☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(حاجی محمد حنیف طیب) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(محمد رمضان) عالمی امور(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(پروفیسر عثمان سرور انصاری) کچن کی دنیا() انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) خواتین(روہاب لطیف) خواتین() خواتین() خواتین() رپورٹ(طاہر محمود) متفرق(آسیہ پری ) متفرق(آمنہ وحید)
اچھی خوراک،بے خوابی کا علاج

اچھی خوراک،بے خوابی کا علاج

تحریر :

01-26-2020

کچھ لوگ بہت زیادہ سونے کے عادی ہوتے ہیں،جبکہ بعض لوگ مختلف وجوہات کی بناء پر بے خوابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دونوں ہی علامات کسی نارمل اورتندرست انسان کی نشانی نہیں ہیں۔ جس طرح کھانے کے معاملے میں اعتدال ضروری ہے اسی طرح نیند کے معاملے میں بھی توازن ہونا ضروری ہے۔موجودہ دور میں بے خوابی کی شکایت عام ہے اور ہر ایج گروپ کے افراد نیند نہ پوری ہونے کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔متعدد افراد اس حد تک بے خوابی کا شکار ہوتے ہیں کہ انہیں رات کو سونے کے لیے روزانہ نیند آور ادویات استعمال کرنی پڑتی ہیں۔

جو ایک طرف تو ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں تو دوسری طرف یہ نیند کی گولیاں کھانے کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ اس کے بغیر سونا ممکن ہی نہیں ہوتا۔ماہرین غذائیات کے مطابق بے خوابی کا علاج اچھی خوراک کے استعمال سے بھی کیا جا سکتا ہے۔نیند کا ہمارے نظام دوران خون،نظام تنفس اور نظام انہظام سے گہرا تعلق ہوتا ہے، خوراک ہی ان تینوں عوامل کو کنٹرول کرتی ہے۔

ماہرین غذائیات نے کچھ ایسی خوراکیں تجویز کی ہیں کہ جن کے استعمال سے رات کو پر سکون نیند سویا جا سکتا ہے ۔اس سلسلے میں کیلا سب سے اہم غذا ہے،بلکہ اسے سلیپنگ کیپسول کہنا بھی غلط نہیں ہو گا۔کیلے میں سب سے زیادہ مقدار کرپٹو فین نامی مادے کی پائی جاتی ہے۔یہی مادہ ہمارے خون میں شامل ہو کر نیند آنے میں مدد دیتا ہے۔اس کے علاوہ کیلے میں میگنیشیئم کی بھی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔

جو انسانی جسم کو پرسکون کرتی ہے اور نیند کے لیے ضروری بھی ہے۔ لہٰذا اچھی اور پر سکون نیند کے حصول کے لیے دن میں دو کیلے لازمی اپنی خوراک میں شامل کریں۔کیلے کے بعد نیم گرم دودھ بھی نیند لانے کے لیے مناسب خیال کیا جاتا ہے۔دودھ میں بھی کرپٹو فین کی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔جبکہ اس میں شامل کیلشیئم جسم میں میٹا بولزم کی رفتار کو کم کرتا ہے۔

اچھی نیند کے لیے میٹا بولزم کا کم ہونا بہت ضروری ہے۔اس فہرست میں شہد بھی اہمیت رکھتا ہے ۔ اگر دو چمچ شہد نیم گرم دودھ میں ڈال کر اسے پی لیا جائے تو جسم انتہائی پرسکو ن ہو جاتا ہے،اور رات بھر سکون سے سویا جا سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق تمام ایسی غذائیں جن میں کاربوہائیڈریٹس اور فیٹس پائے جاتے ہیں وہ نہ صرف نیند لانے میں معاون ہوتے ہیں بلکہ ان کی مدد سے پانچ چھ گھنٹے پُر سکون نیند بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ بعض اوقات رات کے وقت جسم میں کاربوہائیڈریٹس لیول گر جاتا ہے، یہ بھی بے خوابی کا سبب بنتا ہے۔ایسے افراد جو رات کوسونے سے چار پانچ گھنٹے قبل کھانا کھاتے ہیں۔ان میں رات کے آخری اوقات شوگر لیول گر سکتا ہے۔جس سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔اسی طرح جو افراد فوراً کھانا کھا کر سو جاتے ہیں ان میں میٹا بولزم کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے اور میٹا بولزم کی زیادہ شرح نیند بھگا دیتی ہے۔

اچھی اور پرسکون نیند کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ دن کے اوقات یعنی لنچ میں زیادہ خوراک استعمال کی جائے،لیکن رات کے وقت کم مگر صحت بخش اور طاقتور خوراک کا استعمال کیا جائے۔رات کے اوقات میں کیلا،دودھ ،انڈے،کیک،آئس کریم،خشک فروٹس، بسکٹ اور ایسی اشیاء جن میں چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس کی مقدار قدرے زیادہ ہوتو نیند بہتر آ سکتی ہے جبکہ چائے،زیادہ مرچ مصالحے والی اشیاء، گوشت،مچھلی،چاول اور سبزی وغیرہ سے نیند میں کمی واقع ہوتی ہے۔لہٰذا خصوصاً وہ لوگ جو بے خوابی کا شکار رہتے ہیں،اپنی خوراک پر توجہ دے کر نیند کا دورانیہ بڑھا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

سوئیٹر پر لگے روئوں کے چھوٹے چھوٹے گولے دیکھنے میں بہت بُرے لگتے ہیں جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ سوئیٹر بہت پُرانا ہے،جو اکثر ان کپڑوں ...

مزید پڑھیں

ہار مونز کے عدم توازن سے انسان میں بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جو کہ مستقبل میں کئی بیماریوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ دراصل ہمارے ہاں ’’ ...

مزید پڑھیں

کہا جاتا ہے کہ بچے فرشتوں کا روپ ہوتے ہیں ان کے چہرے پر معصومیت اور تازگی سے ہر کسی کو ان کی طرف کشش ہوتی ہے کہ وہ ہر کسی سے پیار اور محبت حا ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کلینزنگ کے آٹھ اصول  چہرے کا قدرتی حسن اور نکھار قائم رکھنے کے لیے اس کی صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔  

مزید پڑھیں

چولہا جلاتے وقت یہ خیال رکھیے کہ اس کی لو زیادہ بلند نہ ہونے پائے ،ورنہ آپ کے ہاتھ جھلس جانے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں

بال جاذب نظر شخصیت کے ضامن ہوتے ہیں۔ان کے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ سر کی جلد کے اوپر موجود تمام بال مردہ ہوتے ہیں،یعنی جو بال جلد کے اوپر موجود ہوتے ہیں وہ جلد سے باہر اُگتے ہی مردہ ہو جاتے ہیں۔قدرتی طور پر بال تیس سے ساٹھ کی تعداد میں گر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں