☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا رپورٹ متفرق خصوصی رپورٹ شخصیت فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل انٹرویوز خواتین روحانی مسائل
خواتین کیلئے مفید اور گھریلو مشورے

خواتین کیلئے مفید اور گھریلو مشورے

تحریر :

10-13-2019

 چند غذائیں جنہیں کبھی محفوظ نہ کریں

 

روزانہ کھانا پکانے والی خواتین اکثر اپنی آسانی کی خاطر کھانے میں استعمال ہونے والی چیزوں کو فریزر میں کافی مقدار میں محفوظ کر لیتی ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ بار بار بازار کاچکر نہ لگانا پڑے اور اکٹھی چیزیں خر ید لی جائیں،بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں کافی دن تک فریج میں رکھنے سے بھی ان کی افادیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا نہ ہی ان کا ذائقہ تبدیل ہوتا ہے،لیکن چند چیزیں ایسی بھی ہیں جنہیں زیادہ دن تک فریزیز میں محفوظ رکھنے کے کئی نقصانات ہیں۔آئیے ان چیزوں اور ان کے نقصانات کے بارے میں آپ کو قدرے تفصیل سے بتائیں۔

 

ٹماٹر:ہمارے ہاں کھانوں کا تصور شاید ٹماٹر کے بغیر نا ممکن سمجھا جاتا ہے۔شاید ہی کوئی ایسا سالن ہو گا جس میں ٹماٹر کا استعمال نہ ہوتا ہو۔اس سستی سبزی کے بے شمار فوائد بھی ہیں یہ نہ صرف کھانوں بلکہ حسن نکھارنے میں بھی معاون ہے۔ٹماٹر چونکہ ہمارے زیادہ تر کھانوں کا اہم حصہ مانا جاتا ہے اس لیے اکثر خواتین اکٹھے کافی مقدار میں خرید کر ان کا پیسٹ بنا کے انہیں فریزمیں محفوظ کر لیتی ہیں۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ چند دن بعد اسے جب آپ کھانوں میں استعمال کرتے ہیں تو وہ ذائقہ نہیں آتا جو تازے ٹماٹر کا ہوتا ہے۔ٹماٹر چونکہ نرم ساخت والی سبزی ہے اور اس کو زیادہ دن تک فریج میں رکھنے سے اس کی ساخت مزید ڈھیلی پڑ جاتی ہے اس لیے کئی خواتین گرائینڈ کیے بغیر ہی ٹماٹر کو فریزر میں رکھ دیتی ہیں۔اس کا نقصان بھی یہی ہوتا ہے کہ ٹماٹر میںغذائیت برقرار نہیں رہتی اور کھانا اس قدر لذیذ بھی نہیں بنتا جو لذت تازہ ٹماٹر شامل کرنے سے کھانے میں آتی ہے۔اس لیے کوشش کریں کہ ٹماٹر اس قدر خریدا جائے تو فریج سے باہر بھی تازہ رہ سکے۔

آلو:آلو ایک ایسی سبزی ہے جو ہمارے گھروں میں مختلف طریقوں سے پکا کر کھایا جاتا ہے۔اسے سالن میں تو استعمال کیا ہی جاتا ہے،اس کے علاوہ آلو کی ٹکیاں،آلو کے پراٹھے اور آلو کے چپس بھی ہمارے پسندیدہ پکوانوں میں شامل ہیں۔اگر آپ کے گھر میں آلو روزانہ استعمال ہوتے ہیں تو بھی کوشش کریں کہ تازہ آلو ہی روز خریدے جائیں۔انہیں ایک دو دن فریج سے باہر بھی رکھا جائے تو یہ خراب نہیں ہوتے لیکن زیادہ دن باہر رہنے سے ڈھیلے پڑنے لگتے ہیں۔آلو کو اگر فریج میں رکھا جائے تو ان کا ذائقہ تبدیل ہو جاتا ہے ۔یہ نہ صرف میٹھے ہونے لگتے ہیں بلکہ فریج میں رکھنے سے سخت بھی ہو جاتے ہیں۔

ڈبل روٹی:ڈبل روٹی کو بھی فریج میں رکھنے سے ہمیشہ منع کیا جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ روٹی کے اندر گندم کا آتا ہوتا ہے۔گندم کے آٹے میں پایا جانے والا سٹارچ نمی میں ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر ہو کر اپنی شکل کھونے لگتا ہے،جس کی وجہ سے ڈبل روٹی ڈھیلی او باسی پڑنے لگتی ہے اور اسے کھانے میںمزہ بھی نہیں آتا۔ شہد:شہد کو فریج میں رکھنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔شہد کو کمرے کے درجہ حرات پر رکھنا ہی بہتر ہوتا ہے۔کمرے میں رکھنے سے شہد کی تازگی ہمیشہ برقرار رہتی ہے اور اس کا ذائقہ بھی ٹھیک رہتا ہے،زیادہ ٹھنڈا یا گرم دونوں ماحول ہی شہد کے لیے نقصان دہ ہیں۔

خشک کھانسی کا آسان علاج

نوے فیصد افراد کو سال میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور خشک کھانسی سے واسطہ پڑتا ہے،اور کچھ ایسے بھی ہیں جو سال میں دو یا تین بار ان عوارض سے نبرد آزما ہو تے ہیں۔نزلہ،زکام کا سبب بننے والے بے شمار وائرسز ہیں جو خاص طور پر سردیوں کے آغاز میں ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں او ر ہمارا جسم ان میں سے کسی کو شکست دینے کے لیے دفاعی حکمت عملی ترتیب دینے میں کامیاب نہیں ہوتا۔یہ وائرسز ناک،چہرے کی ہڈیوں کے درمیانی خلاء،حلق اور پھیپھڑوں کے اوپری حصوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔اگر نزلہ،زکام چودہ دن سے زیادہ عرصے تک جاری رہے تو سمجھ جائیں کہ وائرس نے ناک،گال اور پیشانی کی ہڈیوں کے جوف میں جہاں ہوا بھری ہوتی ہے اپنا ٹھکانہ بنا لیا ہے اور وہاں موجود جھلیاں سوزش کا شکار ہو گئی ہیں۔اس طبی صورتحال کوSinusitisبھی کہتے ہیں۔

اس کی علامتوں میں ناک بند ہونا یا ناک بہنا،چہرے کی ہڈیوں میں درد یا دبائو محسوس کرنا،کھانسی،تھکاوٹ اور بعض اوقات بخار شامل ہیں۔بعض مریضوں میں مسلسل خشک کھانسی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ Sinusکی متورم جھلیوں سے رطوبات کا حلق میں اترنا ہوتا ہے۔جس سے گلے میں خراش پیدا ہوتی ہے اور کھانسی کی لہر اٹھتی ہے۔یہ بات یاد رہے کہ جو بھی کھانسی تین ہفتے سے زیادہ عرصے تک برقرار رہے وہ کسی ایسی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے جو زیادہ خطر ناک ہو لہٰذا اس خدشے کو دور کرنے کے لیے مریض کو لازماًڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

نزلہ،زکام میں چہرے کی ہڈیوں کے جوزف میں سوزش کیوں ہو جاتی ہے؟یہ بات واضح نہیںہے تاہم دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ خارجی عناصر سے زیادہ حساسیت یا الرجی رکھتے ہیں ا ن کے سائنسٹس زیادہ متورم ہو جاتے ہیں تا ہم ان دونوں میں کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔جن لوگوں کو نزلہ،زکام کے ساتھ مسلسل کھانسی کی شکایت ہوتی ہے ان میں عام طور پر کھانسی کے شربت سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ بلغم کو حلق میں اترنے سے نہیں روک سکتے۔اس سلسلے میں ڈاکٹرز مریضوں کو سپرے یا ڈراپس کی صورت میں سٹیرائیڈز تجویز کر سکتے ہیں تا کہ sinusesکی سوزش کو کم کیا جا سکے۔

اس پریشانی سے باہر نکلنے کا ایک اور مفید راستہ یہ ہے کہ نمک ملے پانی سے ناک کے نتھنوں کو بذریعہ پچکاری غسل دیا جائے۔اس مقصد کے لیے تقریباًآدھا لیٹر پانی میں ایک چائے کے چمچ کی مقدار نمک اور اتنا ہی کھانے والا سوڈا ملا لیں اور پھر ا س محلول کو کسی محفوظ کنٹینر میں فریج کے اندر رکھیں اور جب ضرورت ہو اس محلول کو چلو میں بھر کر ناک میں کھینچیں۔دن میں دو بار ایسا کرنے سے سوزش کم ہو گی اور سٹیرائیڈز کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے بہت سے مریض افاقہ محسوس کرنے لگیں گے،لیکن اگر نمک کے محلول کو ناک میں انڈیلنے کے باوجود ایک دو ہفتے تک کھانسی جاری رہے تو پھر ممکنہ طور پرسٹیرائیڈز کی ضرورت ہو سکتی ہے،بہتر ہو گا کہ نمکین پانی ناک میں کھینچنے کے بعدSteroid Nasal Sprayاستعمال کریں۔اس علاج سے دو ،تین ہفتے میں کھانسی ختم ہو جانے چاہیے،لیکن اگر علامتیں بارہ ہفتے سے زیادہ عرصے تک برقرار رہیں تو کسی سپیشلسٹ سے رجوع کریں۔

کچن کارنر

دھنیا اور پودینہ کو ایک گلاس ٹھنڈے پانی میں سیدھا کھڑا کر کے فریج میں رکھ دیں،یہ کئی ہفتوں تک تازہ رہے گا۔

کھیر بنانے سے پہلے اس دیگچی میں تھوڑا پانی ڈال کر اُبال لیں اور پھینک دیں،کھیر پیندے پہ نہیں لگے گی۔

چکن کے مضر صحت اثرات کو تھوڑا کم کرنے کے لیے چکن کو بہت اچھی طرح دھو نا چاہیے،اور تھوڑا پانی لے کر اس میں چکن کو ڈال کر دو منٹ تک اُبال کر پانی پھینک دیں۔

گوبھی پکاتے ہوئے اس میں ادرک اور کالی مرچ کا استعمال کرنے سے اس کا بادی پن کم ہو جاتا ہے۔

کچنار پکاتے ہوئے اس میں دہی کا استعمال زیادہ کریں،اس سے سالن بہت ہی مزیدار بنتا ہے۔

آٹا گوندھتے ہوئے اس میں تھوڑا نمک اور آئل ڈال دیں،اس سے روٹی نرم اور خستہ بنے گی۔

کوفتے بناتے ہوئے اس میں بیسن شامل کرنے سے کوفتے نہیں ٹوٹیں گے۔

چنے بھگوتے وقت اس میںآدھا چمچ میٹھا سوڈا ڈال دیں اس سے چنے جلدی گل جائیں گے۔

دودھ اُبالتے وقت اس میں سٹیل کا چمچ رکھ دیں،یا پھر کناروں پر تھوڑا سا آئل یا گھی لگا دینے سے دودھ باہر نہیں نکلے گا۔

انڈے اُبالتے وقت اس میں تھوڑا نمک ڈال دیں انڈے کا چھلکا آرا م سے اُتر جائے گا،اور اس پانی کو پودوں میں ڈال دینے سے پودے نکھر جائیں گے۔

پیاز کاٹنے سے پہلے اس کو ٹھنڈے پانی میں بھگو دیں ،اس سے آنسو نہیں آئیں گے۔

پالک پکاتے ہوئے اس میں ایک چمچ سرکہ شامل کر دینے سے سالن کا رنگ نکھر جائے گا۔

مسور کی دال پکانے کے بعد اس میں تھوڑا دودھ شامل کر دینا صحت کے لیے نہایت فائدہ مند ہے۔

باسی چاول کو تاز ہ کرنے کے لیے تھوڑے پانی کو اُبال لیں اور اس میں چاول ڈال کر دو منٹ اُبال لیں،پھر پانی پھینک کر دم دے دیں۔چاول پہلے جیسے ہی تازہ ہو جائیں گے۔

جب بھی کوئی چیز مثلاً کباب وغیرہ فرائی کریں تو تیل ڈالنے سے پہلے فرائنگ پین گرم کر لیں اور پھر تیل ڈال کر فوراً ہی اس میں کباب ڈال دیں۔اس طرح وہ پیندے سے نہیں چپکیں گے۔

اگر پنیر کو زیادہ دنوں تک محفوظ رکھنا ہو تو اس کے چاروں طرف نمک لگا کر ململ کے گیلے کپڑے میں لپیٹ کر رکھیں اور ضرورت کے وقت اسے دھو کر استعمال کر لیں۔

سبزیاں کاٹتے وقت اکثر انگلیوں پر کالے داغ پڑ جاتے ہیں۔آلو کاٹ کر ان پر رگڑنے یا سفید سرکہ ملنے سے داغ دور ہو جائیں گے۔

ہاتھوں سے لہسن کی بو دور کرنے کے لیے ہاتھ بہتے پانی کے نیچے رکھ کر ان پر سٹیل کا چمچ رگڑیں ،بو دور ہو جائے گی۔اس کے بعد صابن سے اچھی طرح دھو لیں۔

اکثر سفید یا کالے چنے دیر تک پکانے کے باوجود اچھی طرح نرم نہیں ہوتے۔اگر پکتے ہوئے چنوں کے سالن میں اُبلتا ہوا گرم دودھ شامل کر دیا جائے تو وہ جلدی گل جائیں گے۔

فریزیر میں جمے ہوئے گوشت کو فوری پگھلانے کے لیے اسے زیادہ نمک ملے ٹھنڈے پانی میں بھگو دیں۔اس سے گوشت کی برف پگھلنے کے ساتھ ساتھ اس میں جما ہوا خون بھی صاف ہو جائے گا اور اس کی رنگت بھی تبدیل نہیں ہو گی۔

مچھلی کی بو دور کرنے کے لیے مچھلی کو دھوئے بغیر اسے تھوڑی دیر کے لیے سرکے میں بھگو کر رکھیں۔اس طرح ایک تو مچھلی کی بو دور ہو جائے گی دوسرا یہ اچھی طرح صاف ہو جائے گی۔

بیوٹی کارنر

صاف اور ملائم جلد کے لیے دو بادام گرائینڈ کر لیں۔اس میں تھوڑا سا لیموں کا رس اور شہد ملائیں۔اسب اسے چہرے پر لگا لیں اور چند منٹ بعد چہرہ دھو لیں۔

گھر میں بلیچ بنانے کے لیے بیسن میں دہی مکس کر کے چہرے پر لگائیں۔

آنکھوں کے نیچے حلقے اور سوجن کم کرنے کے لیے آلو اور کھیرے کا جوس مکس کر کے لگائیں۔

چہرے داے دانے اور کیل مہاسے ختم کر نے کے لیے میتھی کے پتوں کو گرائینڈ کر کے اس میں لیموں کا رس مکس کر کے لگائیں۔

رنگ گورا کرنے کے لیے کھیرے کا رس نکال لیں،پھر اس میں آدھا چائے کا چمچ عرقِ گلاب اور آدھا چائے کا چمچ گلیسرین ملا کر چہرے پر لگائیں۔اس سے چہرے کا رنگ سفید ہو جائے گا،روزانہ رات کو سوتے وت لگانے سے آہستہ آہستہ اس سے چہرہ ہلکا سا بلیچ ہونا بھی شروع ہو جائے گا۔

باجرے کا آتا اور پنیر ٹماٹروں کے جوس میں ملائیں اور چہرے پر لگائیں۔اسے تقریباً بیس منٹ تک لگا رہنے دیں،اس کے بعد ٹھنڈے پانی سے منہ دھو لیں۔ا س سے آپ کے چہرے سے داغ دھبے دور ہو جائیں گے اور رنگت بھی گوری ہو جائے گی۔

چہرے سے میل صاف کرنے کے لیے جو کے آٹے کا استعمال کریں۔تھوڑے سے آٹے میں چند قطرے زیتون کا تیل اور آدھا چائے کا چمچ شہد ملائیں۔اس میں تھوڑا سا پانی ڈالیں اور پھر اس آمیزے کو چہرے پر خوب مل لینے کے بعد پانی سے منہ کو دھو لیں۔جو کا آٹا بازار سے با آسانی مل جاتا ہے اور آپ گرائینڈر میں ثابت جو بھی پیس سکتی ہیں۔اس آمیزے میں لیموں کے عرق کے چند قطرے بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

اگر ماتھے پر باریک دانے نکل آئیں تو سنگترے کے چھکے خشک کر کے باریک پیس لیں۔اسے تازہ پانی میں مرہم بناکر ماتھے پر لگائیں۔چند دنوں میں ہی دانے ختم ہو جائیں گے اور ماتھا بالکل صاف ہو جائے گا۔

ہربل فیشل کرنے کے لیے پسے ہوئے بادام دو چائے کے چمچ،ملتانی مٹی چار چائے کے چمچ،جائفل پسا ہوا ایک چائے کا چمچ اور عرق، گلاب حسب ضرورت لے لیں۔تمام اجزاء کو اچھی طرح مکس کریں اور اس میں اتنا عرقِ گلاب شامل کریں کہ گاڑھا سا مکسچر بن جائے۔اب اسے بیس منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔اپنے چہرے کو دو بار ٹھنڈے پانی سے دھوئیں،پھر پانی گرم کر کے دس منٹ سٹیم کر لیں۔بھاپ لینے کے بعد روئی یا سپنچ کی مدد سے چہرے کو نرمی سے صاف کر لیں۔،پھر دوسرا سپنچ لے کر اسے گرمی پانی میں بھگو کردوبارہ اس سے اپنے چہرے کو صاف کریں۔جب اچھی طرح صاف ہو جائے اور چہرے کی میل کچیل بھی دور ہو جائے تو یہ مکسچر اپنے چہرے پر لگا لیں۔جب اچھی طرح کشک ہو جائے تو ماج کرتے ہوئے چہرے سے اتار لیں اور پھر ٹھنڈے پانی سے منہ دھو لیں۔یہ عمل اگر آپ مہینے میں دو با ر کریں تو اس سے آپ کا رنگ بھی صاف ہو گا اور جلد بھی ترو تازہ ہو جائے گی

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

استعمال کے بعد رنگ کرنے کے برش کو صاف اور نرم رکھنے کے لیے تھوڑے سے سرکہ میں بھگو دیں،دس منٹ بعد صابن اور گرم پانی سے دھوئیں بالکل نئے ہو ج ...

مزید پڑھیں

سبزیاں قدرت کے انمول تحفوں میں سے ایک ہیں۔سبزی چاہے کوئی بھی ہو اس کا استعمال انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے ۔سبزیوں کا استعمال نہ ...

مزید پڑھیں

دل کی دھڑکن ہی انسان کے زندہ ہونے کا ثبوت ہے۔یہ رک جائے تو بشر بھی خاک میں جا لیٹتا ہے۔انسانی جسم میں دل و دماغ وہ دو عضو ہیں جو سب سے اہم س ...

مزید پڑھیں