☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور کیرئر پلاننگ سنڈے سپیشل فیشن کھیل کچن کی دنیا شوبز خواتین دنیا کی رائے روحانی مسائل طنزومزاح ادب
شیر کی دُم بننے سے بہتر ہے چوہے کا سربننا۔۔

شیر کی دُم بننے سے بہتر ہے چوہے کا سربننا۔۔

تحریر : حسین احمد شیرازی

07-07-2019

نسیم صاحب ہمارے پرانے دوست ہیں۔ کئی دفعہ اپنے معاملات کے سلسلے میں آچکے تھے چنانچہ جب انہوں نے ہمیں اپنی نئی فیکٹری میں آنے کا کہا تو ہم وقت مقرّرہ پر پہنچ گئے لیکن وہاں ان کی بجائے ان کی عدم موجودگی کی پریشانی ہماری منتظر تھی۔ ان کا موبائل فون بند تھا۔ ہم کافی دیر :

وعدہ آنے کا وفا کیجیے یہ کیا انداز ہے تم نے کیوں سونپی ہے اس ’’دفتر‘‘ کی دربانی مجھے کا ورد کرتے رہے۔ محترم کے ڈرائیور کے ذریعے پتہ چلا کہ وہ اپنے دفتر سے 15 کلو میٹر دور واپڈا ہائوس میں بیٹھے ہیں۔ اب ان سے ہماری بات ہوئی تو کہنے لگے کہ وہ ملاقات کا وعدہ بھول گئے تھے کیونکہ ایسے تمام معاملات ان کا ڈرائیور اور سیکرٹری سنبھالتے ہیں اور اس دن ڈرائیور نے انہیں یاد ہی نہیں دلایا۔ ہم نے جواب دیا کہ بھائی اگر آپ یہ نسخہ ہمیں پہلے بتا دیتے تو ہم اپنے ڈرائیور کو آپ کے ڈرائیور سے منسلک کر دیتے۔

ہم نے ترکیبِ استعمال کا یہ قصہ بھی سنا دیا کہ کسی چرسی نے آنکھوں کا عطیہ دیا تو ڈاکٹر سے کہا کہ یہ اہم ہدایت ضرور بتا دیں کہ یہ آنکھیں دو کش لگانے کے بعد ہی کھلتی ہیں۔ نسیم صاحب اپنی کسی مجبوری کا تذکرہ کرنے لگے تو ہم بولے کہ صاحب یہ مجبوری واقعی بڑی ظالم چیز ہے۔ ہمارے ایک دوست بہت پرانی کار استعمال کرتے تھے، ہم نے اسے تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تو گویا ہوئے کہ صاحب کیا کروں، بڑی مجبوری ہے، جب کار کے لیے پیسے جمع ہوتے ہیں، تو گھر کی کوئی مصیبت آن پڑتی ہے! اسی طرح ہمارا دوست شوکت ایک دن کافی بیمار ہو گیا۔ ہم نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ فلاں شخص نے زبردستی زیادہ کھلا دیا تھا۔ ہم نے کہا کہ تم منع کر دیتے تو اس نے وضاحت کی ’’میری مجبوری ہے، کسی کو انکار نہیں کر سکتا۔‘‘

نسیم صاحب نے وعدہ خلافی پر بڑے دکھ کا اظہار کیا ۔بہرکیف اس دوران نسیم صاحب لگاتار بے فائدہ معذرت اور ہم فطری لیکن غیر ضروری غصّے کا اظہار کرتے رہے۔ ویسے یہ برہمی بڑی متنازع فیہ کیفیت کا نام ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ غصہ ایسا چیونٹیوں بھرا کباب ہے جسے کبھی بھی نگلنا نہیں چاہیے بلکہ اسی وقت اسی حالت میں اسے مہیا کرنے والے کو لوٹا دینا چاہیے! یہ ایک ایسی دیمک ہے جو انسان کے وجود کو خاموشی سے چاٹتی جاتی ہے اور اس طرح یہ دوسروں کی غلطیوں کا اپنے آپ سے بدلہ لینے کا نام ہے۔ ہمارے دوست مرزا کا خیال ہے کہ خفگی ایک ایسا دستی بم ہے جسے فوراً مخالف پر پھینک کر فارغ ہو جانا چاہیے ورنہ اس کے آپ کے قرب و جوار میں پھٹنے سے آپ خود مجروح بلکہ مرحوم بھی ہو سکتے ہیں! بعض لوگ غصے کو زہر بھی کہتے ہیں تو پھر اس کے پینے والے کا انجام واضح ہے۔ انسان کو شہد کی مکھی کی طرح ہونا چاہیے یعنی شہد بنائو لیکن جو چھیڑے اسے ڈنک مارو!

ہم اس بارے میں گوتم بدھ کے پیروکار ہیں جن کے بقول آپ کا غصہ دراصل قدرت کی طرف سے آپ کو دی گئی سزا ہے جسے آپ جتنا چاہیں، بڑھا گھٹا سکتے ہیں۔ ہمارے دوست شوکت بٹ کا کسی ہم جماعت سے جھگڑا ہو گیا اور یہ پھٹے ہوئے سر کے ساتھ ہسپتال پہنچ گئے۔ وہاں ہم نے ان کی صحت یابی کی دعا کی تو بولے میں اپنی کمر کس رہا ہوں، ذرا انتظار کرو اور پھر اس حملہ آور کی مغفرت کی دعا کرنا! ہم نے جواب دیا کہ پھر تو دعائوں کا یہ سلسلہ طویل ہو جائے گا اور کسی تختے پر چڑھا کر آپ کی مبارک گردن رسّی سے کسی گئی تو بھائی وہ دعا وہاں بھی دہرانی پڑے گی! اسے سمجھایا کہ غصّہ اس الائو کی طرح ہے جسے غصیل لوگ اپنے ذہن میں دوسروں پر پھینکنے کے لیے دہکاتے ہیں لیکن دراصل یہ اپنی بھٹی میں ہی سلگتا رہتا ہے! ہم نے بھی نفرت کے درخت پر صرف خرابی اور شرمندگی کے پھل ہی لگتے دیکھے ہیں! ذرا غور کریں تو آپ پر واضح ہو گا کہ اس عارضی زندگی کی مختصر مدت دوستی اور محبت کے لیے بھی بہت تھوڑی ہے اور اسے نفرت اور رنجش میں گزارنا خداوند کریم کی نعمتوں کا کفران ہے! ویسے غصے کی ایک قسم وہ بھی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے :

ان کو آتا ہے پیار پر غصّہ

ہم کو غصّے پہ پیار آتا ہے

اس شعر کے بارے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس کا خالق ایک ایسا مفلوک الحال شخص ہے جو کسی کے عشق میں مبتلا ہو کر بے عزّتی کی منزل پانے کے لیے بے تاب ہے لیکن مرزا غالبؔ نے بھی تو کہا ہے :

دے وہ جس قدر ذلّت ہم ہنسی میں ٹالیں گے

بارے آشنا نکلا اس کا پاسباں اپنا

لیکن عہدِ حاضر کی ’’ٹھرکالوجی‘‘ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہمارے دوست شوکت بٹ کے بقول یہ کام ہی ’’کتّا‘‘ ہے اور عاشقی کے سکول میں داخلے سے پہلے ’’چکنا گھڑا‘‘ ہونا اضافی نہیں بلکہ بنیادی اہلیت شمار کی جاتی ہے۔ وہ اس بارے میں نواب مرزا داغؔ کی سند لاتے ہیں جن کا فرمان ہے :

اے داغؔ برا مان گئے اس کے کہے کا

معشوق کی گالی سے تو عزّت نہیں جاتی

یہاں ہمیں ایک مغنیہ کے شوہر کا قصّہ یاد آگیا۔ وہ رات کافی دیر تک اپنے دوستوں کے ساتھ محفل آرائی کر کے رخصت ہوئے۔ ان کی بیگم خاصی گرم مزاج تھیں چنانچہ اگلے دن جب ان سے پچھلی رات گھر میں استقبال کی روداد پوچھی گئی تو جواب دیا ’’یار نصیب نے بڑی یاوری کی۔ میں گھر پہنچا تو بیگم جاگ رہی تھیں لیکن خوش قسمتی سے ان کی سہیلی ملنے آئی ہوئی تھی۔ میں چپکے چپکے مہمان خانے میں جاکر سو گیا۔ ان کو پتہ ہی نہیں چلا۔ پچھلے ہفتے پکڑا گیا تھا تو انہوں نے بہت بے عزّتی کی تھی۔ کیسا!!!‘‘

خدا کے فضل سے بیوی میاں دونوں مہذب ہیں

حجاب اُن کو نہیں آتا، اِنہیں غصّہ نہیں آتا

لیجیے صاحب! نسیم صاحب پر غصّہ نکالتے نکالتے ہم اکبر الٰہ آبادی کی غصّے کے بارے میں تشریح کی طرف نکل آئے۔ ع

سوچتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے

شاید اس لیے غصّے کو حرام قرار دیا گیا ہے!

ہم عام طور پر احباب کے دفاتر جانے سے احتراز کرتے ہیں کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ اب ان کے کمرے سے نکل کر اس دفتر کی دو سیڑھیاں اُترتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی پہاڑ کی چوٹی سے پھسل کر نوکیلے پتھروں سے ٹکراتے ہوئے نشیب کی طرف لڑھک رہے ہوں۔ ہم اپنے آپ کو بھی کوس رہے تھے کہ ہم یہاں آئے ہی کیوں۔ کسی سیانے نے سچ کہا ہے کہ شیر کی دُم بننے سے بہتر ہے، آپ چوہے کا سر بن جائیں۔ خدا گواہ ہے کہ اس دن ہم کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کی بجائے کافی حد تک گرے ہوئے پائے گئے تھے۔

واپسی کے سفر کے لیے فیروزپور روڈ پر ماڈل ٹائون کے چوک کے پاس ہم نے سڑک پر نظر دوڑائی تو ایک پچاس سال کے نحیف و نزار شخص کو دیکھا جس کے کندھے پر دو اڑھائی سال کا بچہ براجمان تھا اور وہ ایک بیس بائیس سال کی لڑکی کا ہاتھ پکڑے چل رہا تھا۔ دھول سے اَٹے ہوئے چہرے اور اس پر ٹپکتے ہوئے پسینے کے قطرے، پھٹا پرانا لباس اور ٹوٹی ہوئی جوتیاں ان لوگوں کی کسمپرسی کا عَلم بلند کیے ہوئے تھیں۔ گرمیوں کا موسم، سلگتی ہوئی دوپہر اور سورج کی تپش میں ہماری کار کا ایئرکنڈیشنر بھی افغانستان میں امن و امان کی حالت کی طرح چل رہا تھا۔ اس لڑکی نے اپنے دونوں ہاتھ اُفقی حالت میں اپنی کہنی کی سطح پر اُٹھائے ہوئے تھے۔ دایاں ہاتھ تو اس راہبر بوڑھے کے ہاتھ میں تھا جبکہ اس نے بایاں ہاتھ کسی غیر متوقع ٹکرانے والے شخص یا شے سے بچنے کے لیے اُٹھا رکھا تھا۔ ہمیں اس بات کا اندازہ لگانے میں کوئی دقّت پیش نہ آئی کہ یہ لڑکی نابینا ہے!

اس مرحلے پر ٹریفک لائٹ سرخ ہو گئی تو سڑک پر تیز رفتار گاڑیوں کی آمدورفت کی وجہ سے یہ قافلہ رُک گیا۔ ہماری کار ان کے پیچھے کھڑی تھی۔ اس دوران میں قافلے کے سالار نے اپنے ہاتھ کو آرام دینے کے لیے اس لڑکی کا ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنے بازو کو نیم اُفقی حالت سے عمودی سطح پر لے گیا جبکہ اس خاتون کے دونوں ہاتھ اسی طرح کہنی کی سطح پر بلند تھے۔ شاید وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے راہبر کو سفر دوبارہ شروع کرتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑنے کے لیے اسے ڈھونڈنے کی زحمت کرنی پڑے۔ ہم سوچ رہے تھے کہ یہ لڑکی کتنی دکھی ہے اور شاید اس کی زندگی کی تاریک رات میں خوشی نام کی روشنی کی کسی کرن کا کبھی بھولے سے بھی گزر نہ ہوا ہوگا۔ ہم حیران تھے کہ ان نامساعد حالات میں بھی یہ زندہ کیسے ہے! اسی اثنا میں اس شخص نے منہ موڑ کر اس لڑکی سے کچھ کہا تو وہ دونوں کھلکھلا کر اس طرح ہنسنے لگے کہ وہ چھوٹا بچہ زمین پر گرتے گرتے بچا اور اس لڑکی کا سر گردن کی دوسری طرف اس کی کمر کی طرف اُلٹ گیا!! یہ منظر دیکھ کر ہمیں ایک بار پھر انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا یقین آگیا کہ خدا کے بنائے ہوئے اس شاہکار کو اگر آنسوئوں اور دکھوں کے سمندر میں ڈبو دیا جائے تو یہ وہاں سے بھی مسرّت کے وہ انمول موتی ڈھونڈ لاتا ہے جو کسی بازار میں نہیں بکتے! اور پھر ابلیس بھی کہہ اُٹھتا ہے کہ یہ تو واقعی مسجودِ ملائک تھا۔