☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ صحت رپورٹ سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا دلچسپ دنیا طنزومزاح انٹرویوز کھیل خواتین تاریخ روحانی مسائل
خواتین کیلئے مفید اور گھریلو مشورے

خواتین کیلئے مفید اور گھریلو مشورے

تحریر : نجف زہرا تقوی

10-20-2019

چہرے کے بال ،ایک وبال

تمام لوگوں بالخصوص خواتین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے چہرے پر اضافی بال،جھریاں ،چھائیاں اور کیل مہاسے پیدا نہ ہوں اور اس مقصد کے لیے وہ کریموںپر ہر ماہ ہزاروں روپے خرچ کرتی ہیں۔اچھی اور معیاری کمپنی کی کریموں کے استعمال سے چہرے کی جھریاں،چھائیاں اور کیل مہاسے تو دور کیے جا سکتے ہیں لیکن چہرے کے اضافی بالوں سے ہمیشہ کے لیے نجات نہایت مشکل کام ہے۔

آپ چاہے کوئی بھی طریقہ اپنائیں چہرے کے یہ بال ہر کچھ عرصے بعد دوبارہ نکل آتے ہیں جنہیں خوبصورت نظر آنے کے لیے صاف کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔چہرے پر بال نکلنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیںمثلاً کیمیکل ملے دودھ کا استعمال،ہارمونز یا ماہواری کی بے ترتیبی وغیرہ۔ہار مونز کو نارمل رکھنے کے لیے استعمال کی جانے والی دوائیں بھی اکثر چہرے پر بال نکلنے کی وجہ بنتی ہیں جو آپ کے حُسن کو ماند کر دیتے ہیں۔وجہ چاہے کوئی بھی ہو لیکن خواتین ہمیشہ اپنے چہرے کو ان بالوں سے صاف رکھنا چاہتی ہیں۔آج ہم آپ کو چند ایسے گھریلو ٹوٹکے بتا رہے ہیں جن کے مسلسل استعمال سے آپ نہ صرف چہرے کے اضافی بالوں سے نجات حاصل کر سکتی ہیں،بلکہ لمبے عرصے تک ان کا استعمال آپ کے چہرے پر اُگنے والے بالوں کو بڑی حد تک کم کر دے گا۔

ہلدی او ر دودھ: چہرے کے بالوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہلدی اور دودھ کا استعمال بہترین مانا جاتا ہے۔اسے استعمال کرنے کے لیے ایک کھانے کا چمچ ہلدی اور ایک کھانے کا چمچ دودھ لے کر اس کا مکسچر بنا لیں۔اس مکسچر کو روئی کی مدد سے چہرے پر پھیریں یا پیسٹ نما بنا کر مطلوبہ جگہ پر لگائیں اور پھر خشک ہونے کے لیے چھوڑ دیں،بعد میں صاف پانی سے دھو لیں۔باقاعدگی سے استعمال کرنے سے چہرے کے بالوں میں واضح کمی محسوس کریں گی۔

ہلدی اور پانی: چہرے کے بالوں کو کم کرنے میں دراصل ہلدی اہم کردار ادا کرتی ہے،ایسے میں اگر دودھ دستیاب نہ ہو تو ہلدی کے ساتھ پانی شامل کر کے بھی مکسچر بنایا جا سکتا ہے،اور اس پیسٹ کو اوپر دیے گئے طریقے کے مطابق ہی استعمال کریں۔

انڈے کی سفیدی:یہ تو ہم سب ہی بخوبی جانتے ہیں کہ انڈے کی سفیدی سے کئی ایسے ماسک تیار کیے جاتے ہیں جو چہرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔اس کے علاوہ صرف سفیدی کو بھی چہرے پر لگا کر جلد کی جھریاں دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،لیکن اب آپ انڈے کی سفیدی کو چہرے کے بال صاف کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتی ہیں۔استعمال کے لیے مناسب مقدار میں مکئی کا آٹا اور چینی لے کر سفیدی میں مکس کر لیں۔اس مکسچر کو اچھی طرح پھینٹ کر پیسٹ نما بنا لیں۔اب اس پیسٹ کو آدھے گھنٹے کے لیے چہرے پر جہاں جہاں بال ہوں وہاں لگا کر چھوڑ دیں اور پھر ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔اس کا استعمال ہفتے میں تین مرتبہ لازمی کریں۔

ٓٓآٹا:چہرے کے اضافی بالوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے آٹے کا استعمال بھی بہترین مانا جاتا ہے جو ہر گھر میں با آسانی دستیاب اور نہایت کم خرچ ہے۔آٹے کا پیسٹ بنانے کے لیے اس میں مناسب مقدار میں دودھ اور ہلدی شامل کر کے اچھی طرح مکس کریں اور گاڑھا پیسٹ بنا لیں۔اس پیسٹ کو مطلوبہ جگہ پر لگائیںاور خشک ہونے کے لیے چھوڑ دیں۔اچھی طرح خشک ہو جائے تو رگڑ کر پہلے چہرے سے صاف کریں اور بعد میں صاف پانی سے چہرہ دھو لیں۔

لیموں اور پانی:سب سے پہلے دو لیموں لے کر ان کارس نکال لیںاور اس میں تھوڑا سا پانی شامل کر لیں،ساتھ تھوڑی سی چینی بھی ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں۔یہ ایک پتلا سا پیسٹ بن جائے گا ،تیار ہونے پر اسے چہرے پر موجود بالوں پر لگائیں اور پندرہ منٹ بعد منہ دھو لیں۔

دہی ہلدی اور بیسن: برابر مقدار میں دہی،بیسن اور ہلدی ملا کر ایک پیسٹ بنا لیں۔اس پیسٹ کو بالوں پر نرمی کے ساتھ لگا کرپندرہ منٹ کے لیے چھوڑ دیںا ور پھر صاف پانی سے منہ دھو لیں۔

چینی:ایک برتن میں ایک منٹ کے لیے چینی گرم کریں اور پھر تھوڑا سا لیموں کا رس ملا کر گاڑھا پیسٹ بنا لیں،ٹھنڈا ہونے پر ہونٹوں کے اوپر لگائیں،پھر کپڑے کے ذریعے دائرے کی شکل میں مساج کریں اور پھر بالوں کی مخالف سمت میں کھینچ لیں۔

چنے کی دال کا آٹا: چنے کی دال کے آٹے کو ہلدی اور پانی میں ملا کر پیسٹ بنا لیں،تھوڑی سی ملائی شامل کر دیں اور اس کو اپنے چہرے کے بالوں پر لگا کر چھوڑ دیں۔خشک ہونے کا انتظار کریں اور پھر بالوں کی مخالف سمت میں کھینچ لیں۔

نیل پالش لگانا ایک فن

کچھ خواتین اپنے چہرے کی حفاظت کے لیے جس قدر تردد کرتی ہیں ،اتنی حفاظت وہ نہ تو اپنے ہاتھوں کی کرتی ہیں اور نہ ہی گردن اور بازوئوں کی۔چہرے کی سفید رنگت کے حصول کی خاطر وہ دن ر ات ایک کر دیتی ہیں، مگر ان کے گہرے سانولے ہاتھ اور چپٹے ناخن دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ساری محنت رائیگاں چلی گئی۔ خوبصورت ہاتھوں کے علاوہ خوبصور ت ناخن اور سلیقے سے لگائی گئی نیل پالش بھی خواتین کی شخصیت پر اچھا تاثر قائم کرتی ہے۔کچھ خواتین صرف اور صرف اپنے ناخنوں کو مختلف رنگوں سے آراستہ کرنا ضروری سمجھتی ہیں۔وہ نہ تو اپنے ہاتھوں کی رنگت کو مدِ نظر رکھتی ہیں اور نہ ہی ان کی شیپ پر توجہ دیتی ہیں۔خاص طور پر لڑکیاں سکول،کالج اور یونیورسٹی میں کسی دوسری لڑکی کے ناخنوں پر خوبصورت رنگوں کی نیل پالش دیکھ کر فوراً اس کا رنگ اور نمبر پوچھنے کی ٹوہ میں لگ جاتی ہیں۔یہی حال وہ لپ سٹک کے ساتھ بھی کرتی ہیں۔حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے،کیونکہ ایک رنگ کسی کو اچھا لگ رہا ہے تو ضروری نہیں کہ آپ کے ہاتھوں کی رنگت اور ناخنوں کے لحاظ سے بھی وہ ہی موزوں ہو۔لہٰذا نیل پالش لگانے سے پہلے ناخنوں کی ہیئت کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔اگر آپ کے ناخن صحت مند اور لمبے نہیں ہیں تو آپ کو چاہیے کہ ان پر ایسے رنگ کی نیل پالش لگائیں جو زیادہ شوخ نہ ہو۔جن خواتین کے ہاتھوں کا رنگ کالا ہو وہ سرخ یا گہرے رنگ کی بجائے ہلکے رنگوں کی نیل پالش استعمال کریں۔جن خواتین کی رنگت زیتونی ہو و ہ اپنے ناخنوں پر کھلتے ہوئے رنگوں کی نیل پالش لگائیں۔سانولی رنگت کی خواتین کو چاہیے کہ وہ خاکستری رنگ کی نیل پالش کا استعمال کریں۔ناخن آہستگی سے کاٹیں اور کبھی بھی ریتی کے ساتھ نوک دار مت بنائیں،کیونکہ ناخنوں کا کمزور حصہ بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے۔ناخنوں کو مضبوط بنانے کے لیے ان پر لہسن رگڑیں۔ا س سے یہ مضبوط اور صحت مند نظر آئیں گے۔ناخنوں اور ہاتھوں کی خوبصورتی کے لیے متوازن غذا بھی اہمیت کی حامل ہے۔وہ خواتین جو ٹھوس غذا کھانے کی عادی نہیں ہوتیں۔ان کے بال ،جلد اور ناخن کمزور اور مرجھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔آپ کو چاہیے کہ کریموں کی مدد سے مصنوعی حسن کو حاصل کرنے کی بجائے اپنی خوراک پر توجہ دیں،اور متوازن غذا کو اپنے روز مرہ معمولات میں شامل کریں۔

12 بیماریوں کا آسان گھریلو علاج

پھٹکڑی ویسے تو عام سی چیز ہے جو ہر جگہ آسانی سے بہت کم قیمت میں دستیاب ہوتی ہے ،لیکن اس کی افادیت سے شاید بہت کم لوگ واقف ہیں۔پھٹکڑی بظاہر کوئی خاص شے نہیں ہے لیکن اس میں صحت کے خزانے پوشیدہ ہیں۔اس کی ادویاتی خصوصیات کے باعث مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔معاملہ زخموں کو صاف اور دور کرنے کا ہو ،چہرے کی خوبصورتی کی بات ہو یا دانتوں کی مضبوطی کا مسئلہ ہو سب کو حل کرنے کے لیے پھٹکڑی کا استعمال بہترین مانا جاتا ہے۔

داد اور چنبل: جیسا کہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ سرکہ نہ صرف کھانا پکانے میں بلکہ بہت سے گھریلو مسائل حل کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔اسے خوبصورتی بڑھانے اور جلد کی حفاظت کے لیے بھی متعدد ٹوٹکوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ایسے میں داد اور چنبل سے نجات کے لیے بھی سرکہ بے حد فائدہ مند ہے کیونکہ یہ جلد کی بہترین دوا ہے،لیکن ساتھ اگر پھٹکڑی کو ملا کر لگایا جائے تو دُہرا فائدہ ہو گا۔استعمال کے لیے پھٹکڑی کو پیس کر پانی یا سرکے میں ملا کر صبح و شام لگانے سے یہ دور ہو جاتے ہیں۔

خارش:خارش چاہے کسی بھی قسم کی ہو نہ صرف تکلیف دہ ہوتی ہے بلکہ لوگوں کے سامنے بار بار کرنے سے بھی باعثِ شرمندگی بنتی ہے۔خارش کی کوئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں کسی کیڑے مکوڑے مثلاً مچھر یا کھٹمل وغیرہ کا کاٹنا شامل ہیں۔بعض اوقات گندے بستر پر سونے یا کسی چیز سے الرجی کے باعث بھی خارش ہو سکتی ہے،لیکن خارش چاہے کسی بھی قسم کی ہی ہر طرح ہی تکلیف دہ ہوتی ہے۔اس کا گھریلو علاج کرنے کے لیے پھٹکڑی جلا کر اس کی راکھ بنائیں اور اس میں ایک انڈے کی سفیدی ملا کر مساج کرنے سے ہر قسم کی خارش کا آرام آ جاتا ہے۔

بیڈ سول:کسی بھی طرح کی بیماری کے باعث مستقل بیڈ پر لیٹے رہنے سے جسم پر زخم ہو جاتے ہیں ،جن کی وجہ سے آپ کا چلنا پھرنا مزید دوبھر ہو جاتاہے۔ایسے زخموں کا علاج کرنے کے لیے بھی پھٹکڑی کو باریک پیس کر انڈے کی سفیدی میں ملا کر صبح ،شام زخموں پر لیپ کرنے سے آپ آرام محسوس کریں گے۔

پیٹ درد:یوں تو تکلیف کسی بھی قسم کی ہو پورے جسم کو بے چین کر دیتی ہے لیکن پیٹ کا درد انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔آپ کے ساتھ جب بھی کوئی ایسا مسئلہ پیش آئے تو پھٹکڑی کی ایک چُٹکی کھا کر اوپر سے دہی کھا لینے سے پیٹ درد میں فوراً آرام آ جائے گا۔

دانت کا درد:دانت کا درد بھی انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے نہ صرف انسان کا کھانا پینا بلکہ بولنا بھی محال ہو جاتا ہے۔یوں تو دانت درد دور کرنے کے کئی گھریلو ٹوٹکے ہیں لیکن ہم میں سے شاید بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ دانتوں کے لیے پھٹکڑی کی بڑی افادیت ہے۔استعمال کے لیے پھٹکڑی کو اچھی طرح جلائیں،جب وہ پھول جائے تو اسے ہاتھ سے مل کو پائوڈر بنا لیں۔ریٹھے کی گٹھلی کی راکھ اور پھٹکڑی ہم وزن لے کر دانتوں پر ملیں تو آرام آ جائے گا۔

دانتوں کی بیماریاں:دانتوں کی دیگر بیماریاں دور کرنے کے لیے پھٹکڑی اور کیکر کا کوئلہ ہم وزن لے کر باریک پیس کر کپڑے پر چھان کے رکھ لیں۔اس کو دانتوں پرملنے سے دانتوں کی تمام بیماریوں میں آرام مل جاتا ہے۔

کھانسی اور دمہ:دمہ ایک ایسا مرض ہے جو ایک بار لاحق ہو جائے تو اس سے جان چھُڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ایسا ہی کچھ کھانسی کے بارے میں بھی مانا جاتا ہے ،اکثر لوگ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے ہر جگہ سے علاج کروا کے دیکھ لیا لیکن کھانسی جانے کا نام نہیں لیتی۔دمے اور کھانسی سے نجات کے لیے پھٹکڑی کو پانی میں حل کر کے دن میں تین بار ایک چھوٹا چمچ پینے سے کھانسی سے نجات مل جاتی ہے۔اسے شہد میں ملاکر بھی صبح ،شام لینے سے آرام مل جاتا ہے۔

ناک کی بو:کئی لوگ ناک کی بو آنے جیسے مسئلے سے بھی پریشان ہوتے ہیں اور شرمندگی کے باعث کسی کو بتا بھی نہیں پاتے۔اس کا بھی آسان حل پھٹکڑی کے ذریعے ممکن ہے۔پھٹکڑی کو پانی میں حل کر کے اس محلول سے ناک کی صفائی کریں توکچھ عرصے کے استعمال سے ہی ناک سے بو آنا بند ہو جائے گی۔

کیل مہاسے: پھٹکڑی کو پیس کر کپڑے سے چھان کر پانی میں ملا کر پیسٹ بنا کر صرف دانوں پر لگا کر بیس منٹ بعد دھو لیں۔اس کااستعمال چند دن کرنے سے ہی چہرے کے دانے ٹھیک ہو جائیں گے۔

خشکی: صرف ایک چُٹکی پھٹکڑی اور ایک چُٹکی نمک شیمپو میں ملا کر سر دھونے سے خشکی دور ہو جاتی ہے۔

جوئوں سے نجات: بچوں کے سر میں جوئیں مائوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہوتی ہیں۔اگر پانی میں پھٹکڑی حل کر کے اس پانی سے سر دھویا جائے تو بالوں میں جوئیں نہیں پڑتیں۔

پھٹی ایڑیاں: پھٹکڑی جلا کر باریک پیس کر ناریل کے تیل میں ملا کر ایڑھیوں پر لگانے سے پھٹی ایڑھیاں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔

ٹوٹکے

ناخنوں سے نیل پالش صاف کرنے کے لیے لڑکیاںا ور خواتین نیل پالش ریموور استعمال کرتی ہیں،مگر اس شے کے ذریعے چند اور مختلف کام بھی انجام دیے جا سکتے ہیں۔یہ خاص طور پر گھر چمکانے کے لیے بہت کار آمد چیز ہے۔

فرش میں نئی جان ڈالنے کے لیے نیل پالش ریموور کا استعمال بے حد فائدے مند ثابت ہوتا ہے۔استعمال کے لیے کسی کاغذی تولیے کو اس محلول سے گیلا کریں اور ٹائلز کے علاوہ کنکریٹ کے فرش پر موجود ہر قسم کے نشانات صاف کر دیں،تاہم اسے لکڑی کی سطح پر استعمال نہ کریں۔

جوتوں کو چمکائیے:کسی کاغذی تولیے کو اس سے بھگوئیں اور جوتوں پر اس وقت تک پھیریں جب تک تمام دغ دھبے ختم نہ ہو جائیں۔اس کے بعد صاف کپڑے کو پھیر کر جوتے چمکا لیں۔

کی بورڈ کی صفائی: روئی کو نیل پالش ریمورو میں بھگوئیںا ور نرمی سے لیپ ٹاپ کے کی بورڈ کیز پر پھیریں تا کہ وہ اپنی اصل شکل میں آ جائیں۔

مار کر کے نشان: ہاتھو ں یا دیواروں پر سیاہی کے نہ ختم ہونے والے داغ ختم کرنے کے لیے روئی کا گولہ بنائیں اور اسے ریموور میں بھگو کر پھیریں۔وہ داغ منٹوں میں غائب ہو جائیں گے۔

ریزر صاف کریں:یہ محلول جراثیم کش ہوتا ہے،کسی ریزر کی صفائی کے لے اسے ریموور میں بھگوئیں اور پھر بلیڈز کے درمیان کی جگہ کو پانی سے دھو لیں۔یہ ایک بار پھر نیا جیسا نظر آنے لگے گا۔

داغو ں کی صفائی:کسی پُرانے کپڑے کو اس محلول میں بھگوئیں اور پھر چائے یا کافی کے داغ والی جگہ پر اسے رگڑنے کے بعد صابن اور صاف پانی سے دھو لیں۔اسے پِرچ پیالیوں پر پرنٹڈ جگہ پر پھیرنے سے گریز کریں۔

گلُو صاف کرنے کے لیے: اگر جلد پر کسی جگہ طاقتور گلو چپک جائے اور صاف نہ ہو رہا ہو تو روئی میں نیل پالش ریموور کو بھگوئیں اور اسے متاثرہ جگہ پر پھیر کر جادو دیکھیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

استعمال کے بعد رنگ کرنے کے برش کو صاف اور نرم رکھنے کے لیے تھوڑے سے سرکہ میں بھگو دیں،دس منٹ بعد صابن اور گرم پانی سے دھوئیں بالکل نئے ہو ج ...

مزید پڑھیں

سبزیاں قدرت کے انمول تحفوں میں سے ایک ہیں۔سبزی چاہے کوئی بھی ہو اس کا استعمال انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے ۔سبزیوں کا استعمال نہ ...

مزید پڑھیں

دل کی دھڑکن ہی انسان کے زندہ ہونے کا ثبوت ہے۔یہ رک جائے تو بشر بھی خاک میں جا لیٹتا ہے۔انسانی جسم میں دل و دماغ وہ دو عضو ہیں جو سب سے اہم س ...

مزید پڑھیں