☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) متفرق(خالد نجیب خان) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) خواتین(مریم صدیقی)
خواتین کیلئے مفید مشورے

خواتین کیلئے مفید مشورے

تحریر : نجف زہرا تقوی

03-22-2020

بچوں کے لیے بہترین غذائیں
بچوں کے لیے کھانے کی چیزیں خریدتے وقت غذائیت کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے۔والدین مارکیٹ میں متعارف ہونے والی نئی غذائوں یا نئے ذائقوں کو آزمانا چاہتے ہیں۔
 

 

مشتہرین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بڑوں اور بچوں دونوں ہی کو لبھاتے ہوئے انہیں اشیاء خریدنے کی تحریک دیں۔کھانوں کی صنعت میں اشیاء کے اجزاء اور تیاری کے مراحل کے ساتھ ساتھ اس کی پیکنگ،ریپر کی رنگا رنگی اور خوش نمائی صارفین کو ضرور متوجہ کرتی ہے۔یہی نہیں ٹیلی ویژن کی تشہیری مہم کا کردار بھی کم اہمیت نہیں رکھتا۔ذیل میں ہم ماہرینِ غذائیت کی تیار کردہ فوڈ گائیڈ کے چند عوامل کا ذکر کر رہے ہیں،ملاحظہ کیجئے عادتوں کے بدلنے سے صحت کیسے برقرار رہتی ہے۔
انواع و اقسام کے بسکٹ،نت نئے ذائقوں کے دلیے،آئس کریمز،کسٹرڈ،تلی ہوئی غذائیں اور کنفیکشنری آئٹمز آپ کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔آپ بچوں کو کھلانے،پلانے کا تعین خود کرتے ہیں۔ان کی غذائی افادیت اور کھانوں کے معیار کا جائزہ خود لیں۔ایسا ممکن ہے کہ ان میں سے کئی اشیاء کم غذائیت پر مشتمل ہوںاور بچے انہیں بار بار کھانے کی ضد کرتے ہوں۔یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے فریج اور الماری میں ایسی ہی کم غذائیت والی اشیاء تعداد میں زیادہ ہوں اور بچوں کو وہی مرغوب ہوں۔ایسی صورت میں کم غذائیت والی اشیاء کھانے سے اجتناب کریں۔کبھی کبھار انہیں کھانے میں ہر گز کوئی مضائقہ نہیں تا ہم روزانہ یا دن میں لگاتارتین،چار مرتبہ بچہ وہی چیزیں کھائے تو یقینا اس کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
گھر کے کھانوں اور سنیکس میں فرق: بچوں کے تین وقت کے کھانوں میں جنک فوڈ یا سنیکس شامل نہیں ہونے چاہئیں۔ جنک فوڈ کم غذائیت والا کھانا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ کوئی سلاد،پھلوں سے بنائی جانے والی ڈش کا اہتمام کر لیا جائے تو بچے کو صحت بخش غذا کے ساتھ دل کو بھانے والا مزیدار کھانا بھی مل جاتا ہے۔
پلیٹ صاف کرنے کا حکم نہ دیں: اول تو بچوں کی پلیٹ میں گنجائش سے زیادہ کھانا بھرنا ٹھیک نہیں،کیونکہ ان کا معدہ بہت چھوٹا ہوتا ہے اور وہ تھوڑی سی خوراک سے بھی بھر جاتا ہے۔اگر بچہ تھوڑا سا کھانا بچا لیتا ہے تو اس پر کھانا ختم کرنے یا پلیٹ صاف کرنے کا دبائو نہ ڈالیں۔پیار سے سمجھائیں کہ آخری نوالہ نہیں چھوڑنا چاہیے یہ تہذیب کے منفی ہے۔بچہ رفتہ رفتہ آپ کی بات سمجھ جائے گا۔
اپنے مینیو کواز سر نو بنائیں: کون کہتا ہے کہ بچے ہر روز پزا یا برگر ہی کھانے کو مانگتے ہیں۔خاص کر جب آپ انہیں گھر سے باہر کھانے کے لیے لے جانا چاہتی ہیں تو نئے ریسٹورنٹس کا پتہ رکھیں۔بچوں کو نئی ڈشز سے متعارف کروائیں۔اپنی آرڈر کی ہوئی چیز میں سے بچے کو چکھائیں تا کہ اس کے ذائقے کا معیار بدلے اور وہ بڑوں جیسا کھانا کھانے کا عادی ہو سکے۔
کیلوریز گنیں:بچے کولا اور دوسرے میٹھے مشروبات پئے بغیر نہیں رہ سکتے۔آپ ہر بار کے ڈرنکس کی کیلوریز گنئے اور جمع کریں۔دودھ دہی کی لسی اور پانی غذائیت سے بھر پور مشروبات ہوتے ہیں۔آہستہ آہستہ بچوں کو ان مشروبات کے استعمال کا پابند کریں۔پھلوں کا جوس اسی صورت میں سو فیصد بے ضرر اور غذائیت سے پُر ہو سکتا ہے جب یہ پھلوں سے کشید نہ کیاگیا ہو اور اس میں کوئی مصنوعی اجزاء نہ ملائے گئے ہوں۔اگر بچوں کو چار سے چھ اونس جوس روزانہ دے دیا جائے تو یہی روزانہ کی خوراک کے معیار کے عین مطابق ہو گا۔
متوازن غذا کا پہلو ڈھونڈیئے: کبھی کبھار موقع محل سے بد پر ہیزی یعنی کم غذائیت والی اشیاء کھا لی جاتی ہیں تا ہم اسے معمول نہیں بنا لینا چاہیے،کچھ بچوں کو میٹھا بہت پسند ہوتا ہے۔مائیں کپ کیکس بیک کرتی ہیں اور انہیں لنچ یا ڈنر میں دے دیتی ہیں۔گھر پر تیار کردہ اشیاء بچوں کو لنچ میں ضرور دیں لیکن اس سے پہلے سبزیوں اور سفید گوشت پر مشتمل مکمل کھانا بھی تیار کریں۔گوشت کے ساتھ کبھی سبزیوں کے کھانوں کو بھی کم اہم مت جانیں اور اسے بچوںکی خوراک کا حصہ ضرور بنائیں۔
ساگودانہ کے طبی فوائد
یو ں تو قدرت نے غذا کی صورت میں بے شمار ایسی نعمتیں پیدا کی ہیں جو نہایت سستی لیکن بے شمار اہمیت کی حامل ہیں۔جنہیں استعمال کر کے صحت کے بڑے بڑے مسائل کو با آسانی حل کیا جا سکتا ہے۔غذا کی شکل ایک بہترین چیز ساگو دانہ بھی ہے جو ہمارے ہاں زیادہ تر بچوں کو نرم ہونے کے باعث کھلائی جاتی ہے لیکن اس کا استعمال بچوں،بڑوں دونوں کے لیے بہترین ہے۔ساگو دانہ کھانے سے آپ کے جسم کو کیا فائدے پہنچتے ہیں آئیے اس بارے میں آپ کو قدرے تفصیل سے بتائیں۔
پٹھوں کی افزائش اور مضبوطی:ساگودانہ میں پروٹین کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے جو کہ پٹھوں کی افزائش اور انہیں مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔اس کے علاوہ ساگودانہ شفا یابی کے عمل کو بھی تیز بناتا ہے۔اس لیے ہر شخص کو ساگودانہ اپنی غذا میں لازمی شامل کرنا چاہیے۔
ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے: ساگودانہ وٹامن کے،کیلشیئم اور آئرن سے بھر پور ہوتا ہے اور یہ اجزاء ہڈیوں کی صحت بہترین بنانے اور انہیں لچکدار بنانے کے حوالے سے انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ اجزاء توانائی کی سطح میں اضافے کے لیے بھی مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے ساگودانہ ایسے بچوں کو کھلانا زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے جو بڑھنے کی ابتدائی عمر سے گزر رہے ہوں۔
بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے: ساگودانہ پوٹاشیم پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ بلڈ پریشرکوکنٹرول رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ پورے جسم میں دورانِ خون کی سطح کو قابو میں رکھتا ہے۔اس کے علاوہ یہ دل کی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
توانائی میں اضافہ: اگر آپ خود کو جسمانی طور پر فعال رکھنے کے خواہشمند ہیں تو اس کے لیے ساگودانہ ایک بہترین غذا ہے۔ساگودانہ میں پائے جانے والے کاربو ہائیڈریٹس آپ کی توانائی میںا ضافے کا باعث بنتے ہیں۔ایسے افراد جو اکثر سستی اور کاہلی کی شکایتے کرتے ہیں انہیں ساگو دانہ ضرور کھانا چاہیے۔
وزن میں اضافہ:ساگودانہ میں بھاری مقدار میں پائے جانے والے کار بوہائیڈریٹس وزن میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔اسی لیے ایسے افراد جو بہت زیادہ کمزور ہوں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی غذا میں ساگو دانہ کو ضرور شامل کریں۔ساگو دانہ ایک ایسی بہترین غذاہے جس میں پائے جانے والے اجزاء آپ کو مناسب جسمانی وزن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پیدائشی نقائص سے بچائو:اجزاء کی کمی اور غلط ادویات کا استعمال اکثر بچوں میں پیدائشی نقائص کا سبب بن جاتا ہے۔ساگو دانہ میں پایا جانے والا فولک ایسڈ اور وٹامن بی 6بچوں کی بہترین نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اسی وجہ سے ماہرین حاملہ خواتین کو ساگو دانہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
نظامِ ہضم کی بہتر ی کے لیے: ہم میں سے اکثر افراد کو نظامِ ہاضمہ کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ساگو دانہ آپ کو اپھارہ پن،قبض اور بد ہضمی سے بچاتا ہے۔اس کے علاوہ ساگو دانہ کولیسٹرول کی سطح کو بھی برقرا ر رکھتا ہے۔ساگو دانہ میں پایا جانے والا فائبر قبض کی بیماری سے بچائو کیحوالے سے جادو کا کام کرتا ہے۔قبض کی شکایت زیادہ تر بچوں میں پائی جاتی ہے لیکن انہیں ساگو دانہ کھلا کر اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔
بیوٹی کارنر
کسی بھی موسم میں چہرے کی جلد سب سے پہلے ہر موسم کا اثر قبول کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ چہرہ خاص توجہ اور محنت چاہتا ہے۔آپ کا چہرہ چاہے کسی بھی قسم سے تعلق رکھتا ہو یعنی چہرے کی جلد خشک ہو یا چکنی یہ آپ سے ایک جیسی توجہ چاہتا ہے۔توجہ کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ آپ سارا دن خود کو آئینے میں دیکھنے میں مصروف رہیں،ضروری یہ ہے کہ آپ اسے موسم کے لحاظ سے مناسب دیکھ بھال فراہم کریں۔ذیل میں ہم آپ کے لیے چند ہدایات فراہم کر رہے ہیں جو ہر موسم کو مدِ نظررکھتے ہوئے ترتیب دی جا رہی ہیں۔
سردی ہو یا گرمی صبح نہار منہ دو گلاس پانی ضرور پی لیں ،یہ چہرے کی جلد کے لیے فائدہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ معدے کو بھی صاف رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ کچا دودھ لے لیں ،اور اس میں روئی کو بھگو کر اپنے پورے چہرے پر لگائیں۔اس کے بعد آہستہ آہستہ گول انداز میں گھماتی جائیں۔اب اسے پندرہ منٹ کے لیے لگا رہنے دیں اور پھر ٹھنڈے یا تازے پانی سے دھو لیں۔یہ عمل ہفتے میں چار سے پانچ مرتبہ ضرور کریں۔اس سے چہرہ چمکدار اور جلد صاف ہو جائے گی۔
ایک کھیرے کا ٹکڑا لے لیں اور اسے اپنے چہرے پر گول انداز میں گھمانے والے انداز سے آہستہ آہستہ رگڑیں۔چند دنوں کے استعمال سے ہی چہرہ  چمک اٹھے گا۔
دو کھانے کے چمچ ملائی لے لیں اس میں ڈیڑھ کھانے کا چمچ آٹا اور اس کے ساتھ چندقطرے لیموں کا رس شامل کریں۔روزانہ اس مکسچر کو اپنے چہرے پر پانچ منٹ کے لیے لگائیں اور پھر دھو لیں۔خشک چہرے والی خواتین ملائی کا استعمال کریں اور وہ خواتین جن کی جلد چکنی ہے وہ ملائی کی جگہ بیسن کا استعمال کر سکتی ہیں۔
برابر وزن میں کھیرے اور لیموں کا جوس لے لیں او ر نہانے سے پہلے اپنے چہرے پر لگائیں ۔دس منٹ کے بعد چہرہ دھو لیں۔اس کے استعمال سے آپ اپنی رنگت میں نمایاں فرق محسوس کریں گی۔
ایک ٹماٹر کا ٹکڑا لیں اور اسے اپنے چہرے  اور گردن پر مساج کے طریقے سے لگاتی جائیں،یعنی ہلکا ہلکا رگڑیں مگر بہت زیادہ رگڑنے سے گریز کریں اور پندرہ منٹ بعد چہرہ دھو لیں۔
چہرے پر عرق گلاب کا استعمال بھی بہترین ہے ۔یہ آپ کے چہرے کی جلد کے لیے سن بلاک کا کام کرتا ہے۔
دہی اور ٹماٹر کا پیسٹ اچھی طرح ملائیں اور چہرے پر لگا لیں۔یہ چہرے کی جلد میں نرمی پیدا کرتا ہے۔
شہد اور کیلے کا مکسچر بنا لیں (آپ یہ مکسچر بلینڈر میں بھی بنا سکتی ہیں)اب اس میں تھوڑا ساملک پائوڈر،کوئی بھی ملک کریم اور چاول کا آٹا ملا کر یہ پیسٹ چہرے پر لگائیں۔چہرے کی چمک کے لیے یہ بہترین مکسچر ہے۔آپ صرف شہد اور کیلے کا مکسچر بھی استعمال کر سکتی ہیں یہ بھی چہرے کی جلد کو تروتازہ کرنے اور اس میں چمک پیدا کرنے کے لیے مفید ہے۔
 

 

مزید پڑھیں

جس طرح ہر چیز کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں اسی طرح سوشل میڈیا کے بھی مثبت اور منفی پہلو اس کے استعمال پر منحصر ہیں۔ اگر مثبت پہلو کی بات ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سیب کے دس انمول فائدے سیب اپنی غذائیت کے لحاظ سے دنیا کا مشہور ترین پھل ہے۔میٹھا سیب پہلے درجے میں گرم ،دوسرے میں تر ہے۔بنیادی طور پر اعلیٰ قسم کے سیب کی پیداوار کے لیے سرد آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔  

مزید پڑھیں

لہسن کے چھلکے میں چھپے صحت کے راز سکارف پہننے کے دلکش اور منفرد انداز ٹوٹکے    

مزید پڑھیں

بدل رہا ہے وقت ، پاکستانی خواتین کی کامیاب جدوجہد سے۔۔۔    

مزید پڑھیں