☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل صحت فیچر کیرئر پلاننگ رپورٹ ہم ہیں پاکستانی فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل خواتین متفرق روحانی مسائل ادب
تنازعات کی دلدل ’’ اور ٹرمپ کے سوال ‘‘

تنازعات کی دلدل ’’ اور ٹرمپ کے سوال ‘‘

تحریر : طیبہ بخاری

07-28-2019

٭:شاید دنیا ابھی انتہا پسندی کے مزاج سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ۔

٭:ہر ملک گلے شکوے کر رہا ہے کہ وہ انتہا پسندی ، نفرت اور تعصب پسندی کا شکار ہے ۔۔۔

٭:سب ’’شکار ‘‘ ہیں تو ’’شکاری ‘‘ کون ۔۔۔؟اور شکاری کیوں آزاد ہے ۔۔۔؟

٭:بھارت میں ’’جے شری رام ‘‘ کے نعرے مسلمانوں کی موت کا پیغام بن چکے ہیں ۔۔۔سر عام گلے کاٹے جا رہے ہیں اور کوئی ہاتھ روکنے والا نہیں ، مذمت کرنیوالا بھی نہیں ۔۔۔؟

٭:مقبوضہ کشمیر ، فلسطین ، یمن ، شام ، عراق سے آج بھی دھواں اٹھ رہا ہے ۔۔۔

 ٭:اور اب آگ پہنچ رہی ہے یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرف ۔۔۔۔

 ٭:نیوزی لینڈ کے بعد جرمنی میں شرپسندوں نے مسجدپہ حملہ کرنے کے دوران انسانی غلاظت پھیلائی ،بے حرمتی کے بعد نقصان پہنچایااور پھرمسجد میں موجود قرآن پاک کے نسخوں کو شہید کردیا۔۔۔۔۔

٭:ناروے میں مذہبی پیشوانجم الدین فرج عرف ملا کریکار گرفتار ، دہشتگردی کا منصوبے بنانے کے الزام میں گرفتار کیا : ناروے سیکیورٹی ایجنسی

٭:اطالوی عدالت میں مذہبی پیشوا کو شمالی عراق میں کرد حکومت کا تختہ پلٹ کر خلافت کے نفاذ کی کوشش کرنے کا جرم ثابت ہونے پر 12 سال قید کی سزا سنائی گئی۔اطالوی استغاثہ نے ناروے میں قیام پذیر کریکار پر الزام لگایا کہ کردستان میں پرتشدد طریقہ کار اپناتے ہوئے حکومت گرانے میں ملوث یورپی نیٹ ورک رہوتی شاخ سے منسلک ہے۔کریکار نے اٹلی جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ٹرائل کے بعد عراق بھیج دیا جائیگا۔عراقی کردستان کے پناہ گزین 1991 ء میں ناروے آئے تھے۔63 سالہ مذہبی پیشوا پر ناروے میں مختلف مقدمات میں فرد جرم عائد ہے جن میں وزیر اعظم ارنا سولبرگ کو دھمکانا بھی شامل ہے۔ 

 گفتگو کا دائرہ کارصرف امریکہ تک محدود کریں تو چند اہم سوالات۔۔۔عجیب سوالات۔۔۔ مشورے۔۔۔ اور بیانات آپ کے سامنے آئیں گے جن کے باعث آپ کو سمجھنے اور فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی کہ دنیا کیوں انتہا پسندانہ مزاج میں الجھی ہے ۔۔۔ سیاسی مفادات کس طرح دلدل کی شکل اختیار کرتے گئے اور کون کون اس دلدل کا شکار ہو رہے ہیں ۔۔۔۔ صدر ٹرمپ الجھن کا شکار تو ضرور ہوتے ہونگے جب دنیا بھر میں جاری مختلف تنازعات کا شکار ہونیوالے ان سے سوالات کرتے ہیں ، داد رسی طلب کرتے ہیں، اور جواب میں ’’لا علمی‘‘ ملتی ہے تو وہ ’’سپر پاور‘‘ کے بارے میں کیا سوچتے ہونگے ؟ ۔۔۔میڈیا پربھی ’’لاعلمی ‘‘ کے تذکرے چھپائے نہیں چھپتے مزیدنمایاں ہوتے ہیں۔۔۔پھر ان سولات کا کیا جواب ہے جو دنیا کے کروڑوں انسان پوچھتے ہیں کہ آخر جنگوں سے کیا حاصل ۔ ۔ ۔ ؟ جب مارنے والا بھی ’’لا علم‘‘ اورمرنے والا بھی’’ لا علم ‘‘۔۔۔۔۔

 ڈونلڈ ٹرمپ جب سے برسر اقتدار آئے ہیں اپنی غائب دماغی اور لاعلمی کے باعث تنقید کا نشانہ بنتے آئے ہیں ۔ مذہبی منافرت کے حوالے سے وہ نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر کے میڈیا میں زیر بحث رہتے ہیں اور اس حوالے سے ان کی شخصیت کے جو ذہنی خاکے تیار کئے جاتے ہیں وہ کچھ زیادہ خوش نما نہیں خود امریکہ میں انہیں کڑی تنقید کا سامنا رہتا ہے ۔ امریکی صدر کی تازہ ترین غائب دماغی اور لاعلمی گذشتہ دنوں عالمی میڈیا پر موضوع بحث بنی رہی ۔ ہوا کچھ یوں کہ مذہبی منافرت کے شکار افراد سے ملاقات کے دوران ٹرمپ عجیب و غریب سوالات کرتے رہے، نوبیل انعام یافتہ عراقی یزیدی خاتون نادیہ مراد سے بھی عجیب سوالات کئے ۔ نادیہ مراد نے ٹرمپ کو بتایا کہ انکی والدہ اور 6 بھائیوں کو داعش نے قتل کردیا تھا۔اس پر ٹرمپ نے استفسار کیا کہ اب یہ لوگ کہاں ہیں؟ نادیہ نے توقف کے بعد کہا وہ مار دیئے گئے۔پھرٹرمپ نے نادیہ سے پوچھا کہ آپ کو نوبیل انعام کیوں ملا؟۔۔۔۔ اس سے قبل مذہبی منافرت کے حوالے سے ٹرمپ خبروں کا حصہ نہیں بلکہ مرکز بنے رہے ، اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ شمالی کیرولائنا میںایک ریلی میں 90منٹ کی تقریر کے دوران انہوں نے پورا وقت ایک مرتبہ پھر ڈیموکریٹک جماعت کی 4 اقلیتی خواتین کو ’’غیر امریکی‘‘ کہہ کر تضحیک کا نشانہ بنایا ۔امریکی صدر کی جانب سے اقلیتی خواتین کیخلاف نسل پرستانہ جملوں کو انتخابی حکمت عملی تصور کیا جارہا ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق امریکی صدر کے نسل پرستانہ حملوں کا مقصد مخالف سیاسی جماعت ڈیموکریٹس کو انتہا پسندوں کی صفوں میں کھڑا کرنا ہے۔مختصراً تقریر کا خاکہ کھینچا جائے تو امریکی صدر کے الفاظ یہ تھے کہ’’ میری ایک رائے ہے ان نفرت سے بھرے لوگوں کیلئے جو ہمارے ملک کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تمہارے پاس اچھا کہنے کیلئے کچھ نہیں ہے اس لیے میں کہتا ہوں کہ اگر ہماری پالیسی انہیں پسند نہیں تو ہمیں ان کو چھوڑ دینا چاہیے، چھوڑ دو انہیں، چھوڑ دو انہیں۔ اگر امیگریشن اور اسرائیل کے دفاع سے متعلق پالیسی پسند نہیں تو وہ ملک چھوڑ کر جا سکتی ہیں۔کانگریس خواتین کے بیانات خطرناک اور انتہا پسندی کے بڑھاوے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔‘‘

صدر ٹرمپ نے اپنی حکومت کی نفرت آمیز پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنانے پر کانگریس کی نو منتخب مسلم خواتین سمیت 4 تارکین وطن خواتین اراکین کو امریکہ چھوڑ کر واپس اپنے وطن جا بسنے کا مشورہ دیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صدر ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں منتخب ہو کر کانگریس کا حصہ بننے والی 4 تارکین وطن خواتین اراکین کو حکومت پر تنقید کرنے پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر ڈالیں۔ صدر نے چاروں اراکین اسمبلی کا نام لیے بغیر کہا کہ’’ انہیں امریکہ میں طرز حکومت پر تنقید کرنے کے بجائے پہلے اپنے ممالک واپس جانا چاہیئے جو جرائم اور کرپشن کی آماجگاہ ہیں، پہلے اپنے ملک میں ’’گڈ گورنس‘‘ کی مثال قائم کریں پھر کسی دوسرے پر تنقید کریں۔ اب ناکام ریاستوں سے تعلق رکھنے والے دنیا کی سب سے عظیم اور طاقتور قوم امریکہ کو بتائیں گے کہ گڈ گورننس کیسے کی جاتی ہے؟ ذرا یہ اراکین اپنے ملک جائیں اور وہاں یہ سبق سکھائیں۔ مجھے یقین ہے کہ سپیکر نینسی پلوسی ان چاروں تارکین وطن خواتین کی واپسی کیلئے سفری انتظامات کرائیں گی تاکہ یہ خواتین اپنے ملک کیلئے بھی کچھ کام کرسکیں اور پھر آکر ہمیں بتائیں کہ کیسے حکومت کی جاتی ہے ۔‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ نفرت آمیز بیانات اور تنقید بھری گفتگو کیلئے شہرت رکھتے ہیںانہوں نے ان چاروں خواتین اراکین کے نام تو نہیں لیے تاہم ان کا واضح اشارہ الہان عمر، راشدہ طالب، الیگزینڈرا اور آیانا پریسلی کی جانب تھا جن کی ابتدائی حیثیت پناہ گزین اور بعد ازاں امریکی شہریت تھی۔الہان عمر سمیت دیگر خواتین اراکین نے صدر ٹرمپ کے بیان کو ’ ’نسل پرستانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’ امریکی صدر اپنے طرز حکومت پر نظر ثانی کرنے کے بجائے دھمکیوں پر اتر آئے ہیں جن سے ان کے قد میں اضافہ نہیں ہوگا اور رہی سہی عزت بھی جاتی رہے گی۔‘‘

اب آپ کو ان خواتین اراکین کا تعارف کرواتے ہیں جنہیں ٹرمپ واپسی کے ’’مشورے ‘‘ دے رہے ہیں ۔ امریکہ میں گذشتہ برس 2018ء ہونیوالے وسط مدتی انتخابات میں پہلی مرتبہ 3 مسلمان خواتین نے معرکہ جیتا تھا۔وسط مدتی انتخابات میں جہاں صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کو ایوان نمائندگان میں شدید دھچکا پہنچا وہیں حیرت انگیز طور پر 3 تارکین وطن مسلمان خواتین نے فتح اپنے نام کی تھی۔منتخب ہونے والی مسلمان خواتین میں صومالی پناہ گزین خاندان کی بیٹی الہان عمر، فلسطینی تارکین وطن والدین کی بیٹی رشیدہ طالب اور 1997ء میں طالبان کی قید سے فرار ہونے والے خاندان کی چشم و چراغ صفیہ وزیر شامل ہیں۔

صفیہ وزیر:نیو ہمشائیر سے منتخب ہونیوالی 27 سالہ صفیہ وزیر نے اپنے خاندان کے ہمراہ 1997ء میں ازبکستان میں پناہ لی تھی جہاں سے یہ خاندان امریکہ منتقل ہو گیا ۔ اُس وقت صفیہ 6 سال کی تھیں اور اب 2بچوں کی ماں ہیں۔ شدت پسندوں کے جبر سے متاثر خاندان کی اپنی بیٹی کی انتخابات میں کامیابی پر خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ۔

الہان عمر :37 سالہ سماجی کارکن الہان عمر کا خاندان 1991 ء میں صومالیہ میں خانہ جنگی کے باعث کینیا کے پناہ گزین کیمپ میں رہنے پر مجبور ہوا اور 4 سال کیمپوں میں گزارنے کے بعد یہ خاندان امریکہ پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ بچپن میں ہی والدہ کے انتقال کرجانے کے بعد الہان عمر کی پرورش ان کے والد اور دادی نے کی۔ الہان عمر منیسوٹا سے منتخب ہوئیں۔

رشیدہ طالب:مشی گن سے منتخب ہونیوالی 42 سالہ رشید ہ طالب کا تعلق فلسطینی تارکین وطن خاندان سے ہے۔ مالی حالات خراب ہونے کے باعث رشیدہ نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش میں والدین کا ہاتھ بٹایا اور تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھا۔ وہ اس سے قبل 2009 ء میں بھی منتخب ہوچکی ہیں۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ صدرٹرمپ کے دورِ صدارت میں سکارف پہننے والی مسلمان خواتین پر حملوں میں اضافہ ہوا اور نفرت آمیز پالیسی کے باعث تارکین وطن کیلئے امریکیوں میں نفرت پیدا ہوئی تاہم وسط مدتی انتخابات میں امریکیوں نے ٹرمپ کی نفرت آمیز پالیسیوں کو مسترد کیا۔یہ اعزاز بھی امریکہ کو ہی حاصل ہے کہ ایک طرف صدر نفرت آمیز پالیسی کے تحت آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان میں صدر کیخلاف مذمتی قرار داد بھی منظور کی جاتی ہے۔یہ نہ صرف حیران کن امر ہے بلکہ انتہائی قابل تعریف بھی ہے شاید اسی کو جمہوریت کہتے ہیں ۔ مذمتی قرار داد کے بارے میں آپ کو بتائیں تو گذشتہ دنوںصدر ٹرمپ کے 4 خواتین تارکین وطن اراکین پارلیمینٹ کو واپس اپنے ملک جانے کا طعنہ دینے پر امریکی ایوان نمائندگان میں مذمتی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔ ایوان زیریں اور سینیٹ کے مشترکہ ایوان میں صدر ٹرمپ کیخلاف نسل پرستانہ بیان پر مذمتی قرارداد ڈیموکریٹک رکن جان لیوئس نے پیش کی جو 1960ء میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے ساتھ شہری حقوق کی جدوجہد میں شامل تھے۔جان لیوئس کی صدر ٹرمپ کیخلاف پیش کی گئی مذمتی قرارداد کو کثرت رائے کے ساتھ منظور کر لیا گیا جس کیلئے 240 کے ایوان میں سے 187 اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جن میں ڈیموکریٹ کے تمام ارکان کے علاوہ ٹرمپ کی جماعت کے 4 اراکین اور ایک آزاد رکن بھی شامل ہیں۔قرارداد میں کہا گیا کہ’’ صدر ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جس کے باعث امریکہ میں مقیم مختلف رنگ اور نسل کے لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔‘‘ ٹرمپ کے ان چاروں خواتین کو امریکہ سے چلے جانے کی بات کرنے پر برطانوی وزیراعظم ٹریسامے بھی بول پڑیں اور اس بیان کو مکمل طور پر ناقابل قبول کہتے ہوئے مسترد کردیا۔ امریکی سپیکر نینسی پلوسی جن کی ان خواتین سے بعض معاملات پر نوک جھونک بھی ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے’’ غیر ملکیوں سے نفرت ‘‘پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ’’ امریکہ کی متنوع سوسائٹی اور اتحاد ہی اُسکی اصل طاقت ہے۔‘‘

دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ جمہوری اور سیکولر سٹیٹ ہونے کے دعویدار ممالک اور انکے سربراہان اپنی پالیسیوں اور سوچ میں بھی جمہوریت کو شامل رکھیں ،جمہوریت کا لبادہ اوڑھے آمرانہ سوچ سے اب تک دنیا میں امن کو نقصان اور جنگ کا سامان ہی ملا ہے ۔ تنازعات کی دلدل سے باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ بچا ہے کہ نفرت اور تعصب کی بجائے اچھی بات کہی جائے۔

نسل پرستانہ بیانات کیوں؟

 

صدر ٹرمپ کئی بار نسل پرستانہ بیانات دے چکے ہیں، صدر اوباما کیخلاف بیان دیا کہ وہ امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے، وسطیٰ امریکہ کے لوگوں کو جرائم پیشہ اور ریپ کرنے والا قرار دیتے رہے ۔ 2018ء میں وائٹ ہائوس کی ایک میٹنگ میں افریقی ممالک کی اقوام کو Shitholeقرار دیا تھا۔ جس پر نہ صرف ڈیمو کریٹ بلکہ خود ان کی ری پبلکن پارٹی کے افراد نے بھی کڑی تنقید کی تھی۔ 1973ء میں امریکی محکمہ انصاف ٹرمپ اور ان کے والد کو عدالت میں لے گیا اور ان پر الزامات لگائے کہ وہ افریقی نژاد کرایہ داروں کیخلاف متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں۔ 1975ء میں مجرم قرار دیئے جانے سے قبل ہی انہوں نے عدالت کے باہر مقدمے کو طے کرلیا لیکن1978ء میں محکمہ انصاف ان کو دوبارہ عدالت میں لے گیا کہ انہوں نے کالے کرایہ داروں کے متعلق نہایت چالاکی سے ایک مخصوص طریقہ اختیار کیا ہوا ہے۔ اگرچہ وہ جو منہ میں آئے کہہ دیتے ہیں لیکن زیادہ تر ان کا مقصد صرف اپنے انتہائی دائیں بازو کے افراد کو خوش کرنا ہوتا ہے، جن کی حمایت سے وہ الیکشن لڑتے ہیں ۔

 دنیا بھر سے مبصرین ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیانات کو کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوالات کر رہے ہیں کہ ’’ٹرمپ یہ بھول گئے کہ بشمول ان کے تمام سفید فام بھی امیگرنٹس ہیں، اصل امریکن تو وہ تھے جن کو جانوروں کی طرح گولیوں سے بھون کر ان کی نسل کشی کی گئی تھی، صدر ٹرمپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ نیو یارک میںدریائے ہڈسن کے کنارے جو مجسمہ آزادی نصب ہے، اس کے تاج پر 7 کونے دنیا کے 7 براعظوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور پوری دنیا سے امریکہ آنیوالوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس کے ہاتھ میں پکڑی شمع پوری دنیا کیلئے آزادی کا نشان ہے۔ صدر ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ مجسمہ آزادی کو بھی وہاں سے ہٹا دیں۔‘‘

 ٹرمپ صدارتی آداب کی بھی قطعاً کوئی پروا ہ نہیں کرتے، دورہ برطانیہ کے دوران انہوں نے لندن کے میئر صادق خان کیخلاف بیان بازی شروع کردی تھی، سرکاری دعوت میں سیکرٹری داخلہ ساجد جاوید کو مدعو نہ کیا جس پر بھی سوالات اٹھتے رہے، برطانوی سفیر کو ’’سٹوپڈ‘‘ کہہ ڈالا۔ اسلام اور مسلمانوں کیخلاف ہرزہ سرائی اور اسرائیل کی بے جا حمایت شاید انکی عادت ہے۔ 2016ء کی انتخابی مہم کے دوران ہی ان کی مسلم دشمنی سامنے آگئی، وہ دہشتگردی کو صرف مسلمانوں اور اسلام سے منسوب کرتے ہیں۔ برسراقتدار آتے ہی انہوں نے 7 مسلم ممالک کیلئے ویزوں پر پابندی عائد کردی تھی، برطانیہ کی یورپ سے دوستی پسند نہیں اور یورپی یونین کے اتحاد کو امریکہ کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ 

امریکی صدر پاکستان میں حافظ سعید کی گرفتاری پر بھی اپنی ’’ نفرت آمیز‘‘ سوچ نہیں چھپا سکے ، حافظ سعید کی گرفتاری پر پاکستان کے کردار کی تعریف کرنے کے بجائے اپنی روایت کو برقرار کرتے ہوئے انہوں نے طنز کے تیر چلائے اور میں نہ مانو کی رٹ برقرار رکھی ۔ ٹویٹر پر لکھا ’’ 10 برس کی تلاش بسیار کے بعد آخر کار ممبئی حملے کے نام نہاد ماسٹر مائنڈ کو پاکستان میں گرفتار کرلیا گیا ، 2 برسوں سے گرفتاری کیلئے دبائو ڈالا جا رہا تھا۔‘‘ صدر ٹرمپ نے اپنی متنازع ٹویٹ میں کسی کا نام نہیں لیا تاہم انکا واضح اشارہ کس کی جانب تھا سب کو معلوم ہو گیا لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں خطے میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کا کردار ، قربانیاںاور کاوشیں کیوں نظر نہیں آتیں۔ 

 

ایران ،ترکی سے’’ نفسیاتی جنگ‘‘ اور ’’جیسے کو تیسا‘‘ 

کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے ایران سے’’ نفسیاتی جنگ‘‘ چھیڑ رکھی ہے دوسری جانب برطانیہ اور ایران میں بھی آبنائے ہرمز سے تیل بردار ٹینکر قبضے میں لینے پر کشیدگی جنم لے چکی ہے ،برطانوی وزیرِ خارجہ جیرمی ہنٹ نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ تیل بردار بحری جہاز چھوڑ دے اس غیر قانونی اقدام سے بین الاقوامی شپنگ کی سیکیورٹی کے بارے میں ’’سنجیدہ سوالات‘‘ پیدا ہو گئے ہیں۔۔اپنے ایرانی ہم منصب سے فون پر بات کرنے کے بعد مسٹر ہنٹ کا کہنا ہے کہ’’ ایران اپنے اس اقدام کو ’’جیسے کو تیسا‘‘ کے طور پر دیکھ رہا ہے سچ کے آگے کچھ نہیں ہو سکتا ۔‘‘

ایران کا مؤقف سمجھنے کیلئے وزیر خارجہ جواد ظریف کے ایک ٹوئیٹر پیغام کا مطالعہ کافی ہے کہ ’’برطانیہ امریکہ کی معاشی دہشتگردی کے منصوبے کا حصہ بننے سے باز رہے۔ ایران ہی وہ ملک ہے جو گلف اور آبنائے ہرمز کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے ۔ آبنائے جبرالٹر میں ہونے والی چوریوں کے برخلاف خلیج فارس میں ہماری ترجیح بین الاقوامی بحری قوانین کی عملداری ہے۔‘‘ ایران نے یہ اقدام ایک ایسے وقت پر کیا جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔اس سے قبل صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی ڈرون مار گرایا لیکن ایرانی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ۔ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شیخراچی نے بیان جاری کیا کہ’’ امریکی صدر کے مبالغہ آمیز دعوے کے برعکس خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں موجود تمام ایرانی ڈرون نگرانی کے مشن مکمل کرنے کے بعد بحفاظت اپنے اڈوں پر واپس آئے اور یو ایس ایس باکسر سے مڈ بھیڑ کی کوئی رپورٹ نہیں ۔امریکی صدر کی جانب سے اس قسم کے بے بنیاد اعلانات کا مقصد اشتعال انگیزی اور خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے علاقے کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔‘‘

 ایران فضائی حدود کی خلاف ورزی پر امریکہ کا بغیر پائلٹ ڈرون گرا چکا ہے جس پر امریکی صدر نے ٹویٹ کی تھی کہ ’’ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔‘‘ایران نے اس پر تنبیہ کی کہ امریکہ ہر قسم کی جارحیت سے باز رہے ۔یہاں ہم آپ کو دونوں ملکوں میں کشیدگی میں اضافے کی وجہ بتاتے چلیں کہ صدر ٹرمپ نے ایران اور 6 عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو رکوانے کیلئے بین الاقوامی معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیٰحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔اس معاہدے پر 2015ء میں اقوامِ متحدہ سمیت امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے دستخط کیے تھے۔معاہدے میں طے پایا تھا کہ ایران اپنے جوہری منصوبے کو کم تر درجے تک لے جائیگا اور صرف 3فیصد یورینیم افزودہ کر سکے گا۔تاہم امریکی صدر کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیٰحدہ ہونے اور پابندیوں کی بحالی کے اعلان کے جواب میں ایران نے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا تھا۔ یہ یورینیم جوہری بجلی گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔امریکہ گذشتہ ماہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو پہنچنے والے نقصان کا الزام ایران پر عائد کرتا ہے جبکہ ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

مئی میں روس میںوزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے حوالے سے کہا تھاکہ امریکہ ایران کیساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران’’ ایک نارمل ملک‘‘ کی طرح برتاؤ کرے۔ واضح طور پر بتا دیا ہے کہ امریکی مفادات پر حملہ ہوا تو ہم یقینی طور پر اسکا جواب دیں گے۔‘‘ایک طرف ٹرمپ اور انکی ٹیم کے ایران بارے خدشات ہیں دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے شواہد نہیں ملے وہیں ٹرمپ انتظامیہ کی امیدوں کے باوجود اس بات کے امکانات کم ہیں کہ شمالی کوریا اپنے تمام جوہری ہتھیار تلف کر دیگا۔’’ورلڈ وائیڈ تھریٹ اسیسمنٹ‘‘رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین اور روس کی جانب سے سائبر حملوں کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں اور یہ دونوں ممالک 2020 ء کے امریکی انتخابات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب کابل میں افغانستان کی سیکورٹی صورتحال سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام بیرونی سمجھوتوں کے بجائے اپنی سرزمین پر امن چاہتے ہیں۔ افغان عوام کے نزدیک امن کا مطلب جنگ کا خاتمہ، خود مختاری اور ایک باوقار زندگی کا آغاز ہے۔ افغانستان میں قیامِ امن کیلئے جاری کوششوں میں ایران کو بھی شامل کیا جانا چاہئے اورکسی بھی تصادم کی صورت میں امریکہ کو ایران کیخلاف افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

اسلحے کی دوڑ کسی کے حق میں نہیں

 

 

2 ماہ قبل امریکی صدر سعودی عرب کو اربوں ڈالرز مالیت کے اسلحے کی فروخت کی اجازت دینے کی بات کہی تھی انہوں نے اسکی وجہ ایران سے بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا تھا۔ایسی فروخت کو عموماً کانگریس کی منظوری چاہیے ہوتی ہے لیکن صدر ٹرمپ.1 8 ارب ڈالرز کے معاہدے کی منظوری کیلئے وفاقی قانون کے ایسے پہلو کا استعمال کرنے جا رہے ہیں جسے کم ہی کام میں لایا جاتا ہے اور اس کی مدد سے منظوری کے عمل میں کانگریس کا کردار نہیں رہتا۔انہوں نے یہ اقدام ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے کیا تھا۔اس فیصلے کی وجہ سے ان حلقوں میں کافی غصہ پایا جا رہا ہے جن کو یہ خدشہ ہے کہ یہ اسلحہ عام شہریوں پر استعمال ہو سکتا ہے۔بعض ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین صدر ٹرمپ پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ کانگریس میں یہ معاہدہ اس لیے نہیں لے کر جا رہے کیونکہ وہاں شدید مخالفت ہوتی۔یہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ یہ ہتھیار اردن اور متحدہ عرب امارات کو بھی فروخت کیے جائیں گے ۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسلحہ فروخت کے فیصلے کے متعلق کانگریس انتظامیہ کو بذریعہ خط مطلع کیاجس میں لکھا کہ ’’ایران کی باطن سرگرمیوں‘ ‘کیلئے ہتھیاروں کی فوری فروخت ضروری ہے۔ایران کی سرگرمیاں مشرق وسطیٰ کے استحکام اور امریکی دفاع کیلئے خطرہ ہیں۔ ایران کے مشرق وسطیٰ اور خلیج میں مزید رجحانات کو روکنے کیلئے جلد از جلد ہتھیاروں منتقلی کرنی ہو گی۔لیکن اس اقدام نے جلد ہی اپوزیشن کو متحرک کر دیا۔ سفارتی تعلقات کی کمیٹی کے رکن اور ڈیموکریٹک سینیٹر روبرٹ مینینڈیز نے صدر ٹرمپ پر الزام لگایا کہ’’ وہ آمر حکومتوں کی حمایت حاصل کر رہے ہیں۔وہ ایک بار پھر ہمارے طویل المدتی قومی دفاعی مفادات کو ترجیح دینے یا انسانی حقوق کیلئے کھڑے ہونے میں ناکام ہوئے ہیں ۔ مستقبل قریب میں خطے میں مزید 1500 فوجی، جنگی فضائی جہاز اور ڈرونز تعینات کیے جائیں گے۔‘‘ان تمام خدشات اور تاثرات کو سامنے رکھتے ہوئے امریکی کانگریس نے سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کیخلاف قرارداد منظور کرلی ، اس سے قبل امریکی سینیٹ بھی قرارداد منظور کرچکی ہے۔جبکہ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کانگریس کی سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کیخلاف قرارداد کو ویٹو کردیں گے۔

دوسری جانب امریکہ نے ترکی کو ایف 35 جنگی طیارے کے پروگرام سے ’’آئوٹ‘‘ کردیا ہے۔ایسا اس لئے کیا گیاکہ امریکہ نے ترکی کو روس سے فضائی دفاعی نظام نہ خریدنے کا کہا تھا لیکن ترکی نے امریکی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے روس سے ایس 400 فضائی دفاعی نظام حاصل کرلیا ۔ اس دفاعی نظام کی پہلی کھیپ بھی انقرہ پہنچ چکی ہے۔ اس پرامریکہ نے شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ترکی کو جدید ترین امریکی اسٹیلتھ لڑاکا طیارے ایف 35 کے پروگرام سے باہر کردیا۔ پنٹاگون نے اعلان کیا کہ ترک حکومت کی جانب سے روسی سسٹم کی خریداری نیٹو کے ساتھ وعدے کی خلاف ورزی ہے، روس سے میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے پر ترکی نیٹو کے میزائل پروگرام کا حصہ نہیں رہ سکتا۔ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق واشنگٹن نے ترکی کو امریکی ایئر ڈیفنس سسٹم بیچنے کی کئی بار پیشکش کی تھی جسے ترکی نے قبول نہیں کیا۔ دوسری جانب ترکی نے امریکی اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ ایک ماہ قبل جون میں بھی روس سے میزائل خریداری پر امریکہ بہت برہم ہوا تھا اور اس نے ترک پائلٹس کو ملک بدر کر دیا تھا ۔عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ اور ترکی کے درمیان تنازع شدت اختیار کرچکا ہے۔ ترکی امریکی دھمکیوں کے باوجود روس سے جدید میزائل سسٹم کی خریداری پر قائم ہے ۔ 

اب کون سا ملک کس ملک کے مفادات پر حملہ کر رہا ہے ، ناراضی اور خوشی کے پیمانے کیا ہیں ؟اس کا فیصلہ عالمی برادری کو کرنا ہو گا کیونکہ ہر وقت جنگ نما حالات ہی کروڑوں انسانوں کا مقدر نہیں ہو سکتے اور ایران کے فیصلے ’’جیسے کو تیسا ‘‘ کی پالیسی پر عمل نے زور پکڑا تو دنیا میں انسان اور انسانیت شائد ہی خوشحال نظر آئیں ۔ 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:بھارتی معیشت ڈول رہی ہے ۔۔۔۔؟

...

مزید پڑھیں

شاعر نے شائد یہ مقبوضہ کشمیر کیلئے کہا ہو گا

...

مزید پڑھیں

٭:سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔۔۔نہ ہو

...

مزید پڑھیں