☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) تجزیہ(ابوصباحت(کراچی)) کچن کی دنیا() دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) قومی منظر(محمد سمیع گوہر) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) زراعت(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) کھیل(عابد حسین) متفرق(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) فیشن(طیبہ بخاری )
بڑی طاقتوں کو زوال کیسے آیا

بڑی طاقتوں کو زوال کیسے آیا

تحریر : ابوصباحت(کراچی)

05-10-2020

 چھٹی صدی عیسوی کے دوران یورپ میں پھیلنے والی ’’سیاہ موت‘‘ (طاعون) سے 1918 ء کے ’’اسپینش فلو‘‘ تک کے معاملات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ بڑی طاقتوں کی سرکشی اور آپس کی کشمکش نے وباؤں کو پھلنے پُھولنے کا موقع دیا

 

 ہر دور میں چند ریاستیں اِتنی مضبوط رہی ہیں کہ باقی دنیا کو ایک خاص حد تک، بلکہ نمایاں حد تک زیرِ تصرّف رکھیں۔ یہ انتظام کچھ کچھ قدرت کی طرف سے بھی ہے۔ اگر تمام ریاستیں یکساں طاقت کی حامل ہوں تو دنیا کو ڈھنگ سے چلانا شاید ممکن یا آسان نہ رہے۔ قدرت نے ہر دور میں چند ریاستوں کو اِتنی طاقت بخشی کہ وہ دنیا کا نظام ڈھنگ سے چلائیں، خرابیوں کو روکیں اور اچھائیوں کو راستہ دیں۔ جو ریاستیں انصاف کی راہ پر گامزن رہتی ہیں اُن کی طاقت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور وہ دنیا کی امامت کی حق دار ٹھہرتی ہیں۔ جب یہ ریاستیں غیر معمولی طاقت سے ہمکنار ہوکر اقتدار و اختیار کی بدمستی میں انصاف کا دامن چھوڑ دیتی ہیں تب قدرت کی طرف سے اِن پر تازیانہ برستا ہے اور اِن کے ہاتھ سے وہ سب کچھ چھین لیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر یہ دنیا کو مطیع و فرماں بردار رکھتی آئی ہوں۔ مختلف سلطنتوں کے عروج و زوال کی تاریخ پر نظر ڈالیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہر سلطنت جب غیر معمولی طاقت سے ہمکنار ہوچکتی ہے تب اپنے ہی بوجھ سے گرتی ہے۔ اپنی ہی طاقت کو سنبھالنے اور انصاف و شائستگی کا دامن تھامے رہنے میں پیش آنے والی دشواری اُسے آسمان سے زمین پر لے آتی ہے۔
دو ہزار سال کی تاریخ کھنگال دیکھیے تو اندازہ ہوگا کہ کسی بھی بڑی طاقت کو حقیقی اور مکمل زوال سے دوچار کرنا کسی بھی عام سی، کمزور ریاست کے بس کا معاملہ نہیں رہا۔ چند چھوٹی ریاستیں مل کر بھی کسی بڑی طاقت کو ختم نہیں کرسکتیں۔ ہر بڑی طاقت سے دنیا کی امامت چھینی گئی ہے۔ ایسا اُسی وقت ہوتا ہے جب قدرت کے اصولوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن میں بھی صراحت موجود ہے کہ ایک گروہ کو ہٹاکر دوسرے گروہ کو لایا جاتا ہے تاکہ نا انصافی کا خاتمہ ہو اور امن و سُکون کا نیا دور شروع ہو۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب چند ریاستیں انتہائی مضبوط ہوکر باقی دنیا کو مطیع بنانے کی پوزیشن میں آ جاتی ہیں تب غیر معمولی نوعیت کی تبدیلیاں رونما ہونے لگتی ہیں۔ جس ریاست کی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے وہ دوسری بہت سی ریاستوں پر محض حکومت نہیں کرتی بلکہ اُنہیں کچھ نہ کچھ دیتی بھی ہے۔ عصری علوم و فنون میں غیر معمولی پیش رفت بڑی ریاستوں کے بس کی بات ہوتی ہے۔ اپنے عروج کے دور میں بڑی طاقتیں مختلف شعبوں میں غیر معمولی پیش رفت یقینی بناتی ہیں اور پھر دنیا کو اُن سے بہت کچھ ملتا ہے۔ یہ سب کچھ فطری عمل ہے۔ بڑی طاقت اپنی بقاء کیلئے بہت کچھ سیکھتی ہے، ایجادات و اختراعات کے عمل سے گزرتی ہے۔ جو کچھ اُسے حاصل ہوتا ہے اُس میں باقی دنیا کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ ہاں، جب کوئی ریاست اپنی بھرپور طاقت کو صرف اپنے لیے بروئے کار لاتی ہے تب اُس کے زوال کا آغاز ہوتا ہے۔
مختلف ادوار میں بڑی طاقتوں کا حقیقی زوال اُس وقت شروع ہوا ہے جب اُنہوں نے انصاف اور اعتدال کی راہ سے ہٹ کر صرف توسیع پسندی پر توجہ دی ہے۔ جب بھی کوئی طاقت استعماریت کی طرف جاتی ہے، دوسروں کو بلا ضرورت بھی اپنے انگوٹھے کے نیچے رکھنے پر بضد ہوتی ہے تب خرابیوں کو راہ ملتی ہے۔ روم کی سلطنت کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ توسیع پسندی نے اُسے مضبوط کرنے کے بجائے مزید کمزور کردیا۔
جب کوئی ریاست اپنی حدود سے نکل کر، عسکری مہم جوئی کے ذریعے دوسری (نسبتاً کمزور) ریاستوں کو اپنے دستِ اختیار میں لینا چاہتی ہے تب تجارت بھی وسعت پاتی ہے۔ عسکری مہم جوئی اور تجارت بڑے پیمانے پر سفر اور نقلِ مکانی کو بھی ممکن بناتی ہے۔ یہیں سے زوال کی ابتداء ہوتی ہے۔ جب سفر بڑے پیمانے پر ہوتا ہے تب تجارتی اموال کیساتھ ساتھ محض عقائد، نظریات اور فیشن ہی کا انتقال نہیں ہوتا بلکہ وبائیں بھی سرحدیں بھول جاتی ہیں!
اگر ہم چھٹی صدی عیسوی کے دوران یورپ میں پھیلنے والی ’’سیاہ موت‘‘ (طاعون) سے 1918 ء کے ’’اسپینش فلو‘‘ تک کے معاملات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ بڑی طاقتوں کی سرکشی اور آپس کی کشمکش نے وباؤں کو پھلنے پُھولنے کا موقع عطا کیا اور یوں بہت بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی راہ ہموار ہوئی۔
آج دنیا کورونا وائرس کے ہاتھوں پریشان ہے۔ یہ بہت بڑے پیمانے کی، بلکہ عالمگیر سطح کی طبی ہنگامی حالت ہے مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ سیاسی و سفارتی سطح پر بھی ایک بڑا ایونٹ ہے جس پر غور کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی دور میں جب کوئی بڑی وباء پھیلی ہے تو اُس نے سیاست اور معیشت دونوں کو ناقابلِ یقین حد تک متاثر کیا ہے۔ کورونا وائرس کی وباء سے یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ ایک صدی کے دوران دنیا کو جدید ترین ٹیکنالوجیز اور سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں غیر معمولی پیش رفت نصیب ہوئی ہے مگر اِس کے باوجود کسی بڑی وباء پر قابو پانا اب تک ممکن نہیں ہوسکا ہے۔
جب بھی کوئی ریاست اپنے حدود سے نکل کر دوسروں کو بھی اپنے حدود میں شامل کرنے کے درپے ہوتی ہے تب دستِ قدرت حرکت میں آتا ہے تاکہ معاملات ایک بار پھر درست ہوں اور دنیا کی بقاء کا مسئلہ کھڑا نہ ہو۔ بڑی طاقتوں کی آپس کی چپقلش بھی بہت سی خرابیاں پیدا کرتی ہے۔ اِن خرابیوں پر قابو پانا چھوٹی یا کمزور ریاستوں کے بس کا معاملہ نہیں ہوتا۔ ایسے میں قدرت بالعموم وباؤں کے ذریعے اپنی موجودگی اور تصرّف کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔
عام تصور یہ ہے کہ طاعون چوہوں اور پسّوؤں سے پھیلتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی وباء کو ایک خطے سے دوسرے خطے تک پہنچانے میں کلیدی کردار انسان ادا کرتے ہیں۔ ’’سیاہ موت‘‘ میں بھی یہی ہوا تھا۔ تجارت ہو یا جنگ، دونوں ہی حالتوں میں انسان کسی بھی وباء کو پھیلانے میں کنویئر بیلٹ کی سی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ استعماری قوتوں کی جنگیں وباؤں کو تیزی سے پھیلاتی ہیں۔ جن خطوں میں صحتِ عامہ کا معاملہ گیا گزرا ہو اُن خطوں کو فتح کرنے کے بعد جب آبادیوں کا تبادلہ ہوتا ہے تب وبائیں بھی سفر کرتی ہیں۔
1347 میں کرائمیا کے شہر کافہ کا محاصرہ کرنے کے بعد جب منگولوں کو فتح کی راہ آسانی سے نہ سُوجھی تو اُنہوں نے اپنے طاعون زدہ لوگوں کی لاشیں شہر میں پھینکنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اِن لاشوں سے شہر میں طاعون پھیلا اور شہر کی عیسائی آبادی باہر نکلنے پر مجبور ہوئی مگر اُن کے پہلے حملے میں کم و بیش 15 ہزار منگول مارے گئے۔ شہر پر جن عیسائی جینوز تاجروں کا قبضہ تھا وہ فرار ہوتے ہوئے طاعون بھی ساتھ لے گئے۔ اس طاعون سے پہلے انہوں نے قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کو متاثر کیا اور پھر اس وباء کو باقی یورپ تک لے گئے۔ قسطنطنیہ تب سلطنتِ روم کے مشرقی بازو کا مرکزی شہر اور پوری سلطنت کا سب سے بڑا تجارتی مرکز تھا۔ قسطنطنیہ کے ذریعے محض تجارتی مال نہیں پھیلتا تھا بلکہ وبائیں بھی پھیلتی تھیں۔ آج مورخین اس نکتے پر متفق ہیں کہ روم کی سلطنت کو حقیقی زوال سے دوچار کرنے میں کلیدی اور فیصلہ کن کردار طاعون کی وباء نے ادا کیا۔
1918 میں پھیلنے والے ’’اسپینش فلو‘‘ کو یہ نام غلطی سے دیا گیا۔ ریکارڈ کی چھان بین سے معلوم ہوا ہے کہ چینی محنت کشوں کی نقل و حرکت سے یہ وباء پھیلی تھی۔ کینیڈا سے یورپ لائے جانے والے کم و بیش 25 ہزار چینی محنت کشوں کو ایک خاص مدت تک قرنطینہ بھی کیا گیا تھا۔ کینیڈا کی ولفرڈ لاریئر یونیورسٹی کے محقق مارک ہمفریز کہتے ہیں کہ نومبر 1917 میں شمالی چین میں ایک بیماری پھیلی جسے چین کے طبی ماہرین نے ’’اسپینش فلو‘‘ سے مماثل قرار دیا۔ اب مورخین اس نکتے پر بھی متفق دکھائی دیتے ہیں کہ اِس وباء ہی نے پہلی جنگِ عظیم کو ختم کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔
جنگوں اور وباؤں کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ چھٹی صدی عیسوی کے اواخر میں پھیلنے والے طاعون کو جسٹینین پلیگ کہا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس وباء نے روم کی سلطنت کا خاتمہ یقینی بنایا۔ 542 عیسوی میں یہ وباء قسطنطنیہ پہنچی۔ اِس سے محض ایک سال قبل تک یہ وباء سلطنتِ روم کے باہری یا سرحدی صوبوں تک محدود تھی۔ تب یورپ عہدِ تاریک سے گزر رہا تھا۔ یہ وباء چھٹی صدی عیسوی سے آٹھویں صدی عیسوی تک یعنی کم و بیش 225 سال تک کسی نہ کسی شکل میں یورپ کا پیچھا کرتی رہی۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ یورپ کسی بھی اعتبار سے اس قابل نہ رہا کہ کسی اور خطے پر کھل کر راج کرسکے۔
یورپی طاقتیں افریقا پر بھی بہت حد تک متصرّف تھیں۔ شمالی افریقا سے یہ وباء سلطنتِ روم میں داخل ہوئی۔ جارجیا یونیورسٹی کے جان ہارگن لکھتے ہیں کہ مصر اُس دور میں پوری سلطنتِ روم کے لیے خوراک کے ذخیرے یا مآخذ کا کردار ادا کرتا تھا۔ وہاں اناج کے بڑے گودام ہوا کرتے تھے۔ تیل، ہاتھی دانت اور غلام فراہم کرنے میں بھی مصر آگے آگے تھا۔ مصر میں اناج کے گوداموں میں چوہوں اور پسّوؤں نے جگہ بنائی اور طاعون کو دور افتادہ علاقوں تک پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بازنطینی سلطنت کا زوال حتمی طور پر یقینی بنانے میں ’’دی پلیگ آف جسٹینین‘‘ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ طاعون کی اس وباء سے یہ خطہ کم و بیش آٹھ صدیوں تک لڑتا، الجھتا رہا۔
ساتویں صدی عیسوی میں سلطنتِ روم مکمل طور پر زوال پذیر ہوگئی اور یورپ میں علم و فن کے اعتبار سے تاریک دور شروع ہوا۔ خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں یعنی ایران کی فتح کے بعد جب یورپ کی طرف بڑھنے کا سوچا گیا تو یہ بات کہی جانے لگی کہ یہ وحشی اور جاہل خطہ ہے، اِس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں! حقیقت بھی یہی تھی کہ تب یورپ کا بیشتر حصہ شدید جہالت، بے ہنری اور بے تہذیبی کے شکنجے میں تھا۔
چودھویں صدی عیسوی میں سلطنتِ عثمانیہ قائم ہوئی۔ یہ سلطنت بھی کسی نہ کسی شکل میں طاعون سے دوچار رہی۔ بہت کوشش کرنے پر بھی اس وباء کو مکمل طور پر زیر کرنا ممکن نہ ہوسکا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں آخری بار یہ وباء بھرپور قوت کے ساتھ 1812 میں نمودار ہوئی۔ اب اِسے بھی عجیب اتفاق کہیے کہ جب یہ وباء نئے سِرے سے نمودار ہوئی تب سلطنتِ عثمانیہ کے لیے شدید ترین مشکلات کا دور شروع ہوچکا تھا۔ سلطنتِ روم کی طرح سلطنتِ عثمانیہ کو حقیقی زوال سے طاعون نے دوچار کیا۔ 1812 میں آخری بار پوری قوت سے نمودار ہونے والے طاعون پر کئی عشروں تک قابو نہ پایا جاسکا اور اِس دوران سلطنتِ عثمانیہ کی طاقت گھٹتی چلی گئی۔
طاعون کی طرح چیچک بھی ایک ایسی وباء تھی جس نے کئی خطوں کو پامال کیا۔ دسویں اور گیارہویں صدی کے دوران یہ وباء ایشیا اور افریقا سے یورپ پہنچی۔ گیارہویں صدی عیسوی کے اواخر میں ارضِ مقدس کو فتح کرنے والے صلیبی جنگوں کے سپاہی جب خوشی خوشی گھروں کو لَوٹے تو چیچک اُن کے ساتھ تھی! مطیع بنائے جانے والے خطوں سے یہ لوگ وبائیں بھی ساتھ لائے۔ چیچک نے اگلی تین صدیوں تک شمالی اور جنوبی امریکا میں قیامت ڈھائی۔ ابتدائی دور میں تو اِن خطوں کے باشندوں کی سمجھ ہی میں نہ آیا کہ چیچک سے نمٹیں کیسے کیونکہ یہ بیماری اُن کے خطے میں پائی نہیں جاتی تھی اس لیے اِس کے علاج کے بارے میں بھی کم ہی لوگ جانتے تھے۔ چیچک سے ’’امریکاؤں‘‘ میں بہت بڑے پیمانے پر ہلاکتیں واقع ہوئیں۔
جو کچھ آج کل ہو رہا ہے وہ بھی عجیب ہی ہے۔ امریکا نے کم و بیش سات عشروں تک یورپ کی مدد سے دنیا پر حکومت کی ہے۔ اس دوران فطری علوم و فنون میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ عام آدمی کو بہت کچھ ملا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ امریکا اور یورپ نے دنیا کی امامت کے اعزاز کا احساس نہیں کیا اور حق بھی ادا نہیں کیا۔ اُنہوں نے اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنائے رکھنے کے لیے پوری دنیا میں قتل و غارت کا بازار گرم رکھا ہے۔ کئی خطوں کو دونوں نے مل کر اِس بُری طرح پامال کیا ہے کہ اب اُن کے دوبارہ ابھرنے کا امکان کم و بیش معدوم ہے۔ افریقا، مشرقِ وسطٰی اور ایشیا میں امریکی چیرہ دستیاں کبھی نہیں تھمیں۔
کورونا وائرس کی وباء نے امریکا اور یورپ کو جس بُری طرح شکنجے میں لیا ہے اُسے دیکھتے ہوئے دنیا یہ سوچنے کی طرف مائل ہوئی ہے کہ کہیں قدرت نے امریکا کے بارے میں فیصلہ تو نہیں کرلیا؟ ہر بڑی طاقت کو کسی نہ کسی وباء کے ہاتھوں ہی مکمل شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ چین اور روس عالمی طاقت رہے ہیں۔ اب وہ اپنی اِس حیثیت کو بحال کرنا اور منوانا چاہتے ہیں۔ چین کی طاقت زیادہ ہے۔ روس اُس کا ہم نوا ہوکر چلنا چاہتا ہے۔ ترکی نے بھی کسی دور میں دنیا کے ایک بڑے حصے پر حکومت کی تھی۔ اب وہ بھی اپنی عظمتِ رفتہ کو کسی حد تک بحال کرنے کا خواہش مند ہے۔ یہ تینوں ممالک چند دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر امریکا اور یورپ کے لیے حقیقی خطرے کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ یورپ نے راستہ بدلنے کی کوشش کی ہے۔ وہ جنگ و جدل سے دور رہنا چاہتا ہے۔ امریکا کا ساتھ دے کر یورپ نے اپنے لیے اچھا خاصا بگاڑ مول لیا ہے۔ اب وہ افریقا اور ایشیا کو گلے لگائے رکھنا چاہتا ہے۔ امریکا کے لیے بھی یہ فیصلے کی گھڑی ہے۔ وہ حالات بگاڑ کر یورپ کو اپنا ہم نوا بنانا چاہتا ہے۔ اہلِ یورپ کو اسلام اور چین دونوں سے برگشتہ کرکے وہ اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتا ہے۔
وباؤں سے سلطنتیں ختم بھی ہوتی ہیں اور نئی سلطنتیں بنتی بھی ہیں۔ کورونا وائرس نے چین کو خاصی موافقت آمیز پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ چین نے کورونا وائرس کی وباء پر قابو پانے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔ ہلاکتیں بھی خاصی کم رہیں۔ امریکہ پھنس کر رہ گیا ہے۔ یورپ بھی الجھا ہوا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کو (جس کے پاس قابل ترین فوج ہے اور جس کے فوجی اڈے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں) بظاہر ایک ایسے وائرس نے زیر کرلیا ہے جو دکھائی بھی نہیں دیتا! اب سوال یہ ہے کہ دکھائی نہ دینے والے وائرس کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونے والا ملک کیا اس قابل رہ گیا ہے کہ دنیا پر حکمرانی جاری رکھ سکے۔ ایک بار پھر ایک وباء دنیا کو فیصلہ کن موڑ پر لے آئی ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان سرد جنگ کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ سرد جنگ شروع ہو بھی سکتی ہے اور کسی بھی وقت یہ گرم جنگ بھی بن سکتی ہے مگر دانش کا تقاضا یہ ہے کہ مل بیٹھ کر کوئی راستہ نکالا جائے۔ آج کی دنیا کسی بڑی جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ امریکہ نے کئی خطوں کو جنگ و جدل، بلکہ یکطرفہ فوجی ایکشن کے ذریعے پامال کیا ہے۔ چین اب تک جنگ سے گریزاں رہا ہے وہ نرم قوت یعنی علم و فن اور صنعت و تجارت کے ذریعے آگے بڑھ کر ایک انوکھی مثال قائم کرنا چاہتا ہے۔

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

اللہ تیرا شکر ہے کہ رمضان المبارک کی برکتوں اور رحمتوں کو سمیٹتے ہوئے توہمیں عید کے مبارک دن تک لے آیا ہے ۔ اِس عید سے قبل ہم بذاتِ خود نصف سنچری سے زائد عیدیں دیکھ اور منا چکے ہیں مگر عید2020ء جیسی عید اِس سے پہلے کبھی نہیں آئی۔بچّے تھے تورمضان المبارک کے روزے بوجھ لگتے تھے مگر عید بہت سہانی لگتی تھی،پھر شعور آیا تو رمضان اور عید دونوں ہی دلفریب ہوگئے ۔

مزید پڑھیں