☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل انٹرویوز عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا خصوصی رپورٹ کھیل کیرئر پلاننگ ادب
یوم سیاہ سے یوم تشکر تک’’ لفظوں کی گولہ باری ‘‘ سخت لائحہ عمل کب تک۔۔؟

یوم سیاہ سے یوم تشکر تک’’ لفظوں کی گولہ باری ‘‘ سخت لائحہ عمل کب تک۔۔؟

تحریر : طیبہ بخاری

08-04-2019

ہرمعاشرے کے کچھ مخصوص رسم ورواج ہوتے ہیں، آج ہم آپ کو سویڈن میں ایک ایسے رواج کے بارے میں بتائیں گے کہ وہاں رات 10 بجتے ہی زوردار چیخ کیوں ماری جاتی ہے؟ یہ عجیب وغریب رواج سویڈش شہر اپسالا کے ایک مقام فلوگسٹا میں پایا جاتا ہے جہاں رات کے 10 بجتے ہی سب لوگ زوردار انداز میں چیختے ہیں۔مقام کی مناسبت سے چیخنے کا یہ انداز ’’فلوگسٹا سکریم ‘‘ کہلاتا ہے۔لوگ رات 10 بجے اپنے اپنے گھروں کی کھڑکیاں کھولتے ہیں اور زوردار انداز میں چیخ مارتے ہیں۔یہ چیخ گذشتہ 40 سے ماری جا رہی ہے جس کے پیچھے چھپی وجہ انتہائی معنی خیز ہے۔

کہا جاتا ہے کہ 1970ء سے اس طرح چیخنے کا آغاز دراصل اپسالا کی لیونڈ یونیورسٹی کے چند طلباء کی جانب سے کیا گیا تھا جو ڈپریشن کم کرنے کیلئے ایسا کرتے تھے۔آہستہ آہستہ یہ سلسلہ اپساالا کے مقام فلوگسٹا کی روایت بن گیاجو 2006ء تک تو باقاعدگی سے جاری رہا پھر اس میں خلل آگیا۔ اب اس روایت کو پھر سے دہرایا جارہا ہے روزانہ رات کے 10 بجتے ہی طلباء سمیت دیگر افراد کھڑکیوں سے اپنا سر باہر نکال کر چیختے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کرنے سے ذہنی تناؤ کیساتھ ساتھ تھکن بھی دور ہوتی ہے۔۔۔۔۔ قرضوں ،ٹیکسوں اور کرپشن کے بوجھ تلے دبے پاکستان کے عوام اِن دنوںشدید ذہنی تنائو کا شکار ہو چکے ہیں ، اپنا ڈپریشن دور کرنا چاہتے ہیںا ور اگر عوام نے سویڈش شہر اپسالا کی طرح کسی ایک وقت میں چیخنا شروع کر دیا تو شائد وطن عزیز میں کوئی سو نہ سکے ،اُن تمام ہستیوں کی نیند یں حرام ہو جائیں جو عوام پر بوجھ کم کرنے کی بجائے بڑھاتی جا رہی ہیں۔

 

خلقِ خدا کی گھات میں رند و فقیہ و میر و پیر

تیرے جہاں میں ہے وہی گردشِ صبح و شام ابھی

٭:2018ء کے انتخابات میں عوام نے گردشِ صبح و شام سے باہر نکلنے کیلئے ووٹ کی طاقت سے بڑے بڑے طاقتوروں اور ناموروں کو گھر بھیج دیا ۔۔۔ 

٭:ایوانوں میں چہرے بدلے ،نہیں بدلے تو عوام کے حالات ۔۔

٭:اُلٹا گردشوں میں ہوا اضافہ۔۔۔جھیلنی پڑ رہی ہے’’ لفظوں کی گولہ باری‘‘ جو ایک سال ہو چکا تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔۔

٭:مہنگائی ، بے روزگاری ، بد امنی ، ٹیکسوں کی بھرمار ، صحت و تعلیم کی بُری حالت، بجلی و پانی کی کمی جیسے مسائل کی ’’گھات ‘‘ سجی ہے بے چارے مفلوک الحال عوام ان میں سے کسی ایک کا روزہو رہے ہیں’’ شکار‘‘ ۔۔۔اور تعداد ہے بے شمار ۔۔۔

٭:متوسط طبقہ مسائل سے ہار مان کر غربت کی لکیر کیساتھ جا لگا ۔۔۔

 ٭:اب دو ہی طبقے زندگی کی دوڑ میں شامل ہیں امیر اور غریب ۔۔۔

ناجانے کن گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں غریب۔۔۔ اور کب تک بھگتیں گے ؟ اور کب ملے گا سچا مسیحا ۔۔۔؟

امیر شہر نے الزام دھر دیئے ورنہ

غریب شہر کچھ اتنا گناہگار نہ تھا

٭:سلیکٹیڈیا الیکٹیڈ ، اہل یا نا اہل ، احتساب یا انتقامی کارروائی۔ ؟ ہو رہا ہے ملک میں ’’تماشا ‘‘۔۔۔اور کوئی نہیں ذمے دار ۔۔۔؟

٭: اہلِ سیاست کی مصروفیات عوام کیلئے’’روٹی ، کپڑا ، مکان ‘‘ سے زیادہ ’’احتساب ‘‘تک محدود۔۔۔اور احتساب ’’تنقید ‘‘ تک محدود 

٭:ایک دوسرے پر الزامات اورسیاسی گلے شکووں کی بھرمار ۔۔اور عوام کنفیوژ ،بیزار۔۔لاچار۔۔مزدور روز روٹی کیلئے ہو رہا ہے خوار ۔۔

٭:بحث برائے بحث میں اُلجھے، مسائل کی گردشوں میں گِھرے روز کرتے ہیں بے بسی کا اظہار ۔۔۔

٭:اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ حکومت خیالی پلاؤ بنارہی اور بیچ رہی ہے،اپوزیشن کی کردار کشی کی جارہی ہے، حکومتی اقدامات سے لاکھوں لوگ بیروزگار ہورہے ہیں۔اب فیصلہ کن جدوجہد کا وقت آگیا ہے۔۔۔

٭:حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک کو قرضوں سے نجات دلائے گی ، آئین کی حکمرانی پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ،جو عوامی حقوق سلب کریگا ہم اس سے لڑیں گے۔۔۔

25جولائی کو اپوزیشن جماعتوں نے یوم سیاہ منایا اور حکومت نے یوم تشکر ۔۔۔عوام دونوں کو ہاتھ اٹھائے دیکھ رہے ہیں نتیجے اور خوشحالی کے منتظر ہیں ۔۔۔یوم سیاہ کے نتیجے میں حکومت مخالف احتجاج اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر مسلم لیگ( ن)، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی( ف) کے قائدین سمیت درجنوں افراد کیخلاف مقدمہ درج ہوئے جن میںمیں قمر زمان کائرہ ، شہباز شریف سمیت 58 رہنما اور1900 نامعلوم افراد شامل ہیں ۔ ۔ اپوزیشن نے مل کر یوم سیاہ منایا اور مولانا فضل الرحمن نے کوئٹہ میں ملین مارچ کیا اور اکتوبر کو اسلام آباد کا رُخ کرنے کا اعلان کیا ۔۔۔۔ خوشبیر سنگھ شاد کا ایک شعر یہاں منظر کشی کیلئے بیان کیا جا سکتا ہے کہ

ہم اہلِ شہر کی خواہش کہ مِل جُل کر رہیں لیکن

امیرِ شہر کی دلچسپیاں کچھ اور کہتی ہیں

’’امیرِ شہر‘‘ کی دلچسپیوں کا ذکر کریں تو حکومت نے اپوزیشن کیخلاف سخت لائحہ عمل اپنانے کا فیصلہ کرلیا ہے، حکومتی ترجمانوں سے خطاب میں وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر عزم دہرایا کہ احتساب کا عمل بلاتفریق جاری رہیگا، اپوزیشن کو پرامن ریلیاں کرنے دی جائیں، ریلیوں سے پتہ چلے گا کہ اپوزیشن کے پاس سٹریٹ پاور نہیں۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ اپوزیشن کو احتجاج پر سخت جواب دیا جائیگا ۔ وزیر اعظم نے حکومتی ترجمانوں کو ’’اہم ہدایات‘‘ جاری کر دیں کہ حکومت کا مثبت چہرہ عوام کے سامنے لائیں، کرپشن کیسز میں سزا یافتہ افراد قوم کو گمراہ کر رہے ہیں یہ لوگ ٹی وی پر آ کر خود کو’’ سیاسی شہید ‘‘بنا رہے ہیں، ہم معاشی بحران سے نکل آئے ہیںاشیائے ضرورت کی چیزوں میں ہر ممکن ریلیف دے رہے ہیں۔اس سے قبل وزیراعظم نے واشنگٹن میں جلسے سے اپنے’’ سخت لائحہ عمل‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھاکہ’’ نوازشریف کہتے ہیں ایئرکنڈیشنڈ لگا دو، اب جیل میں ٹی وی چاہیے، واپس جا کر یہ سہولتیں ختم کروں گا، آصف زرداری آپ کو بھی جیل میں اے سی اور ٹی وی کے بغیر رکھیں گے، خاقان عباسی بار بار تقریر کررہے تھے غلط کیا تو جیل میں ڈال دو، اب جیل میں ڈال دیا ہے۔‘‘وزیر اعظم کی اس تقریر پرملک میں اپوزیشن نے بہت شور مچایا ، آصف زرداری نے بھی اپنا ردعمل دیا، احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سابق صدر نے کہا ’’ سہولتیں کون سی ہیں جو ہم سے لیں گے ؟ ‘‘ صحافی نے سوال کیا ، ٹی وی اور اے سی اور دیگر سہولتیں ؟ آصف زرداری بولے’’ ٹی وی ہے نہیں‘‘ صحافی نے پھرسوال پوچھا ’’اور اے سی وغیرہ ؟‘‘ جس پر آصف زرداری نے کہا ’’ اس کو بولو ہم پہلے ہی بیرکوں میں رہنے کے عادی ہیں۔‘‘مسلم لیگ( ن ) کے مطابق ’’عوام ٹی وی دیکھ رہے ہیں جن کا ٹی وی آپ چھین نہیں سکتے جو دیکھ رہے ہیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ جسے روٹی میسر نہیں ، جس نوجوان کے پاس روزگار نہیں وہ وزیر اعظم کو این آر او نہیں دے گا۔‘‘

 صوبہ سندھ میں احتسابی عمل کی بات کریں تو احتساب عدالت اسلام آباد نے پارک لین کیس میں سابق صدر آصف زرداری سمیت 17 ملزمان کو 19 اگست کو طلب کرلیا ہے۔سابق صدر جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب کی حراست میں ہیں، احتساب عدالت نے کیس سماعت کیلئے مقرر کرتے ہوئے سابق صدر سمیت دیگر 19 ملزمان کو بھی طلبی کے نوٹس جاری کئے ہیںجن میں حسین لوائی، عبدالغنی مجید اور یونس قدوائی شامل ہیں۔مزید برآںسندھ ہائیکورٹ نے سرکاری اراضی کی غیرقانونی الاٹمنٹ کیس میں پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔نیب نے مصطفی کمال کیخلاف ریفرنس دائر کیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے ساحل سمندر پر ساڑھے 5 ہزار مربع گز زمین غیرقانونی طور پر الاٹ کی۔مصطفی کمال نے اس ریفرنس میں گرفتاری سے بچنے کیلئے سندھ ہائیکورٹ میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کردی جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ احتساب عدالت نے مجھے نوٹس جاری کیا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ نیب کورٹ نے صرف نوٹس جاری کیے ہیں تو پھر ضمانت کیوں چاہتے ہیں۔ مصطفی کمال کے وکیل نے کہا کہ نیب نے انہیں ملزم نامزد کیا ہے جس کی بنیاد پر انہیں کبھی بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ نیب کو گرفتاری سے روکا جائے۔مصطفی کمال نے عدالت کو بتایا کہ وہ احتساب عدالت میں پیش ہوکر الزامات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔سماعت کے بعد سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ یہ ایسا الزام ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں۔ الزام ثابت ہوجائے پھانسی پر لٹکنے کیلئے تیار ہوں۔ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے چیئرمین نیب کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگرغیرقانونی الاٹمنٹ کا معاملہ ہوا تو بغیر کیس چلائے سزا دیدیں۔ ریفرنس کے ٹائٹل پرلکھا ہے غیر قانونی الاٹمنٹ، پورے کیس میں الاٹمنٹ کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ 

پنجاب میں احتسابی عمل کی بات کریں تو وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) پیر اعجاز احمد شاہ کیمطابق’’ نواز شریف نے عوام کے پیسے 28 کروڑ روپے سے جاتی امراکی چار دیواری تعمیر کروائی وہ یہ پیسے واپس کریں ورنہ چار دیواری گرا دیں گے ۔نواز شریف نے 2013ء تا 2017ء تک 92 غیر ملکی دوروں پر ایک ارب 83کروڑ 50لاکھ روپے خرچ کیے جبکہ آصف علی زرداری نے 134دوروں پر ملکی خزانے سے 1ایک 42کروڑ 15لاکھ روپے خرچ کیے ۔ لوٹی گئی ایک ایک پائی واپس لیکر قومی خزانے میں جمع کر ائیں گے۔‘‘

پنجاب کے سابق خادم اعلیٰ کا ذکر کریں تو شہباز شریف نے زلزلہ زدگان کیلئے برطانوی امداد میں خورد برد کے الزام پر برطانوی اخبار ’’ میل آن سنڈے ‘‘ کیخلاف معروف قانونی فرم ’’ کارٹررک ‘‘ کی خدمات حاصل کی ہیں۔برطانوی اخبار نے ایک تحقیقاتی خبرمیں الزام عائد کیا تھا کہ 2005 ء کے زلزلے کے بعد برطانیہ نے پاکستان کو امدادی رقوم دی جس میں شہباز شریف نے کرپشن کی۔ شہباز شریف اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے جبکہ مرکز میں پرویز مشرف کی حکومت تھی۔اخبار نے الزام عائد کیا کہ شہباز شریف نے بیوروکریٹ نوید اکرم کے ذریعے امدادی رقم میں کرپشن کرکے واپس وہی رقم غیرقانونی ذرائع سے برطانیہ منتقل کرکے اثاثے بنائے۔ نوید اکرم اس وقت زیر تفتیش ہیں۔خبر کی اشاعت کے فوری بعد شہباز شریف نے اخبار کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا تھا اور اس حوالے سے ان کی لیگل ٹیم لندن گئی تھی۔شہباز شریف کا کہنا ہے کہ الزامات میں سچائی ہوتی تو مجھے گرفتارکرکے مقدمہ چلایا جاتاخبرسیاسی بنیادوں پر چھپوائی گئی۔برطانوی اخبارنے اپنے تحقیقات کاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف کا خاندان برطانیہ میں منی لانڈرنگ میں ملوث رہا ہے، انکے دور میں برطانوی حکومت نے پنجاب کیلئے 500 ملین پاؤنڈ امداد فراہم کی۔ برطانوی ڈیپارٹمنٹ فارانٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کی جانب سے بھی مبینہ منی لانڈرنگ پراظہار تشویش کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق برطانوی ادارے نے بتایا کہ فنڈز فراہم کرتے وقت جانتے تھے کہ پاکستان میں کرپشن بہت زیادہ ہے، اس کے باوجود پاکستان کو دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ فنڈز فراہم کئے گئے اور سالانہ 463 ملین پاؤنڈ کی رقم بطور فنڈ دی گئی۔ برطانوی حکومت نے خبر کی تردید کردی مگر برطانوی پارلیمینٹ میں اپوزیشن رکن نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ شہبازشریف نے میرے اور وزیر اعظم کیخلاف خلاف عدالتوں میں کارروائی کا دعویٰ کیا تھاانہوں نے عدالت نہیں بلکہ اخبار ڈیلی میل کو شکایت کر دی،شہباز شریف نے لندن عدالت میں کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا، مجھے مقدمے میں نامزد کریں عدالت جا کر اُن کی کرپشن بے نقاب کرونگا۔ ڈکیتی نوید اکرام نے کی اور رقم شہباز شریف کے داماد علی عمران کو دی،علی عمران کو فرار کرا دیا جو بڑا چور تھا۔ کرپشن کی بات کریں تو کہتے ہیں کہ سی پیک خطرے میں آ چکا ہے،26ملین ڈالر کی ٹی ٹیز کا اہم کردار آفتاب لاہور جیل میں ہے۔معاون خصوصی برائے احتساب کا مزید کہنا تھا کہ یقین ہے کہ ہماری قیادت کرپشن کیسز سے پیچھے نہیں ہٹے گی، سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار ملک سے مفرور اور واپس آنے کو تیار نہیں، نوازشریف کے بیٹے حسین نواز اور حسن نواز بھی مفرور ہیں، ان سب کی جائیدادیں نیلام اور ضبط ہوں گی۔

علاوہ ازیں آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں نیب نے پنجاب میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کیخلاف اہم شواہد حاصل کرنیکا دعویٰ کیا ہے۔ نیب کے مطابق حمزہ شہباز نے ایف بی آر میں غلط اعداد و شمار پیش کئے، ایف بی آر اور بینک اکاؤنٹس کے ریکارڈ میں تضاد ہے۔نیب نے حمزہ شہباز کا 12 سال کا ریکارڈ حاصل کرنے کا بھی دعویٰ کیا ۔ 2006ء سے 2017ء تک کے اثاثوں میں خرد برد کی گئی۔ نئی دستاویزات کی روشنی میں حمزہ شہباز کیخلاف منی لانڈرنگ کی چھان بین آگے بڑھائی جائے گی۔حمزہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب کی تحویل میں ہیں۔لاہور کی احتساب عدالت میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت کے آغاز پر نیب کے وکیل نے کہا کہ 2 کروڑ روپے کے سال 2004 ء سے ٹیکس ریٹرن نہیں ملے جبکہ 2 بے نامی کمپنیاں بھی سامنے آئی ہیں، کمپنیوں کی 5 ارب روپے کی ٹرانزکشز ہوئی ہیں ڈائریکٹر کو طلب کیا تو ریکارڈ دینے کا وعدہ کیا لیکن کچھ نہیں دیا۔ نیب کے تفتیشی افسر نے حمزہ شہباز کی فنانشل اسٹیٹ منٹس پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کی فنانشل اسٹیٹ منٹس کا اس کے بینک اکائونٹس سے موازنہ کیا ہے، 16 ملین روپے والدہ کے اکائونٹس میں منتقل کیے، حالانکہ یہ رقم کیش ادا کی گئی۔

معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے، شہباز شریف اور ان کے کا خاندان کو چاہیئے کہ اقبال جرم کرکے کرپشن سے توبہ کرلیں، توبہ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، لیگی ترجمان جھوٹ کو تحفظ دینے کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔ زلزلہ متاثرین کیلئے8 کروڑ روپے کا چیک شہباز شریف کے داماد علی عمران کے اکاؤنٹ میں جمع ہوا، جرم کا اعتراف ایرا کے افسر اکرام نوید نے نیب سے پلی بارگین میں کیا۔لیگی ترجمان کب تک چوری، کرپشن اور منی لانڈرنگ کا دفاع کریں گے، شہباز شریف اور ان کے بیٹوں کے کالے دھن کی فہرست اتنی طویل ہے کہ دفاع کرتے کرتے ترجمانوں کے ہاتھ کھڑے ہو جائیں گے۔

مزید برآںلاہور کی ضلعی انتظامیہ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا گھر تحویل میں لے لیا۔ آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کی جائیداد تحویل میں لینے کا حکم دیا تھا۔لاہور کے علاقے گلبرگ تھری میں واقع رہائش گاہ 4 کنال 17 مرلے پر مشتمل ہے۔

یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے سابقہ حکمرانوں کے نجی اخراجات انہی سے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور میں48 بیرون ملک دورے کیے جن کا دورانیہ 92 دن بنتا ہے ان دوروں کے دوران وفود کے ارکان کی تعداد 2067ہے جبکہ ان پر اٹھنے والے اخراجات 571.6 ملین روپے ہیں۔ ان اخراجات میں ٹپ کی مد میں 10.5ملین، ٹی اے ڈی اے 29.8 ملین، گفٹ12.2 ملین،کھانوں پر31.6ملین، ہوٹل کے اخراجات190.5ملین، متفرق اخراجات 101.1 ملین ، گرائونڈ ہینڈلنگ 58.6ملین، ٹرانسپورٹ 93ملین اور ہوائی جہاز کی ٹکٹوں پر 44.1ملین روپے خرچ کیے گئے۔یوسف رضا گیلانی کے9 دورے نجی یا ٹرانزٹ نوعیت کے تھے۔راجہ پرویز اشرف نے کل 9 دورے کیے جنکا دورانیہ 18دن، ارکان کی تعداد 398 افراد اور کل 106.9ملین روپے خرچ ہوئے۔سابق صدر ممنون حسین نے 31بیرون ملک دورے کیے جن کا دورانیہ 115دن، وفود کی تعداد 745افراد اور 278.2ملین روپے کے اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے گئے۔ گذشتہ 10 برسوں میں حکمرانوں نے کل333بیرون ملک دورے کیے، ان کا دورانیہ 794 دن، وفود میںشامل افراد کی تعداد 9003جبکہ 4.47339 ارب روپے خرچ ہوئے۔کابینہ نے فیصلہ کیا کہ مستقبل میں حکمرانوں کے نجی دوروں اور بیرون ملک علاج معالجہ کی مد میں اٹھنے والے اخراجات وہ خود برداشت کریں گے۔ سابقہ حکمرانوں کے دور میں مختلف وزارتوں میں بننے والے آڈٹ پیرا جات اور انکے جوابات کادوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ سال2012 ء سے 2018ء تک کم و بیش 50 پروازوں کو ذاتی مقاصدکیلئے استعمال کیا گیا اور مختلف مقامات کی طرف موڑا گیا21 اندرون ملک پروازوں کو سکھر کی طرف موڑا گیا جس سے پی آئی اے کو خاطر خواہ نقصان (تقریباً 55لاکھ روپے) کا سامنا کرنا پڑا۔ کابینہ نے ای سی سی کے 17 جولائی 2019ء کے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ مندرجہ ذیل ریگولیٹری اداروں کو تا حکم ثانی کابینہ ڈویژن کے ماتحت کر دیا جائے تاکہ یہ ادارے بغیر کسی مداخلت اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے سکیں۔ ان اداروں میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، فریکیونسی ایلوکیشن بورڈ، اوگرا، نیپرا اور پیپرا شامل ہیں۔

 وفاقی حکومت نے قرضہ انکوائری کمیشن کا دائر ہ کار قرضوں سے بڑھا کر 2008ء سے 2018ء کے دوران سابق حکمرانوں کے دیگر غیر مجاز سرکاری اخراجات کی تحقیقات تک بڑھا دیا ہے۔ کمیشن کے اختیارات میں اضافہ کرتے ہوئے مزید ٹرمز آف ریفرنس کو شامل کر دیئے گئے ہیں جس کے تحت کمیشن اب 2008ء سے 2018ء کے دوران سابق سربراہان حکومت و سربراہان مملکت کے بیرون ملک دوروں ، سیکیورٹی ، کیمپ آفسز ، سرکاری جہازکے ناجائز استعمال اور ان کے خاندان کے افراد پر کیے جانیوالے سرکاری وسائل کے استعمال پر ہونیوالے غیر مجاز اخراجات کی تحقیقات بھی کریگا۔اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن کے پہلے سے جاری ٹرمز آف ریفرنس میں اضافہ کرتے ہوئے نئے ٹی اوآرز شامل کیے گئے ہیں ،حکومت نے رواں برس 21جون کو کمیشن تشکیل دیا تھا جس کو 2008ء سے 2018ء کے دوران لیے گئے سرکاری قرضوں اور ان کے استعمال کی تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی ، قرضہ انکوائری کمیشن کے چیئرمین ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر ہیں۔یہ جائزہ بھی لیا جائیگا کہ کسی مخصوص پروجیکٹ کیلئے جو قرضہ لیا گیا و ہ قرضہ اس پروجیکٹ پر خرچ ہوایا کسی اور منصوبے پر خرچ کیا گیا۔ کسی بھی سرکاری کنٹریکٹ کی شرائط کیا تھیں اور آیا کیا کسی شخص کو کک بیکس کی سہولت دی گئی اور اگراس سے کسی کو فائدہ پہنچایا گیا تو کس کو؟ کمیشن کو کم از کم 6 ماہ کے اندر رپورٹ تیار کرنے کا وقت دیا گیا ہے جبکہ ضرورت کے مطابق اس کی مدت میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

آخر میں صرف اتنا کہ سٹیٹ بینک کے مطابق ملک میں مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر38.7 کروڑ ڈالرز کمی سے 14.86 ارب ڈالرز رہ گئے۔دوسری جانب مرکزی بینک کے ذخائر7 ارب 61کروڑ ڈالرز رہ گئے ہیںاور کمرشل بینکوں کے ذخائر 30 لاکھ ڈالرز اضافے سے 7 اعشاریہ 25 ارب ڈالرز ہوگئے ہیں۔ان اعدادوشمار کو جاننے کے بعد عدم کایہ شعر کافی ہے کہ 

فقیہہ شہر یہ موقع نہیں تکرار و حجت کا

کہ مردانِ قلندرہر چہ باداباد رقصاں ہیں

سخت لائحہ عمل جب تک چاہیں جاری رکھیں لیکن معاشی بھنور سے باہر نکلنے کیلئے وصولیوں کا عمل کب شروع ہو گا اس کے بارے میں بھی ضرور بتایا جائے کیونکہ عوام کو انتظار ہے صرف اور صرف نتائج کا ۔۔۔خوشحالی کا ۔۔۔۔امن کا ۔۔۔انصاف کا 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:بھارتی معیشت ڈول رہی ہے ۔۔۔۔؟

...

مزید پڑھیں

شاعر نے شائد یہ مقبوضہ کشمیر کیلئے کہا ہو گا

...

مزید پڑھیں

٭:سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔۔۔نہ ہو

...

مزید پڑھیں