☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) خصوصی رپورٹ(صہیب مرغوب) صحت(محمد ندیم بھٹی) رپورٹ(افتخار شوکت ایڈوکیٹ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() دلچسپ دنیا(انجنیئررحمیٰ فیصل) دلچسپ دنیا() دلچسپ دنیا() دلچسپ دنیا() طنزومزاح(ممتاز مفتی) طنزومزاح(علی رضا احمد) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین(نجف زہرا تقوی) تاریخ(محمد سعید جاوید) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
فرئیر ہال میں شاہی مجسمے اور ناریل کا باغ

فرئیر ہال میں شاہی مجسمے اور ناریل کا باغ

تحریر : محمد سعید جاوید

10-20-2019

پرانے دور میں وکٹوریہ روڈ پر کلب روڈ کو عبور کرکے سیدھا آگے جائیں تو بائیں طرف ایک شاندار عمارت اور اس کے ارد گرد پھیلا ہوا ایک وسیع و عریض خوب صورت باغ نظر آتا تھا ۔یہ سارا علاقہ فرئیر ہال کہلاتا تھا۔ وکٹوریہ روڈ سے ہی بائیں طرف بڑی بڑی اور چوڑی سیڑھیاں اوپر چڑھنا شروع ہو جاتی تھیں جو ایک بہت بڑے باغ میں لے جاتی تھیں ۔

 پرانے دور میں وکٹوریہ روڈ پر کلب روڈ کو عبور کرکے سیدھا آگے جائیں تو بائیں طرف ایک شاندار عمارت اور اس کے ارد گرد پھیلا ہوا ایک وسیع و عریض خوب صورت باغ نظر آتا تھا ۔یہ سارا علاقہ فرئیر ہال کہلاتا تھا۔ وکٹوریہ روڈ سے ہی بائیں طرف بڑی بڑی اور چوڑی سیڑھیاں اوپر چڑھنا شروع ہو جاتی تھیں جو ایک بہت بڑے باغ میں لے جاتی تھیں ۔ یہاں ہر طرف گھاس کے اور پھولوں کے خوب صورت تختے بنے تھے اور گھنے سایہ داردرختوں تلے جا بجا لکڑی کے بنچ لگادیئے گئے تھے۔ ناریل کے اونچے پیڑ بڑی تعداد میں ہر طرف موجود تھے۔ ان باغات کے وسط میں کھڑی وکٹورین طرز کی ایک بڑی ہی خوب صورت عمارت تھی جو کوئی ایک صدی پرانی ہو گی لیکن اس کی شان و شوکت اور رکھ رکھائو سے یوں لگتا تھا جیسے یہ چندبرس قبل ہی تعمیر ہوئی ہو۔ اپنے عہد کی دوسری عمارتوں کی طرح اس کی چھت بھی کافی بلند تھی اور اس میں کئی بڑے ہال ، راہداریاں اور برآمدے وغیرہ بنے ہوئے تھے ۔ایک کونے میں قدرے بڑا برج نما مینار تھا ، دوسری طرف چرچ سے مشابہ ایک چھوٹا مگر اونچا ایک اور مینار تھا جہاں ایک لمبی آ ہنی سلاخ پر ایک باد نما لگایا ہوا تھا جس پر بیٹھا ہوا ایک بڑا سا اصیل مرغ گھوم پھر کر ہوا کا رخ اور اس کی رفتار سے مخلوق خدا کو آگاہ کرتا رہتا تھا ۔ اس کے کھڑے ہونے کے اندازسے ہی پتہ لگ جاتا تھا کہ آج کدھر کی ہوا چل رہی ہے ۔ مزہ تو تب آتا تھا جب کبھی تیز اور غیر واضح سی ہوا چلتی تھی اور اس بیچارے مرغے کو کچھ سمجھ ہی نہ آتا تھا کہ اسے اپنا رخ کس طرف کرنا ہے ۔تب وہ ترکی کے رقص کرتے ہوئے درویشوں کی طرح دیوانہ وار اپنی بنیاد پر ہی گھومتا رہتا تھا ۔ جب ہوا ذرا تھمتی تو اسے بھی سکون آجاتا ۔یہ اور بات ہے کہ کافی دیر تک اس کو دنیا گھومتی ہوئی نظر آتی ہو گی۔ 

میں نے جب پہلی دفعہ اس عمارت کو دیکھا تو اس میں کراچی کا عجائب گھر ہوا کرتا تھا۔ سنتے ہیںانگریزوں کے زمانے میں یہاںمیونسپلٹی کا دفتر ہوتا تھا۔ اسکول کی طرف سے بھی ہمیں سال میں ایک دو بار فریئر ہال دکھانے کے لیے لے جایا جاتا تھا ۔ بہت عرصے تک یہ عجائب گھر ہی رہا۔کچھ عرصے بعد جب کراچی میںنئے قومی عجائب گھر کی تعمیر مکمل ہوئی تو سارے نوادرات وہاں منتقل کر دیئے گئے ۔ نیا عجائب گھر رقبے میں بہت بڑا تھا اور نئے زمانے کے تقاضوں کے عین مطابق بنایا گیا تھا ۔ فرئیر ہال کے عجائب گھر میں جگہ محدود ہونے کی وجہ سے ایک وقت میں زیادہ نوادرات کی نمائش کرنا ممکن نہ تھااور اکثر قیمتی اشیاء تو لکڑی کے صندوقوںمیں بند پچھلے کمروں میں پڑی ہوئی تھیں ۔عجائب گھر منتقل ہو جانے کے کچھ عرصہ بعد ہی اس عمارت کو تالے لگ گئے اور یہ خالی پڑی ہر آنے جانے والے کا منہ چڑاتی رہی۔ پھر ایک دن اچانک ہی نئے سرے سے اس کی تزئین و آرائش کا کام شروع ہو گیا اور اب اس کو ایک عالی شان لائبریری کا روپ دے دیا گیا ۔ یہاں کے خوب صورت اور ٹھنڈے ہال کمروںمیں کتابیں پڑھنے کا اپنا ہی مزہ تھا، اس لیے اپنے کالج کے دور تک میں نے اس سے اپنا ناطہ نہیں توڑا اور وہاں جانا موقوف نہیں کیا ۔

فرئیر ہال کی اس عمارت کے اوپر سے گھوم کر اس کے دوسری طرف ایک بڑا ہی خوب صورت تین منزلہ رنگین فوارہ لگا ہوا تھا،اس کے عین نیچے اتنا ہی حسین تالاب بنا ہوا تھا،جس کے چاروںطرف بنچیںلگی ہوئی تھیں ۔ فوارے میں سب سے اوپر ایک ’’خاتون‘‘ سرخ لباس میں کھڑی تھی جس نے اپنے سر پر فوارہ اٹھایا ہوا تھا ،اسے ایک ہاتھ سے تھام رکھا تھا ۔نیچے مختلف سمتوں کو تکتے ہوئے کچھ خوب صورت بگلے نصب تھے جو فوارے سے نیچے گرنے والے پانی میںبھیگتے رہتے تھے۔ سب سے نیچے نسبتاً چھوٹے دائرے میں کچھ فرشتہ نما بچے اور بچیاں ہاتھوں میں کوئی مشعل نما چیز اٹھائے ہوئے کھڑے تھے ۔اس کے نیچے تالاب تھا جس میںفوارے سے آنے والا پانی ایک مترنم آواز کے ساتھ گرتا رہتا۔ تالاب صاف ستھرے پانی سے بھرا رہتا ۔ جب فوارہ چلتا تو یہ سارے کردار حسب استطاعت پانی اوپر یا باہر کی طرف اچھالتے تھے جو سندر سی آواز کی ساتھ نیچے تالاب میں گرتا تھا ۔ نہ صرف اس کا نظارہ بلکہ اس کے جھرنوںکی دلکش آواز بھی بہت پیاری لگتی تھی۔ اکثر تماشائی حوض کی دیواروںپر چڑھ کر اپنے پائوں پانی میں ڈال کر بیٹھے رہتے اور ہمارے جیسے کچھ نامعقول لڑکے چوکیدار کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس میں دو چار ڈبکیاں بھی لگا لیا کرتے تھے۔فرئیر ہال کے باغ میں جدھر بھی نظر جاتی تھی ہریالی ، پھول اور ناریل کے خوب صورت درخت نظر آتے تھے ۔سمندر کی خنک ہوا ماحول کو اور بھی رومانوی بنا دیتی تھی۔پھر یہ خوب صورت فوارہ کہیں غائب ہو گیا۔ سننے میں یہی آیا کہ کسی بڑے صاحب کو پسند آگیا تو یہ ’’یہاں سے وہاں ‘‘منتقل ہو گیا۔پاکستان میں تو ایسا ہو جاتا ہے نا ۔ 

فرئیر ہال میںاس فوارے کے علاوہ بھی پارک میں دو بڑے اور خوب صورت مجسمے نصب تھے ۔ایک ملکہ وکٹوریہ کا تھا جو پتھر کے ایک اونچے چبوترے پر تاج پہنے کھڑی تھی۔ اس کے نیچے دو اطراف میں تانبے کے بڑے شیر تھے ۔ دوسری اطراف میں کچھ اور انسانی مجسمے تھے ۔ اسی قدو قامت کا ایک مجسمہ برطانوی بادشاہ جارج کا بھی تھا ۔ وہ بھی شان و شوکت سے قریبی چبوترے پر اپنا تاج پہنے کھڑا تھا اور اس کے نیچے دو رومن سپاہیوں کے علاوہ ہندوستانی سپاہیوں کے تانبے کے بنے ہوئے قد آدم مجسمے بھی تھے ،جو ہاتھوں میں بندوقیں تھامے چوکس کھڑے تھے ۔ جیسے یہ سپاہی بادشاہ کی حفاظت کے لیے وہاں تعینات کیے گئے ہیں۔ویسے تو ان دونوں مجسموں کے چاروں طرف فولادی جنگلا لگا کر عام لوگوں کی رسائی روک دی گئی تھی ، لیکن ہم جنگلا پھلانگ کر اندر کود جاتے ، وہاں بیٹھے ہوئے شیروں پر چڑھ کر ان کے کان مروڑتے اور دم کھینچتے تھے۔ روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں تھا، بس اپنی اپنی ہمت کی بات تھی۔ 

یہ دونوں مجسمے پتھریلے چبوتروںپر نصب کیے گئے تھے اور پھر ان کو فولادی جنگلوںکے اندر محفوظ کیا گیا تھا۔ پھر بھی نہ جانے ایساکیا ہوا کہ یہ دونوں مجسمے وہاں سے غائب ہو گئے ۔ شائد مستقبل میںان کو عوام کے کسی متوقع غیظ و غضب سے بچانے کے لیے انہیںعجائب گھر میں رکھ دیا گیا ہو۔ بہرحال اب وہ وہاں نہیں ہیں لیکن میں یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے بچپن میں نہ صرف انہیں دیکھا بلکہ ان کے چبوتروں اور شیروںپر چڑھ کر کھیلا بھی تھا ۔ فرئیر ہال کی اس عمارت کے آس پاس کی گلیوں میں غیر ملکی سفارت خانے ہوا کرتے تھے ۔سفارت خانوں کے استقبالیہ پر ان کے ملکوں کے خوب صورت اور رنگین تصویروں والے کتابچے اور کیلنڈر مفت ملا کرتے تھے ۔ ہم اکثر ان سے اپنے وطن کا موازنہ کرتے تو سوائے مایوسی کے اور کچھ ہاتھ نہ آتا تھا۔ وہ ہم سے بہت آگے نکل چکے تھے۔قریب ہی چین کا سفارت خانہ بھی تھا ۔ تب ہمیں یہ احساس دلایا جاتا تھا کہ وہ کمیونسٹ ہیں ۔ غالباََ ًمیںآٹھویں جماعت میں تھا جب مشہور شاعر فیض احمد فیض کو لینن پرائز دیا گیاتو اس کے خلاف سرکاری اور غیر سرکاری پروپیگنڈے کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا کہ وہ روس کے لیے کام کرتا ہے۔ مجھے بھی اسی لیے فیض صاحب سے اللہ واسطے کا بیر رہا اور میں احتجاجاً ان کی شاعری نہیں پڑھتا تھا، اس عمر میں پڑھ بھی لیتا تو کون سا سمجھ آنا تھی۔جب پروپیگنڈے سے آزاد ہوا تو احساس ہوا کہ وہ کتنا عظیم شاعر تھا۔ چین اور ہندوستان میںجنگ چھڑی تواس میں چینیوںنے ہندوستانیوں کو ٹھیک ٹھاک مار لگائی ۔ وہ کہتے ہیںنا کہ دشمن کا دشمن اپنا دوست ہوتا ہے، جب یقین ہو گیا کہ یہ دونوں واقعی ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں تو پاکستان نے بھی آہستہ آہستہ چین سے اچھے تعلقات استوار کرنے کے عمل کا آغاز کیا جو جلد ہی گہری دوستی میں بدل گئے ۔پھر چینی ہمیشہ ہمارے قابل بھروسا دوست ثابت ہوئے۔ ہم اب کلفٹن کی طرف نکلتے ہیں۔ 

فرئیر ہال سے دوبارہ اسی سڑک یعنی وکٹوریہ روڈ پر آ جائیں جہاں سے اندر داخل ہوئے تھے ، اور یہاں سے ایک بار پھرسیدھا آگے چلتے جائیں تو یہ بڑی سڑک بتدریج ایک نسبتاً سنسان اور چھوٹی سڑک میں تبدیل ہو جاتی جو کافی خستہ حال ہوا کرتی تھی اور وکٹوریہ روڈ ہی کہلاتی تھی تاہم بعد میں اس کا نام بدل کر’’ خیابان اقبال‘‘ رکھ دیا گیا۔یہاں سے کافی آگے جا کر بائیں طرف ایک سیلن زدہ سا میدان آتاتھا جس کو گزری میدان کہتے تھے۔ تب تو یہ بس صرف ایک اجاڑ اور بیابان ساقطعہ ارض ہی ہوتا تھا۔کہیں کہیں کچھ جھگیاں یا کچے مکان نظر آجاتے ، ورنہ ہر سو جھاڑیاں ہی پھیلی ہوئی تھیں ۔یہاں سے ایک سڑک دائیں طرف کو مڑ جاتی تھی جس کے آس پاس کچھ بہت بڑے بنگلے اور کچھ سفارت خانے ہوتے تھے ۔ یہاں کے ماحول میں نمی اور سمندری پانی کی خوشبو بتا دیتی تھی کہ ساحل سمندر یہیں کہیں نزدیک ہی ہے ۔ تھوڑا آگے بڑھتے تویکدم سامنے سمندر نظر آجاتا تھا ۔ نیلے آسمان تلے سمندر کے پانی میں اٹھتی ہوئی ہلکی سفید لہروں اور ٹھنڈی ہوا میں یہ ماحول بڑا ہی بھلا اور پُرسکون لگتا تھا۔ہر طرف خاموشی ہوتی اور لہروں کی ہلکی ہلکی سائیں سائیں کی آواز بھی دور تک صاف سنائی دیتی تھی ۔کبھی دل چاہتا کہ بس وہیں کھڑے ایک فاصلے سے اسے تکتے رہیں جبکہ کبھی ایک دم دوڑ کر سمندر میں چھلانگ لگانے کو من چاہتا تھا۔لیکن درحقیقت یہ سمندر اتنا قریب بھی نہیں تھا جتنا نظر آتا تھا ۔وہاں تک پہنچنے کے لیے سب سے پہلے کوٹھاری پریڈ کی خوب صورت اور تاریخی عمارت کے پاس سے گزر کر تھوڑا نیچے اترنا پڑتا تھا۔ یہ کوٹھاری پریڈ کی عمارت بھی بڑی دلچسپ تھی ۔ بڑے گنبد کے نیچے اس کے چبوترے تک پہنچنے کے لیے ایک طرف بنی ہوئی سیڑھیاں چڑھنا پڑتی تھیں ۔ چبوترے کے باقی حصے کے اطراف میں ڈھلوانی پتھروں کی ٹائلیں لگی تھیں جونیچے سڑک تک آتی تھیں ۔ بچوں کا اور خود میرا بھی یہ پسندیدہ مشغلہ ہوتا تھا کہ ہم سیڑھیوں سے اس عمارت کے چبوترے پر چڑھتے اور اسی ڈھلوان سے گھسٹتے ہوئے نیچے آجاتے ۔یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا جب تک کہ پتلون یا نیکرپھٹنے والی نہ ہو جاتی تھی۔اسی عمارت کے دوسری طرف سے چوڑی پتھریلی سیڑھیاں نیچے ایک وسیع و عریض راہداری پر اترتی تھیں، جو آہستہ آہستہ آگے چلتی جاتی تھی۔ کچھ فاصلے کے بعد ایک بار پھرچند سیڑھیاںکچھ اور نیچے اترتیں اور پھر راہداری کا اگلا حصہ شروع ہو جاتا تھا ۔یہ بہت ہی خوب صورت راہداری تھی جس کے دونوں طرف دلکش باغات اور گھاس کے تختے لگے ہوئے تھے۔ آہستہ آہستہ نشیب میں اترتی ہوئی یہ راہ گزر اپنے سفر کے اختتام پر بالکل ہی سمندر کے قریب پہنچا دیتی تھی جہاں سے لوگ آخری سیڑھی سے ساحل کی ریت پر چھلانگ لگا دیتے۔ سمندر اب بہت ہی قریب تھا ۔ویسے تو اوپر سڑک سے براہ راست نیچے ریت پر چلتے ہوئے بھی سمندر تک پہنچا جا سکتا تھا، مگروہ تھکا دینے والا سفر تھا جب کہ یہ راستہ آسان اور صاف ستھرا تھا اس لیے اکثر لوگ انہی سیڑھیوں سے نیچے آنے کو ترجیح دیتے تھے ۔

تب وہاں کوئی پتھریلی دیوار بھی نہیں ہوتی تھی ، یہ تو بہت بعد میں بنی ۔ جن دنوں مدو جزر ہوتا تو سمندر کا پانی کافی آگے بڑھ آتا اور اکثر مذکورہ راہداری کے نیچے بھی گھس جاتا اور کبھی کبھی تو سڑک کو بھی چھو لیتا ۔پھر نہ جانے کیا ہوا کہ سمندر کراچی والوں سے روٹھ کر پیچھے ہی پیچھے ہٹتا چلا گیا اور ایک بہترین اور وسیع و عریض ساحل وجود میں آگیا ، جہاں لوگ دوڑے پھرتے اور منچلے تو دور تک پانی کے اندر بھی چلے جاتے تھے ۔ اس ریتلے میدان میں جگہ جگہ سیپیوں اور گھو نگھوں کے کھوکھے لگے ہوئے تھے جہاں ہر رنگ اور نسل کی رنگ برنگی سیپیاں یا ان سے بنی ہوئی خوب صورت آرائشی مصنوعات بھی مل جاتی تھیں ۔ بڑی بڑی سیپیوں پر کلمہ، اللہ کے مقدس نام اور خیر مقدمی پیغامات کندہ کیے ہوتے تھے۔کراچی کے چٹخارے دار گول گپے اور دہی بڑے کے کھوکھے اور ٹھیلے بھی ساحل سمندر پر جگہ جگہ موجود تھے ۔ برگر کا نام ابھی تک کسی نے سنا بھی نہ تھا، تاہم بن میں ایک شامی کباب رکھ کر اور اس پر پودینے کی یا کھٹی مٹھی چٹنی ڈال کر تھما دیتے تھے اور یوں برگر کی رسم تو پوری ہو جاتی تھی، پھر بھی اسے بن کباب ہی کہا جاتا تھا ۔اونٹ اور گھوڑے کی سواری تب بھی ہوتی تھی ، مگر وہ اتنے بنے سنورے نہیں ہوتے تھے ۔ عام سا اونٹ ہوتا تھا جو ایک بڑا سا جھٹکا لے کر اٹھتا اور کئی دفعہ تو ایسا بھی ہوتا کہ وہ یکدم کھڑا ہو جاتا اور اس کی متوقع سواری جھٹکے کی تاب نہ لا کر نیچے گری ہوئی ساحل کی ریت چاٹ رہی ہوتی تھی ۔ سوڈا واٹر والے بھی بوتلیں چھنکاتے پھرتے تھے ۔سال میں ایک دو دفعہ حکومت یہاں نمائش لگاتی تھی،جہاں گھڑ دوڑ کے مقابلوں کے علاوہ اور بھی کھیلوں کے مزیدار مقابلے ہوتے۔(سابق) صدر پاکستان کے حفاظتی دستے کے سرخ لباس میں ملبوس گھڑ سوار پریڈ کے علاوہ کئی کرتب دکھاتے۔ موت کے کنویں کے علاوہ سرکس کا اہتمام بھی ہوتا تھا۔ نمائش کا نقطہ عروج آتش بازی کا شاندار مظاہرہ ہوتا تھا۔جب ایک ساتھ سینکڑوں گولے پھٹتے تو ان میں سے پھوٹتی ہوئی رنگ برنگی روشنیوں سے آسمان منور ہوجاتا۔ اس کے بعد میلہ ختم ہو جاتااور لوگوں کی گھروں کو واپسی شروع ہو جاتی۔ جس کراچی کا میں نے ذکر چھیڑ رکھا ہے وہ کوئی اتنا وسیع و عریض تو تھا نہیں ۔ حوصلے والا سائیکل سوار بھی دن بھرمیں اگر سارا نہیں تو آدھا کراچی تو ضرور دیکھ لیتاتھا ۔ ہمارے جیسے بچے مستی میں پاؤ بھر کراچی تو پیدل ہی گھوم لیا کرتے تھے ۔اب یہ سب کچھ کہاں!

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

نازی ازم کا مطلب بیان کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ پہلے فاشزم یعنی فسطائیت کا مفہوم واضح کیا جائے ۔ فاشزم حکومت کی وہ قسم ہے جس میں ایک جماع ...

مزید پڑھیں

پنجاب کا ایک شہر اور ضلع ، فیصل آباد آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ یہ ضلع، فیصل آباد، سمندری، جڑانوالہ، تاندلیانوالہ ...

مزید پڑھیں

13اپریل2019کو جلیانوالہ باغ میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی کی 100ویں برسی منائی گئی ۔سانحہ جلیا نوالا باغ کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔کر ...

مزید پڑھیں