☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور کیرئر پلاننگ سنڈے سپیشل فیشن کھیل کچن کی دنیا شوبز خواتین دنیا کی رائے روحانی مسائل طنزومزاح ادب
ماب لنچنگ اور ’’زیرو ٹالرنس پالیسی‘‘ تشدد کے بہانے

ماب لنچنگ اور ’’زیرو ٹالرنس پالیسی‘‘ تشدد کے بہانے

تحریر : طیبہ بخاری

07-07-2019

قتل کیوں ہو گئے ہم پہ الزام ہے

قتل جس نے کیا ہے وہی مدعی

قاضیٔ شہر نے فیصلہ دے دیا

لاش کو نذر زنداں کیا جائے گا 

وکیلوں میں اب یہ بحث چھڑ گئی 

یہ جو قاتل کو تھوڑی سی زحمت ہوئی 

یہ جو خنجر میں ہلکا سا خم آ گیا 

اس کا تاوان کس سے لیا جائے گا 

ماب لنچنگ یعنی ہجومی تشدد ۔۔۔اکثریت کا نشہ۔۔طاقت کا خمار

کھلا چیلنج ۔۔۔داغ ۔۔۔یا سوچی سمجھی سازش۔۔۔

جس کی لاٹھی اسکی بھینس کا قانون ۔۔کوئی عدالت ۔۔نہ کوئی سرکار 

ادارے بے بس ۔۔۔اقلیتیںنشانہ ۔۔۔

سیکولر ازم اور سب سے بڑی جمہوریت کیلئے ایسا سوال ۔۔۔جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔۔جواب دینا پڑے گا۔۔۔

اقلیتوں کو تحفظ دینا ہو گا ۔۔۔انسانی حقوق کا احترام کرنا ہو گا۔۔۔

گنگا جمنا تہذیب میں تو ایسا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔

بی جے پی اس خونیں کھیل کو روکنے میں سنجیدہ کیوں نہیں ۔۔۔؟ 

کبھی مسجد پر تنازعہ ۔۔کھلے عام نماز پڑھنے پر پابندی ۔۔۔اذان فجر پر پابندی ۔۔اور اب ۔۔ بھارت میں رہنا ہے تو ’’جے شری رام‘‘ بولو۔۔رام نے تو کبھی نفرت اور تشدد کا درس نہیں دیا ۔ ۔ پھر رام نام پر کسی بھی مذہب سے نفرت کا پرچار زور زبردستی کیوں ۔ ؟ 

کیا ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ’’ تشدد کا بہانہ‘‘ ہے۔۔۔؟

دیکھو او دیوانو تم یہ کام نہ کرو ۔۔۔رام جی کا نام بدنام نہ کرو ۔۔۔

دنیا کا کوئی مذہب جانور پر بھی ظلم کی اجازت نہیں دیتا۔۔۔پھر انسانوں کو جانوروں سے بھی بُری موت کیوں دی جا رہی ہے ۔ ۔ ؟ 

 کیوں بھارت میں یہ خونیں کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔۔۔

 نوبت مظاہروں تک آ پہنچی ہے ۔۔۔۔گونج عالمی اداروں تک جا پہنچی ہے۔۔۔نہیں سُن پا رہی تو بی جے پی کی حکومت ۔۔۔

 نفرت کے اس کھیل کو روکنا ہو گا ۔۔۔۔تشدد کے تمام بہانوں پر پابندی لگانا ہو گی۔۔۔ظلم کی حمایت ترک کرنا ہو گی ۔۔۔ 

اور مقبوضہ کشمیر میں’’زیرو ٹالرنس پالیسی ‘‘کس کیلئے ۔۔۔کس کیخلااف ۔۔۔؟روز لاشیں گرائی جا رہی ہیں کیا اور لہو بہے گا ۔۔؟

نشانہ مجبور ، بے بس مظلوم عوام ۔۔یا۔۔ حریت پسند نظریات رکھنے والے نوجوان ۔۔۔جماعتیں اور رہنما ۔۔؟ 

بھارت جہاں کئی قومیتیں صدیوں سے ہنستی بستی آ رہی ہیں اب صاف نظر آ رہا ہے کہ انکا بلکہ سب کا ’’سکون ‘‘ برباد ہو چکا ہے اور یہ سکون ایک ایسا ہجوم یا گروہ برباد کر رہا ہے کہ جس کی نظر میں کسی قانون ، ادارے ، تہذیب ، نظرئیے یا بیانیے کی کوئی وقعت کوئی قدر نہیں ۔ یہ ہجوم جہاں اور جب چاہے اپنی عدالت لگاتا اور سزا سناتا ہے اور صرف سزا سناتا ہی نہیں اس پر عملدرآمد بھی خود ہی کرتا اور کرواتا ہے اور کوئی ریاستی ادارہ اس کا ہاتھ روکنے کی ہمت نہیں کر رہا ۔۔۔بھارت میں ’’ماب لنچنگ ‘‘ ہو رہی ہے تو مقبوضہ کشمیر میں ’’زیرو ٹالرنس پالیسی ‘‘ پر عمل کیا جا رہا ہے ۔۔۔ دونوں کا نشانہ اب تک مسلمان ، دلت اور کشمیری ہیں ۔۔۔حکومتی و ریاستی ادارے جان بوجھ کر آنکھیں بند نہ کریں تو صاف نظر آ رہا ہے کہ خوف و دہشت کا یہ کھیل باقاعدہ منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے تحت کھیلا جا رہا ہے یہ اچانک یا رد عمل کے طور پر ہونیوالی وارداتیں نہیں ۔ جبر کا قہر ڈھایا جا رہا ہے ۔۔۔جھارکھنڈ میں کچھ دن پہلے چوری کے شبے میں تبریز انصاری کو بھیڑ یعنی ہجوم کے ذریعے اتنا مارا گیا کہ ہسپتال میں اسکی موت ہوگئی،تبریزسے جبراً جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگوائے گئے ۔ نفرت اور تشدد کی بھینٹ چڑھنے والے تبریز انصاری اور ان جیسے لا تعدادبے گناہوں کے حق میں آج پورے بھارت میں احتجاج اور مذمت کا سلسلہ جاری ہے اور یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ جے شری رام کے نعرے کو تشدد کا بہانہ کیوں بنا لیا گیا ہے اور اس کے پیچھے مقاصد کیا ہیں ۔ 

یہ بھارت میں بسنے والی مختلف قومیتیں ہی ہیں جو صدائے احتجاج بلند کر رہی ہیں اور اپنے معاشرے کو نفرت اور مزید تقسیم سے بچانے کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ انکے اس بے ضرر اور ملکی مفاد پر مبنی مطالبے کو کیوں ریاستی و حکومتی سطح پر نظر انداز کیا جا رہا ہے ؟ کیوں قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور آئین ساز ادارے فوری اس ظلم کیخلاف اپنا بھرپور کردار ادا نہیں کر رہے ؟ ’’تشدد‘‘بے حسی، عدم توجہی ،شعوری پہلو تہی اور خاموشی سے ہی جنم لیتا ہے ۔۔۔۔سکریتا پال کی یہ نظم تشدد کیخلاف بھارت سے اٹھنے والی ایک آواز ہی تو ہے ۔۔۔ وہ اپنا پر زور احتجاج اس طرح درج کراتی ہیں کہ 

 شبد( الفاظ ) نہیں ہتھیار پھینکے جاتے ہیں

 چوٹ پہنچانے کو

 درد دینے کو

 یہاں تک کہ مار ڈالنے کو

 بار بار

 ہنسا (تشدد) کی بھاشا میں مون (خاموشی)

 ہوتا ہے اتنا لمبا کہ

 جم جائے زخموں میں لہو

شبد دھنس جاتے ہیں مانومن میں

 کھیل کھیلتے من سے

 قابو کرتے

 ادھیکار جماتے

 اُلٹ دیتے پوری طرح

اور پھر اُبھر آتے ہیں سطح پر

 معصوم بچوں سے 

بھارت میں چند دنوں سے مسلمانوں اور دلتوں کی ماب لنچنگ کے ان گنت معاملات منظر عام پر آ چکے ہیں میڈیا میں پرزور مذمت کا سلسلہ جاری ہے قومی اخبارات کے علاوہ عالمی سطح پر بھی اس’’ بھگوا دہشتگردی‘‘ کو بھارتی آئین اور انسانی قدروں کیخلاف قرار دیا جا رہا ہے لیکن یہ گھنائونا کھیل رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا کینسر کی طرح بھارتی معاشرے میں پھیلتا ہی جا رہا ہے ایک شہر اور قصبے سے اٹھنے والی ہجومی تشدد کی لہر پل بھر میں دوسرے شہر اور محلے تک جا پہنچتی ہے ۔ ایسے جیسے شاید اسکا انتظار کیا جا رہا تھا اور ’’ہجوم ‘‘ اس انتظار میں بیٹھا تھا کہ کب اسے اشارہ ملے اور وہ اس خونیں کھیل کا آغاز کر دے ۔۔۔۔

اس انتہا پسندی کا قصہ مختصراً بیان کریں تو چند روز قبل جھارکھنڈ میں تبریز انصاری کے قتل کے بعد ایسا ہی معاملہ مغربی بنگال میں بھی پیش آتا ہے جہاں ایک مدرس محمد شاہ رخ کو ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ نہ لگانے کے جرم میں ٹرین سے دھکا دیدیا گیا اس کے علاوہ ایک دلت نوجوان کو نیم برہنہ کرکے ڈنڈوں سے پیٹنے کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی۔ جب انتہا پسندی کے اس کھیل کیخلاف سوشل میڈیا میں ماحول گرم ہونے لگا اور لوگ سڑکوں پر احتجاج کرنے لگے تو سوشل میڈیا پر انتہا پسندوںنے رد عمل کے طور پر نئی مہم شروع کر دی جس میں مسلمانوں کو ظالم اور ہندوئوں کو مظلوم بتایا جا رہا ہے لیکن بھارت کے لبرل ، مسلمان اور آزاد فکر طبقات اسے ماب لنچنگ کے دائرے سے باہر رکھ کر دیکھ رہے ہیں ۔

 مغربی بنگال میں مدرسے کے استاد محمد شاہ رخ کے ساتھ پیش آنیوالے واقعے کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ زندہ بچ گئے اور اپنے ساتھ پیش آنیوالے سانحے کو دلیری سے بیان کر رہے ہیں ۔۔۔محمد شاہ رخ ہگلی ضلع کے حیات پور کے ایک مدرسے میں عربی پڑھاتے ہیں۔ شاہ رخ کے مطابق حملہ کرنے والے انتہا پسندوں اور ان کی تنظیم کے بارے میں پولیس کو بتانے کے باوجود کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔۔۔اس واقعے کی تفصیل 24 سالہ حافظ محمد شاہ رخ اس طرح بتاتے ہیں کہ میں 20 جون کی دوپہر 24 پرگنہ ضلع کے کیننگ سے سیالدہ اسٹیشن کیلئے لوکل ٹرین میں سوار ہوا سفر میں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن کولکتہ میں داخل ہوتے ہی ٹرین میں کچھ لوگ سوار ہوئے ایک شخص میرے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ میرے سر پر ٹوپی کیوں ہے، میں نے ڈاڑھی کیوں رکھی ہے، لمبا پنجابی (کرتا) کیوں پہنا ہے؟ انہوں نے مجھے جے شری رام بولنے کو کہا‘ فوراً ہی اور بھی لوگ آ گئے اور مجھ سے گالی گلوج کرنے لگے۔ اسلام کو لیکر بھی قابل اعتراض باتیں کہیں۔ اس کے بعد ہی 10 سے 15 لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے میرا گلا دبانے کی کوشش کی میں نے کسی طرح ان سے ہاتھ چھڑا لیا اور ٹرین سے اترنے کی کوشش کی مگر انہوں نے اترنے نہیں دیا۔ اسی بیچ پارک سرکس اسٹیشن آ گیا ٹرین کی رفتار کافی دھیمی ہو گئی تھی، تبھی انہوں نے مجھے لات مارکر نیچے گرا دیا۔ اس وقت ٹرین میں اور بھی لوگ تھے لیکن کسی نے بھی آگے بڑھ کر انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔اسٹیشن پر موجود کچھ مسافروں نے مجھے اٹھایا طبعی امداد دی ،طبیعت ذرا ٹھیک ہونے کے بعد میں شکایت درج کرانے تپسیا تھانے گیا تو انہوں نے بالی گنج جی آر پی میں شکایت کرانے کو کہا ۔ بالی گنج جی آر پی میں میرا بیان لیکر نامعلوم افراد کیخلاف شکایت درج کی لیکن ایف آئی آر میں ’’جے شری رام ‘‘ کے نعرے لگانے اور اسلام کی توہین والے تمام معاملے کو بالکل ہی غائب کر دیا گیا ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شکایت درج ہونے کے 7دن بعد بھی ایک بھی ملزم پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا جبکہ محمد شاہ رخ نے بتایا تھا کہ حملہ آور کس تنظیم کے تھے حملہ آوروں نے سر پر کپڑا باندھ رکھا تھا، جس پر ہندو سنہتی (Hindu Samhati) لکھا ہوا تھا۔ ہندو سنہتی ایک رائٹ ونگ مذہبی تنظیم ہے جو تقریباً ایک دہائی سے فعال ہے۔یہ تنظیم خود کو این جی او بتاتی ہے اور اس کا اہم کام مغربی بنگال میں ہندوؤں کے معاملات کی نگرانی کرنا سرکاری اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ہندوؤں کو تعلیم دینا بھی ہے۔تنظیم کے بانی تپن گھوش متنازع سرگرمیوں کیلئے بدنام ہیں اور کئی بار جیل جا چکے ہیں۔ گذشتہ سال فروری میں بھی ہندو سنہتی کی طرف سے ہی مسلمانوں کیخلاف کارروائیاں کی گئی تھیں اور میڈیا پر ان معاملات کو اجاگر کرنے پر کئی صحافیوں سے جھگڑا بھی ہوا تھا ۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی خود انتہا پسندی کا نشانہ بن چکی ہیں، وہ گاڑی میں جہاں کہیں جاتی ہیں ان کو دیکھ کر بی جے پی کے کارکن ’’جے شری رام ‘‘ کے نعرے لگانے لگتے ہیں اوریہ نعرے لکھ کر انہیں بذریعہ ڈاک بھی بھجواتے ہیں ۔ممتا ایسے تمام واقعات کا اب تک دلیری سے مقابلہ کرتی آ رہی ہیںانہوں نے مقامی ایم ایل اے کے ذریعے شاہ رخ کی خیریت معلوم کی مدد کے طور پر 50 ہزار روپے بھجوائے اور کہا ’’ جن لوگوں نے یہ سب کیا ہے، ان کو سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ بنگال میں لوگ امن و سکون سے رہیں۔ ‘ ‘

 بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی سخت ناقدممتا بینر جی کب تک مغربی بنگال کا سیاسی و سماجی سکون برقرار رکھ پاتی ہیں یہ آپ بھی دیکھئے ہم بھی دیکھ رہے ہیں ۔

 

آواز نہیں گلہ دبایا جا رہا ہے

 ایسا لگتا ہے گاندھی ، نہرو اور واجپائی کے انڈیا کو انتہا پسندی وبائی مرض کی طرح جکڑے ہوئے ہے ، پہلے کبھی اقلیتوں کیخلاف کوئی جرم ہوتا تھا تو ’’نقاب ‘‘یا ’’نامعلوم افراد‘‘ کا سہارا لیا جاتا تھا لیکن اب سب کچھ کھلم کھلا اور ڈنکے کی چوٹ پر کیا جا رہا ہے کوئی ڈر خوف یا رکاوٹ نہیں، اب آواز نہیں گلہ دبایا جا رہا ہے ۔۔۔ مثال کے طور پر مغربی بنگال کو ہی لے لیجئے جہاں بی جے پی نے کولکتہ کی سڑکوں پر کھلے میں جمعہ کی نماز پڑھنے کی مخالفت کی ہے۔ بی جے پی یووا مورچہ (یوتھ تنظیم )نے شہر کی سڑکوں پر ہنومان چالیسہ کا ورد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی جے وائی ایم کے صدر اوم پرکاش سنگھ کا کہنا ہے ’’جمعہ کی نماز کیلئے جی ٹی روڈ کو بند کردیا جاتا ہے اس کی وجہ سے مریضوں کی موت ہوجاتی ہے لوگ وقت پر اپنے دفتر نہیں پہنچ پاتے۔ جب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا تب تک ہم بھی شہر کی تمام اہم سڑکوں پر ہنومان مندر کے نزدیک ہنومان چالیسہ کا ورد کریں گے۔‘‘

اس سے پہلے اتر پردیش پولیس نے دفتروں اور اداروں کو حکم دیا تھاکہ وہ اپنے ملازمین کو عوامی مقامات جیسے کہ پارکوں میں جمعے کی نماز پڑھنے سے روکیں۔ اس کے بعد نوئیڈا پولیس کے مختلف تھانوں کو نوٹس جاری کیا گیا تھا کہ اگر دفتروں کے ملازم عوامی مقامات پر نماز پڑھتے پائے گئے تو اس کیلئے ادارے کو ذمہ دار ٹھہرایا جائیگا۔عوامی مقامات پر نماز ادا کرنے کو لے کر تنازعہ کہیں بڑھ نہ جائے اس کی وجہ سے پارکس اور گرائونڈز میں پانی بھر دیا جاتا ہے۔

 اس سے قبل جوائنٹ ہندو کنفلکٹ کمیٹی جس میں بجرنگ دل، وشوا ہندو پریشد، شیو سینا، ہندو جاگرن منچ اور اکھل بھارتیہ ہندو کرانتی دل کے لوگ شامل ہیں کے بینر تلے کئی تنظیموں نے گڑ گاؤں میں کھلے عام نماز پڑھنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھاکمیٹی نے یہ قدم تب اٹھایا تھاجب جمعہ کی نماز میں ’’ جے شری رام ‘‘ اور ’’ رادھے رادھے‘ ‘ کے نعروں کے ساتھ رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ گڑگاؤں میں ہی 10 مقامات پر مسلمانوں کو بنگلہ دیشی بتاکر نماز پڑھنے سے روک دیا گیا تھا۔اکھل بھارتیہ ہندو کرانتی دل کے راجیو متل نے اس وقت دھمکی دی تھی کہ مسلمانوں کو کھلے میں نماز پڑھنے کیلئے انتظامیہ سے منظوری لینی ہوگی منظوری کے بغیر نماز نہیں پڑھنے دیںگے۔

دوسری جانب ریاستی وزیر پرتاپ چندر سارنگی جو اڑیسہ بجرنگ دل کے ریاستی کنوینر رہ چکے ہیں اور اپنے کٹر ہندو پن کی وجہ سے مشہور ہیں۔2002ء میں بجرنگ دل سمیت رائٹ ونگ گروپ کے ذریعے اڑیسہ اسمبلی پر کئے گئے حملے، جلائو گھیرائو اور فسادات سمیت کئی دیگر الزامات میں جیل جا چکے ہیں۔سارنگی انتخابی حلف نامے کے مطابق 10 مجرمانہ معاملات میں ملزم ہیںلیکن کسی ایک میں بھی مجرم نہیں ٹھہرائے گئے ۔سارنگی اڑیسہ کے بالاسور سے پہلی بار رکن منتخب ہوئے ہیںلہٰذا پارلیمینٹ پہنچتے ہی انہوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔پارلیمینٹ میں اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے انہوں نے نیا مسئلہ چھیڑ دیا ہے کہ ’’کیا وندے ماترم نہ کہنے والوں کو ملک میں رہنے کا حق ہونا چاہیے۔؟ ٹکڑے ٹکڑے گینگ کو کبھی قبول نہیں کرینگے ملک وزیر اعظم کے ساتھ ہے ،کیا افضل گرو کی تعریف کرنے والوں کوبھارت میں رہنے کا حق ہونا چاہیے۔‘‘ اس دوران بی جے پی کے حکومتی ارکان نے بنچ بجا کر خوب داد دی اور کہا ’’ نہیں، کسی قیمت پر نہیں۔ ‘‘ اس سے قبل سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمان شفیق الرحمن نے حلف برداری کے دوران وندے ماترم کہنے سے انکار کر دیا تھا ۔ اقلیتی وزیر مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ’’ لوگوں کا گلا دباکر نہیںبلکہ گلے لگاکر’’جے شری رام‘ ‘ کا نعرہ لگایا جا سکتا ہے جھارکھنڈ کے واقعہ میں جو لوگ بھی ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ یہ بدقسمتی ہے۔ اس طرح کے واقعات کیلئے کوئی صفائی نہیں ہو سکتی۔ ترقی کے ایجنڈے پر کوئی برباد کرنے والا ایجنڈہ حاوی نہیں ہونا چاہیے۔ جو لوگ اس طرح کی چیزیں کرتے ہیں ان کا مقصد حکومت کے مثبت کام کو متاثر کرنا ہے۔ کچھ واقعات ہو رہے ہیں، ان کو روکا جانا چاہیے۔ ‘‘

’’ گلہ دبانے‘‘ کا ایک اور معاملہ آپ تک پہنچاتے چلیں کہ معروف بھارتی فلمساز آنند پٹ وردھن کی ڈاکیومنٹری فلم ’’وویک‘‘ کو کیرل میںانٹرنیشنل ڈاکیومنٹری اور شارٹ فلم فیسٹیول میں دکھایا جائے یا نہیں اس کو لیکر بھی بہت لے دے ہوئی ۔ آخر ایسا اس فلم میں کیا ہے کہ اسے اپنے ہی ملک میں دکھائے جانے پر امن و امان کی صورتحال بگڑنے کا خطرہ ہے ۔۔۔۔اس سے صاف اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت جہاں فلم کے ذریعے اپنی بات کہنے کی آزادی تھی اب اس پر بھی پابندی ہو گی ۔4 گھنٹے کی فلم ’’وویک ‘‘نریندر دابھولکر اور گووند پانسرے کے قتل اور سناتن ادارے کے کردار کو دکھاتے ہوئے انتہا پسندوں کے تشدد پھیلانے سے شروع ہوتی ہے۔ اس کے بعد فلم میں دلت تحریک اور دلت رہنمائوں کی کہانی بیان کی گئی ہے اتر پردیش کے دادری گاؤں میں محمد اخلاق کے گئو کشی کے شبے میں ہوئے قتل کی کہانی کے ساتھ اس فلم کا خاتمہ ہوتا ہے۔فلم نے دنیا بھر میں کئی ایوارڈ جیتے ہیں جس میں ایمسٹرڈم کے 31ویں عالمی ڈاکیومنٹری فلم فیسٹیول میں بہترین فیچرلینتھ ڈاکیومنٹری کا ایوارڈ بھی شامل ہے۔

 فیسٹیول کے ڈائریکٹر کمال کے مطابق’’ فلم یوٹیوب پر دستیاب ہے اور کئی بار دیکھی جا چکی ہے، مرکزی حکومت کے حربے سمجھ سے پرے ہیں۔ وزارت اطلاعات کا دعویٰ ہے کہ اس فلم کو دکھانے سے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ فیسٹیول میں دکھائی جانے والی فلموں کو سینسر بورڈ سے اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن اب اجازت لینی پڑ رہی ہے ۔‘‘

 

مقبوضہ کشمیر میں بسنے والوں کی زندگی عذاب بن چکی ہے 

 

رواں برس مارچ میںاقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ مشیل باچلے نے جنیوا میں سالانہ رپورٹ میں متنبہ کیا تھا کہ بھارت کے اندر’’ تقسیم کرنے والی پالیسی‘‘ سے معاشی مفادات کو دھچکا لگ سکتا ہے گھٹے ہوئے سیاسی ایجنڈے کی وجہ سے کمزور طبقہ پہلے ہی مشکل میں ہے۔ہمیں ایسی اطلاعات مل رہی ہیں جن سے اس بات کے اشارے ملتے ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔ خاص طور پر مسلمان اور تاریخی طور پر پسے ہوئے طبقات جن میں دلتوں اور قبائلیوں کا استحصال بڑھ رہا ہے۔‘‘

اس سے قبل گذشتہ برس اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اس کی تحقیقات کی بات کہی تھی۔اُس وقت کشمیر کے بارے میں رپورٹ کو بھارت نے مسترد کر دیا تھا۔ 2016ء میں ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی مذمت کی گئی تھی۔ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے گرین پیس اور فورڈ کا حوالہ دیتے ہوئے غیر سرکاری اداروں سماجی کارکنان کو ہدف بنانے اور فلاحی منصوبوں کیلئے غیر ملکی فنڈز پر پابندی لگائے جانے کے باعث مودی حکومت کو برا بھلا کہا تھا۔۔۔۔اب صورتحال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بسنے والوں کی زندگیاں عذاب بن چکی ہیں، دہائیوں سے جاری ظلم کے باعث نہ صرف سینکڑوں انسانی جانیں ضائع ہوئیں بلکہ کروڑوں روپے مالیت کی املاک بھی تباہ ہو چکی ہیں۔بھارتی فوج کی شیلنگ اور آپریشنز کے باعث مسلمانوں کے گھر کھنڈر اور ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں ،قبرستان آباد ہو چکے ہیں ۔ سرچ آپریشنز کے نام پر فوجی اہلکار چادر و چار دیواری کا نہ صرف تقدس پامال کرتے ہیں بلکہ بوڑھوں ، عورتوں اور بچوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ، صرف شک کی بنیاد پر نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ، عدم برداشت کا عالم اس نہج تک پہنچ چکا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی مشہور ننھی اداکارہ زائرہ وسیم نے انتہا پسندوں کی دھمکیوں اور کارروائیوں سے تنگ آ کر بالی وڈکو خیر بادکہہ دیا ہے، زائرہ نے 2015ء میں عامر خان کی بلاک بسٹر فلم ’’دنگل ‘‘سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔۔۔

دوسری جانب بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے عام انتخابات میں بی جے پی کی فتح کے بعدبطور وزیرِ داخلہ مقبوضہ کشمیر کا پہلا دورہ کیا گورنر ستیہ پال ملک اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، یہ دورہ گورنر کے اُن اشاروں کے پس منظر میں ہوا جو انہوں نے حریت پسندوں کے ساتھ بات چیت کے بارے میں دئیے تھے۔ امت شاہ کے دورے سے قبل ہی بھارت نواز سیاسی جماعتوں، حریت پسندوں اور سول سوسائٹی نے اپیل کی تھی کہ وہ ماضی کی فوجی پالیسی کے برعکس انسانیت، ہمدردی اور مذاکرات کی پالیسی اپنائی جائے۔سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے مطالبہ کیا تھا کہ قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔میرواعظ عمر فاروق نے بیان جاری کیا تھا کہ جن لوگوں کے پیارے روزانہ مارے جارہے ہوں اُن سے بہتر امن کی اہمیت کون سمجھ سکتا ہے۔ ہم ہر اُس سنجیدہ اور مخلص کوشش پر بھرپور تعاون کریں گے جو مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر بھارت اور پاکستان کی طرف سے کی جائے گی۔۔۔لیکن تمام مطالبات اور اپیلوں کا جواب ملا ’’زیرو ٹالرنس پالیسی ۔۔۔‘‘ایسے میں کشمیری نوجوان ہتھیار نہیں اٹھائیں تو کیا کریں ۔۔۔؟

سرینگر میں مقیم ریسرچ سکالر انشا آفرین کہتی ہیں’’زمینی حالات ٹھیک کرنا ضروری ہے اور اس کیلئے انڈین حکومت کو پہل کرنا ہو گی۔ نوجوان مارے جا رہے ہیں، پولیس اُن کاپیچھا کررہی ہے، درجنوں حریت قائدین جیلوں میں ہیں، اظہار رائے کی آزادی پر قدغنیں ہیں۔ اس ماحول میں کیا بات ہو گی اور بات کون کرے گا؟جبکہ انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ وہ حریت پسندوں کے ساتھ آئین ہند کے طے شدہ ضابطوں کے تحت بات چیت پر تیار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حریت کانفرنس کشمیر کو انڈیا کا اٹوٹ انگ تسلیم کرے اور اقوام متحدہ میں منظور شدہ قراردادوں پر عمل کے لیے اصرار نہ کرے ۔‘‘

 تمام تر مطالبات اور امن کی خواہشات کے جواب میں وزیر داخلہ امت شاہ نے اعلان کیا کہ وادی میں ملی ٹینسی اور مجاہدین کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور ٹیرر فنڈنگ کیخلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے جموں وکشمیر پولیس کے کردار کو سراہا اور ہدایت جاری کی کہ مجاہدین کا مقابلہ کرنے کے دوران جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں و افسران کی برسیاں اُن کے آبائی قصبوں یا دیہات میں منائی جائیں اہم عوامی مقامات کو پولیس اہلکاروں و افسران کے ناموں سے منسوب کیا جائے۔امت شاہ نے حالیہ مہینوں کے دوران مجاہدین کے ہاتھوں مارے گئے بی جے پی کے کارکنوں کے اہلخانہ میں چیک بھی تقسیم کئے۔۔۔ بی جے پی کی زیرو ٹالرنس پالیسی کیا ہے، تشدد کے بہانے کیسے اور کون ڈھونڈ رہا ہے اسکا اندازہ لگانا کوئی مشکل بات نہیں ۔۔۔سب صاف صاف نظر آ رہا ہے ۔

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی بے یقینی بڑھ رہی ہے: آئی ایم ایف کا اعتراف۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں موت کا خوف ختم ہوچکا اور اب’’ بے خوف ...

مزید پڑھیں

امن کے دیوانے اور نفرت کے پجاری میں ملاقاتوں اور گفتگو کا سلسلہ تو بند ہے لیکن ایک دوسرے پر الزامات اور لفظی حملوں کا سلسلہ عروج پر ہے ۔۔۔ ...

مزید پڑھیں

٭:معیشت میں بہتری کے آثار نے جنم لیا ہے۔۔۔

...

مزید پڑھیں