☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن کیرئر پلاننگ دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل عالمی امور دین و دنیا کچن کی دنیا روحانی مسائل ادب کھیل رپورٹ خواتین
مایوس ،راحت سے خالی ، ٹیکسوں سے بھرپور مودی حکومت کا’’مخملی بجٹ‘‘

مایوس ،راحت سے خالی ، ٹیکسوں سے بھرپور مودی حکومت کا’’مخملی بجٹ‘‘

تحریر : طیبہ بخاری

07-14-2019

٭:پہلی خاتون وزیر خزانہ کا ’’نیا ٹرینڈ ‘‘۔۔۔

٭:2گھنٹے 11منٹ کی تقریر ۔۔۔

 

٭:بریف کیس کی جگہ مخملی کپڑا ۔۔۔

 

٭:آزادی کی علامت ۔۔۔بجٹ نہیں بہی کھاتہ

٭:دوسرے دور میں پہلے دور کی تعریفیں ۔۔۔

 

: غریب دیہی آبادی کو2کروڑ مکان بنا کر دینے کا وعدہ 

٭: مودی جی کی نظر میںامیدوں اور امنگوں سے لبریز بجٹ ۔ لیکن ۔۔کچھ واضح نہیں کہ کس مد میں کتنا پیسہ خرچ کیا جائیگا۔۔۔

٭:سوشل میڈیا پر سوالات کی بوچھاڑ ۔۔۔

٭:اپوزیشن مایوس ۔۔۔’’نئی بوتل پرانی شراب ‘‘ کے تبصرے 

٭:ٹیکسوں کی کڑوی گولی میٹھے میں لپیٹ کر دی گئی ۔۔۔

٭:پارلیمینٹ کے اندر ماحول کچھ، باہر کچھ ۔۔۔

٭:’’نیا انڈیا ‘‘ کیلئے کوئی بڑا آئیڈیا بجٹ میں نہیں ۔۔۔

بھارت کی پہلی کُل وقتی خاتون وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے 422 ارب امریکی ڈالرز مالیت کا مودی حکومت کے دوسرے دور کا پہلا بجٹ 2019-20ء پیش کر دیا ۔ نرملا سیتا رمن بھارت کی پہلی کل وقتی وزیر خزانہ ہیں اس سے قبل اندرا گاندھی کے پاس بھی وزارت خزانہ کا قلمدان تھا تاہم انہوں نے وزیر اعظم کے ساتھ اضافی طور پر یہ عہدہ سنبھال رکھا تھا۔ بجٹ سے بھارتی خواتین کو کافی امیدیں تھیں لیکن ان کی قومی خدمات کی تعریفوں کے پُل باندھ کر صرف اعلانات پر ہی ٹرخا دیا گیا ۔ مثال کے طور پر بجٹ میں سونے پر ٹیکس10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیا گیا جس کا سب سے زیادہ اثر خواتین پر ہی پڑے گا۔۔۔۔

مودی حکومت اسے تاریخی اور کامیاب جبکہ اپوزیشن اسے مایوس کن اور نئی بوتل میں پرانی شراب جیسا بجٹ قرار دے رہی ہے۔یہ بجٹ ایسے وقت میں آیا ہے جب بھارت اقتصادی مندی کے دور سے گزر رہا ہے، بے روزگاری کے اعدادو شمار پریشان کن ہیں اور ترقی کی شرح کے معاملے میں معیشت کی رفتار سست ہو رہی ہے ۔ مودی حکومت کے حامی متوسط طبقے کے لوگ اس بجٹ سے یہ توقع کر رہے تھے کہ انکم ٹیکس میں انہیں کچھ چھوٹ ملے گی لیکن اس میں کوئی تبدیلی نہ ہونے سے انہیں مایوسی ہوئی ہے۔

نرملا سیتارمن نے اپنا پہلا بجٹ پیش کرتے ہوئے’’ نیا ٹرینڈ ‘‘ متعارف کروایا 159 سالہ قدیم روایت توڑتے ہوئے بجٹ دستاویزات کو بریف کیس کی جگہ لال رنگ کے مخملی کپڑے میں لپیٹ کر پارلیمینٹ آئیں۔ چیف اکنامک ایڈوائزر کے سبرامنیم نے اس پر ٹویٹ بھی کیا ’’یہ بھارتی روایت ہے اور مغربی غلامی سے آزادی کی علامت۔ یہ بجٹ نہیں بہی کھاتہ ہے۔‘‘ اس نئی روایت کو دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایاگیا۔ ایک صارف نے تو مودی حکومت سے سوال پوچھ لیا کہ ’’گذشتہ برس ارون جیٹلی نے بریف کیس میں رکھ کر بجٹ دستاویز پیش کیا تھا گویا وہ غلامی کی علامت تھے۔؟‘

‘جہاں چند افراد نے انڈین روایتوں کی پاسداری کرنے پر نرملا سیتارمن کی تعریف کی تو دوسری طرف اکثریت نے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دریافت کیا کہ وہ بجٹ پیش کرنے کیلئے پارلیمان میں کار کی جگہ بیل گاڑی پر کیوں نہیں آئیں؟یہ کہہ کر بھی مذاق اڑایا گیاکہ’’ کیا ان کی بجٹ تقریر کاغذ کی جگہ کھجور کے پتوں پر لکھی ہوئی تھی۔؟ــ‘‘بجٹ بریف کیس انڈیا کی نوآبادیاتی تاریخ کا اہم حصہ رہا ہے۔ معروف مصنف سمانتھ سبریمنیم کے مطابق ’’یہ ایک اہم نوآبادیاتی اثاثہ ہے جو ہمیں برطانیہ کے چانسلر برائے خزانہ کی کئی دہائیوں تک دی جانے والی بجٹ تقاریر کی یاد دلاتا ہے۔

‘‘لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ انڈیا کے کسی وزیرِ خارجہ نے بجٹ بریف کیس کو استعمال نہیں کیا۔انڈیا کے پہلے وزیرِ خزانہ آر کے شان مکھم چیٹی نے اپنی بجٹ تقریر میں چمڑے کا بستہ استعمال کیا تھا جو بریف کیس جیسا ہی تھا۔اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ انگریزی زبان کا لفظ ’’بجٹ‘‘ ایک پرانے فرانسیسی لفظ سے بنا ہے جس کا مطلب چھوٹا بیگ ہے۔روایت کے مطابق برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز میں اقتصادی پالیسی کا اعلان کرتے وقت چمڑے کا ایک بستہ لایا جاتا تھا، اب وہاں اس کا جدید متبادل سرخ بجٹ باکس ہے۔ 

اس بجٹ کی دلچسپ بات یہ تھی کہ2 گھنٹے 11 منٹ کی تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ کس مد میں کتنا پیسہ خرچ کیا جائیگا۔ انہوں نے مودی حکوت کے پہلے دور کے منصوبوں کی زبردست تعریف کرتے ہوئے مستقبل کیلئے کئی منصوبوں کا خاکہ پیش کیا۔ نرملا سیتا رمن نے اپنی تقریر میں مختلف زبانوں کے اقوال اور اشعار کا استعمال بھی کیا، منظور ہاشمی کا یہ شعر بھی پڑھا:

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے

ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

وزیر اعظم نریندر مودی بجٹ کو امیدوں اور امنگوں سے لبریز قرار دیا ہے جبکہ انڈین عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی گئی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ میں متوسط طبقے کو کوئی راحت نہیں دی گئی اس سے قبل فروری میں مودی حکومت نے عبوری بجٹ پیش کیا تھا جس میں 5 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر ٹیکس چھوٹ دی گئی تھی اس بجٹ میں اسے برقرار رکھا گیا ہے لیکن دوسری طرف 2 سے 5 کروڑ آمدنی والے افراد پر 3 فیصد اضافی ٹیکس اور 5 کروڑ سے زائد آمدنی والے افراد پر 7 فیصد اضافی ٹیکس کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ مختلف شعبوں میں غیر ملکی راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں اضافے اورشہری ہوابازی، انشورنس، میڈیا، انیمیشن سیکٹر میں صد فیصد ایف ڈی آئی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ مودی حکومت نے بھارت کی موجودہ 2.7 ٹریلین ڈالر کی معیشت کو 2025 ء تک 5 ٹریلین ڈالرز بنانے کا عزم کیا ہے۔

ڈیفنس سیکٹر کیلئے کوئی بڑا اعلان نہیں کیا گیا ، یہ پہلا موقع ہے جب کسی وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر میں خصوصی الاٹمنٹ کے تحت ڈیفنس بجٹ کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ عبوری بجٹ میں دفاع کے مد میں 2018 ء کے مقابلے 7.81 فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا۔ نرملا سیتا رمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انڈیا آئندہ5 برسوں میں امریکہ اور چین کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی جانب گامزن ہے۔مودی حکومت نے گذشتہ5 برسوں میں معیشت میں ایک لاکھ کروڑ ڈالر زکا اضافہ کیا،اس وقت معیشت 3لاکھ کروڑ ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے اور آئندہ 5 برسوں میں ہم اسے5 لاکھ کروڑ ڈالرز تک پہنچائیں گے۔ یہ منزل اب ہمیں نظر آ رہی ہے، انکم ٹیکس کی بنیادی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی 5 لاکھ روپے تک کی آمدنی والوں کو ٹیکس ادا نہیں کرنا ہو گا،امیروں کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پربھی ایک روپیہ فی لیٹر کا نیا ٹیکس لگایا گیا ہے جبکہ سونے اور دوسری مہنگی اشیاء پر کسٹمز ڈیوٹی 10 فیصد سے بڑھا کر ساڑھے بارہ فیصد کر دی گئی ہے گذشتہ5 برسوں میں ٹیکس سے حاصل ہونے رقم تقریباً دگنی ہو چکی ہے۔انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد 5 برس میں 3 کروڑ 79 لاکھ سے بڑھ کر 6 کروڑ 85 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کا بجٹ کے بارے میں کہنا ہے کہ ملک کی سمت اور رفتار درست ہے۔ بجٹ 21ویں صدی کی امنگوں کے مطابق ہے یہ لوگوں کے خوابوں کو پورا کرنے کا راستہ ہموار کرے گا۔ اس سے صنعتی سیکٹر کو مضبوطی ملے گی اور خواتین کی شراکت بڑھے گی، مڈل کلاس کو ترقی ملے گی اور ملک میں ترقی کی رفتار بڑھے گی ۔ 5 برسوں میں مایوسی کی فضا سے باہر نکل چکے ہیں یہ نئے انڈیا کا عکاس ہے۔ یہ ملک کے نوجوانوں، کسانوں اور متوسط طبقے کی تمناؤں کو پورا کرنے والا بجٹ ہے۔

دوسری طرف اپوزیشن کانگریس نے بجٹ کو مایوس کن قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مہنگائی بڑھے گی۔ کانگریس کے سینئیر رہنما اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ’’عوام خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں، پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں راحت دینے کے بجائے انہیں مزید مہنگا کردیا گیا ہے۔ مڈل کلاس کو کوئی راحت نہیں دی گئی ، صرف سبز باغ دکھائے گئے ۔ بگڑتی معیشت کو درست کرنے کیلئے کوئی پہل نہیں کی گئی۔ یہ گویا نئی بوتل میں پرانی شراب ہے۔‘‘

 ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کی معیشت اس وقت سست روی کا شکار ہے اس میں نئی جان ڈالنے کیلئے نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہو گا اور اس کیلئے سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانا ہو گا جبکہ سرمایہ کاروں کو رعائتیں دینی ہوں گی۔

دفاعی بجٹ میں 8فیصد اضافہ ، 

تفصیلات سے گریز کیوں ؟

دفاع کیلئے 318931 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،یہ رقم گذشتہ بجٹ کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد زیادہ ہے ،دفاعی سروسز سے منسلک افراد کی پنشن کیلئے 112079 کروڑ روپے علیٰحدہ رکھے گئے ہیں۔وزیرِ خزانہ نے اپنی تقریر میں بجٹ کی بیشتر تفصیلات پیش نہیں کیں۔ایسا کیوں کیا گیا یہ سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے یا کچھ اور ؟ اس کے بارے میں تو وقت گزرنے کیساتھ ہی کچھ کہا جا سکے گا لیکن ایک بات کہی جا سکتی ہے کہ سب کچھ گول مول اور مبہم انداز میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ اعدادو شمار کچھ اور انکشاف کر رہے ہیں، حالات مندی کی طرف سفر کر رہے ہیں جبکہ مودی حکومت صرف ترقی نہیں بھرپور ترقی اور’’دنیا کی بڑی طاقت ‘‘ہونے کے دعوے کر رہی ہے ۔ کانگریس کے رہنما اور سابق وزیرِ خزانہ پی چدمبرم نے بجٹ کے بارے میں اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ’’ یہ پہلا ایسا بجٹ ہے جس کے بارے میں ہمیں تفصیلات کا پتانہیں۔مجھے نہیں پتا کہ دفاع کا بجٹ کیا ہے۔ وہ کم ہے یا گذشتہ سال سے زیادہ ۔ زرعی سیکٹر کیلئے کیا کیا گیا ، تعلیم کیلئے کتنی رقم مختص کی گئی، 5لاکھ کروڑ ڈالر کی معیشت بننے کیلئے کیا اقتصادی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے؟ اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ۔‘‘ 

2017ء میں مودی حکومت نے سالانہ بجٹ میںدفاعی اخراجات میں 10 فیصد سے زیادہ کا اضافہ کیا تھا جو حکومت کے مجموعی اخراجات کا تقریباً 13 فیصد بنتا تھا۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے پارلیمان میں بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھاکہ ’’حکومت نے دفاعی اخراجات کیلئے 2 لاکھ 74 ہزار کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ اس میں سے 68400 کروڑ روپے ساز و سامان خریدنے کیلئے ہیں۔‘‘یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ خطے میں دفاعی سازو سامان اور ہتھیار خریدنے میں انڈیا سب سے آگے ہے ۔مستقبل میں انڈیا کے دفاعی اخراجات میں مزیداضافے کا امکان ہے اور جلد ہی یہ 50 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گا۔ آئندہ برسوں میں فوج کیلئے بڑے پیمانے پر ہتھیار اور ساز و سامان خریدنے کا منصوبہ بھی ہے۔

 

وزارت برائے اقلیتی امور اور گنگا کی صفائی کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں 

 

مودی حکومت کی پالیسیوں کا رخ کس جانب ہے اسکا اندازہ ان دو باتوں سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزارت برائے اقلیتی امور اور’’ گنگا میا ‘‘ کی صفائی ا ور دیکھ بھال کیلئے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اُلٹا گنگا کے بجٹ میں کٹوتی کر دی گئی۔ مالی سال 19-2018ء میں بھی وزارت برائے اقلیتی امورکا بجٹ 4700 کروڑ روپے رکھا گیا تھا۔ اس سے پہلے مالی سال 18-2017 ء میں وزارت کیلئے 4197 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔مودی سرکار نے بجٹ میں وزارت برائے اقلیتی امورکے بجٹ میں کوئی اضافہ نہ کرتے ہوئے گذشتہ سال کی طرح اس بار بھی 4700 کروڑ روپے کا اہتمام کیا ہے۔ اس سے قبل سال 19-2018ء کے عام بجٹ میں وزارت کیلئے مختص بجٹ میں 505 کروڑ کا اضافہ کر 4700 کروڑ روپے مختص کیا گیا تھا۔غور طلب ہے کہ مالی سال 15-2014 ء میں وزارت برائے اقلیتی امور کو 3711 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا۔ مالی سال 16-2015 ء میں اس کو بڑھا کر 3713 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا۔

اور اب بات کریں گنگا کی تو مودی حکومت نے بجٹ میں گنگا صفائی سکیم کیلئے مختص کی جانے والی رقم میں کٹوتی کر دی ہے۔د ی ہندو کے مطابق ’’نیشنل گنگا پلان اینڈ گھاٹ ورکس ‘‘کیلئے حکومت نے 2019-20ء کے بجٹ میں 750 کروڑ روپے مختص کئے جبکہ گذشتہ برس کے بجٹ میں 2250 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔2018-19ء کیلئے ترمیم شدہ تخمینے کے مطابق گذشتہ سال حکومت صرف 750 کروڑ روپے خرچ کر پائی تھی۔ 2015ء میں نیشنل مشن فار کلین گنگا (این ایم سی جی) کے بعد جن 100 سیوریج انفراسٹرکچر پروجیکٹ کی تشکیل ہوئی تھی ان میں سے این ڈی اے حکومت صرف 10 پروجیکٹ پورے کر سکی۔ وہیں جو 10 پروجیکٹ پورے ہوئے وہ بھی گذشتہ حکومت کی مدت کار کے دوران شروع ہوئے تھے۔

این ایم جی سی کے تحت تشکیل دئیے گئے زیادہ تر پروجیکٹ اتر پردیش، بہار اور اتراکھنڈ کے سب سے آلودہ شہروں میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) اور سیور لائن بچھانے کے بارے میں تھے۔اس مشن کیلئے جاری ہونے والی رقم میں سے تقریباً 1200 کروڑ روپے ریور فرنٹ کی ترقی، گھاٹوں کی صفائی اور ندی سے کچرا ہٹانے کیلئے ہیں۔ مئی تک دستیاب تازہ اعداد و شمار کے مطابق مختلف پروجیکٹس کیلئے 28451 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی لیکن ان میں سے صرف 25 فیصدی رقم (6966 کروڑ روپے) ہی خرچ کی جا سکی۔ وہیں298 پروجیکٹس میںسے صرف 99 ہی پورے ہو سکے۔ریاست اور مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی نگرانی رپورٹس کے مطابق جن شہروں سے گنگا گزرتی ہے ان میں سے کسی میں بھی پانی نہانے اور پینے کے قابل نہیں ہے۔

 

کیا مہنگا ہوا اور کیا سستا

 

مودی حکومت کے دوسرے دور کے پہلے بجٹ مالی سال 20-2019 ء کے بجٹ کی خاص باتوں کا ذکر مختصراً کیا جائے تو پورے بجٹ پر اس طرح نظر دوڑائی جا سکتی ہے کہ 

٭: 2 کروڑ روپے سے 5 کروڑ اور 5 کروڑ اور اس سے اوپر سالانہ آمدنی والوں کیلئے اضافی محصول بالترتیب 3 فیصد اور 7 فیصد بڑھایا گیا۔

٭:5 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر ٹیکس میں چھوٹ۔

٭:45 لاکھ تک کا گھر خریدا ہے تو ہوم لون پر 1.50 لاکھ کے اضافی سود پر ٹیکس نہیں۔ سستے مکانوں کیلئے بینک قرض پر 3.5 لاکھ روپے تک کے سود پر ٹیکس کٹوتی کی چھوٹ کا اعلان ۔

٭: 400 کروڑ روپے تک کے سالانہ کاروبار والی کمپنیوں کا کارپوریٹ ٹیکس گھٹاکر 25 فیصد کر دیا گیا۔ پہلے یہ شرح 250 کروڑ روپے تک کے کاروبار والی کمپنیوں کیلئے تھی۔

٭:ڈائریکٹ ٹیکس ریونیو پچھلے 5 سال میں 78 فیصد بڑھ کر 11.37 لاکھ کروڑ روپے پر پہنچا۔

٭: پی وی سی، ٹائیلس، گاڑیوں کے کل۔پرزے، ماربل سلیب، آپٹکل فائبر کیبل، سی سی ٹی وی کیمرہ وغیرہ پر کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ۔

٭: درآمد شدہ کتابوں پر 5 فیصد بیسک کسٹم ڈیوٹی لگادی گئی۔

٭:پیٹرول اور ڈیزل پر ایک ایک روپے فی لیٹر سیس اور سڑک اور انفراسٹرکچر سیس لگایا گیا۔

٭: سالانہ 1.5 کروڑ روپے سے کم کا کاروبار کرنے والے تقریباً 3 کروڑ  تاجروں، چھوٹے دکانداروں کیلئے پنشن فائدہ۔

٭: الیکٹرک گاڑیوں کی خرید پر سود کی ادائیگی کے عوض 1.5 لاکھ روپے کے ایڈیشنل ٹیکس کی چھوٹ۔ 

٭: ٹرانسپورٹ کارڈ کے ذریعے کارڈ ہولڈر کو بس سفر، ٹول ٹیکس، پارکنگ فیس، خریداری کی اجازت ہوگی۔

٭: بجٹ میں وزیر اعظم سڑک سکیم،صنعتی کوریڈور، مال گاڑیوں کے الگ کوریڈور،  آبی راستے کی ترقی اورایئر پروجیکٹ کے ذریعے انفراسٹرکچر سہولیات کو مضبوط بنانے پر زور۔

٭: ریلوے میں 2030 ء تک بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کیلئے 50 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت۔

٭: فیم (فاسٹر ایڈاپٹشن اینڈ مینوفیکچررنگ آف الیکٹرک وہیکلز) کے دوسرے مرحلے کیلئے 3 سال میں 10000 کروڑ روپے کے خرچ کی منظوری۔

٭: کمپنیوں میں منیمم پبلک شیئر ہولڈنگ کی حد 25 فیصد سے بڑھاکر 35 فیصد کرنے پرتجویز۔

٭: بیمہ بازار میں ثالثی کا کام کرنے والوں کیلئے 100 فیصد ایف ڈی آئی۔

٭: حکومت سالانہ عالمی سرمایہ کار ی کے لییمیٹنگ کریگی۔

٭: این آر آئی پورٹ فولیو انویسٹمنٹ پلان روٹ کو غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں انضمام کی تجویز۔

٭: بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے کی تجاویز سے سونا، چاندی، سگریٹ اور ائیرکنڈیشن مہنگے ہوںگے۔ اس کے برعکس بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کے پرزے، کیمرہ ، موبائل فون کے چارجر اور سیٹ اپ باکس پر ٹیکس میں سہولت دی گئی ہے۔

 

مودی حکومت نے لوک سبھا الیکشن سے پہلے

 الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر4ہزار کروڑ خرچ کر ڈالے 

 ایک طرف انڈیا معاشی بدحالی اور بے روزگاری کے دور سے گزر رہا ہے ، غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ، کسان معاشی بد حالی کے باعث خود کشیوں پر مجبور ہیں جبکہ دوسری جانب مودی حکومت نے حال ہی میں ہوئے لوک سبھا انتخابات کیلئے ای وی ایم مشینوں کی خریداری پر 2018-19 ء میں تقریباً 4000 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کر ڈالی ۔ بھارتی نیوز ویب سائیٹ کے مطابق ای وی ایم کی خریداری پر گذشتہ سال 3902.17 کروڑ روپے خرچ کئے گئے جبکہ اس بار بجٹ میں لوک سبھا انتخابات کیلئے 1000 کروڑ روپے ،ریاستوں اور یونین ٹیریٹری ریاستوں کو عام انتخابات کے خرچ پر مودی حکومت کی طرف سے مدد کیلئے 339.54 کروڑ روپے تجویزکئے گئے ہیں۔پرانی اور بیکار ہو چکی ای وی ایم کو ضائع کرنے کیلئے بھی اس رقم کا استعمال کیا جا سکے گا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ 11 اپریل سے 19 مئی تک 7 مرحلوں میں ہوئے لوک سبھا الیکشن میں 10 لاکھ سے زیادہ ای وی ایم اور اتنی ہی پیپر ٹریل مشینوں کا استعمال کیا گیا۔

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:بھارتی معیشت ڈول رہی ہے ۔۔۔۔؟

...

مزید پڑھیں

شاعر نے شائد یہ مقبوضہ کشمیر کیلئے کہا ہو گا

...

مزید پڑھیں

٭:سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔۔۔نہ ہو

...

مزید پڑھیں