☰  
× صفحۂ اول (current) عید اسپیشل آزادی اسپیشل فیشن خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل متفرق ادب
ضمیر کی کہانی ،اہلِ سیاست کی زُبانی

ضمیر کی کہانی ،اہلِ سیاست کی زُبانی

تحریر : طیبہ بخاری

08-11-2019

کسی نے پوچھا ضمیر کب سے ہے ۔۔۔عمر کتنی ، مزاج کیسا ہے ۔ ؟

رفتار کتنی، گفتار کیسی ۔۔۔کیا دِکھتا ، چلتا ، بولتا بھی ہے ۔۔۔

مسکن کہاں پہ ہے اس کا ،کیاکسی کو ملتاہے ؟

 

اب جو جواب آیا ۔۔۔کیا خوب یہ بتایا 

ضمیر ہے خدا کی بستی میں ۔۔۔انسانیت کی ہستی میں 

ایمان اس کا مسکن ، رفتار اس کی دھڑکن 

انصاف اس کا بانی ، سچائی فراوانی

نظروں میں نگہبانی ۔۔۔نفرت نہ پشیمانی 

سنو ضمیر کی کہانی ۔۔۔اُس کرپٹ سسٹم کی زُبانی جس کا شکار سب سے زیادہ ضمیر ہو رہا ہے ۔۔۔ اس کہانی میں ۔۔۔ کہیں دھوکہ ہے ، کہیں سچ ،کہیں خوشی ہے ، کہیں غم۔۔۔کہیں ضمیر حاضر تو کہیں غائب ۔۔۔کہیں انمول ہے تو کہیں برائے فروخت ۔۔۔آج سیاسی میدانوں میں ضمیرکی تلاش شدت سے جاری ہے ، ناجانے ضمیر کہاں ہے ۔۔۔؟جاگا ہے یا سویا ۔۔۔؟لیکن ہر کوئی دعویدار ہے ضمیر کے مطابق بات کرنے کا ۔۔۔

محسن زیدی نے شاید انہی دعویداروں کے بار ے میں کہا تھا کہ 

کسی کو نوک سناں بھی ضمیر کی نہ چُبھی 

کسی کو ایک اشارہ ہی تازیانہ ہوا 

گفتگو کا دائرہ ماضی میں جھانکے بناء صرف موجودہ حالات تک محدود رکھیں تو گذشتہ چند دنوں سے اہلِ سیاست کی محافل میں ’’ضمیر ‘‘ خوب زیر بحث ہے بلکہ یوں کہئے کہ ضمیر کیساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اسے تشریح کی ضرورت نہیں ۔ اہلِ اقتدار اور حزب اختلاف ہر کوئی ضمیر کے مطابق سیاست کرنے اور عوامی نمائندگی کا حق ادا کرنے کا دعویدار ہے ہم کسی کی ترجمانی اور وکالت کئے بغیر کوشش کریں گے کہ دونوں کے ’’ضمیر ‘‘بیان کر دیں، اصل فیصلہ کرینگے عوام کہ کس نے ’’ضمیر ‘‘ کیساتھ کیا کیا ۔۔؟منتظر قائمی نے برسوں پہلے شائد آج کے حالات کے بارے میں کہا تھا کہ

اب کے گرانی ساری حدیں پار کر گئی 

سودے میں اب ضمیر بھی ہے جان و تن کے ساتھ 

’’ضمیر کی کہانی ‘‘ شروع ہوئی چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد کی تحاریک سے۔۔۔دونوں تحریکوں کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ، بہت کچھ بدل گیا۔۔۔ کامیابی و ناکامی کی اطراف بدل گئیں۔۔۔کئی روایات بدل گئیں ۔۔۔ پر چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نہیں بدلے وہی ہیں جو پہلے تھے ۔۔۔یکم اگست کوہوا کچھ یوں کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی‘صادق سنجرانی کیخلاف تحریک پیش کی گئی تو اپوزیشن کے 64 ارکان نے نشستوں پر کھڑے ہو کر تحریک کے حق میں رائے دی مگرخفیہ رائے شماری کے دوران تعداد 50رہ گئی۔تحریک کی کامیابی کیلئے 103 کے ایوان میں 53 ووٹوں کی ضرورت تھی تاہم تحریک عدم اعتماد کے حق میں 50 ووٹ ڈالے گئے جبکہ قرار داد کی مخالفت میں 45 ووٹ پڑے اور 5 ووٹ مسترد کر دیئے گئے۔ رائے شماری کے دوران صادق سنجرانی اور سینیٹر نجمہ حمید کو جاری کئے گئے بیلٹ پیپر منسوخ کر کے دوبارہ بیلٹ پیپرز جاری کئے گئے۔ صادق سنجرانی کو ووٹ ڈالنے کیلئے جو بیلٹ پیپر دیا گیا اس پر انکے نام کی بجائے چیئرمین سینیٹ لکھا ہوا تھا جس کی وجہ سے سیکریٹری سینیٹ نے بیلٹ پیپر منسوخ کر کے انہیں دوبارہ بیلٹ پیپر جاری کیا۔ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ صادق سنجرانی نے اپنے خلاف عدم اعتماد کی قرار دادپر رائے شماری کے دوران اپنے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ دیدیا پھر غلطی کا ادراک ہونے پر سیکرٹری سینیٹ سے دوسرا بیلٹ پیپر لیا ۔ چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک ناکام ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کیخلاف تحریک عدم اعتماد 21ووٹو ں سے ناکام ہوگئی۔ اپوزیشن نے ڈپٹی چیئرمین کیخلاف ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا،حکومت کو 32ووٹ ملے۔ 

 سینیٹ میں عدم اعتماد کی یہ تحاریک برسوں یاد رکھی جائیں گی کیونکہ ان کے نتائج کسی سنسنی خیز ون ڈے میچ کی طرح آئے ، 64 سینیٹرز عدم اعتماد کی حمایت میں ایوان میں کھڑے تھے ، اس وقت گیلری میں بیٹھے مہمان اور پورا ملک میڈیا کے ذریعے براہ راست نشریات دیکھ رہا تھا اور سمجھ رہاتھا کہ سنجرانی قصہ پارینہ بن جائیں گے ،مگرخفیہ رائے شماری میں آخری لمحات میں پانسہ پلٹ گیا،صادق سنجرانی نے شکست کے جبڑوں سے فتح چھین لی نامعلوم معجزے نے کام کردکھایا۔ وہ یقیناً شکر گزار رہیں گے ان 14 سینیٹرز کے جنہوں نے اپنے’’ضمیر ‘‘ کے مطابق فیصلہ کیا ۔۔۔۔ اچھا کیا یا بُرا بحث چل پڑی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے ۔۔۔ سینیٹ میں ہونے والی پروسیڈنگ بظاہربہت پُرسکون تھی لیکن بہت معنی خیز ۔۔۔ گیلری میں بیٹھے صحافی ، سفارتکار، سیاستدان اور وکلاء اور ٹی وی سکرینز پر بیٹھے عوام سب دیکھ رہے تھے کہ ’’ضمیر ‘‘ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔یہ تبصرے بھی ہوئے کہ ’’نئے پاکستان کا پہلا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوگیا‘‘ صادق سنجرانی نے اپنی فتح پر کہا کہ ’’ اللہ نے مجھ پر رحم کیا میں سابقہ جذبات کے ساتھ موجود ہوں ، یہ تو ہونا تھا جو آج ہوا‘‘۔ مسلم لیگ( ن)، پیپلز پارٹی کے سینیٹرزکا کہنا تھا کہ ’’ہارس ٹریڈنگ ہوئی ، ان لوگوں کے کو بے نقاب کریں گے جنہوں نے اپنا’’ ضمیر‘‘ بیچا،نئی حکمت عملی بنائیں گے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘ماہرین نے تجزیوں میں کہا کہ ’’(ن )لیگ کے 9 ، پی پی پی کے 3، اور جے یو آئی کے 2 سینیٹرز نے اپنی جماعتوں کیخلاف ووٹ دیا، تحریک پر بددلی سے کام ہوا،قانونی کارروائی نہیں ہوسکتی۔‘‘ان تجزیوں میں کس حد تک سچائی ہے ماہرین جانیں اور ’’ضمیر ‘‘ کے مطابق ووٹ دینے والے سینیٹرز ۔ ۔ 

ابوالحسنات حقی نے شاید ایسے ہی حالات بارے کہا تھا کہ 

ضمیر خاک کو اب زہر ہی لکھو یعنی 

علاج اس کا کف چارہ گر سے باہر ہے 

اہلِ اقتدار کی نظر میں ’’ضمیر ‘‘۔۔۔

اہلِ اقتدار کی نظر میں’’ضمیر ‘‘ کی تشریح یہ ہے کہ سینیٹ میںووٹنگ شفاف ہوئی کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی ۔ ۔کسی کا کوئی رول نہیں تھا ۔۔سینیٹ میں چاروں صوبوں کی نمائندگی ہے ۔۔سینیٹرز اپنی جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ووٹ ضمیر کے مطابق دیا ۔۔فیڈریشن کے حق میں رہنے والے سینیٹرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔۔ سینیٹرمیر حاصل بزنجو’’ را‘‘ کی زبان بول رہے ہیں ۔۔ یہ سوچی سمجھی سازش ہے۔۔اداروں کیخلاف بات کرنیوالوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے۔۔ایسے لوگوں پر غداری ایکٹ کے تحت مقدمہ ہونا چاہئے ۔۔ہارس ٹریڈنگ کے الزامات پر افسوس ہوا ۔ ۔اپوزیشن حکومت کیخلاف ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے میں ناکام ہو گئی ۔۔اپوزیشن ایک پیج پر نہیں ہے ۔ ۔ جمہوریت کے نام پر ملک کو کمزور کیا گیا ۔ ۔ عدم اعتماد کی تحریک وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ اور سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف لائی جاتی ہے ۔ ۔ چیئرمین سینیٹ کیخلاف اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک فیڈریشن کیخلاف تھی ۔۔

 تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے پر حکومتی ارکان اور حکومتی اتحاد میں شامل ارکان نے سینیٹ میں زوردار نعرے لگا کر اظہار یکجہتی کیااور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے مطابق عمران خان کا بیانیہ جیت گیا ‘اپوزیشن کی صفوں میں بغاوت ہوگئی سینیٹ نے قیدی کی کرپشن کا بیانیہ مسترد کردیا۔ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے والا یہ ٹولہ جو جیل سے بیٹھ کر اپنے کٹھ پتلی لیڈر شپ کی ڈوریاں ہلاکر ایسے افراد کو نامزد کرکے سینیٹ پر قابض ہونا چاہتا تھا جو پاکستان کی سلامتی پر حملہ آور رہے، ان کا تیر نشانے پر نہیں لگا واپس سینوں پر پیوست ہوگیا‘ہم ان کی شکست کے زخم پر مرہم رکھنے اور آگے بڑھنے کیلئے تیار ہیں ۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہم نے مولانا فضل الرحمن کو عزت دی لیکن ان کو راس نہیں آئی‘اب پاکستان بدل چکا ہے‘یہ ادارے کی فتح ہے‘اب اپوزیشن کو سنجیدہ ہو جانا چاہئے۔ سینیٹر فیصل جاوید کے مطابق اللہ کے شکر گزار ہیں جو فتح نصیب ہوئی، صادق سنجرانی کیخلاف کوئی بھی چارج شیٹ نہیں تھی‘جو مرضی ہو جائے عمران خان ان کو این آر او نہیں دیگا‘سینیٹرز نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا‘ چارٹر آف کرپشن کو شکست ہوئی ۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کے مطابق اپوزیشن کو منہ کی کھانی پڑی ۔گورنر پنجاب چودھری سرورنے کہا اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا اپوزیشن کو پیغام مل چکا ہے‘ان کے احتجاج کا انجام بھی وہی ہوگا جو تحریک عدم اعتماد کا ہوا ۔ پرویز خٹک نے صحافی کے سوال پر حیرانگی کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ یہ ہارس ٹریڈنگ کیا ہوتی ہے؟۔ ۔ ۔ پھر وزیر اعظم عمران خان سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ملاقات کی ۔وزیر اعظم نے چیئرمین سینیٹ کو ایوان کا اعتماد حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ چیئرمین سینیٹ پہلے کی طرح اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرتے رہیں گے۔

یہ تو تھا اہل اقتدار کا ’’ضمیر ‘‘ کے بارے میں مؤقف ۔۔۔ضمیر کے بارے میں شاعر اصغر مہدی ہوش نے کیا خوب کہا تھا کہ

جو اس ضمیر کے ماہرین میں ہے 

وہ آدمی بھی سنا ہے مورخین میں ہے 

بڑھا رہا ہے مری سمت دوستی کا ہاتھ 

ضرور بات کوئی اس کی آستین میں ہے 

زمانہ بیت گیا شہر دشمنی چھوڑے 

مرا شمار ابھی تک مہاجرین میں ہے 

وہ مجھ سے کہتا ہے پھولوں سے احتیاط کرو

مرا وہ دوست بھی میرے منافقین میں ہے 

میں آسمان کی باتوں سے خوش نہیں ہوتا 

مرے خمیر کی مٹی اسی زمین میں ہے

ہرن سا وحشی محبت کا درس دیتا ہے 

یہ واقعہ کتاب سبکتگین میں ہے

حزب اختلاف کی نظر میں ’’ ــضمیر ‘‘

اور اب چلتے ہیں حزب اختلاف کی طرف ۔۔۔دیکھتے ہیں کہ انہوں نے ایوان ِ بالا میں تحاریک عدم اعتماد اور ’’ضمیر ‘‘ کو کس نظر سے دیکھا اور بیان کیا ۔۔۔ لیکن ابتداء میں اپوزیشن کی نذر سائل دہلوی کا یہ شعر 

ضمیر اس کا ڈبو دے گا اسے اب خجالت میں 

وفاداری کی تہمت غیر پر کیوں بدگماں رکھ دی 

اپوزیشن کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد میں واضح اکثریت کے باوجود شکست اٹھانی پڑی۔ جس وقت حزب اختلاف اپنی شکست پر ماتم کر رہی تھی اسی وقت حکمران اتحاد خوشی منا رہا تھا۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹرمیر حاصل بزنجو جو حزب اختلاف کے امیدوار تھے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہہ ڈالا’’ یہ ان سب کی ہار ہے جو جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، خواہ وہ حکومتی اراکین ہوں یا اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھنے والے۔بے مثل ہارس ٹریڈنگ آپکی اور ہماری جان نہیں چھوڑے گی۔‘‘بزنجو صاحب نے الیکٹرانک میڈیا پر متنازعہ بیان بھی داغ دیا پھر انکی طبیعت ناساز ہو گئی جسکے بعد ان کا کراچی کے نجی ہسپتال میں طبی معائنہ کیا گیا ۔ خاندانی ذرائع کے مطابق بزنجو کینسر سے جنگ لڑ رہے ہیں۔۔۔ متنازع بیان بارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ’’ قومی ادارے کے سربراہ سے متعلق حاصل بزنجو کے الزامات بے بنیاد ہیں،معمولی سیاسی فائدے کیلئے جمہوری عمل کو بدنام کرنے کا رجحان جمہوریت کی خدمت نہیں۔‘‘تجزیہ کاروں کے مطابق ’’ اپوزیشن نہ پہلے اکٹھی تھی نہ آئندہ اکٹھی ہوگی،جو کچھ ہوا اس نے اپوزیشن کی طاقت کو اجاگر کیا ،بظاہر دیکھا جائے تو حکومت نے اپوزیشن کو ٹیکنیکل طو رپر ناک آئوٹ کردیا۔ جہاں تک اپوزیشن کی اکثریت ہے وہ قانون سازی روکے گی۔اب ہونا یہ ہے کہ حکومت کا اعتماد بڑھ جائے گا۔ اگر دبائو اور ہارس ٹریڈنگ نہیں ہے تو اس کا مطلب اپوزیشن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔‘‘

 عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی کے بعد بلاول بھٹو زرداری، شہباز شریف، میر حاصل بزنجو سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔شہباز شریف کا کہنا تھا ’’ ضمیر فروشوں نے جمہوریت کو کمزور کیا، ضمیر فروش 14 سینیٹر کون تھے قوم کو بتائیں گے، ہارس ٹریڈنگ کو پوری طرح بے نقاب کریں گے، آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں۔‘‘چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ہی منتخب کردہ چیئرمین سینیٹ کو’’ سلیکٹڈ‘‘ قرار دیدیا، کہتے ہیں اخلاقی طور پر چیئرمین سینیٹ کو استعفیٰ دیدینا چاہئے تھا ۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹرز نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا اور اپنے استعفے پارٹی چیئرمین کو بھیج دئیے تاہم کسی سینیٹر نے استعفیٰ سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع نہیں کرایا۔ پیپلز پارٹی نے دغا دینے والے ارکان کا سراغ لگانے کا فیصلہ بھی کیا ہے ،بلاول بھٹوزرداری نے حقائق کی کھوج کیلئے (فیکٹ فائنڈنگ) کمیٹی بنادی ۔ کمیٹی میں یوسف رضا گیلانی ، فرحت اللہ بابر،نیر بخاری، سعید غنی اور صابر بلوچ کو شامل کیا گیاہے، کمیٹی جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

مسلم لیگ( ن) کے سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک کے مطابق اپوزیشن کو اخلاقاً تمام ہائوسز سے مستعفی ہوجانا چاہئے۔۔ سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کے مطابق ایوان بالا میں 22فیصد اراکین نے اپنا ضمیر بیچ دیااس سے زیادہ شرمساری اور نہیں ہو سکتی ، پاکستان سے محبت کا دم بھرنے والا کوئی پاکستانی ایسا مکروہ فعل نہیں کر سکتا۔ یکم اگست سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، یونین کونسل میں بھی ایسی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوتی جیسی سینیٹ الیکشن میں ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ ان پر کس نے دبائو ڈالا؟ کس نے لالچ دیا؟ کس نے خرید و فروخت کی؟ ہمیں بحیثیت قوم ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہے۔( ن) لیگ نے نوٹس لیا ہے ہمارے کتنے لوگوں نے ضمیر بیچا تہہ تک جائیں گے، رانا مقبول کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ 14 سینیٹرز نے میر صادق اور میر جعفر کا کردار ادا کیا، اپوزیشن جماعتیں مل کر سینیٹ انتخابات کے قوانین میں ترمیم لائیں گی، شو آف ہینڈ کے ذریعے الیکشن کا طریقہ چنا جائے گا۔ (ن) لیگ اپنے مؤقف کے ساتھ عوام کا مقدمہ لڑے گی، ایسے شب خون کو ہم بے نقاب بھی کریں گے اور مقابلہ بھی کریں گے۔

یہ تو تھا حزب اختلاف کا ’’ضمیر ‘‘ اور ’’ضمیر فروشی ‘‘ کے بارے میں مؤقف ۔۔۔رزمی صدیقی جن کا عرصہ حیات 1898ء سے1960ء تک ہے ضمیر کے بارے میں کہتے ہیں کہ 

ذرا سی مشق کرے بے ضمیر بن جائے 

تو کیا عجب ہے کہ انساں وزیر بن جائے 

جو کام چور ہوں بچے کرائے پر لے لے 

انہیں صدائیں سکھا لے فقیر بن جائے 

جوان رند جو ہوں روزگار سے محروم 

مرید مجمع کرے اور پیر بن جائے 

سنا ہے سائنسدانوں نے زندگی کیلئے موزوں سیارہ ’’سُپر ارتھ ‘‘ دریافت کر لیا ہے ۔۔۔اس دریافت سے ایک سوال ذہن میں جنم لیتا ہے کہ کیا وہاں’’ ضمیر ‘‘ ہے ۔۔۔؟ اور اگر ہے تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ بھوک ، افلاس ، بے روزگاری اور نا انصافی سے تنگ عوام کو اس کرپٹ سسٹم والی دنیا کامتبادل مل گیا ۔۔۔ 

 

ضمیر فروشی کی تاریخ بہت پرانی 

 سیاسی دنیا میں ضمیر فروشی کی تاریخ بہت پرانی ہے پاکستان میں اس کی تاریخ بہت طویل ہے جسکا ذکر پھر کبھی ۔ فی الحال چند کہانیوں کا مختصراً ذکر کیا جائے تو ضمیر فروشی نے صرف وطن عزیز میں سیاست کو نقصان نہیں پہنچایا اس کی مثالیں ہمارے ہمسایہ ملک بھارت اور ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں بھی ملتی ہیں ۔ ترقی پذیر ممالک میں تو ضمیر فروشی (ہارس ٹریڈنگ )کا مرض عام ہے۔انگریزی لغت کے مطابق اس کے معنی کسی سمجھوتے پر پہنچنے کیلئے لوگوں کے درمیان بے ایمانی اختیار کرنا ہے لیکن مختلف ملکوں میں اسے مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ، کہیں برا تو کہیں اچھا سمجھا جاتا ہے ۔ اسے سیاسی جوڑ توڑ یا سیاسی ہیرا پھیری بھی کہا جاتا ہے اکثر مغربی ممالک میں یہ اصطلاح غیراخلاقی سیاسی حربوں کے معنی میں بھی لی جاتی ہے۔ ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے حکومتوں کو استحکام یا عدم استحکام کا شکار کیا جاتا ہے۔ منتخب ایوانوں میں قانون سازی کے مواقع پر رائے شماری کے موقع پر بھی ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے۔ سابق امریکی صدر تھیوڈور روز ویلٹ 1904ء کے صدارتی انتخاب کے موقع پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات پر خاموش رہے تاہم صدر منتخب ہونے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ’’ سیاست میں بعض اوقات آپ کو وہ کچھ کرنا پڑتا ہے جسے معمول کی زندگی میں کرنے کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ ‘‘امریکہ میں ہارس ٹریڈنگ1790ء میں پہلی بار سامنے آئی جب تھامس جیفرسن، جیمز میڈیسن اور جنرل جارج واشنگٹن کے معاون الیگزینڈر ہیملٹن کے درمیان معاہدہ طے پایا۔ ایک اور امریکی صدر بل کلنٹن پر الزام ہے کہ انہوں نے شمالی امریکی فری ٹریڈ معاہدے پر اندرون ایوان حمایت حاصل کرنے کیلئے ہارس ٹریڈنگ کی تھی۔ سابق صدر لنڈن بی جانسن پر بھی سیاسی سودے بازی کا الزام لگا۔ بھارت میں جب 1967ء میں 175 ارکان پارلیمینٹ نے فلور کراسنگ کی تو کمیونسٹ پارٹی نے وزیراعظم اندرا گاندھی پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگایا۔ 1985ء میں اینٹی ڈیفکشن بل پارلیمینٹ میں پیش کیا گیا اس وقت وزیراعظم راجیو گاندھی نے اسے عوامی زندگی میں صفائی کی جانب پہلا قدم قرار دیا جبکہ وزیراعظم وی پی سنگھ نے 1997ء میں کہا تھا کہ مذکورہ بل اپنا مقصد پورا نہ کر سکا۔ یہ چھوٹی جماعتوں کو توڑنے میںمددگار ثابت ہوا۔ برطانیہ میں بھی چند سال قبل ہارس ٹریڈنگ کی گونج سنائی دی جب وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون پر پارلیمانی میعاد سے متعلق ایکٹ ختم کرنے پر دبائو بڑھا۔۔ میکسیکو میں بھی سیاسی اصلاحات کیلئے 1980ء کی دہائی کے اواخر میں انسٹی ٹیوشنل ریولیوشنری پارٹی اور نیشنل ایکشن پارٹی کے درمیان سیاسی سودے بازی ہوئی۔ افغانستان کے بارے میں کہا گیا کہ سودے بازی افغان سیاست کا حصہ ہے جہاں عمائدین اور قبائلی سرداروں کو ووٹ کیلئے قائل کرنے پر راضی کیا جاتا ہے۔عوام سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ان مختصر اعدادو شمار سے صاف ظاہر ہے کہ’’ ضمیر ‘‘ کو کہاں کہاں اور کیسے کیسے اپنے اپنے مقاصد کیلئے خریدا اورفروخت کیا جاتا ہے اور کسی کو ملال بھی نہیں ۔ 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

٭:’’آزادی ‘‘کے نام پہ دھرنا بھی ۔۔۔جلسہ بھی۔۔۔ مارچ بھی ۔۔۔ کنٹینر بھی ۔۔۔تقریریں بھی ۔۔۔دھمکیاں بھی۔۔

...

مزید پڑھیں

ہمارا خون کا رشتہ ہے سرحدوں کا نہیں

ہمارے خون میں گنگا بھی چناب بھی ہے مزید پڑھیں

٭:کیوں ایک اور دھرنا ۔۔۔کیوں ایک اور مارچ ۔۔۔؟

٭:یہ بھی طے نہیں کہ دھرنا ہو گا ، مارچ ہو گا یا جلسہ ۔۔۔ہو گا بھی یا نہیں ۔۔۔؟

...

مزید پڑھیں