☰  
× صفحۂ اول (current) عالمی امور سنڈے سپیشل کھیل کچن کی دنیا خواتین فیشن فیچر متفرق دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ
بھارت، جمہوریت ، آئین اور سیکولر ازم سب الوداع ۔۔۔۔؟

بھارت، جمہوریت ، آئین اور سیکولر ازم سب الوداع ۔۔۔۔؟

تحریر : طیبہ بخاری

06-09-2019

٭:لوک سبھا الیکشن 2019ء کئی سوالات ، شبہات اور تصورات کی داستانیں تاریخ کے سپرد کر گئے

٭:بڑے بڑے برج ہی نہیں الٹے سیاسی پنڈتوں کی پیشگوئیاں بھی پلٹا کھا گئیں

٭:جس’’ بات‘‘ کا ڈر بھارت کے اندر محسوس کیا جا رہا تھا ’’وہی بات ہو گئی ‘‘

٭:ارون دھتی رائے نے انسٹا گرام پر لوک سبھا نتائج پر کم الفاظ میں سب کہہ ڈالا

٭:وہ سب کہہ ڈالا جو بھارت کی سیاسی جماعتیں ، مبصرین ، تجزیہ کار اور بڑے بڑے سیاسی پنڈت کہنے سے گریز کر رہے ہیں

٭:یہ الفاظ ان سب زبانوں کی ترجمانی ہیں جو مجبوراً، مصلحتاً خاموش ہیں ۔۔۔

٭:یہ الفاظ سند ہیں ، دلیل ، طنز یا آئینہ ۔۔۔؟

٭:’’ملک ، الیکشن ، آئین ، جمہوریت ۔۔۔الوداع ‘‘

٭:لوک سبھا الیکشن کے نتائج سے بھارت کے اندر اور باہرسب حیران بلکہ انگشت بدندان۔۔۔

٭:نہ ہوتے ہوئے بھی کیسے چلی مودی لہر ۔۔۔۔

٭:انتخابی مہم کے دوران چلی ’’سیکولر لہر‘‘۔۔۔ووٹنگ عمل کے دوران چلی ’’جمہوری لہر ‘‘۔۔۔

٭:پھر نتائج میں چلی ’’خفیہ لہر ‘‘ ۔۔۔

٭:خفیہ لہر اس بار بہت کچھ اپنے ساتھ بہا لے گئی 

٭:موہن داس کرم چند گاندھی ’’باپو ‘‘کا وقار ۔۔۔پنڈت جواہر لعل نہرو کی’’ سیکولر سوچ ‘‘ اور راجیو گاندھی کی سیاست

اور بہت سے سوالات 

٭:کیاسیکولر پسند ، جمہوریت پسند اور اعتدال پسند نظریات رکھنے والے 5سال تک ’’عدم تحفظ ‘‘ کا شکار رہیں گے۔۔۔؟

٭:کیا بھارت میں زندگی اب انتہا پسندوں کے رحم وکرم پر ہے ۔۔۔؟

٭: اس بار’’ ڈیموکریٹ‘‘ الیکشن ہوئے یا ’’کارپوریٹ ‘‘۔۔۔؟ 

٭:جمہوریت جمہور کی بجائے کسی ایک شخصیت کے گرد گھومنے پر مجبور کیوں۔۔۔؟ 

٭:کانگریس کا سیاسی مستقبل تاریک ہو چکایا علاقائی سیاسی جماعتوں کا وجود ’’بے معنی ‘‘ 

1984-85ء کے لوک سبھا الیکشن کون بھول سکتا ہے نہ کبھی تاریخ بھول پائے گی کانگریس کو 426 نشستوں پر کامیابی ملی تھی اور بی جے پی کی قسمت میں آئیں تھیں صرف 2نشستیں۔۔۔2019ء میں بی جے پی دو تہائی اکثریت تو حاصل کرنے میں کامیاب رہی لیکن کانگریس کا ریکارڈ نہ توڑ پائی یعنی تاریخی اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ’’ اِندرا گاندھی کی لہر ‘‘ مودی لہر سے زیادہ تیز اور کامیاب تھی اور نریندر مودی تمام تر ہندو راشٹرواد لوازمات کے اُن اعدادوشمار کو نہ چھو پائے جو کانگریس کے نام ہیں ۔ ۔۔یہاں یہ تبصرہ یا’’ بھوش وانی ‘‘ بھی کی جا سکتی ہے کہ کل کانگریس جس مقام پر تھی وہاں آج بی جے پی ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جہاں آج بی جے پی آئندہ وہاں کانگریس نہیں ہو گی ۔ ۔ ۔ کانگریس ’’کم بیک ‘‘ کر سکتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ راہول گاندھی جو اپنے ہم خیال رہنمائوں کیساتھ 2019ء کا الیکشن برداشت اور سیکولر نظریات کے ساتھ لڑ رہے تھے نے جب کانگریس کی صدارت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تو ہر جانب سے اس فیصلے کیخلاف صدائیں بلند ہوئیں اور سڑکوں پر مظاہرے ہوئے کہ وہ استعفیٰ نہ دیں اور کانگریس کی قیادت جاری رکھیں ،لیکن راہول کو کافی کچھ بدلنے کو بھی کہا جا رہا ہے ۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق کانگریس صدر کو اب پرینکا گاندھی کا کام کاج او رپارٹی میں ان کی حیثیت بھی واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ اب یہ سونیا گاندھی اور ان کے دو بچوں کے بیچ کا کوئی خاندانی کام کاج جیسا معاملہ نہیں ہے۔ راہل کیلئے یہ بہتر ہوگا کہ وہ پارٹی کی تشکیل نو میں ان کی مدد لیں، جبکہ وہ خود پارلیمینٹ پر توجہ دیں۔ 2022 ء میں ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخاب دیکھتے ہوئے پرینکا کو ان کی آزادانہ ذمہ داری بھی دی جا سکتی ہے یا مہاراشٹر، ہریانہ اسمبلی کے آنے والے انتخاب میں بھی ان کی خداب یہ پوری طرح واضح ہو چکا ہے کہ اگلے 5 سال تک کیلئے راہل گاندھی کی کانگریس کو لوک سبھا میں حزب اختلاف کا کردار نبھانا ہے۔ راہل کو اپنے بارے میں خود فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ صرف صدر رہ کر ہی کانگریس کی خدمت کر سکتے ہیں یا بڑا بدلاؤلاکر۔آج کے نا گفتہ بہ حالات میں راہل گاندھی کے سامنے ایک مشکل کام اپنا اوراپنے کارکنان کا حوصلہ بنائے رکھنا ہے۔ انہیں اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور خاص کر بھارت کی عوام کو یہ یقین بھی دلانا ہے کہ نریندر مودی اور بی جے پی کا معقول اور سنجیدہ متبادل صرف اور صرف وہ ہی ہیں ۔ انتخابات میں ملی شکست کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد انہیں اندرونی طور پر پارٹی میں ہر سطح پر اس کی ذمہ داری طے کرنا ہوگی۔

راہل کو اپنے صلاح کاروں کی پوری ٹیم میں بھی بڑی تبدیلیاں کرنی ہوں گی جس میں سینئر، تجربہ کار و جواں سال دانشور شامل ہوں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے راجیو گاندھی کی ٹیم میںپی وی نرسمہاراؤ، این ڈی تیواری نیز اما شنکر دکشت جیسے سینئر اور تجربہ کار لوگ تھے۔ ان کے ساتھ ہی کمل ناتھ، پی چدمبرم، اشوک گہلوت، غلام نبی آزاد اور راجیش پائلٹ جیسے نوجوان ساتھیوں کی ٹیم بھی تھی، جنہیں زمینی حقائق کی خبر تھی۔ خوش قسمتی سے راہل کے پاس بھی فی الحال کمل ناتھ، پی چدمبرم، غلام نبی آزاد اور اشوک گہلوت جیسے سینئر و تجربہ کار مشیروں کے ساتھ کیپٹین امرندر سنگھ و احمد پٹیل وغیرہ موجود ہیں۔ راجیو گاندھی کے پاس تکنیکی ماہرین جیسے سیم پترودا، ارون نہرو و ارون سنگھ جیسے لوگوں کی ٹیم بھی تھی،اور اب راہول کے پاس منموہن سنگھ جیسے اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ سمجھنے والے تجربہ کار پارلیمینٹیرین موجود ہیں ۔

کانگریس کیلئے مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے اسے اس بار 2019ء میں پہلے سے زیادہ یعنی 2014ء کے لوک سبھا الیکشن سے زیادہ نشستیں اور ووٹ ملے ہیں ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس بار کانگریس فتح کے خواب دیکھ رہی تھی جو پورے نہیں ہوئے اسی لئے اسکا افسوس بھی زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے ۔ لیکن کانگریس کیلئے ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ اگر اس بار ’’خفیہ لہر ‘‘ ساتھ نہ دیتی تو مودی لہر تو ختم ہو ہی چلی تھی اور اگر اس بار بھی مودی5برسوں میں کچھ نہ کر پائے تو پھر آئندہ ’’خفیہ مدد ‘‘ بھی نہیں ملے گی ۔ ویسے بھی ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں کانگریس کی بھرپور واپسی کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ، یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہو اوربھارت بھر میں انتہا پسندی کا ’’وبال ‘‘تھم جائے،مودی قیادت سے پہلے بھی غلطیاں ہوئیں ہیں اور آئندہ بھی ہوں گی ایک اچھے کھلاڑی کی طرح راہول گاندھی اپنی ٹیم کو منظم رکھ پائے اور مخالف ٹیم کی غلطیوں کو سامنے رکھتے ہوئے درست سمت میں اور اچھے شاٹ کھیلے تو ستہ یعنی طاقت کے کھیل میں انکی بھرپور واپسی کو رد نہیں کیا جا سکتا ۔

یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ لوک سبھا الیکشن 2019ء میں کون سے کون سے بڑے نام شکست سے دوچار ہوئے کانگریس صدر راہل گاندھی سمیت لوک سبھا انتخابات 2019 ء میں صرف کانگریس کے 9 سابق وزیر اعلیٰ کو ہا رکا سامنا کر نا پڑا ۔ نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ایک بار پھر شاندار کامیابی کے لہر کا خمیازہ اپوزیشن کے کئی قدآور رہنماؤں کو بھگتنا پڑا۔ جے ڈی ایس رہنمااورسابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیو گوڑاکرناٹک کی تمکر نشست سے انتخاب ہار گئے ،وہیں ان کے پوتے ریونا کو جیڈی ایس کی روایتی نشست ہاسن سے کامیابی ملی ۔دیو گوڑا کے علاوہ کانگریس کے سینئر رہنما ملیکا ارجن کھڑگے کو گلبرگہ نشست سے ہار کاسامنا کر نا پڑا ۔یہ واضح رہے کہ ان کو اپنے سیاسی کیریئر میں پہلی بار ہار کا منہ دیکھنا پڑاہے۔اسی طرح جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو اننت ناگ نشست سے ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے علاوہ جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ شیو سورین بھی اپنی روایتی نشست دمکا سے ہار گئے ۔بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہونے والے سابق وزیر اور فلم سٹار شتروگھن سنہا پٹنہ صاحب سے ہار گئے ۔اسی طرح دربھنگہ کے سابق ایم پی اور کرکٹر کیرتی آزاد جھارکھنڈ کی دھنباد نشست سے کانگریس کے امیدوار کے طور پر ناکام رہے۔راشٹریہ جنتا دل کے قد آور رہنما اور ریاستی حکومت میں سابق وزیر عبدالباری صدیقی کو دربھنگہ سے ہار کا سامنا کر نا پڑا ۔ساتھ ہی راشٹریہ لوک تانترک سمتا پارٹی کے سر براہ اور سابق مرکزی وزیر اپیندر کمار کشواہا اجیار پور اورکاراکٹ دونوں نشستوں سے ہار گئے ۔

 لالو پرساد کی بیٹی میسا بھارتی بھی جیت حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔جھارکھنڈ کی بات کریں تو ریاست کے ایک دوسرے سابق وزیر اعلیٰ بابو لال مرانڈی کوڈرما سیٹ سے ایک با رپھر جیت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی سے کانگریس کے بڑے لیڈراور سابق مرکزی وزیر سبودھ کانت سہائے کو ایک بار پھر ہا رکا سامنا کرنا پڑا ۔انتخاب کے دوران پورے انڈیا سے توجہ حاصل کرنیوالی والی سیٹ بیگوسرائے سے سی پی آئی کے امیدوار کنہیا کمار بی جے پی کے گریراج سنگھ سے ہار گئے ۔اسی طرح دہلی میں کانگریسی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت کو ہار کا سامنا کر نا پڑا۔عام آدمی پارٹی کی آتشی بھی جیت درج کرنے میں ناکام رہیںانکے مقابلے میں کرکٹر گوتم گھمبیر نے کامیابی حاصل کی۔کانگریس صدر راہول گاندھی کو اپنی روایتی نشست امیٹھی سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا ۔کانگریسی رہنما سلمان خورشیدکو ایک بار پھر فرخ آبا دسے ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے سینئر کانگریسی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ دگوجئے سنگھ بھی ۔ کانگریس کے دوسرے سینئر رہنما اور مشرقی یوپی کے انچارج جیوترادتیہ سندھیا کو اپنی روایتی نشست گنوانی پڑی ۔بی جے پی رہنما سمبت پاتراکو اڑیسہ کے پوری سے ہار گئے ۔اسی طرح حال ہی میں بی جے ڈی سے بی جے پی میں شامل ہونے والے رہنما وجینت پانڈا اڑیسہ کے کیندری پارا سے ہار گئے ۔اس کے علاوہ اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریسی رہنما ہریش راوت اور ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریسی رہنما بھوپیندر سنگھ ہڈا کو ہار کو سامنا کرنا پڑا ۔

کیابھارتی نوٹوں پر سے بھی گاندھی 

کی تصویر کو ہٹا دیا جائیگا ؟

یہ انتہائی قابل فکر اور قابل غور بات ہے کہ ابھی نریندر مودی نے دوسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کا حلف نہیں اٹھایا تھا کہ بھارت میں یہ بحث چھڑ گئی کہ کرنسی نوٹوں پر سے ’’باپو ‘‘ یعنی گاندھی جی کی تصویر کو ہٹا دیا جائے ۔ لوک سبھا الیکشن نتائج آنے کے صرف دو یا تین دن میں اتنے بڑے معاملے کا کھڑا ہونا صاف ظاہر کرتا ہے کہ انتہا پسنداپنے نظرئیے یا مقصد کی تکمیل میں انتظار کرنے کا حوصلہ بھی کھو بیٹھے ہیں اور انہیں وہ سب کچھ حاصل کر لینے کی بہت جلدی ہے جس کیلئے وہ نریندر مودی اور انکی ٹیم کو اقتدار میں ایک بار پھر لائے ہیں اور پوری طاقت سے لائے ہیں ۔ 

آئیے آپ کو ذرا تفصیل سے بتاتے ہیں کہ کرنسی نوٹوں پر سے گاندھی جی کی تصویر ہٹانے کا شوشہ کس سے اور کیوں چھیڑا ۔۔۔ اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے نوٹوں پر مہاتما گاندھی کی جگہ پر ساورکر کی تصویر چھاپنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مہاسبھا نے یہ مطالبہ ساورکر کے یوم پیدائش کے موقع پر کیا، مہاسبھا کاکہنا ہے کہ وی ڈی ساورکر کو بھارت رتن سے نوازا جانا چاہیے۔یہ مطالبہ مہاسبھا کے قومی نائب صدر پنڈت اشوک شرما اور ریاستی ترجمان ابھیشیک اگروال نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساورکر نے جس طرح بغیر کسی مفاد کے ملک کی خدمت کی تھی اس کو کبھی جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ ایسے میں نوٹوں پر ان کی تصویر چھاپنا ہی سچی خراج عقیدت ہوگی۔

دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ٹوئٹ کر کے ساورکر کو یاد کیااور لکھا کہ ’’ ویر ساورکر بہادری ، دیش پریم اور مضبو ط بھارت کیلئے دکھائے جانے والے کمٹ منٹ کی عمدہ مثال تھے۔ انہوں نے کئی لوگوں کو ملک کی تعمیر میں اپنی زندگی لگا دینے کیلئے ترغیب دی۔‘‘یہاں ہم آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ گذشتہ دنوں راجستھان کی اشوک گہلوت کی قیادت والی کانگریس حکومت نے سکولی نصاب میں ترمیم کرتے ہوئے ساورکر کو انگریزی حکومت سے معافی مانگنے والا بتایا تھا۔ اس کے علاوہ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے کہا تھا کہ ہندو مہا سبھا رہنما ساورکر نے ملک کے بٹوارے کا بیج بویا تھا۔بی جے پی اس طرح کی بیان بازی کو ساورکر کی توہین بتارہی ہے وہیں مہاسبھا ان کے لیے بھارت رتن کا مطالبہ کر رہی ہے۔اب یہ بحث چل پڑی ہے دیکھیں کہاں تک پہنچتی ہے ...گاندھی جی کرنسی نوٹوں پر اپنا مقام برقرار رکھ پاتے ہیں یا ساورکر سے مات کھا جاتے ہیں ۔

مودی کی کابینہ میں 24 وزیر مملکت 

 

1: فگن سنگھ کلستے ، 2: اشونی کمار چوبے ، 3:ارجن رام ، 4: جنرل (ر) وی کے سنگھ ، 5: کرشن پال ، 6: دانوے رائو صاحب دادا رائو ، 7:جی کشن ریڈی ، 8: پرشوتم گوپالا ، 9:رام داس اٹھائولے، 10:، سادھوی نرنجن جیوتی ، 11: بابل سپریو ، 12: سنجیو کمار بالیان ، 13: دھوترے سنجے ثمرائو ، 14: انوراگ سنگھ ٹھاکر ، 15: انگاڑی سریش چنا بساپا ، 16: نیتا نند رائے ، 17: رتن لال کٹاریہ ، 18: وی مرلی دھرن ، 19: رینوکاسنگھ شروتا ، 20: سوم پرکاش ، 21: رامیشورتیلی ، 22: پرتاپ چندرا سرنگی ، 23: کیلاش چودھری ، 24: دبیسری چودھری ۔ 

 

مودی کی کابینہ میں 24 وزرا

 

1: راج ناتھ سنگھ ، 2:امت شاہ ، 3:نتن گڈگری ، 4: ڈی سدا نند گوڑا ، 5:نرملا سیتا رمن،6: رام ولاس پاسوان ، 7:راج نریندر سنگھ تومر ، 8: روی شنکر پرساد ، 9: ہرسمرت کور بادل ، 10:تھار چند گہلوت ، 11:ڈاکٹر ایس جے شنکر ، 12:رمیش پوکھریال نشنک، 13:ارجن منڈا ، 14:اسمرتی ایرانی ، 15:ہرش وردھن ، 16:پرکاش جاوڈیکر ، 17:پیوش گویل ، 18:دھرمیندر پردھان ، 19:مختار عباس نقوی ، 20:پرہلاد جوشی ، 21: ڈاکٹر مہندر ناتھ پانڈے ، 22:اروند گنپت ساونت،23:

گری راج سنگھ ، 24:گنجندرسنگھ شیخاوت۔

کون کب اور کتنی مدت تک بھارت کا وزیراعظم رہا

 

انڈیا کے اب تک کے 15وزرائے اعظم میں پنڈت جواہر لال نہرو اور اٹل بہاری واجپائی 3بار جبکہ 5وزرائے اعظم دو دو بار عہدے پر براجمان ہوئے جن میں موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے علاوہ اندرا گاندھی ، انکے بیٹے راجیو گاندھی اور گلزاری لال نندا شامل ہیں ۔ گلزاری لال نندا بھی دو موقعوں پر محض 2تیرہ تیرہ دنوں کیلئے وزیر اعظم بنے ۔ پنڈت جواہر لال نہرو بحیثیت وزیر اعظم 16سال 286دن اپنے عہدے پر برقرار رہے ۔ گلزاری لال ننداکو پہلی مرتبہ جواہر لال نہرو کے انتقال پر 13دنوں کیلئے نگراں وزیر اعظم بنایا گیا اور دوسری بار وہ وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے انتقال پر نگران وزیر اعظم بنائے گئے اِن کی میعاد بھی 13دنوں کی تھی ۔ لال بہادر شاستری 1سال 216دن تک وزیر اعظم رہے ۔ اندرا گاندھی 11سال 59دن تک وزیر اعظم کے عہدے پر رہیں ، انہیں بھارت کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔ مرار جی ڈیسائی نے 2سال 116دن تک وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا ۔ چرن سنگھ 170دن تک اس عہدے پر رہے ۔ راجیو گاندھی 5سال 35دن تک وزیر اعظم رہے ۔ وشوناتھ پرتاب سنگھ نے 343دنوں تک یہ ذمہ داری سنبھالی ۔ چندر شیکھر کو 223تک وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے کا موقع ملا ۔ پی وی نرسمہا رائو 4سال 330دن تک وزیر اعظم رہے ۔ اٹل بہاری واجپائی نے 6سال 80دنوں تک وزیر اعظم کا منصب سنبھالا ۔ ایچ ڈی دیوے گوڑا کو 324دنوں تک اس عہدے پر رہنے کا موقع ملا ۔ اندر کمار گجرال (آئی کے گجرال )332دنوں تک وزیر اعظم رہے ۔ منموہن سنگھ 10سال 2دن تک وزیر اعظم کی ذمہ داری سنبھالتے رہے ۔ نریندر مودی 5سال 3دن کی میعاد پوری کرنے کے بعد دوسری میعاد کیلئے وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں ۔

بی جے پی نے سب کچھ ہائی جیک کر لیا :مایا وتی

 

 بہوجن سماج پارٹی کی سپریمو مایاوتی نے لوک سبھا انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ای وی ایم الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کو لیکر دبنگ انداز میں کہا ہے کہ’’ عوام کا بھروسہ اس سے ہٹ گیا ہے۔ گٹھ بندھن( اتحاد ) نے جو نشستیں اتر پردیش میں جیتی ہیں وہاں بی جے پی نے ای وی ایم میں گڑبڑی نہیں کرائی تاکہ عوام کو شک نہ ہو۔ گٹھ بندھن( اتحاد ) کی جماعتوں بی ایس پی، ایس پی اور راشٹریہ لوک دل کے تمام چھوٹے بڑے کارکنان نے پورے تن من دھن سے محنت اور لگن سے لگاتار کام کیا۔ سبھی کا شکریہ ادا کرتی ہوں خاص کر ایس پی کے صدر اکھلیش یادو، راشٹریہ لوک دل کے اجیت سنگھ نے پوری ایمانداری سے کام کیا ۔اتر پردیش کی 80 لوک سبھا نشستوں میں سے 64 نشستیںبی جے پی اور اس کی معاون جماعت کو ملی ہیں،ایس پی –بی ایس پی گٹھ بندھن (اتحاد )کو 15 اور کانگریس کو ایک نشست ملی ہے۔ الگ الگ نشستوں کی بات کریں تو سماج وادی پارٹی کو 05 اور بی ایس پی کو 10 نشستیںملی ہیں۔‘‘

مایاوتی نے انتخابات کے نتائج آنے کے بعد میڈیا سے کہا تھا کہ ’’ملک کی سیاسی تاریخ میں کئی اہم تبدیلی دیکھی ہیں سماج کے دلت طبقوں کی اقتدار میں شراکت داری بھی بڑھی ہے لیکن اس کو بھی اب ای وی ایم کے ذریعے حکمراں پارٹی (بی جے پی اینڈ کمپنی)نے پورے طور سے ہائی جیک کر لیا ہے۔ ای وی ایم سے انتخاب کرانے کا یہ کیسا سسٹم ہے جس میں کئی ثبوت ہمارے سامنے آئے ہیں اس لئے پورے انڈیا میں ای وی ایم کی لگاتار مخالفت ہو رہی ہے، اور ان نتائج کے بعد سے تو عوام کا اس پر سے اعتماد ہی ختم ہو جائیگا۔ جبکہ اس معاملے میں زیادہ تر سیاسی جماعتوں کا الیکشن کمیشن میں یہ کہنا رہا ہے کہ ای وی ایم کے بجائے بیلیٹ پیپر سے انتخاب کرائیں۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو اس پر اعتراض کیوں ہوتا ہے۔ نہ تو الیکشن کمیشن تیار ہے اور نہ ہی بی جے پی ماننے کو تیار ہے تو اس کا مطلب کچھ تو گڑبڑ ہے۔جب بیلٹ پیپر کا سسٹم نہیں ہے تو عوام ای وی ایم میں ووٹ ڈالتے ہیں لیکن عوام اس سے مطمئن نہیں ہیں۔آج عوام یہ دیکھ رہی ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ جس طریقے کے نتائج آئے ہیں وہ لوگوں کے گلے سے نہیں اتر رہے ہیں۔ زیادہ تر تمام جماعتیں الیکشن کمیشن سے لگاتار کہہ رہی ہیں کہ وہ ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے انتخاب کرائیں تو پھر الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو اس پر اعتراض کیوں ہو رہا ہے۔ جب کوئی گڑبڑ نہیں ہے، دل میں کوئی کالا نہیں ہے تو کیوں نہیں بیلٹ پیپر سے انتخاب کرائے جاتے انتخابات بیلٹ پیپر سے کرائے جانے کی مانگ پر سپریم کورٹ کو بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، ایسی ہماری سپریم کورٹ سے بھی پرزور مانگ ہے۔‘‘

اپنے گٹھ بندھن (سیاسی اتحاد ) کے ایک رہنے کا پیغام دیتے ہوئے مایاوتی نے کہا’’ غیر متوقع نتائج کے بارے میں آئندہ حکمت عملی بنانے کیلئے ہمارے گٹھ بندھن ( اتحاد )اور ہماری طرح سے متاثر دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی مل کر آگے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ ایسا نہیں کہ ہم خاموش بیٹھ جائیںگے۔ بی جے پی کے حق میں آئے غیر متوقع انتخابی نتائج پوری طرح سے عوام کے گلے کے نیچے سے نہیں اتر پا رہے ہیں۔‘‘

دوسری جانب لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی کو اکیلے اکثریت ملنے پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی کہتے ہیں ’’ ای وی ایم کے ساتھ نہیں بلکہ ہندوؤں کے دماغ کے ساتھ چھیڑ چھاڑکی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کو اپنی غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اگر وی وی پیٹ کی پرچیوں کا معائینہ کیا جائے تو اعداد وشمار مختلف نکلیں گے۔‘‘اس کے ساتھ ہی انہوں نے قومی سلامتی کا خوف پیدا کرنے اور اس کے استعمال کا الزام بھی لگایااور کہا ’’یقینی طور پر بی جے پی ملک کی سلامتی کا خوف پیدا کرنے میں بہت کامیاب رہی۔ انہوں نے راشٹر واد اور مسلم اقلیتوں کاایک تصور بنایا۔ ان مدعوں کو بی جے پی نے اپنے فائدے کیلئے استعمال کیا۔‘‘

58 رکنی کابینہ کے بارے میں چند اہم معلومات ،20 نئے چہرے

انڈیا کے نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی کی 58رکنی وزارتی کونسل میں 20نئے چہرے ہیں ، نئے چہروں میں 2خواتین بھی شامل ہیں ۔ مودی کی وزارتی کونسل میں پہلی بار شامل کئے گئے 20وزراء میں 5کابینہ سطح کے ، 1وزیر مملکت (آزادانہ چارج ) اور 14وزرائے مملکت ہیں ۔ کل 24رکنی کابینہ میں 5نئے چہرے ہیں جس میں ایس جے شنکر ، ارجن منڈا ، پرہلاد جوشی ، اروند ساونت اور رمیش پوکھریال نشنک شامل ہیں ۔ 

ڈاکٹر جے شنکر انڈین فارن سروس کے سینئر افسر رہے ہیں جنہوں نے خارجہ سیکرٹری کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دی ہیں ۔وہ امریکہ میں انڈیا کے سفیر بھی رہے ہیں ، اس وزارتی کونسل میں وہ واحد غیر سیاسی چہرہ ہیں اور فی الحال کسی بھی ایوان کے رکن نہیں ہیں ۔ آزادانہ چارج والے وزراء کی کل تعداد 9ہے جن میں سے پرہلاد پٹیل ہی نیا چہرہ ہیں ۔ وزارتی کونسل میں شامل 24وزرائے مملکت میں 14نئے چہرے ہیں جن میں پھگن سنگھ کلستے ، سوم پرکاش ، نیتانن رائے ، رتن لال کٹاریا ، وی مرلی دھرن ، سریش چندسپاانگڑی ، انوراگ ٹھاکر ، کشن ریڈی ، رامیشور تیلی ، پرتاب چند سارنگی ، کیلاش چودھری اور سنجے شام رائو ، رینکا سنگھ سروتا اور دیبوشری چودھری شامل ہیں ۔ نئے چہروں میں 2سابق وزرائے اعلیٰ منڈا اور نشنک شامل ہیں اور صرف ایک اروند ساونت شیوسینا کے ہیں ۔ کابینہ سطح کے نئے وزراء میں شامل پرہلاد جوشی کرناٹک سے منتخب ہو کر آئے ہیں ۔ آزادانہ چارج والے وزرائے مملکت میں پرہلاد سنگھ پٹیل مدھیہ پردیش سے منتخب ہو کر آئے ہیں ۔ اس کے علاوہ مودی کی وزارتی کونسل میں پٹیل بھلے ہی پہلی بار وزیر بنے ہیں لیکن وہ واجپائی حکومت میں وزیر مملکت برائے کوئلہ رہ

 چکے ہیں۔ کشن ریڈی تلنگانہ سے ، شام رائو مہاراشٹر سے ، ٹھاکر ہماچل پردیش سے ، انگڑی کرناٹک سے ، رئے بہار سے ، کٹاریا پنجاب سے ، مرلی دھرن کیرالہ سے ، رینکا سنگھ چھتیس گڑھ سے ، سوم پرکاش پنجاب ، تیلی آسام سے ، سارنگی اوڈیشہ سے ، چودھری راجستھان سے اور محترمہ چودھری مغربی بنگال سے ہیں ۔ 

 

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:بھارتی معیشت ڈول رہی ہے ۔۔۔۔؟

...

مزید پڑھیں

شاعر نے شائد یہ مقبوضہ کشمیر کیلئے کہا ہو گا

...

مزید پڑھیں

٭:سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔۔۔نہ ہو

...

مزید پڑھیں