☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) صحت(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(عبدالماجد قریشی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() تاریخ(ایم آر ملک) غور و طلب(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) متفرق(عبدالمالک مجاہد) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
کشتی کا سفراور ملاح کی روایتی مسکراہٹ

کشتی کا سفراور ملاح کی روایتی مسکراہٹ

تحریر : ایم آر ملک

02-02-2020

 

ایک کہاوت ہے کہ کسی نگری کے شہزادے کو ایک عجیب و غریب بیماری لاحق ہو گئی جس کا کوئی تریاق نہ تھا ۔ شہزادے نے قرب و جوار سے قابل طبیب بلائے مگر اس کی بیماری کی تشخیص ہوئی اورنہ ہی علاج کا پتہ چلا۔ ایک سیانے نے بادشاہ سلامت کو مشورہ دیا کہ ماہر فلکیات کو بلایئے، ہوسکتا ہے وہ کوئی اچھا مشورہ دے پائیں ۔ماہر فلکیات آئے تو شہزادے نے ان کو اپنی لاعلاج بیماری کا پتہ لگانے اور علاج کی بابت دریافت کیا۔انہوں نے ’’پتریاں ‘‘ڈال کر فال نکالی اور شہزادے سے کہا کہ آپکی بیماری کا علاج یہ ہے کہ آپ کسی ایسے فرد کو ڈھونڈیئے جس کے چہرے پر حقیقی خوشی ہو ،جو دنیا و مافیا کے غم سے بے نیاز ہو ،آپ اس فرد کے پاس ننگے پائوں چل کر جائیں اور اس کے پائوں کا جوتا پہنیں ،یہ بیماری اللہ کے فضل سے ختم ہوجائے گی اور آپ تندرست ہوجائیں گے ۔

 

شہزادے نے اپنے درباریوں اور ہرکاروں کو بلایا اور ان کے سامنے اپنا مدعا بیان کیا ۔اس نے حکم دیاکہ تم سب مختلف سمتوں میں روانہ ہو جائو ،ایسے فرد کا کھوج لگائو جس کے چہرے پر حقیقی خوشی ہو،شہزادے کے تمام درباری اس مقصد کیلئے نکل کھڑے ہوئے ۔کئی روز گزر گئے مگر انہیں ایسا شخص نہ مل سکا۔ بالآخر ایک روز وہ ایک دریا کے ساحل پر پہنچے جہاں ایک ملاح ایک کنارے پر کھڑے افراد کو کشتی میں سوار دوسرے کنارے پر پہنچانے میں مصروف تھا ۔ درباریوں نے دیکھا کہ وہ سورج غروب ہونے تک لوگوں کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے پر لیجانے میں لگا ہوا تھا ۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ درباریوں نے اس کے چہرے پر حقیقی خوشی کے آثار دیکھے، انہوں نے ملاح کو وہیں چھوڑا اور شہزادے کے پاس پہنچے ،اسے بتایا کہ فلاں جگہ پر ایک ملاح کے چہرے پر حقیقی خوشی اور طمانیت دیکھی ہے۔ شہزادہ خوش ہوا اور ننگے پائوں ملاح کے پاس پہنچا ۔ملاح شہزادے کو دیکھ کر بہت خوش ہوا ،شہزادے نے ملاح کو ساری داستان سنائی کہ مجھے کیسے ماہر فلکیات نے ایسے فرد کا جوتا پہننے کو کہا ہے جس کے چہرے پر حقیقی خوشی ہو۔ شہزادے کی بات سن کر ملاح افسردہ ہو گیا۔ شہزادہ حیران ہوا کہ کیا بات ہے ؟ملاح نے کہا کہ بادشاہ سلامت !گو میرے پاس دنیا کی ساری خوشیاں ہیں مگر میں اتنا غریب ہوں کہ میرے پاس پائوں کا جوتا نہیں ہے،میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں اپنا جوتا خرید سکوں !ہمارے ہر ملاح کی کچھ ایسی کہانی ہے۔ 
 ضلع خوشاب دریائے جہلم کے کنارے آباد ہوا جو اس دریا کے غربی جانب واقع ہے ،شرقی کنارے شاہ پور شہر ہے جو انگریز دور میں ضلعی صدر مقام تھا ،سرگودھا بعد میں ضلع بنا، بزرگ کہتے ہیں کہ شاہ پور اور خوشاب کے لوگ کشتی کے ذریعے دریائے جہلم کو پار کرتے تھے، شاہ پور کا کوئی فرد کسی قریبی عزیز کو ملنے کشتی کے ذریعے خوشاب آتا تو جب شام کے سائے ڈھلنے لگتے تو مہمان کیلئے روٹی تیار کرنے لگتے لیکن دریائے جہلم کے کنارے کشتی بھی شاہ پور جانے کیلئے تیار کھڑی ہوتی کیونکہ کشتی کا وہ آخری چکر ہوتا تھا۔ خوشاب کے عزیزوں میں سے ایسے میں کوئی مہمان سے کہتا کہ ’’بیڑی وی تیار اے تے روٹی وی تیار اے ‘‘یعنی کشتی بھی تیار ہے اور روٹی بھی تیار ہے اگر روٹی کھائو گے تو کشتی سے رہ جائو گے اور کشتی پر سوار ہوگے تو روٹی سے رہ جائو گے ۔یہ کہاوت خوشاب کی چوپالوں اور داروں پر بیٹھے بزرگ آج بھی نئی نسل کو سناتے ہیں۔ 
چا چا قمرو کہتا ہے کہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ہم نشیبی علاقہ میں دریا کے اس پار کشتی پر جایا کرتے تھے تو عجیب سی طمانیت ہمیں محسوس ہوتی ،اس طمانیت کا اظہار ایک سکون کی شکل میں ملاح کے چہرے پر بھی واضح ہوتا ہم تو اس بنا پر خوشی سے نہال ہوتے کہ دریا کی سیر کیلئے نکلے ہیں مگر جب ملاح سے اس خوشی کا سبب دریافت کرتے تو وہ کہتا ہے کہ جن لوگوں کو میں روزانہ ایک ساحل سے دوسرے ساحل تک پہنچاتا ہوں،ان میں اکثریت ایسے افراد کی بھی ہوتی ہے جن کی جیب میں ایک پائی بھی نہیں ہوتی ،وہ ایک امید اور آس کے ساتھ مجھے دیکھتے ہیں، حالت زار سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کشتی کا کرایہ دینے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے ،میں سوچتا ہوںکہ شاید اللہ رب العزت نے مجھے اسی لئے یہ کام سونپا ہے کہ میں ایسے افراد کی بے لوث خدمت کا وسیلہ بن سکوں۔بچپن میں ہم دیکھتے کہ چپو چلاتے چلاتے ملاح کے مضبوط بازوئوں کی مچھلیاں نہیں تھکتی تھیں ،وہ اپنے کام میں اس قدر مگن نظر آتا کہ دنیا و مافیا کی اسے کوئی خبر نہ ہوتی، اسے صرف اتنا پتہ ہوتا کہ منزل کا تعین کیا ہے اور دریا کے کس رستے پر رواں ہونا ہے۔ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جانا اس کا معمول تھا۔ 
دریائے سندھ جسے شیر دریا کہا جاتا ہے، کے ساحل پر بنے ’’پتن ‘‘پر آج بھی جب کشتیاں لنگر انداز ہوتی ہیں تو وہ منظر بڑا روح پرورہوتا ہے اس میں ہمیں ماضی کی جھلک بھی دکھائی د یتی ہے۔ دور افق میں ڈوبتے سورج کی لالی اور دنیا کے جھمیلوں سے بے نیاز کشتی بان (ملاح )کا کشتی پر سوار افراد کو منزل مقصود تک پہنچانے کا منظر ایک عجیب کیفیت کا غماز ہوتا ہے،دیکھنے والا اس منظر کی کشش سے نکل نہیں پاتا۔ کشتی جب شرقی یا غربی کنارے پر لنگر انداز ہوتی ہے تو ساحل پر کھڑی سواریا ں ایسے محو انتظار ہوتی ہیں جیسے وہ صدیوں سے اس منظر کی متلاشی ہوں۔ ملاح کے چہرے پر وہی روایتی مسکراہٹ نظر آتی ہے جو صدیوں سے اس کا خاصہ ہے، اس کے پاس شاید اس پر خلوص مسکراہٹ کے سوا مسافر کیلئے کوئی اورتحفہ نہیں ہوتا، مسکراہٹ کے پیچھے حقیقی خوشی ہوتی ہے جو اس کے دل سے اٹھتی ہے اور چہرے پر آکر لوسی دینے لگتی ہے اس مسکراہٹ کا پس منظر انسانیت کی بے لوث خدمت ہے۔ 
دریائے سندھ کی تہذیب بھی کشتیوں کی روانی سے جڑی ہوئی ہے جب تجارت کی غرض سے یہ کشتیاں ہی اہم کردار بنیں وادی سندھ دنیا کی قدیم ترین تہذیب کی حامل وادی ہے جہاں آثار قدیمہ کے طور پر مختلف مقامات پر کشتیوں کے مختلف ماڈلز کے شواہد ملے ہیں قدیم ادوار میں بااثر افراد اپنی ذاتی کشتیاں شکار اور ذرائع آمدورفت کیلئے بنواتے تھے ۔جنوبی پنجاب میں آج بھی دریائے سندھ کے دوسرے کنارے تک جانے کیلئے کشتیوں کو وسیلہ سفر بنایا جاتا ہے مگر یہ کشتیاں اب پیٹر انجنوں سے چلنے لگی ہیں ۔کشتی کا استعمال جہاں مسافروں اور دیگر بار برداری کیلئے کیا جاتا ہے وہاں اب جرائم پیشہ افراد اس کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں ۔نشیبی علاقوں میں رہنے والے جرائم پیشہ گینگ بھی کشتیوں کے ذریعے لوٹ مار کرتے تھے ۔ چھوٹو گینگ سمیت روجھان کے علاقے میں دوسرے گینگ بعض مقامی وڈیروں کی سرپرستی سے اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں کشتیوں کا استعمال کرتے تھے۔ اب چھوٹو گینگ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔
کشتیوں کی تاریخ 7ہزارسال پرانی ہے
کشتی کے استعمال کا زمانہ قدیم ہے قدیم ترین کھدائی کے دوران پائی جانے والی کشتیوں کی تاریخ 700سال پرانی ہے، نیدر لینڈ میں پائی جانے والی دنیا کی ایک قدیم ترین کشتی ’’پیسو کینو ‘‘ایک کھوکھلے درخت سے بنائی گئی جو 8200اور 7600قبل مسیح کے درمیان تیار کی گئی ۔اس کی نمائش باقاعدہ نیدر لینڈ کے شہر ’’ایسن ‘‘کے ڈرینٹ میوزیم میں کی گئی ۔کویت میں ساحل سمندر سے 7ہزارسال پرانی ریڈ کشتی ملی ہے۔ بحر ہند اور قدیم مصر میں کشتی کا استعمال 3000قبل مسیح ملتا ہے ،19ویں صدی کے وسط تک بیشتر کشتیاں قدرتی مواد سے بنائی جاتی تھیں جن میں سرکنڈ ،چھال اور جانوروں کی کھالیں شامل ہیں۔جنوب مغربی ہندوستان میں کیرالہ کے جنوب میں کالی کٹ کے گائوں بے پور جہاں لکڑی کے کام کا آغاز ہوا تو لکڑی کا ایک بڑا بیڑا بنایا گیا جو 400ٹن کی نقل و حمل کیلئے استعمال ہوتا تھا ۔واسکوڈی گامابھی درحقیقت ایک ملاح ہی تھا۔ تاریخ میں اسے تاجر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ ہندوستان کی بندرگاہ کالی کٹ کے مقام پر لنگر انداز ہوا ۔اس کی آمد ایسٹ انڈیا کا کی آمد ادی کانقطہ آغاز تھی۔ 1895ء میں ڈبلیو ایچ مولن نے جست سے کشتیاں تیار کیں، 1930ء تک کشتی سازی کی سب سے بڑی صنعت مالک وہی تھا۔ 1960کے وسط میں فائبر گلاس سے بنی کشتیاں تفریحی مقاصد کیلئے استعمال ہوئیں۔ یہ کشتیاں سیر گاہوں پر استعمال ہوتی ہیں ۔ ملتان جھیل سمیت کئی شہروں کی جھیلوں میں سکولوں کے بچوں کی تفریح کے لئے ایسی ہی کشتیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
 ساگوان کی لکڑی کی تجارت بھی کشتیوں کے ذریعے شروع ہوئی ۔کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی طرز کی کشتیوں کو قدیم عرب اور یونانی بھی استعمال کرتے تھے ۔قدم زمانے میں تجارت ،سفر اور فوجی مقاصد کیلئے کشتیوں کے استعمال کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔ منگ خاندان سے تعلق رکھنے والاچین کا وانلی شہنشاہ کا دور 1515-72تک تھا،یہ تیر اندازی اور گھڑ سواری کا ماہر تھا، کشتی رانی کا بھی اسے بہت شوق تھا، اس نے دریائوں تک رسائی کیلئے کشتی تیار کرائی تھی۔ وہ اپنی ملکہ کے ساتھ کشتی کی سواری سے لطف اندوز ہوتا تھا۔قدیم چین سے متعلق نمائش میں کشتی رانی کرتے ہوئے بادشاہ کی خیالی تصاویر بھی رکھی جاتی ہیں۔ شاعروں نے کشتی کو اپنی شاعری میں کثرت سے استعمال کیا ہے ۔رومانوی شاعروں نے محبوب کے وصال میں کشتی کو بطور استعارہ رکھا جنوبی پنجاب کے سرائیکی شعرا نے سرائیکی زبان گیت لکھ کر کشتی کے وجود کو امر کردیا سرائیکی زبان میں لفظ ’’بیڑی ‘‘لکھا جاتا ہے اس سلسلے میں ایک گیت آج بھی زبان زد عام ہے ،
 پتن اُتے بیڑی ،بیڑی وچ ہک پھل رتا جیہا 
 مل کے وت ناں وچھڑوں ایہا چن منگوں دعا
ترجمہ !پتن پر کشتی موجود ہے جس میں سرخ گلاب کا ایک پھول ہے، آئو محبوب یہ دعا مانگیں کہ مل کر کبھی بھی جدا نہ ہوں یعنی کشتی محبوب سے جدائی کا بھی سبب ہے ۔
بحری قذاق قدیم ادب کا اہم حصہ! 
 زمانہ قدیم میں بحری قذاق دریائوں اور سمندر کے مسافروں کو لوٹنے کے لئے کشتیوں کا ہی استعمال کرتے تھے ،بر صغیر میں محمد بن قاسم کی آمد بھی اس وقت ممکن ہوسکی جب مسلمان تاجروں کو راجہ داہر کے بحری قذاقوں نے سمندر سفر کے دوران کشتیوں پر لوٹا اور انہیں قید کر لیا ۔سبزیوں کی کاشت کے حوالے سے دریائے سندھ کا نشیبی علاقہ انتہائی زرخیز خطہ ہے، سبز مرچ کے حوالے سے یہ ایشیا بھر میں اپنی ایک شناخت رکھتا ہے دیگر روز مرہ کی سبزیوں کی کاشت کے لئے اس کی زرخیزی قابل فخر ہے۔ ماضی میں جب شاہراہیں عام نہیں تھیں ،نشیبی علاقہ کے عوام اپنی مرچیں اور سبزیاں منڈیوں تک لانے کیلئے نقل و حمل کا ذریعہ ’’کشتی ‘‘کو ہی بناتے تھے۔
طوفان نوح ؑکے بعد حیات کی بقا ایک
 ’’کشتی ‘‘ کے ذریعے ممکن ہوئی 
طوفان حضرت نوح ؑکے بعد کرہ ارض پر حیات کی بقا ایک ’’کشتی ‘‘ کے ذریعے ممکن ہوئی تب 40روز تک زمین سے پانی ابلا اور آسمان سے پانی کی شکل میں شدت کے ساتھ برسا ،طوفان سے قبل اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو حکم فرمایا کہ ہر ایک ذی روح کی حیات کی بقا کی خاطر اس کی نسل کا ایک جوڑا کشتی میں رکھا جائے ۔حضرت نوح ؑ کا نافرمان بیٹا ایک پہاڑی پر چڑھ گیا ، وہ اس زعم میں مبتلا ہوا کہ اس طرح وہ بچ جائے گا لیکن پانی اتنا اوپر آگیا کہ کشتی آسمان سے جالگی۔ ہم جب رات کو کھلے آسمان تلے سوتے ہیں تو آسمان پر بادل کی شکل میں ایک لمبا رستہ نظر آتا ہے کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت نو ح ؑ کی کشتی کی رگڑ ہے اس طرح کشتی میں سوار ہر ایک ذی روح محفوظ رہی کشتی سے باہر جو کچھ بھی تھا وہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا ۔یوں اللہ کے حکم پر کشتی کو کرہ ارض پر زندگی کی بقا سمجھا جاتا ہے جبکہ قدیم ترین کشتی کے استعمال کا بھی ہمیں پتہ چلتا ہے یعنی کشتی ایک ایسا آلہ ہے جو پانی پر تیرتے ہوئے نقل و حمل اور بار برداری مہیا کرتا ہے ۔یہ ازل سے آبی گزر گاہوں پر رواں دواں رہی، انسان سے ازل سے پانیوں کے کنارے آباد ہونے کو ترجیح دی اس طرح پانی اور کشتی کا چولی دامن کا ساتھ رہا ۔ کشتی انسان کیلئے آمدورفت کا پہلا ذریعہ بنی کرہ ارض پر زندگی کی بقا کی خاطر انسان ازل سے پانیوں کے کناروں پر آباد ہونے کو ترجیح دی۔ پانی اور انسان کا رشتہ بھی ازل سے ہے ،پانیوں کو مسخر کرنے کیلئے انسان نے کشتی کا استعمال کیا ۔تاریخی معرکوں ،جنگوں میں فاتح اور مفتوح کیلئے بھی کشتیاں لازم و ملزوم رہیں ۔عظیم سپہ سالار طارق بن زیاد نے اندلس کے ساحل پر کشتیاں جلا ڈالیں تاکہ مسلم سپاہ کے اذہان میں یہ تصور باقی نہ رہے کہ واپسی کیلئے ہمارے پاس کوئی ذریعہ باقی ہے۔ کشتیاں عام طور پر آبی گزر گاہوں ،دریائوں یا محفوظ ساحلی علاقوں میں پائی جاتی ہیں ۔سمندر سے مچھلیاں پکڑنے کیلئے بھی بہت سے ماہی گیر کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں ۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 دسمبر 2001ء میں مجھے کراچی سے سیالکوٹ بسلسلہ ملازمت آڈٹ کے سلسلے میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ ایک ڈیڑھ مہینے کے قیام کے دوران میرا تعارف خواجہ نسیم احمد نے مرے کالج کے سابق پرنسپل اور عظیم شاعر اصغر سودائی سے کروایا ۔ پروفیسر صاحب علم و ادب کے ساتھ ساتھ انتہائی باغ و بہار شخصیت کے مالک ثابت ہوئے ۔ باتوں باتوں میں کہنے لگے محمد اقبال سیالکوٹ سے لاہور گیا تو وہ بالا (اقبال )کبوتر باز سے علامہ اقبال بن گیا اور میں محمد اصغر شروع سے سیالکوٹ میں رہا اور لاہور یا دیگر کسی شہر نہیں گیا تو محمد اصغر سودائی بن گیا ۔ اتفاق سے اس وقت بنک کے رفقاء بھی ہمارے تھے وہ اس گفتگو سے بہت لطف اندوز ہوئے اور اکثر کراچی اور دیگر شہروں میں اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں

مزید پڑھیں

 دنیا کا کل رقبہ 14کروڑ 84لاکھ 29ہزار مربع کلومیٹر ہے، ایک چوتھائی حصے پر 50 اسلامی ممالک موجود ہیں ۔دنیا کی کل آبادی 7.7ارب ہے اس میں مسلمانوں کی تعداد 1ارب 70کروڑ 27ؒٓؒٓلاکھ 42ہزار ہے سوائے عیسائیوں کے کسی اور مذہب کے لوگوں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ نہیں۔    

مزید پڑھیں

پرانے دور میں وکٹوریہ روڈ پر کلب روڈ کو عبور کرکے سیدھا آگے جائیں تو بائیں طرف ایک شاندار عمارت اور اس کے ارد گرد پھیلا ہوا ایک وسیع و عریض خوب صورت باغ نظر آتا تھا ۔یہ سارا علاقہ فرئیر ہال کہلاتا تھا۔ وکٹوریہ روڈ سے ہی بائیں طرف بڑی بڑی اور چوڑی سیڑھیاں اوپر چڑھنا شروع ہو جاتی تھیں جو ایک بہت بڑے باغ میں لے جاتی تھیں ۔

مزید پڑھیں