☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کلچر(ایم آر ملک) فیچر( طارق حبیب مہروز علی خان، احمد ندیم) متفرق(محمد سعید جاوید) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا اسپیشل(طاہر محمود) سپیشل رپورٹ(نصیر احمد ورک) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) سیاحت(نورخان سلیمان خیل)
خواتین کیلئے گھریلو مشورے

خواتین کیلئے گھریلو مشورے

تحریر : نجف زہرا تقوی

02-09-2020

کلینزنگ کے آٹھ اصول
 چہرے کا قدرتی حسن اور نکھار قائم رکھنے کے لیے اس کی صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔
 

صفائی سے مراد محض چہرہ دھو لینا نہیں ہے،بلکہ آٹھ مختلف مرحلوں میں اس کی حفاظت کر کے چہرے کی جلد کو لمبے عرصے تک ترو تازہ اور شاداب رکھا جا سکتا ہے۔اس کے لیے سب سے پہلا مرحلہ کلینزنگ ہے۔چہرے کو بھر پور کلینزنگ کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ چہرے کے مسام کھلے رہیں اور جلد پر کسی قسم کے جراثیم نشو و نما نہ پا سکیں۔کلینزنگ کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے اور اسے مختلف مرحلوں میں کس طرح انجام دیا جا سکتا ہے۔آئیے اس بارے میں آپ کو تفصیل سے بتائیں۔
جلد کی نزاکت کا خیال رکھیں
 اپنی جلد کی کلینزنگ کے دوران اس کی نزاکت کا خاص خیال رکھیں۔صفائی ہمیشہ نرمی اور احتیاط کے ساتھ انجام دیں۔ خصوصاً آنکھوں کے ارد گرد کی جلد بہت باریک اور حساس ہوتی ہے،لہٰذا آنکھوں کا میک اپ صاف کرنے کے لیے ہمیشہ ایسا آئی میک اپ ریموور استعمال کریں جس کی کوالٹی عمدہ ہو اور وہ زود اثر ہونے کے ساتھ نرمی سے صفائی انجام دے۔
اپنی جلد کو پہچانیں
 کوئی بھی کلینزر استعمال کرنے سے پہلے اس کی کوالٹی کے علاوہ اس بات کا خیا ل رکھیں کہ وہ آپ کی جلد سے مطابقت رکھتا ہو۔اگر آپ کی جلد چکنی ہے تو اس کی مناسبت سے کلینزر خریدیں یا اگر آپ خشک جلد کی مالک ہیں تو اس کے لحاظ سے کلینزر کا انتخاب کریں۔
اپنی جلد سے پیار کریں
 اپنی جلد سے پیار کریں گی تب ہی اس کا بھر پور خیال رکھ پائیں گی۔چہرے کو دھونے کے لیے ہمیشہ موسم کی مناسبت سے نیم گرم یا معتدل پانی استعمال کریں۔یاد رکھیں کہ زیادہ گرم پانی آپ کی جلد کو بالکل خشک کر دے گا اور اسی طرح زیادہ ٹھنڈا پانی بھی جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
کلینزک کا عمل پوری طرح انجام دیں
 چہرے پر ایک سے دو منٹ تک اچھی طرح سے کلینزر کا مساج کریں۔ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کلینزنگ کے دوران آپ کا پورا چہرہ اچھی طرح ڈھک جائے۔اگر آپ کا میک اپ گہرا ہے تو اسے اتارنے کے لیے صفائی کا پورا عمل ایک بار پھر دہرائیں۔
کلینزنگ نرمی سے کریں
 چہرے کو اچھی طرح نیم گرم یا معتدل پانی سے دھوئیں اور اس دوران ہاتھ ہلکا رکھیں۔ چہرے کو دھونے کے بعد کبھی رگڑ کر خشک نہ کریں۔بہترین طریقہ یہ ہے کہ چہرے کو صاف تولیے سے تھپتھپا کر خشک کریں۔
چہرے کو مطلوبہ غذائیت فراہم کریں
 چہرے کی کلینزنگ روزانہ مکمل طور سے انجام دینے کے ساتھ ساتھ ہفتے میں ایک مرتبہ فیس ماسک ضرور لگائیں تا کہ آپ کے چہرے کو مطلوبہ غذائیت اور تازگی ملتی رہے۔یاد رکھیں کہ پیاسی جلد پر کبھی ترو تازگی کی چمک نظر نہیں آ سکتی۔
کلینزنگ کا عمل مہارت سے مکمل کریں
 کلینزگ کے بعد چہرے کے بھر پورنکھار اور چمک کے لیے ہفتے میں دو سے تین مرتبہ جلد کے مردہ خلیوں کو ضرور اُتاریں ۔اس مقصد کے لیے بازار میں پیل کٹس دستیاب ہیں۔اپنی جلد کی مناسبت سے کسی اچھی کمپنی کی مصنوعات کا انتخاب کریں اور مہارت کے ساتھ چہرے کی مردہ جلد سے نجات حاصل کر یں۔
موئسچرائزنگ میں احتیاط برتیں
 کلینزنگ کا عمل مہارت سے مکمل کرنے کے بعد آخر میں چہرے پر ہلکا سا موئسچرائزر لگائیں لیکن اسے زیاد ہ مقدار میں استعمال کرنے سے گریز کریں کیونکہ زیادہ چکناہٹ آپ کی بھر پور کلینزنگ پر پانی پھیر سکتی ہے۔
سینے کی جلن کا گھریلو علاج
کیا آپ اکثر سینے کی جلن کا شکار ہوتے ہیں ؟ ہو سکتا ہے کہ آپ کو معلوم نہ ہو مگر سینے میں جلن محسوس ہونا معدے کی تیزابیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جس سے آپ کو سینے میں بھی تکلیف محسوس ہونے لگتی ہے۔ایسا اکثر بہت زیادہ کھانے،موٹاپے کا شکار ہونے یا دورانِ حمل ہوتا ہے۔کبھی کبھار سینے میں ہونے والی جلن فکر مندی کی بات نہیں تا ہم ایسا اکثر ہو تو یہ نظامِ ہضم کے حوالے سے سنگین امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ درج ذیل مضمون میں چند ایسی چھوٹی چھوٹی ٹپس کا ذکر کیاجا رہا ہے جن پر عمل کر کے سینے کی جلن سے بچا جا سکتا ہے۔
چیونگم چبانا: ہم میں سے بہت سے افراد نہیں جانتے ہوں گے منہ میں پیدا ہونے والے لعاب کے بے شمار فوائد ہیں۔ ان کئی فوائد میں سے ایک بڑا فائدہ سینے کی جلن سے نجات دلانا بھی ہے۔منہ میں لعاب کی کمی سے حلق خشک رہنے لگتا ہے اور جسم تیزابیت کا شکار ہو جاتا ہے،لہٰذا سینے میں جلن کی شکایت محسوس ہو تو کوئی دوا لینے سے پہلے کوشش کریں کہ ایسی چیزوں کا استعمال کیا جائے تو منہ میں لعاب کی مقدار بڑھا دیں۔ ان اشیاء میں ایک عام دستیاب چیزبچوں کی من پسند چیز چیونگم ہے۔ چیونگم لعاب دہن کی مقدار بڑھا دیتی ہے جو کہ معدے میں تیزابیت کا باعث بننے والی خوراک کے اثرات کو معمول پر لانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔
پانی کا استعمال: جس طرح آگ کے شعلوں کو پانی ڈال کر ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے بالکل اسی طرح سینے کی جلن دور کرنے میں بھی پانی کا استعمال اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق سینے میں جلن کی شکایت ہونے کی صورت میں پانی اکثر ادویات سے زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے،کیونکہ یہ آپ کے معدے میں ایک کیمیکل کی مقدار بڑھا دیتا ہے جس سے جلن کی کیفیت میں آرام محسوس ہونے لگتا ہے۔ آپ جب کبھی سینے یا معدے میں بھی جلن محسوس کریں تو پانی کا استعمال بڑھا دیں۔
جسم کی پوزیشن بدلنا: سینے میں جلن پیداہونا زیادہ تر ہماری بے احتیاطی یا لاپرواہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔کھانے کے بعد جھکنے کی بجائے سیدھا کھڑے ہوں تا کہ کھانے کو آپ کے معدے میں رہنے اور ہضم ہونے میں مدد ملے۔ اس کے علاوہ بستر پر لیٹتے یا سوتے ہوئے پیٹ کے بل سونے کی بجائے دائیں یا بائیں پہلو پرسوئیں ۔ یہ عام نکات سینے کی جلن میں نمایاں کمی لاتے ہیں۔
سانس کی مشق: گہرے سانس لینے کی ورزش سے کافی مقدار میں ہوا آپ کے اندر جاتی ہے جس سے پٹھوں کی مضبوطی بڑھتی ہے اور معدے کی تیزابیت سے پیدا ہونے والی شکایت میں کمی آتی ہے۔یہ ورزش بہت آسان ہے بس ایک گہرا سانس لیں اور پھر آہستگی سے ہوا باہر نکالیں۔
پروٹین سے بھر پور خوراک کا استعمال: پروٹین سے بھر پور غذاسے معدے کے زیریں دبائو اضافہ ہوتا ہے اور تیزابیت سے جلن کی شکایت پیدا نہیں ہوتی، تاہم چربی والے کھانے معدے کا دبائو گھٹاتے ہیں جس سے سینے میں جلن معمول کی شکایت بن جاتی ہے۔
خشک جلد کی مناسبت سے میک اپ
گرمیوں میں تو ہم پانی کا مناسب استعمال کر لیتے ہیں، لیکن جوں جوں موسم بدلنے لگتا ہے پیاس کم لگنے لگتی ہے،اور پانی کی کمی کی وجہ سے جلد پھیکی،خشک اور روکھی ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اکثر خشک جلد پر میک اپ کرنا اور ٹھہرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے ہمارے پاس آپ کے لیے چند خصوصی ٹپس موجود ہیں جن پر عمل کر کے آپ خشک جلد پر بھی مناسب میک اپ کر سکتی ہیں۔
خشک جلد والی خواتین کو گلوسی میک اپ لُک رکھنی چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ ہر ڈیڑھ مہینے بعد اینٹی ایجنگ فیشل ضرور کروائیں،باقاعدہ فیشل سے بھی جلد پر خشکی کوکنٹرول کیا جا سکتا ہے۔فیشل کروانے کے ایک ہفتے تک چہرے پر کاسمیٹکس کا استعمال نہ کریں، کیونکہ اس سے چہرے پر وائٹ ہیڈز بن جاتے ہیں۔اس کے علاوہ فیشل کروانے کے بعد اپنی جلد کی نوعیت کے مطابق سن بلاک کا استعمال لازمی کریں۔
میک اپ بیس کے لیے خشک جلد پر’’ٹی وی سٹک‘‘اور بی بی سٹک بہت موزوں سمجھی جاتی ہے۔جبکہ آئلی جلد والی خواتین کو ان کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔
بدلتے موسم میں خشکی کی وجہ سے ہونٹ بہت خراب ہو جاتے ہیں،اس لیے سردیوں میں ہمیشہ ڈارک اور گلوسی لپ سٹک استعمال کریں۔ویسے تو میٹ لپ سٹک کا استعمال گرمیوں میں موزوں سمجھا جاتا ہے،لیکن آپ بدلتے موسم اور سردیوں میں ابھی اسے استعمال کرنا چاہتی ہیں تو میٹ لپ سٹک کے ساتھ لپ بام مکس کر کے لگائیں اس سے ہونٹ خشک نہیں ہو ں گے اور لپ سٹک فریش دکھائی دے گی۔جن خواتین کے ہونٹ خشکی کی وجہ سے پھٹتے ہیں وہ کوشش کریں کہ لپ بام ہر وقت لگائیں۔ بدلتے موسم میں عام طور پر آنکھوں کی جلد پر بھی بے حد خشکی آ جاتی ہے۔ اس صورت میںآئی میک اپ کرتے ہوئے لیکوئیڈ کنسیلر کا استعمال کریں۔
کوشش کریں کہ پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں تا کہ آپ کی جلد نرم اور ترو تازہ دکھائی دے۔اس کے علاوہ خشک جلد سے نجات پانے کے لیے عرقِ گلاب کا استعمال بھی بہترین ہے۔سپرے کرنے کے بعد چہرے کو خشک نہ کریں اور جلد میں جذب ہونے دیں۔
خشک جلد کے لیے گھریلو ٹوٹکے: ۔گلیسرین،عرقِ گلاب اور لیموں کا رس ہم وزن ملا کر کسی بوتل میں رکھ دیں اور رات کو سونے سے پہلے ہاتھوں ،پائوں اور چہرے کا مساج کریں۔
ململ کے کپڑے میں برف کے ٹکڑے لپیٹ کر فریز کر لیں،اور میک اپ کرنے سے کچھ دیر پہلے چہرے پر آہستہ آہستہ لگائیں کچھ دیر تک یہ عمل کریں جب جلد ٹھنڈی ہو نے لگے تو میک اپ کرلیں۔
دو چمچ بالائی،ایک چمچ شہد اور چار قطرے لیموں کا رس ملا کر پیسٹ بنائیں اور چہرے پر لگائیں۔پندرہ منٹ بعد چہرہ دھو لیں تو جلد نرم و ملائم ہو جائے گی۔
بدلتے اور قدرے سرد موسم میں سموکی میک اپ زیادہ پسند کیا جاتا ہے، لپ سٹک میں ریڈ اور میرون ان رہیں گے اور آئی میک اپ کے لیے پنک اور پرپل شیڈ ز فیشن کا حصہ ہوں گے،یاد رکھیں خواہ آپ کی آنکھوں کا رنگ ہلکا ہو یا گہرا ہمیشہ لائٹ آئی شیڈ ز کا ہی استعمال کریں۔
مالٹا کھانے کے چند طبی فوائد
مالٹا جو کہ ہمارے ہاں بکثرت پایا جاتا ہے اور اسی تناسب سے استعمال بھی ہوتا ہے۔یہ نارنگی،سنگترہ اور جاپانی پھل کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔مالٹا مسمی کے مقابلے میں بڑا اور زیادہ ترش ہوتا ہے۔پاکستان میں اس کی ایک اور قسم کی کاشت بھی خوب ہونے لگی ہے جو اندر سے سرخ اور چقندری رنگت کی ہوتی ہے۔اس حوالے سے یہ ریڈ بلڈ کہلاتی ہے۔مالٹا تمام عمر کے لوگ بڑی رغبت سے استعمال کرتے ہیں اور ہر عمر کے لوگوں کے لیے یکساں مفید ہیں۔مالٹے کے کیمیائی اجزاء میں سٹرک ایسڈاور وٹامن سی بکثرت ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ معدنی نمک مثلاً کیلشیئم،میگنیشیئم، فولاد، پوٹاشیم، فاسفورس، جست اور تانبا وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔
مالٹے کے پھول میں معدنی اجزاء کافی مقدار میں ہوتے ہیں یوں اس کا صرف رس ہی استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ پھوک بھی کھا لینا چاہیے۔اس طرح یہ پھل غذائیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ساتھ فائبر بھی فراہم کرتا ہے جو قبض کے لیے مفید ہے۔مالٹے کا رس مریضوں کے علاوہ ان کے لیے بھی فائدے مند ہے جو موٹاپے سے نجات چاہتے ہیں۔ مالٹے کا چھلکا جس قدر پتلا ہو گا اسی قدر غذائی اجزاء سے مئوثر ہو گا اور ذائقہ بھی اچھا ہو گا۔
مالٹے کا جوس ہاضم ہوتا ہے ۔یہ قوت مدبرہ کی اصلاح کرتا ہے،دل و دماغ کو فرحت بخشتا ہے اور معدے کو قوت دیتا ہے۔صالح خون پیدا کرتا ہے جس سے رنگت صاف ہوتی او ر جلد نکھر جاتی ہے۔ شدت گرمی میں اس کا استعمال گرمی سے تسکین دیتا ہے۔یوں تو یہ موسمی شدتوں سے بچاتا ہے۔ ویسے بھی قدرتی نظام کے تحت پھل اپنے موسمی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔
مالٹے کا استعمال مختلف انداز میں فائدہ پہنچاتا ہے۔یہ وہم اور وحشت میں فائدہ دیتا ہے، طبیعت میں چستی و فرحت پیدا کرتا ہے۔ مالٹا زود ہضم ہے اور حلق سے نیچے اترتے ہی خون میں شامل ہو جاتاہے۔
مالٹے کا رس پینے سے جسم میں موجودLDLکولیسٹرول کم ہوتا ہے۔یہ کولیسٹرول دل کی کئی بیماریوں کا باعث ہوتا ہے۔اگر آپ کولیسٹرول کم کرنا چاہتے ہیں تو روزانہ مالٹے کے جوس کا ایک گلاس ضرور پئیں۔
مالٹے کا جوس جلد میں نئی خوشنمائی لاتا ہے۔یہ آپ کی جلد کو ہائیڈریٹڈ اور موئسچرائزڈ رکھتا ہے۔جھریوں سے بچاتا ہے،اور پھٹی خراب جلد سے محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بلڈ پریشر میں توازن لاتا ہے،اور نیا خون پیدا کرتا ہے۔ اس کے اندر پایا جانے والا ایک جزHerperidinبلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔مالٹے کا رس دل کی بیماریوں کے خطرات کوبھی کم کرتا ہے۔
مالٹے کا رس جسم کو وافر مقدار میں وٹامن سی فراہم کرتا ہے۔وٹامن سی جو ہمارے جسم کی کئی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے، مالٹے کا رس پینے سے حاصل کیا جا سکتا ہے،روزانہ ایک سے دو گلاس جوس پینے سے آپ کے جسم میں وٹامن سی بڑی مقدار میں جسم کو ملتا ہے۔
جب آپ زیادہ چکنائی یا میٹھے والی غذا کھاتے ہیں تو یہ جسم میں سوزش پیدا کرتی ہے۔جو ذیا بطیس اور دیگر بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔مالٹے کا جوس سوزش کم کر کے جسم کو کئی قسم کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سوئیٹر پر لگے روئوں کے چھوٹے چھوٹے گولے دیکھنے میں بہت بُرے لگتے ہیں جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ سوئیٹر بہت پُرانا ہے،جو اکثر ان کپڑوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہیں زیادہ استعمال کیا جائے،جبکہ کچھ نئے کپڑوں پر بھی یہ روئیں بن جاتی ہیں۔بہر حال وجہ جو بھی ہو انہیں صاف کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ لگتا ہے ، بعض دفعہ اس کی صفائی کے لیے ایسے برش کا استعمال کرتے ہیں جن کی وجہ سے سوئیٹر ہی خراب ہو جاتا ہے۔ ذیل میں ہم بتاتے ہیں کہ کس طرح آپ ان روئوں کو صاف کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

ہار مونز کے عدم توازن سے انسان میں بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جو کہ مستقبل میں کئی بیماریوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ دراصل ہمارے ہاں ’’پولسٹک اووریز سنڈروم‘‘کی بیماری عام ہے ۔ اس کا مطلب ہار مون کی خرابی ہے۔اس کی وجوہات پر نظر ڈالی جائے توسب سے بڑی وجہ غذا ہے۔یہ بیماری ایک غذائی بگاڑاس وجہ سے بھی ہے کیونکہ ہم وہی نظر آتے ہیں جو ہم کھاتے ہیں۔غذا ہی ہمارے خون کا حصہ بنتی ہے اور اسی سے بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔

مزید پڑھیں

کچھ لوگ بہت زیادہ سونے کے عادی ہوتے ہیں،جبکہ بعض لوگ مختلف وجوہات کی بناء پر بے خوابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دونوں ہی علامات کسی نارمل اورتندرست انسان کی نشانی نہیں ہیں۔ جس طرح کھانے کے معاملے میں اعتدال ضروری ہے اسی طرح نیند کے معاملے میں بھی توازن ہونا ضروری ہے۔موجودہ دور میں بے خوابی کی شکایت عام ہے اور ہر ایج گروپ کے افراد نیند نہ پوری ہونے کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔متعدد افراد اس حد تک بے خوابی کا شکار ہوتے ہیں کہ انہیں رات کو سونے کے لیے روزانہ نیند آور ادویات استعمال کرنی پڑتی ہیں۔

مزید پڑھیں