔ ان میں سے بھی 995مجرموں کا چالان ہوا۔ اب ہم آتے ہیں مجموعی اعداد و شمار کی طرف۔ 9مہینوں میں پنجاب نے 1لاکھ 20ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کیے جن میں 10ہزار سے زائد کیسز افراد کیخلاف تھے۔ یعنی قتل و غارت گری سے متعلق تھے۔ جائیداد سے متعلق 28ہزار اور مقامی اور خصوصی قوانین کے تحت 43ہزارسے زائد کیسز درج ہوئے۔

ان مقدمات کی اکثریت کی تہہ تک پولیس اب تک نہیں پہنچ سکی۔ قوم یہ نہ سمجھے کہ ایسا صرف پاکستان میں ہوتا ہے دنیا میں بہت سے ملک بہت اچھے ہیں ۔ جیسا کہ آسٹریلیا اور جاپان جہاں تھانے ختم کیے جارہے ہیں اوربہت سے ملک بہت برے ہیں جہاں عورت سرے بازار بکتی ہے۔ یہی ممالک خواتین کا تقدس کے دعویدار بھی ہیں اور تقدس کی پامالی میں پیش پیش بھی ہیں۔ ان ممالک سے اپنی عورت کی عزت محض نعروں تک محدود ہے مگر دنیا میں ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ کیوں سبھی لوگ اچانک وحشی بن جاتے ہیں کسی کا خیال نہیں کرتے۔

ماں باپ ، بہن بھائی یا کسی اور عورت کا کیوں خیال نہیں کرتے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ، کیاں اس کے پیچھے معاشی عوامل ہیں یا کوئی تعلیمی معاملہ ہے۔ یا دماغی خلل ہے جو امریکہ کو ہر امریکی دہشت گرد کے پیچھے دکھائی دیتاہے۔ اب تک کئی کئی افراد کو ہلاک کر دینے والے دہشت گرد کو امریکہ نے کمال محبت کے ساتھ دماغی خلل قرار دے کر جان چھڑا لی۔ مغرب کے بارے میں ہم آج زیادہ بحث نہیں کریں گے ہمارا مطمع نظرہمارا پیارا پاکستان اور اس میں رہنے والی بچیاں ہیں۔ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ لوگ اپنے ہی شہرمیں ،اپنے ہی محلے میں یا اپنے ہی گھر میں وحشی کیوں بن جاتے ہیں۔

کیا تعلیم کا اثر ہے۔ یا ناخواندگی اس کی بڑی وجہ ہے۔ یہ جاننے کیلئے ہم حال ہی میں منظر عام پر آنے والی پنجاب حکومت کی ایک رپورٹ کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس رپورٹ میں خواتین کے بارے میں بہت کچھ درج ہے۔ میں حیران ہوں کہ حکومت سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنی ہوئی ہے۔ کتنی ہی بچیاں پیدائش کے بعد تشدد ، صحت کی ناقص صورتحال یا حادثات کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتی ہیں اور کتنے ہی بچیاں اور بچے اعوائل عمری میں دنیا کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ وجہ ہماری تربیت اور ہمارا تعلیمی ڈھانچہ ہے۔ پنجاب حکومت نے Micsکی رپورٹ 2017-18کی رپورٹ میں گھریلو تشدد ، اغوا ء اور ایسے دوسرے معاملات پر بھی غورفرمایا ہے۔

اول تو ہمارے ہاں تربیتی نظام ٹھیک نہیں بچوں کو دوران تربیت جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پنجاب میں ایک سے چودہ برس کے 8فیصد بچوں نے اس تشدد کی شکایت نہیں کی۔یعنی 92فیصد بچے کسی نہ کسی قسم کے ذہنی ،جسمانی یا مالی دبائو کا شکار ہوئے۔ 71فیصد بچوں نے جسمانی سزائو ں کا ذکر کیا جس میں 45.6فیصد بچے سخت سزائوں سے نالاں دکھائی دئیے۔ 73فیصد کو نفسیاتی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے ہاں سکولوں میں صرف 8فیصد بچے محفوظ ہیں۔ تاہم مختلف ڈویژنوں اور اضلاع میں صورتحال مختلف ہے۔

فیصل آبادمیں 12فیصد، چنیوٹ میں 18فیصد، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 12فیصد، خانیوال میں 20فیصداور لاہور میں 11فیصد بچے محفوظ ہیں۔ ساہیوال میں 57فیصد ، رحیم یار خان میں 47فیصد، لیہ میں 49فیصد، نارووال میں 63فیصد اور ساہیوال میں 64فیصد بچوں نے شدید ترین جسمانی سزا کی شکایت کی ۔ نا پختہ ذہنوں کو نفسیاتی اور جسمانی سزا دے کر ہم ان کیا تربیت کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مختصر سی ویڈیو وائرل ہے ایک استاد پوری طاقت کے ساتھ مختلف بچیوں کو بار ی باری مار رہا ہے اور بچیاں ادھر ادھر بھاگتی دوڑتی پھر رہی ہیں۔ مگر ا ن کی آواز سکول کی اونچی فصیلوں میں کہیں دب کر رہ جاتی ہے۔ ویڈیو ڈالنے والے نے کیپشن لکھی ہے۔ کاش کوئی اس سکول کو ڈھونڈ لے تاکہ بچیاں محفوظ ہو جائیں ۔

یہ سکول اب تک نہیں مل سکا۔ حیرت انگیز طورپر پنجاب میں 41فیصد مائیں خود یہ سمجھتی ہیں کہ بچیاں پیار نہیں مار سے سیدھی ہوتی ہیں۔ اسے جسمانی مار پیٹ کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر اچھی تربیت نہیں ہوسکتی۔ یہ ماننے والوں کی سب سے زیادہ تعداد مظفر گڑھ میں رہتی ہے۔ جہاں 61فیصد مائیں مار کو انسانی تربیت کا حصہ سمجھتی ہیں۔ تاہم سرگودھا میں 30فیصد، خانیوال میں 22فیصد، نارووال میں 19فیصداور ساہیوال میں 36فیصد مائیں بھی ایسا ہی سمجھتی ہیں۔ ان شہروں میں بچوں سے پیار کرنے والی مائوں کی تعداد دوسرے شہروں کی بہ نسبت زیادہ ہے۔

ہماری سرکاری رپورٹوں نے اس کا جائزہ نہیں لیا کہ کب مار والے شہروں میں جرم کی صورتحال کیا ہے۔ اگر شماریاتی سروے میں اسے بھی شامل کر لیا جاتا تو ہمیں موجودہ جرم کا ناطہ ماضی سے جھوڑنے میں کافی مدد ملتی۔ بحرکیف اب بھی وقت نہیں گزرا حکومت شاید اگلی بار کر لے۔ ہمارے ہاں انسان میں غصہ بھرنے کی دوسری وجہ بچپن میں ہی کمائو پوت بن جانا ہے۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ پنجاب میں 5سال سے 11سال کی عمر کے ساڑھے پانچ فیصد بچے کمائو پوت ہیں۔ گھنٹہ دو گھنٹہ یا پوری نوکری کر کے پیسہ کماتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بچے اپنی ماں یا اپنے باپ کو بھی آنکھیں دکھاتے ہیں۔ مزید 5سال سے 11سال کی عمر کے اس سے بھی زیادہ بچے معاشی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

12سے 14سال کے بچے 14-14گھنٹے کام کرتے ہیں اور ان کا تناسب 13فیصد ہے۔ مزید ساڑھے آٹھ فیصد بچے 14گھنٹے سے بھی زیادہ محنت مشقت کرتے ہیں۔ کھیل کھود کی ناپختہ عمر میں جانوروں کی طرح مشقت کرنا معمولی رقم کما کر گھر لانا ، بچوں کی ذہنی نشوو نما پر بری طرح اثر انداز ہورہا ہے۔ کبھی کسی حکمران نے یہ سوچا ہی نہیں کہ 12سے 14سال کی عمر کا بچہ جب 14گھنٹے کام کرے گا تو اس کی نفسیاتی کیفیت کیا ہوگی۔ کیا موجودہ حکومت کمسن بچوں کو ان کا بچپن دے سکتی ہے۔ جن ہاتھوں میں کھلونے ہونے چاہئیں جن نظروں کے سامنے قلم، دوات اور کاپیاں ہونی چاہیے ان ہاتھوں میں گاڑیاں کھولنے کے اوزار ہو تے ہیں اور نظروں کے سامنے دھوئیں اور گرد میں اٹکی ہوئی کالی گاڑیاں یا تعمیر مرمت کا دوسرا سامان۔ یہ سب بچوں کی نشوونما کو متاثر کرنے کے علاوہ ان کی شخصیت کو مسخ کر رہا ہے۔

یقین کیجئے پنجاب میں ایسے بچے بھی ہیں جو 15سے 17سال کی عمر میں ایک ہفتے میں 43گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ ان کا تناسب ساڑھے 7فیصد ہے۔ تاہم 43گھنٹے سے کچھ کم وقت دینے والوں کا تناسب 23فیصد ہے۔ یعنی بلوغت سے پہلے ہی حالات نے انہیں بالغ کر دیا۔ اور ہفتہ بھر میں یہ 43گھنٹے کام کرتے ہیں۔ جو ایک بالغ آدمی کے برابر ہے۔ یہ تناسب مختلف شہروں میں مختلف ہے۔ یقین کیجئے سرکار نے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان میں 38فیصد بچے ،15سے 16سال کی عمر میں 43گھنٹے سے کم اور 12فیصد 43گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ مظفر گڑھ میں کون سا انقلاب آگیا یہاںبھی 43فیصد بچے 43گھنٹے سےکم اور 15فیصد بچے 43گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں مشقت کے حوالے سے بھکر ، خوشاب، میانوالی، ننکانہ صاحب، نارووال کی صورتحال بھی اچھی نہیں۔ البتہ لاہور میں 15سے 17سال کی عمر کے صرف 12فیصد بچے 43گھنٹے سے کم مشقت کرتے ہیں مزید پونے چار فیصد اس سے بھی زیادہ کام کرتے ہیں۔

ہمارا سماجی ڈھانچہ بچوں پر چل رہاہے جس میں بڑے ہو کر ہمارا مستقبل ملک سنبھالنا ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق بچوں کی بہت بڑی تعداد شہروں میں بھی معاشی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ غیر سرکاری رپورٹوں کے مطابق یہ بچے اگر معاشی سرگرمیوں سے نکل جائیں تو بہت سے گھرانے بھوک ، مفلسی اور غربت میں جکڑے جائیں۔ آئی ایم ایف نے کشکول میں اتنی شرائط ڈالیں کہ قوم کی چولیں ہل گئیں۔ لہٰذا بچوں کا محنت مشقت کرنا لازمی امر ہے۔ سروے کے دوران یہ بات بھی کھل کر سامنے آئی کہ سروے کی مدت میں بھی 10فیصد بچے خطرناک ،غیر محفوظ ماحول میں کام کر رہے تھے۔سروے میں خواتین کی بڑی تعداد نے اپنے ساتھ ہونے والے رہزنی اور چوری کے واقعات کا بھی ذکر کیا۔ پنجا ب میں مجموعی طور پر سوا دو فیصد تک خواتین 2سال میں ایک یا اس سے زیادہ مرتبہ رہزنی یا حملے کا نشانہ بنی۔

کیا یہ تعداد کم ہے۔ سال بھر میں کم از کم 0.7فیصد خواتین کو رہزن سے واسطہ پڑا۔ ان اعداد و شمار کو اگر پنجاب پولیس کے اعدادو شمار سے جوڑ کر دیکھا جائے تو دونوں میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دے گا۔ ملک کی 52فیصد آبادی کا 0.7فیصد حصہ رہزنی کا شکار ہوا۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کی اچھی خاصی تعداد گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔ یعنی بچے بچیاں اور خواتین نا تو سرکاری تعلیمی اداروں میں محفوظ ہیں اور نہ ہی کام کرنے کی جگہ پر ۔ بہت سی مائیں بھی جوتے ڈنڈے کا سہارا لینا لازماً تصور کرتی ہیں۔ شوہر کو بتائے بغیر گھر سے نہ نکلنے والی ہر چھٹی ماں ، بہن یا بیٹی کو مار پڑتی ہے۔ پنجاب میں اس کا تناسب 16فیصد ہے۔ بچے کا ذرا خیال نہ کیا تو 18فیصد مائیں تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔

شوہر کے ساتھ کسی بھی مسئلے پر بحث کا نتیجہ اکثر مار پیٹ پر ختم ہوتا ہے۔ 19فیصد مائوں نے بتایا کہ شوہر کے ساتھ بحث کرنے کا نتیجہ ہمیشہ جسمانی تشدد کی صورت میں نکلتا ہے۔ کھانا جلانا بھی کوئی کم خطرناک نہیں ہوتا۔ 12فیصد کھانا جلانے پر مار کھاتی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر 25فیصد خواتین کے نزدیک ان پر کسی وجوہات کی بنا پر شوہر کا ہاتھ اٹھانا ٹھیک بات ہے۔ یہ ہمارا تربیتی ماحول ہے۔ اس ماحول میں ہمارے بچے پل بڑھ کر جوان ہو رہے ہیں۔ ہر طرف مار پیٹ کا عالم ہے۔ جتنے واقعات ہماری نظروں کے سامنے ہیں اس سے کہیں زیادہ واقعات پس منظر میں ہیں۔

یہ صورتحال پنجاب تک محدود نہیں سندھ ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میںبھی کم و بیش ایسا ہی ہے ۔ ان تینوں صوبوں میں 2018ء کی رپورٹیں زیر تکمیل ہیں۔ 2014ء کی صورتحال اس لیے لکھنا نہیں چاہ رہا کہ اس کے اعداد و شمار پنجاب کے 2018ء کے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ بھیانک ہیں۔ ہو سکتا ہے اب وہاں کچھ بدلائو آیا ہو۔ ان کی رپورٹیں بھی اگلے چند ہفتوں تک مکمل کر لی جائیں گی ۔ تب ہم آپ کو اس بارے میں بھی کچھ آگاہی دیں گے۔ اب آتے ہیں ہم اپنے ابتدائی موضوع کی جانب۔ جس صوبے میں 81فیصد بچوں اور بچیوں کو مار پڑتی ہو ، دوران تعلیم تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہو ، بچوں کی آدھی تعداد کو مار پیٹ کر سیدھا کرنا درست سمجھا جاتا ہو وہاں تربیت میں کمی رہ جاتی ہے۔ ہمیں اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا ادراک کرنا چاہیے۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ امریکہ اور یورپ میں صورتحال ہم سے مختلف نہیں ۔ یقینا بہت سے لوگوں کو یورپ جنت کی طرح نظر آتا ہے۔ مگر وہ نہیں جانتے کہ وہاں سال بھر میں کتنے بچوں کو مائیں بطور سزا گرما گرم ابلتی ہوئی کاروں میں بند کر کے تنہا چھوڑ دیتی ہیں یہ بچے دم گھٹ کر مر جاتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات یورپ اور امریکہ میں عام ہیں۔ دوسرے طریقوں سے بھی بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چند مہینے قبل ایک ایسے امریکی خاندان کا پتہ چلا جس نے اپنی تمام بچیوں اور بچوں کو اپنے ہی فلیٹ میں میزوں اور کرسیوں سے باندھ رکھا تھا۔

کھانے کو کچھ دیتے تھے نہ پینے کو۔ موقع پا کر ایک لڑکی بھاگ نکلی پولیس کو بلا لی جس سے سب کی جان چھوٹی۔ اہل محلہ بھی اس خوفناک واقعہ سے بے خبر تھے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ دنیا میں ہر جگہ ایساہوتا ہے مگر فرق صرف یہ ہے کہ وہاں انصاف مل جاتا ہے۔ ہمارے ہاں انصاف نہیں ملتا ، لوگ دیر تک انصاف کی تلاش میں بھٹکتے رہتے ہیں ۔ یہاں درجنوں بچیاں اغواء ہوئیں ، سینکڑوں قتل ہوئیں مگر ان کی روحیں اب تک انصاف کی تلاش میں کہیں بھٹک رہی ہیں۔ ہمیں قانون کو پوری طر ح نافذ کرنا چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو کسی کی عزت یا جان سے کھیلنے کا موقع نہ ملے۔

مزید پڑھیں

بزرگ شاعراجمل سلطانپوری کی نظم کا کچھ حصہ جو انڈیا کے حالات کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلماں اور ہندو کی جان ۔۔۔کہاں ہے میرا ہندوستان ۔ ۔ ۔ میں ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:یہ ’’دوسرے ہٹلر ‘‘ کی بھول ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے سب ختم ہو گیا ، کشمیری اور پاکستانی ’’مقابلہ &ls ...

مزید پڑھیں

٭:آخر کیا چاہتی ہے مودی سرکار ،جواب دو ۔۔۔جواب دینا ہو گا

٭:سوال اٹھتے رہیں گے ۔۔ابھی تو سلسلہ شروع ہوا ہے

...

مزید پڑھیں

٭:دنیا آنکھیں کھولے ۔۔۔اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔۔۔کیونکہ

...

مزید پڑھیں