☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل) دین و دنیا(طاہر منصور فاروقی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(سید وقاص انجم جعفری) کچن خواتین فیشن(طیبہ بخاری ) تاریخ(عذرا جبین) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) متفرق(اسد اسلم شیخ)
سانحہ جلیانوالہ باغ ،پنجاب میںکیا ہوا؟

سانحہ جلیانوالہ باغ ،پنجاب میںکیا ہوا؟

تحریر : عذرا جبین

04-28-2019

13اپریل2019کو جلیانوالہ باغ میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی کی 100ویں برسی منائی گئی ۔سانحہ جلیا نوالا باغ کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔کرنل ڈائر نے ٹھیک ایک سو بر س قبل بیساکھی میلے میں شریک افرادپر نشانہ لے کر گولی مارنے کا حکم دیا تھا ، ایک گولی سے تین تین افراد زخمی یا ہلاک ہوئے۔یہ میلہ آزادی کے حق میںبھی نعروں میں تبدیل ہو گیا تھا۔

تاریخی دستاویزات کے مطابق گولیاں کم چلیں اور لوگ زیادہ ہلاک یا زخمی ہوئے ۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ جلیانوالہ باغ میںکرنل ریگ نالڈ ڈائر(Reginald Dyer) کی فوج نے براہ راست نشانہ لے کرفائر کیے۔ حقیقت تو یہی ہے مگر اس کا پس منظر بہت مختلف ہے۔ دراصل لاہور ، راولپنڈی، جہلم، فیصل آباد، قصور ، احمد آباداور امر تسر میں انگریزوں کیخلاف تحریک زوروں پر تھی۔ تحریک میں دیال سنگھ کالج لاہور ، اسلامیہ کالج سول لائنز اور ریلوے روڈکے طالب علموں نے جان ڈال دی۔ یہ طالب علم کبھی ریلوے سٹیشن پر مظاہرہ کرتے تو کبھی انگریز افسروں کے دفاتر کے باہر اپنے حق کی آواز بلند کرتے۔ انگریز سرکار بہت تنگ تھی۔ درمیان میں گاندھی ٹپک پڑے۔ ان کے حامیوں نے پرتشدد مظاہرے کئے۔

انہوں نے گھیرائو، جلائو ، آتشزدگی ، لوٹ مار کو ہوا دی ۔جس پر برطانوی بپھر گئے۔انگریز وں نے ہندو اورکچھ مسلمان طالب علموں کو ریلوے سٹیشن پر حملہ کرنے ، سرکاری عمارت کو نقصان پہنچانے اور کاغذات کو آگ لگانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا۔اس دوران ریلوے لائنز اور پلوں کو نقصان پہنچانے کی جھوٹی خبریں بھی جاری کی گئیں۔ پٹواری نے انگریز کے بنگلے پر دھاوا بولنے کی جھوٹی خبر بھی جاری کی۔ پٹواری کلچرمیں اس قسم کی خبریں 1910ء سے ہی چل رہی ہیں، 1919ء میں عروج پر تھیں۔ چنانچہ انگریزوں نے کرنل ڈائر کو ’’ڈسپلن سکھانے‘‘کی ڈیوٹی سونپ دی۔ ایک مسلمان طالب علم محمد بشیر کو سزادینے اور 47دیگر طالب علموں کو کالجو ں سے نکالنے کا حکم جاری کیا۔ایک اطلاع کے مطابق انہیں سزائے موت دی گئی تھی۔

حکومت پاکستان نے جلیانوالہ باغ کے قتل عام کے اصل حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے 70دستاویزات عوام کے لیے کھول دی ہیں ۔یہ دستاویزات جہاں انگریزی ظلم وستم،جبراورکشت وخون کی گواہ ہیں وہیں ان سے 100برس قبل جلیانوالہ باغ میں ہونے والے قتل عام کے کئی رازوں سے بھی پردہ اُٹھتا ہے۔

’’دستاویزات بولتی ہیں ۔۔۔جلیانوالہ باغ کے قتل عام اور پنجاب میں مارشل لاء دور میں کیا ہوا؟‘‘یہ موضوع ہے ان 70کے قریب دستاویزات کا جن کی نمائش کا انتظام ڈی آرکائیو عباس چغتائی اور افتتاح سیکرٹری آرکایئو طاہر یوسف نے کیا۔ دستاویزات سے جلیانوالہ باغ کے سانحہ اور تحریک آزادی پر نئی روشنی پڑتی ہے ۔ان کے مطابق انگریز حکومت نے لاہور ،گوجرانوالہ ، گجرات،جہلم ، امرتسر اور فیصل آباد میں 1919میں مارشل لاء لگانے کا حکم جاری کیا۔دستاویز کے مطابق انگریزوں نے سانحہ کے دو روز بعد لاہور،راولپنڈی، جہلم ، امرتسر ،پٹنہ، احمد آباد اور قصور میں مارشل لاء لگانے کا ٹیلی گرام بھیجا۔19اپریل کو لکھے گئے ٹیلی گرام کے مطابق لاہور میں 10اپریل کو مظاہروں میں شدت آگئی تھی۔

ان دستاویزات کے مطابق ،انگریز اور اس کی فوج پاکستانی پنجاب میںحضرت قائد اعظمؒ اور کالجوں کے طالب علموں کی تحریک آزادی پر سیخ پا ء تھے۔برطانوی فوج کی وہی حالت تھی جو اب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ہے ۔لاہور، راولپنڈی، جہلم، فیصل آباد اور قصور میں انگریز مخالف تحریک کو دبانے کے لیے کرنل ڈائرکو خصوصی طور پر طلب کیا گیا تھا۔انڈیاکے مختلف حصوں سے بھی فوجی دستے طلب کئے گئے تھے ۔

انگریزوں کو سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا لاہو ر میں تھا جہاں مسلم لیگی نوجوان اور کالجوں کے طالب علموں سے تحریک میں پیش پیش تھے۔ معاملہ برطانوی ہاوس آف لارڈزتک پہنچا۔لارڈ سینڈی ہیمن کو پل پل کی خبر دی جا رہی تھی ۔ان کے حکم پر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا،مارشل لاء کمیشن اور سمری کورٹس قائم کر دی گئیں۔کمیشن اور سمری عدالتوں کے حکم پر لاہور کے دیال سنگھ کالجو ں سمیت مختلف کالجوںسے 47طلب علم خارج کردیئے گئے۔ محمد بشیر کی سزاکی توثیق برطانوی حکمران نے بھی کردی ،جس کے بعد مظاہروں کو دبانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر مری نے بھی مزید فوج طلب کرلی ۔

ساتھ ہی انہوں نے خط میں مسلمانوں کو بھیجنے کی بجائے یورپی اور اینگلوانڈین دستے طلب کئے۔مگر تحریک آزادی لاہور کے کالجوں سے قصور ،احمد آباد ،راولپنڈی ،امرتسراور پٹنہ تک پھیل گئے ۔پورے راولپنڈی ڈویژن میں مظاہرے شروع ہوگئے عین مارشل لاء کے نفاذ سے قبل لوگوں نے راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنرباٹن کی کارپر پتھراؤ کیا اس دن بارٹن کو تحریک آزادی کے متوالوں کی یہ حرکت ایک آنکھ نہ بھائی چنانچہ انہوں نے اسی روز عوام کو سبق دینے کے لیے جہلم میں مارشل لاء لگانے کا مشورہ دیایہ خط چیف سیکرٹری کو ارسال کردئے گئے مختلف شہروں میں مارشل لاء کے نفاذ کے خطوط چیف سیکرٹری کوبھیج دیئے گئے ۔تاہم 14جون کو ان تمام شہروں سے مارشل لاء ہٹا دیا گیا۔

چنانچہ ایک مسلمان طالب علم محمد بشیر کو مارشل لاء کمیشن کی جانب سے سزااور47 طالب علموں کے کالجوں سے اخراج کے بعد شروع ہونے والی تحریک کی سنگین نوعیت اختیارکرچکی تھی۔ جہلم میں ڈپٹی کمشنر کی کار پر پتھراؤ اور لاہور اور قصور میں تحریک آزادی پر سیخ پاء کرنل ڈائر نے بیساکھی میلے پر فائر کھولنے کا حکم دیا۔پاکستان گورنمنٹ کی جاری کردہ دستاویزات کے مطابق کل 291افراد مارے گئے۔ دو عورتیں اورپانچ بچے بھی انگریز وںکی گولیوں کا نشانہ بنے ۔

امرتسر میں10اپریل کو قتل کے ایک مقدمے کی سماعت ہوئی ۔24اپریل کو لکھے گئے ٹیلی گرام کے مطابق ’’یہ مقدمہ امرتسر کی مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کا حکم جاری ہوا‘‘۔اسی ٹیلی گرام کے مطابق ’’فیصل آباد اور گوجرہ میںبھی مارشل لاء کے خلاف ہڑتالوں کا آغاز ہوگیا۔اسی سلسلے میں تین مئی کو گورنر راولپنڈی نے بھی ایک خط چیف سیکرٹری پنجاب کو لکھاجس میں انہوں نے جہلم میں ڈی سی کی کار پر پتھراؤ کرنے والے ہجوم کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا حکم دیا ۔انہو ں نے جہلم میں مارشل لاء لگاتے ہوئے حکم دیا کہ’’ لوگوں کو ڈسپلن میں سکھانے کی سزا دی جائے‘‘۔18

اپریل 2019کو سہ پہر 4بجے یہ خط فرینک جانسن کمانڈنگ لاہورسول ایریا کے دستخطوں سے جاری ہوا۔مارشل لاء نوٹس نمبر16کے مطابق یہ طالب علم باغیانہ جذبات ابھارنے میں ملوث تھے ، ان تمام طلب علموں کو اداروں سے فوری طورپر نکال دیا گیا،انہیں دن میں چار مرتبہ(صبح 7بجے ،11بجے ، سہ پہر کو 3بجے اور شام کو 7بجے) کمانڈنگ آفیسر کے دفترمیںحاضری دینے کا حکم دیا۔ ایک اور مارشل لاء آرڈر 15اپریل کو جاری ہوا جس میںکہا گیا کہ امرتسر میں نسل جذبات بپھرے ہوئے ہیں۔8اور 10سالہ دو بچوں کو بھی چھ چھ کوڑے مارے گئے ۔اس کی تصدیق 8ستمبر1919کو ڈپٹی کمشنر قصور نے کی۔ دونوں بچوں کو ننگی پیٹ پر پوری طاقت کیساتھ فوجی افسر نے کوڑے مارے ۔ 14اپریل کو فیصل آباد میں تحریک آزادی کے متوالوں کو دبانے کے لئے بنگال اسٹیٹ آفینسز ریگولیشن نمبر1804کے تحت کارروائی کا آغاز ہوا۔لاہور کی مارشل لاء اتھارٹی کو بھی رہنما اصول جاری کئے گئے ۔17

اپریل 1919کو مارشل لاء آرڈر نمبر30 سے اس خط کی تصدیق ہوتی ہے ۔اس خط کے مطابق دیال سنگھ کالج لاہور کے محمد بشیر کو سزااور دوسرے طالب علموں کے اخراج کے بعد زبردست مظاہرے شروع ہوگئے تھے ۔مظاہرین کو روکنے کے لیے اپریل کے پہلے ہفتے میںدیال سنگھ کالج کے گردونواح میں کرفیو لگادیا گیا تھا جبکہ ایس ڈی کالج کے تمام طلبہ کو فوری طور پر جیلوں میں ڈالنے کا بھی حکم ہوا ۔یہ تحریک امرتسر سے زیادہ لاہور ،قصور اورفیصل آباد میں طاقت ور تھی ۔یہی نہیں، انگریزوں نے بحری اوربری فوج کے جوانوں کی اخبارات میں تصاویر شائع کیں ، طالب علموں نے ان تصاویر کے نیچے مردہ باد لکھ کر غصہ اتارا۔ انگریزوں نے اسے ’’ گندے ریمارکس‘‘ قراردے کر مقدمے درج کرنے کا حکم دیا۔ 5مئی کولکھے گئے خط سے انکشاف ہوا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں بھی تحریک آزادی کے لیے طالب علم جمع ہوگئے تھے۔ افغانی بھی ان میں شامل تھے چنانچہ انگریزوں نے تمام افغانوں کو گرفتارکرکے فوری طورپر شہر سے نکالنے کا حکم دیا۔دوافغانوں کی بے دخلی کے خلاف 10مئی کو لکھے گئے ۔

اس سلسلے میں 23مئی کو چیف سیکرٹری پنجاب نے ایک خط لکھا کہ ’’قصور میںبغاوت ( تحریک آزادی )پر مارشل لاء کمیشن اور سمری عدالتوں نے 13افراد کو سزائے موت اور اتنے ہی افراد کو عمر قید کی سزا سنائی‘‘ ایک اور خط کے مطابق چوہدری نذر محمد زیلدار دلاور کو چوہدری غلام حسین دلاور کوبھی تحریک آزادی چلانے پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔

غلام حسین وہاں کا ایک درزی تھا جو تحریک آزادی کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اس نے چھوٹے موٹے کارخانوں کے مزدوروں اور کاشتکاروں کو بھی اپنے ساتھ ملایا ۔انگریزوں نے لکھا کہ کوئی اپنی زبان یا بینک کا کتنا ہی تیز کیوں نہ ہواس کو سزا دی جائے تحریک آزادی کے وقت کئی زمیندار لاہور میںتھے انگریزو ںنے ان سے بھی مدد لینے کی درخواست کی جبکہ کچھ کو مشکوک قرار دیا گیا ان میں چوہدری عطاء اللہ ،چوہدری غلام قادر اورچوہدری سردار خان بھی شامل تھے اسی طرح مریدکے کے شیخ واحد علی پر کڑی نگارہ رکھنے کی ہدایت دی گئی انہوں نے جوائنٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ باس ورتھ سمتھ کی حکم عدولی کا اختتام کیا اوروہ نوٹس ملنے پر پیش نہیں ہوئے انگریزوں نے اپنے خط میں اسسٹنٹ کمشنر لالہ شنکر داس کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا تاہم وہ ہڑتال کے پہلے روز اسے روکنے میں ناکام رہے اسی طرح حافظ آباد میں تحصیل دارلال مٹھاداس ، انسپکٹر رندھیر سنگھ اور منصف نارائن سنگھ نے بھی حقائق چھپانے کی کوشش کی انگریزوں نے اپنے خط میں ان سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ہدایت دی انگریزوں نے مختلف شہروں میں تحریک کو دبانے کے لیے سرکاری عملہ کو بھی متحرک کیاریلوے سٹیشن کے سٹاف کو خصوصی ہدایت جاری کی گئی انگریزوں نے ریلوے ملازمین میں آریہ سماج سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد کو بھی کم کرنے کا حکم دیا ہیڈ کلرک جیکب نے فائلوں کو آگ لگنے سے بچا لیا جس نے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا اسی طرح شیخ تاج دین سپرنٹنڈنٹ ڈپٹی کمشنر آفس کی خدمات کو بھی سراہا گیا کیوں کہ وہ ہجوم کوسنبھالنے میں کامیاب رہے اس روز پنڈت اقبال نارائن میونسپل سیکرٹری نے بھی واقعات کی تاریخ میں اپنا موثر کردار اختیار کیا۔

لاہور میں مظاہروں کے بعد امر تسر کا سانحہ پیش آیا:ہنٹر کمیشن 1919

ء میں انگریز سرکار نے معاملے کی جانچ کیلئے ایک کمیشن بٹھایا۔ اس کے سربراہ ہائوس آف لارڈ کے ممبر لارڈ ہنٹر تھے۔ جبکہ دیگر ممبران میں میجر جنرل جارج بیرو پشاور ڈویژن میں کمانڈنگ آفیسر ، سابق جسٹس جگت نارائن ، ممبر لیجسلیٹو کونسل تھامس سمتھ، سردار صاحبزادہ سلطان محمد خان، ممتاز الدولہ بھی شامل تھے جبکہ ایچ جی سٹوک بھی ممبر تھے۔ جو بعد میں انکوائری کمیشن سے مستعفی ہو گئے۔

یہ انکوائری محض جلیانوالہ باغ تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے پورے پنجاب ، امر تسر اور ہندوستان کے بعد دوسرے شہروں میں بھی تحریک آزادی پر اپنی رپورٹ پیش کی۔ الٰہ آباد ، ممبئی ، رنگون، وغیرہ بھی اس کے دائرہ کار میں شامل تھے۔ کیونکہ افراتفری اور انتشار کی کیفیت میں دہلی اور ممبئی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔ انگریز سرکار اس کی اصل تہہ تک پہنچنا چاہتی تھی۔ کمیٹی نے انکوائری کے دوران لاتعداد گواہوں کے بیانات بھی رپورٹ کیے۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس 19اکتوبر کو ہوا جس میں انکوائری کا طریقہ کار طے کیا گیا۔

جس کے بعد 8دن تک دہلی میں گواہیاں طلب کی گئیں ۔ کمیشن نے لاہور میں 29دن انکوائری کی جبکہ احمد آباد اور ممبئی میں 3-3دن تک انکوائری کی گئی۔ کمیٹی نے فروری ہی نہیں بلکہ نومبر میں ہونے والے واقعات کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں روح افسرودہ اعلان کیا کہ سیدھے فائر مارنے سے ایک گولی سے دو تین اور بسا اوقات چار افراد زخمی ہوئے۔ صحیح اموات کا کچھ اندازہ نہیں۔ تاہم عمومی طور پر یہی تصور کیا جاتا ہے کہ سانحہ جلیانوالہ میں 271افراد مارے گئے۔

رپورٹ کے مطابق لاہور کی آبادی 2لاکھ 30ہزار اور 20میل دور مشرق میں واقع امرتسر کی آبادی ڈیڑھ لاکھ تھی۔ احمد آباد کی آبادی 2لاکھ 80ہزار تھی ، 78کے قریب اہم ملوں کی وجہ سے یہ بڑا صنعتی شہر تھا ۔ 10اپریل کے واقع کے بعد پنجاب میں حالات تیزی سے خراب ہوئے اورنتیجہ مارشل لاء کی صورت میں نکلا۔ لاہور میں مظاہروں کے بعد امر تسر کا سانحہ پیش آیا۔ تین دوسرے اضلاع میں بھی گڑ بڑ ہوئی۔ اسی دوران افغان جنگ کیلئے فوجی دستے طلب کیے تھے۔ مگر پنجاب میں صورتحال بگڑنے پر ہندوستان کے دوسرے حصوں سے فوج پنجاب طلب کر لی گئی۔

شدید طوفان بادو باراں سے فوج کی نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئی۔ اور انگریز کو 12جون تک مطلوبہ تعداد میںفوج ہی نہ مل سکی۔ ادھر آل انڈیا کانگریس نے انکوائری کمیشن کا بائیکاٹ کر دیا۔ ہنٹر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مارشل لاء کے نفاذ کو سماجی بے چینی اور امن و امان میں خرابی کی جڑ قرار دیا۔ اسی سے تحریک آزادی ابھری۔گاندھی کی ہدایت پر چلائی جانے والی تحریک میں تشدد داخل ہو گیا اور احمد آباد میں 9لاکھ روپے کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ۔اس دوران پولیس نے 748 گولیاں چلائیں۔ جس سے 28افراد ہلاک اور 123زخمی ہوئے۔

ہنٹر نے اپنی رپورٹ میں گولی مارنے کے حکم کو بالکل جائز قرار دیا۔ فوجی طاقت کا استعمال ناگزیر تھا کیونکہ10اپریل تک صورتحال تشویشناک ہو چکی تھی۔ امن و امان کے قیام کیلئے ایسا کرنا ضروری تھا۔ احمد آباد میں ہندوئوں نے قتل و غارت گری کو بھی ہوا دی تھی۔ دہلی میں بھی حالات گاندھی کی آمد کیساتھ خراب ہوئے ۔ اگر ہندو پر امن رہتے تو پولیس اور فوج کو طاقت استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔

جلیانوالہ باغ میں اتنی ہلاکتیں ہوئیں؟

جلیانوالہ باغ میں اتنی ہلاکتیں ہوئیں، اس بارے میں مقتولین کی تعداد سے انگریز بھی ناواقف تھے۔ اس ضمن میں ایک نوٹس جاری بھی ہوا تھا جس میں لکھا تھاکہ ’’ گورنمنٹ کے پاس کئی طرح کی مختلف تعداد ان مقتولین اشخاص کی جو مورخہ 13اپریل کو جلیانوالہ باغ میں مارے گئے، موصول ہوئی ہے ۔اس لیے تمام اشخاص سے جو اپنی ذاتی واقفیت یا معتبر ذرائع کی بناء پر کسی متوفی شخص جو مذکورہ بالا کوجلیانوالہ باغ میں مارے گئے کا کلام دے سکتے ہیں ۔ التماس ہے کہ وہ ان ناموںکی اطلاع بذریعہ تاریخ ہیلتھ آفسیر صاحب میونسپل کمیٹی از قبل 20اگست دے دیوے ایسی اطلاع میںنام متوفی ، ولدیت ،جائے رہائش اور پیشہ درج ہونا چاہئے دستخط ایف ایچ قائم مقام ڈپٹی کمشنر بہادر رضا امرتسر۔‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 دسمبر 2001ء میں مجھے کراچی سے سیالکوٹ بسلسلہ ملازمت آڈٹ کے سلسلے میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ ایک ڈیڑھ مہینے کے قیام کے دوران میرا تعارف خواجہ نسیم احمد نے مرے کالج کے سابق پرنسپل اور عظیم شاعر اصغر سودائی سے کروایا ۔ پروفیسر صاحب علم و ادب کے ساتھ ساتھ انتہائی باغ و بہار شخصیت کے مالک ثابت ہوئے ۔ باتوں باتوں میں کہنے لگے محمد اقبال سیالکوٹ سے لاہور گیا تو وہ بالا (اقبال )کبوتر باز سے علامہ اقبال بن گیا اور میں محمد اصغر شروع سے سیالکوٹ میں رہا اور لاہور یا دیگر کسی شہر نہیں گیا تو محمد اصغر سودائی بن گیا ۔ اتفاق سے اس وقت بنک کے رفقاء بھی ہمارے تھے وہ اس گفتگو سے بہت لطف اندوز ہوئے اور اکثر کراچی اور دیگر شہروں میں اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں

مزید پڑھیں

 دنیا کا کل رقبہ 14کروڑ 84لاکھ 29ہزار مربع کلومیٹر ہے، ایک چوتھائی حصے پر 50 اسلامی ممالک موجود ہیں ۔دنیا کی کل آبادی 7.7ارب ہے اس میں مسلمانوں کی تعداد 1ارب 70کروڑ 27ؒٓؒٓلاکھ 42ہزار ہے سوائے عیسائیوں کے کسی اور مذہب کے لوگوں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ نہیں۔    

مزید پڑھیں

  ایک کہاوت ہے کہ کسی نگری کے شہزادے کو ایک عجیب و غریب بیماری لاحق ہو گئی جس کا کوئی تریاق نہ تھا ۔ شہزادے نے قرب و جوار سے قابل طبیب بلائے مگر اس کی بیماری کی تشخیص ہوئی اورنہ ہی علاج کا پتہ چلا۔ ایک سیانے نے بادشاہ سلامت کو مشورہ دیا کہ ماہر فلکیات کو بلایئے، ہوسکتا ہے وہ کوئی اچھا مشورہ دے پائیں ۔ماہر فلکیات آئے تو شہزادے نے ان کو اپنی لاعلاج بیماری کا پتہ لگانے اور علاج کی بابت دریافت کیا۔انہوں نے ’’پتریاں ‘‘ڈال کر فال نکالی اور شہزادے سے کہا کہ آپکی بیماری کا علاج یہ ہے کہ آپ کسی ایسے فرد کو ڈھونڈیئے جس کے چہرے پر حقیقی خوشی ہو ،جو دنیا و مافیا کے غم سے بے نیاز ہو ،آپ اس فرد کے پاس ننگے پائوں چل کر جائیں اور اس کے پائوں کا جوتا پہنیں ،یہ بیماری اللہ کے فضل سے ختم ہوجائے گی اور آپ تندرست ہوجائیں گے ۔    

مزید پڑھیں