☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(حکیم محمد سعید شہید) عالمی امور(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(سید مبشر حسین ) تاریخ(مقصود احمد چغتائی) کھیل(ڈاکٹر زاہد اعوان) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
پاکستان کا مطلب کیا لا الہٰ الا اللہ کے نعرہ کے خالق ، پروفیسر اصغر سودائی ( ستارہ امتیاز)

پاکستان کا مطلب کیا لا الہٰ الا اللہ کے نعرہ کے خالق ، پروفیسر اصغر سودائی ( ستارہ امتیاز)

تحریر : مقصود احمد چغتائی

05-17-2020

 دسمبر 2001ء میں مجھے کراچی سے سیالکوٹ بسلسلہ ملازمت آڈٹ کے سلسلے میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ ایک ڈیڑھ مہینے کے قیام کے دوران میرا تعارف خواجہ نسیم احمد نے مرے کالج کے سابق پرنسپل اور عظیم شاعر اصغر سودائی سے کروایا ۔

پروفیسر صاحب علم و ادب کے ساتھ ساتھ انتہائی باغ و بہار شخصیت کے مالک ثابت ہوئے ۔ باتوں باتوں میں کہنے لگے محمد اقبال سیالکوٹ سے لاہور گیا تو وہ بالا (اقبال )کبوتر باز سے علامہ اقبال بن گیا اور میں محمد اصغر شروع سے سیالکوٹ میں رہا اور لاہور یا دیگر کسی شہر نہیں گیا تو محمد اصغر سودائی بن گیا ۔ اتفاق سے اس وقت بنک کے رفقاء بھی ہمارے تھے وہ اس گفتگو سے بہت لطف اندوز ہوئے اور اکثر کراچی اور دیگر شہروں میں اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں

کچھ عرصہ بعد میری کتاب جہاں گردی کی تقریب کا اجراء سیالکوٹ میں ہوا تو اس میں سابق وزیر سماجی بہبود محترمہ سیدہ نیرہ عابدی ، ممبر قومی اسمبلی فردوس عاشق اعوان کے علاوہ صحافیوں اور ایکسپورٹرزکی ایک کثیر تعداد موجود تھی ۔ مقررین نے اپنے اپنے انداز میں پسندیدگی کا اظہار کیا ۔ مجھے اظہار خیال کا موقع دیا گیا جس میں میں نے اپنی سیاست کے بارے ایشیاء یورپ ، امریکہ ، افریقہ ، مشرق وسطیٰ کے بارے میں بتایا ۔ آخر میں صدارتی کلمات میں پروفیسر محمد اصغر سودائی آئے تو ان کا انداز بہت زیادہ منفرد تھا۔
پروفیسر اصغر سودائی صاحب نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر تقریر شروع کی تو وہ انتہائی پر اعتماد اور پروقار تھے ۔
Maqsood! Will you please stand up میں ان کے حکم کو بجا لاتے ہوئے اپنی نشست سے کھڑا ہو گیا ۔ انہوں نے حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا Look at his body traveller. Look at his height. He is a complete۔ شاید وہ دل میں سوچ رہے ہوں کہ یہ وہی مقصود ہے جو ہمارے ساتھ بیٹھ کر بنک کا کام کرتا ہے ۔ اتنا زبردست خراج تحسین پیش کرنے کے بعد انہوں نے اس کتاب کو معلومات کا خزینہ قرار دیا اور پاکستان کی سیاحت کا سنگ میل قرار دیا ۔
ایک ایسے ہی موقع پر جب سیالکوٹ میں میری کتاب پاکستان ٹریول ہینڈ بک Pakistan Travel Hand Bookکی تقریب پذیرائی ہوئی تو شروع میں مقررین نے اسے بہت پسند کیا مگر بعد میں ایک مقرر نے کہا کہ اس میں سیالکوٹ کا ذکر نہیں ہے اور ایک دوسرے مقرر نے کہا اس میں شوگر ان کا ذکر نہیں ہے جو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے ( درحقیقت اس میں شوگر ان کا ذکر ہے مگر کچھ مختصر ہے جسے شاید وہ اجلت میں نہیں دیکھ سکے ۔
آخر میں صدارتی کلمات کے لئے پروفیسر اصغر سودائی آئے انہوں نے صدراتی کلمات کے شروع میں پہلے مقر ر کی طرف اشار ہ کرکے کہا آپ نے جو کہا ہے وہ ٹھیک ہے ۔ پھر انہوں نے دوسرے مقرر کی طرف اشارہ کرکے کہا آپ نے جو کہا ہے وہ بھی ٹھیک ہے مگر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں 35سال اقتصادیات وہ نہیں پڑھائی جو مقصود چغتائی نے اس کتاب کے ذریعے پڑھا دی ہے کیونکہ اس میں پاکستان کے کسی بھی خطے پر پہنچنے کے طریقے بھی ہیں فاصلہ درج ہے ۔ ہوٹلوں کے راستے بھی دئیے گئے اور ان کے نرخ بھی موجود ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے قطر میں منعقد ہونے والے مشاعرے کا تفصیل سے ذکرکیا جس میں چند بنیادی معلومات کی عدم دستیابی پر وہ وقت مقررہ سیالکوٹ سے کراچی اور آگے قطر کی فلائٹ نہیں لے سکے تھے ۔ ان کے تلخ تجربات نے سامعین کو رنجیدہ کر دیا ۔ وہ پہلے مقررین جو کتاب پر چند اعتراضات کر چکے تھے نے اپنی انگلیوں کو دانتوں کے نیچے دبانا شروع کر دیا ۔ تقریب ختم ہونے کے بعد مجھے وہ حضرات ملے اور کہنے لگے جناب آپ نے ہماری بات کا بُرا تو نہیں منایا ۔ میں نے جواب دیا نہیں کوئی بات نہیں مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ پروفیسر اصغر سودائی انہیں پہلے ہی جواب دے چکے تھے ۔
ان میں سے ایک صاحب نے دوسرے سے کہا ہم بھی سیاست کے حوالے سے بیرون ملک ہو کر آئے ہیں کیوں نہ ہم بھی کتاب لکھیں ایک دوسرے نے پہلے کو جواب دیا جو کہ سینئر صحافی تھا ہمارے ہاتھ تھک جاتے ہیں لکھتے لکھتے اب ہم مزید نہیں لکھ سکے ۔
چنانچہ انہوں نے لکھنے کی مشقت کو ملتوی کر دیا ۔ اس واقعہ کے بعد وہ دوست مجھے پہلے سے زیادہ پیار کرنے لگے اور اپنے گھر کا فرد سمجھنے لگے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پروفیسر اصغر سودائی سے تعلقات دوستی میں بدل گئے ۔ جب بھی سیالکوٹ جانے کا اتفاق ہوتا میں ضرور ان سے ملنے جاتا ۔ وہ زیادہ تر امیلیا ہوٹل ٹھہرتے جو کہ سیالکوٹ کا پاک ٹی ہائو س تھا اور یہاں تمام ادبی اور ثقافتی نشستیں منعقد ہوتی ہیں اور ادب پسند حضرات کا ہجو م رہتا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ یہاں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران اور ایکسپورٹر بھی بیٹھنے کو فخر کرتے تھے (چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ ہوٹل بھی اب پاک ٹی ہائوس لاہور کی طرح بند ہو گیا ہے ) ۔
2004ء میں وہ اپنا زیادہ وقت گھر میں اپنی بیوی کی تیمارداری پر گزارتے اور اپنی اہلیہ کی موت کا ان کو صدمہ پہنچا ۔ پروفیسر اصغر سودائی سے آخری ملاقات 2007ء میں ہوئی جب ہمیں معلوم ہوا کہ ان کی طبیعت کافی ناساز ہے ۔ میرے سمیت یہ تین افراد کا قافلہ قاضی منشا اور سالار قافلہ جناب مجاہد بودلہ محیط تھا ۔ اصغر سودائی کی رہائش گاہ پر پہنچا ۔ ان کے بیٹے سلمان ہمیں بڑے پیار سے ملے ۔ انہوں نے اپنے والد کی تیمارداری میں کسر نہیں اٹھا رکھی تھی ۔
پروفیسر اصغر سودائی صاحب سے ہماری ملاقات کروائی گئی ۔ اس کے بعد میں نے حسب معمول اپنی دوسری کتاب بینکنگ گائیڈ اور قرضہ لیں اور کاروبار شروع کر و پیش کیں ۔ زیادہ نقاہت کے باعث وہ بول نہیں سکتے تھے ۔ مگر ان کی آنکھوں میں چمک اورچہرے پر جوش وولولے کے آثار تھے ۔ انہوں نے کتاب پر لکھی تحریر پر اپنی انگلی پھیرنا شروع کر دی اور آہستہ آہستہ بولنا شروع کردیا ۔ یہ عمل ان کے علم دوستی کا عظیم منظر تھا ۔ آخر کار ہم تینوں نے باری باری وطن عزیز کے عظیم محسن پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ کے خالق پروفیسر اصغر سودائی کا ماتھااور ہاتھ چومے ۔ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ اور شاعر مشرق علامہ اقبالؒ اور دیگر مشاہیر نے ہمیں آزادی وطن کی نعمتوں میں سانس کا موقع دیا وہاں اس نعرے نے لوگوں کے دلوں میں نیا جوش ولولہ دیا اور یہ آزادی کا مجاہدانہ بلکہ نعرہ مستانہ (یعنی Salogan)بن گیا تھا ۔ جذبہ ایمانی سے لبریز گفت مسلمانان ہند شہید ہوئے عورتوں کی عصمتیں لٹیں یا وہ لوگ جو گھر بار اور اسلام کی اس جنگ میں وطن عزیز میں بحفاظت پہنچ گئے غازی بنے ۔
تفصیلات کے مطابق مرحوم کا نام محمد اصغر اور تخلص سودائی تھا ۔ آپ 17ستمبر 1926ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔ اسلامیہ کالج لاہور سے اقتصادیات میں ایم اے کیا ۔ جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ اور علامہ اقبال کالج سیالکوٹ میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے ۔ 1958ء میں ڈیرہ غازی خان میں ڈائریکٹر تعلیمات مقرر ہوئے اور دوران ملازمت قابل قدر خدمات انجام دیں ۔ آپ سیالکوٹ کی ادبی محفلوں کی جان تھے ۔ عمر بھر شعر و ادب سے وابستہ رہے ۔ ہم عصروں سے محبت اور جونیئر ز سے شفقت آپ کا معمول تھ ا۔ 1944 ء میں جب قائداعظم ؒسیالکوٹ کے دورے پر آئے تو آپ نے قوم کو بے مثال نعرہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ دیا کہ جس کی بدولت تحریک پاکستان میں شدت آگئی ۔ ان کا یہ نعرہ اس قدر مقبول ہوا کہ زبان زد عام ہو کر آپ کی پہنچان بن گیا ۔ انہوں نے زمانہ طلب علمی میں تحریک پاکستان کے ایک فعال کارکن کا کردار ادا کیا ۔ آپ کا پہلا نعتیہ مجموعہ کلام شہ دوسرا شائع ہوا ۔ بعد ازاں آپ کے تین شعری مجموعے ، کرن گھٹا کی طرح چلن صبا کی طرح اور بدن حنا کی طرح اشاعت پذیر ہوئے ۔ آپ کو سیالکوٹ کی ادبی فضا میں ایک خاص مقام حاصل تھا ۔ آپ نے اپنی زندگی میں شہر اقبال میں متعدد یادگار مشاعروں کا اہتمام کیا جن کے نامور شعراء احسان دانش ، جگر مراد آبادی ، فیض ، احمد ندیم قاسمی ، حبیب جالب ، ساغر صدیقی اور دیگر کو مدعو کیا جاتا رہا ۔
قریباً چار پانچ سال پہلے آپ پر فالج کا حملہ ہوا مگر اس حالت میں بھی اہل خانہ کے بقول انہوں نے ہمیشہ جرات و برداشت کا مظاہرہ کیا آپ کا انتقال علمی و ادبی حلقوں کے لئے بڑا سانحہ ہے ۔ آپ کی گراں قدر علمی و ادبی خدمات کی بدولت آپ کا نام تادیر زندہ رہے گا اور آپ کے شعر قارئین کی سماعتوں میں اس طرح رس گھولتے رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے آمین ۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے آمین نمونے کے طور پر آپ کے چند اشعار پیش ہیں ۔
اس کا انداز دلربا میں تھا
دیکھتا وہ تھا آئینہ میں تھا
رات دل کھول کر کئے ہیں سخن
ایک میں اور دوسرا میں تھا
……………
ہم اجر عبادت کی حدود سے گزر آئے
اب لذت سجدہ بھی گنہگار کرے ہے
باندھا ہے اس شوخ سے پیمان محبت
پل بھر میں جو دروازے کو دیوار کرے ہے
پھول کو یوں نہ لگا منہ کہ غضب ہو جائے
برگ گل کو تو ہوس ہے ترا لب ہو جائے
یہ بھی امکاں ہے کہ دیوار کا پہلا پتھر
ساری دیوار کے گرنے کا سبب وہ وجائے
عقل کا پردہ تہذیب کہاں تک اصغر
آدمی اصل میں دیوانہ ہے ، جب ہو جائے

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 دنیا کا کل رقبہ 14کروڑ 84لاکھ 29ہزار مربع کلومیٹر ہے، ایک چوتھائی حصے پر 50 اسلامی ممالک موجود ہیں ۔دنیا کی کل آبادی 7.7ارب ہے اس میں مسلمانوں کی تعداد 1ارب 70کروڑ 27ؒٓؒٓلاکھ 42ہزار ہے سوائے عیسائیوں کے کسی اور مذہب کے لوگوں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ نہیں۔    

مزید پڑھیں

  ایک کہاوت ہے کہ کسی نگری کے شہزادے کو ایک عجیب و غریب بیماری لاحق ہو گئی جس کا کوئی تریاق نہ تھا ۔ شہزادے نے قرب و جوار سے قابل طبیب بلائے مگر اس کی بیماری کی تشخیص ہوئی اورنہ ہی علاج کا پتہ چلا۔ ایک سیانے نے بادشاہ سلامت کو مشورہ دیا کہ ماہر فلکیات کو بلایئے، ہوسکتا ہے وہ کوئی اچھا مشورہ دے پائیں ۔ماہر فلکیات آئے تو شہزادے نے ان کو اپنی لاعلاج بیماری کا پتہ لگانے اور علاج کی بابت دریافت کیا۔انہوں نے ’’پتریاں ‘‘ڈال کر فال نکالی اور شہزادے سے کہا کہ آپکی بیماری کا علاج یہ ہے کہ آپ کسی ایسے فرد کو ڈھونڈیئے جس کے چہرے پر حقیقی خوشی ہو ،جو دنیا و مافیا کے غم سے بے نیاز ہو ،آپ اس فرد کے پاس ننگے پائوں چل کر جائیں اور اس کے پائوں کا جوتا پہنیں ،یہ بیماری اللہ کے فضل سے ختم ہوجائے گی اور آپ تندرست ہوجائیں گے ۔    

مزید پڑھیں

پرانے دور میں وکٹوریہ روڈ پر کلب روڈ کو عبور کرکے سیدھا آگے جائیں تو بائیں طرف ایک شاندار عمارت اور اس کے ارد گرد پھیلا ہوا ایک وسیع و عریض خوب صورت باغ نظر آتا تھا ۔یہ سارا علاقہ فرئیر ہال کہلاتا تھا۔ وکٹوریہ روڈ سے ہی بائیں طرف بڑی بڑی اور چوڑی سیڑھیاں اوپر چڑھنا شروع ہو جاتی تھیں جو ایک بہت بڑے باغ میں لے جاتی تھیں ۔

مزید پڑھیں