☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
خواتین کیلئے مفید مشورے

خواتین کیلئے مفید مشورے

تحریر : نجف زہرا تقوی

04-26-2020

فراغت کے باعث ڈپریشن کا شکار ہونے سے بچیں
کورونا وائرس سے بچائو کے پیشِ نظر حکومتی اقدامات پر عمل کرتے ہوئے بیشتر لوگ پچھلے کئی روز سے گھروں میں مقید ہیں۔مصروف زندگیوں میں آنے والے اس قدر بڑے بدلائو کو اکثر لوگ آسانی سے قبول کر رہے ہیں ،جبکہ بعض کے لیے اس طرزِ زندگی کو اپنانا مشکل ہو رہا ہے،اور بدلائو ان کے ذہن پر اس قدر سوار ہونے لگا ہے کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔
 

دبائو کسی بھی قسم کا ہو،ذہنی اور جسمانی عدم توازن کا باعث بنتا ہے ۔ذہن پر حد سے زیادہ دبائو آپ کی صحت کے لیے خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔موجودہ حالات میں ذہنی دبائو پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے۔درج ذیل مضمون میں اسی حوالے سے چند ٹپس پیش کی جا رہی ہیں۔
دبائو سے نجات کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے حواس پر قابو رکھیں، ساتھ ہی اپنی سانس کو بھی کنٹرول میں رکھیں۔جب سانس اندر کھینچیں اور باہر پھینکیں تو پانچ منٹ تک اس عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور اس عمل کو مکمل طور پر محسوس کریں ۔آپ فوری طور پر دبائو میں کمی محسوس کرنے لگیں گے۔
حالات کتنا ہی منفی رُخ اختیار نہ کر لیں انہیں خود پر حاوی نہ ہونے دیں،بلکہ ہر وقت یہ سوچیں کہ آپ خوش ہیں اور مسائل حل ہو جائیں گے۔اگر آپ مثبت اندازِ فکر اپنانے کی عادی ہیں تو ذہنی دبائو آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
اپنی شخصیت پر توجہ دینا ضروری ہے،ساتھ ہی خود کو آرام بھی پہنچائیں۔ آرام پہنچانے کا عمل انتہائی سادہ ہے کسی بھی پُر سکون جگہ پرلیٹ جائیں اور کچھ وقت گزاریں۔اس دوران ذہن کو مکمل طور پر خالی چھوڑ دیں ۔اس عمل کے بعد اگر کسی پُر فضا مقام پر جانا چاہیں تو جائیں ورنہ کوئی اچھی سی کتاب بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔اگر پسند کریں تو اپنا پسندیدہ مشغلہ بھی اپنا سکتی ہیں مثلاً کوکنگ یا پودوں کی دیکھ بھال وغیرہ۔
یاد رکھیں آپ کی غذا دبائو سے لڑنے کا اہم ترین ہتھیار ہے،لہٰذا اس کا متوازن اور طاقتور ہونا بہت ضروری ہے۔پھل، ترکاری اور سوپ وغیرہ کو غذا کا مستقل حصہ بنا لیں۔کھانے میں شکر کی مقدار کم کرنا بے حدضروری ہے۔
زندگی کو حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھیں۔گھر پر رہتے ہوئے بھی کوشش کریں کہ اپنے مقصد کے حصول میں مصروف ہو جائیں اور جو بات نا ممکن ہے اسے ممکن بنانے کی کوشش  کریں ۔مصروفیت کے باعث اگر آپ پہلے آپ کی کوشش میں کوئی کمی رہ گئی تھی تو یہ نادر موقع ہے اس کمی کو دور کرنے اور مزید محنت کرنے کے لیے۔ا س سے بھر پور انداز میں فائدہ اٹھائیں اور اپنی محنت پر یقین رکھتے ہوئے فارغ وقت میں کوشش تیز تر کر دیں۔
ڈپریشن کی چند اور علامات اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔  اکیلا پن،کھوئے کھوئے رہنا،لوگوں سے نفرت لڑائی جھگڑا کرنا،کسی ایک جانب دیکھتے رہنا،ہر بات پر پریشانی کا اظہار کرنا ،رونا اور منفی سوچوں میں مبتلا رہنا وغیرہ ڈپریشن کی نشانیاں ہیں۔نیند نہ آنے کا سب سے بڑا سبب ڈپریشن ہے،کچھ لوگ وقتی طور پر اس کا شکار ہوتے ہیں مگر اس پر قابو پانا نہایت آسان ہے مثلاً کوئی شخص اگر کسی مالدار کو دیکھتا ہے اور اس کی آسائشیں دیکھ کر احساسِ کمتری محسوس کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی نعمتوں کو بغور دیکھ اور اپنے سے کمتر بندے کی زندگی کا مشاہدہ کرے،سوچ میں تبدیلی اس عارضی ڈپریشن کو ختم کر دیتی ہے،مگر یہی کیفیت آگے چل کر دائمی مرض اختیار کر لیتی ہے جو مہینوں سالوں تک رہتی ہے۔اگر کسی مذہبی سکالر یا نفسیاتی معالج سے رابطہ نہ کیا جائے تو صورت بگڑ جاتی ہے اورانسان نفسیاتی مریض کہلانے لگتا ہے۔مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کر کے ڈپریشن پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
نماز کی پابندی کریں ،اور اچھے دوستوں ،بزرگوں اور علماء کی صحبت اختیار کریں۔
منفی سوچوں سے دور رہیں،ناشکری سے بچیں ،اور ہر وقت اللہ کا شکر ادا کریں۔
خو شگوار یادوں کو دہرائیں اور اپنے لیے جینا سیکھیں۔
باغبانی کو اپنے معمولات میں شامل کریں اور نئی نئی جگہ کی سیرو تفریح کریں۔
اپنی غذا پرتوجہ دیں،ثقیل اور بادی اشیاء ترک کریں زیادہ فارغ مت بیٹھیں۔
اچھی کتابوں کا مطالعہ کریں یہ آپ کی صحت پرمثبت اثرات مرتب کریں گی۔
ورزش کو معمول بنائیں،بلند فشارِ خون گھٹائیں
ہائی بلڈ پریشر ایسا مرض ہے جس میں آج کل ہر عمر کے افراد مبتلا ہیں۔پچھلے چند سالوں میں خاص طور پر نواجونوں کی بڑی تعداد اس بیماری کا شکار ہوئی ہے۔بلند فشارِ خون کی یہ شرح فالج،جملہ قلب اور گردوں کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہے۔ایک اور مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈپریشن کے شکار نوجوانوں اور ادھیڑ عمر افراد کے مقابلے میں بلڈ پریشر میں اضافہ بوڑھوں کے لیے زیادہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔اس مرض کی مئوثر دوائوں کی تلاش اور تیاری کا سلسلہ جار ی ہے،لیکن دوائوں کے علاوہ دیگر تدابیر کے ذریعے بھی اس پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ان میں ورزش سب سے زیادہ مئوثر اور قابلِ اعتماد تدبیر کے طور پر اپنی افادیت منوا رہی ہے۔دنیا بھر میں قائم یوگا مراکز کی رپورٹوں سے ثابت ہو رہا ہے کہ روزانہ ڈیڑھ گھنٹے کی ورزشوں سے خون میں مضرِ قلب کولیسٹرول کی سطح کم ہونے کے علاوہ بلڈ پریشر اور ذیابطیس کا مرض بھی قابو میں آ جاتا ہے۔ایک سال تک یہ ورزشیں کرنے والے افراد ذیابطیس سے نجات پا جاتے ہیں۔اسی طرح ان کے لیے گردوں کے امراض کا خطرہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔جاپان کے قومی ادارئہ صحت و غذائیت میں ہوئے تجربات نے یہ بھی ثا بت کیا ہے کہ ہر ہفتے محض ساٹھ سے نوے منٹ تک ورزش کرنے والے افراد کا بلڈ پریشر نمایاں طور پر کم ہو گیا۔
اسی ادار ے میں بظاہر بالکل صحت مند ،لیکن ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا207مردو خواتین کا ٹیسٹ کیا ۔ان میں سے کوئی بھی باقاعدگی سے ورزش نہیں کرتا تھا۔ان افراد کو 5 گروپس میں تقسیم کر کے ورزش کروائی گئی۔ایک گروپ نے کوئی ورزش نہیں کی جبکہ دیگرنے مختلف اوقات تک ایروبک ورزشیں کیں۔یہ ورزشیں ہفتے میں2 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک کروائی گئیں۔ان میں شامل جن 4 گروپس نے فی ہفتہ 60سے 90 منٹ  ورزشیں کیں،ان کے بلڈ پریشر میں نمایاں کمی ہوئی۔تحقیق کاروں کے مطابق اس سے زیادہ عرصے تک ورزش کروانے سے اس گروپس کے اوپر اور نیچے کے بلڈ پریشر میں کوئی نمایاں کمی نہیں ہوئی۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ اصرار کرتے ہیں کہ وہ ورزش نہیں کر سکتے،ان کے لیے ہر ہفتے محض ایک گھنٹے کی ورزش بھی انہیں بلڈ پریشر سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے یہ تحقیق یقینا حوصلہ افزا ثابت ہو گی اور وہ فی ہفتہ ایک گھنٹے کی ورزش سے اپنی صحت بہتر بنا سکیں گے۔
اسی تحقیق سے ایک اور اہم بات بھی سامنے آئی ہے کہ بلڈ پریشر کم کرنے کے لیے زیادہ دیر تک ورزش کرناضروری نہیں،بلکہ ہفتے میں4سے5روز آدھا گھنٹہ ورزش کرلینا بھی بے حد مفید ہو سکتا ہے۔ا س سے بلڈ پریشر کے علاوہ قلب،سرطان،ذیابطیس اور موٹاپے کے خطرات اور نقصانات سے تحفظ حاصل ہو سکتا ہے۔ان فوائد کے علاوہ ورزش جوڑوں اور عضلات کو بھی توانا اور صحت مند رکھتی ہے۔خون کی رگیں لچکدار رہتی ہیں اور خون میں آکسیجن کے جذب ہونے سے دماغی اور اعصابی صلاحیتیں اور توانائی نہ صرف برقرار رہتی ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔
گہری رنگت کی وجوہات
ہمارے ہاں مرد و خواتین کی بڑی تعداد رنگ گورا کرنے والے مختلف قسم کے لوشن ،کریمیں اور صابن وغیرہ طویل عرصے تک اپنی جلد پر لگاتے رہتے ہیں۔جو اکثر و بیشتر بے کار ثابت ہوتے ہیں ا ور اگر فائدہ ہو بھی تو چند گھنٹوں یا کچھ دنوں بعد ہی رنگت پھر واپس اپنی اصلی حالت میں آ جاتی ہے،لہٰذا سیاہ رنگت کے تدارک سے پہلے ہم اس مسئلے کی وجہ معلوم کرتے ہیں کہ آخر رنگ سیاہ کیوں ہوتا ہے تا کہ اس کے مطابق مسئلے کو حل کیا جائے۔
تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ جلد کی گہرائی میں واقع خلیات میلانن نامی ایک مادہ تیار کرتا ہے۔میلانن دراصل قدرت کی طرف سے ایک حفاظتی تدبیرہے یہ مادہ جلد کو سورج کی شعاعوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔جب بھی سورج کی تیز شعاعیں جلد پر پڑتی ہیں تو میلانن کی تیاری میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ تیاری ہونے کے بعد جلد کی گہرائی سے نکل کر اوپری سطح پر آ جاتے ہیں،کیونکہ میلانن مادے کی رنگت سیاہ ہو جاتی ہے،لہٰذا جلد کی رنگت بھی سیاہ پڑ جاتی ہے جبکہ گوری جلد میں میلانن کی نیچے سے اوپر منتقلی رُک جاتی ہے چنانچہ جلد سیاہ نہیں ہوتی۔بعض حساس قسم کی جلدوں میں یہ عمل بہت تیزی سے ہوتا ہے،چنانچہ اگر ایسے افراد شدید دھوپ میں مستقل رہیں تو ان کی جلد بھی تیزی سے کالی پڑنے لگتی ہے،کچھ افراد کی جلد میں میلانن نیچے سے اوپر کی سطح تک آنے میں بتدریج تباہ ہو جاتا ہے۔اس طرح یہ نقصان ہوتا ہے کہ جلد پر سورج کی شعاعوں کے مضر اثرات رونما ہونے لگتے ہیں،اور مختلف جلدی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔بعض اوقات جلد کے اندر میلانن کی تیاری اور اس کی اوپری سطح پر منتقلی کی راہ میں پیتھا لوجیکل مسائل بھی حائل ہو جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے جلد پر سیاہ دھبے پڑ جاتے ہیں کیونکہ سورج کی روشنی میں میلانن زیادہ ہوتا ہے لیکن جب جلد کی بیرونی سطح پر جانے میں اسے رکاوٹ ہوتی ہے تو یہ جلد پر دھبوں کی صورت میں نمودار ہوتا ہے اور اگر اس کے باوجود احتیاط نہ کی جائے اور شدید دھوپ میں کا لج یا نوکری پر جایا جائے تو یہ دھبے اور بھی گہرے اور پکے ہو جاتے ہیں۔مذکورہ سطور میں سیاہ رنگت کی وجہ میں میلانن کا کردار سامنے آتا ہے جو جلد کی حفاظت کے لیے ضروری تو ہے مگر اس کی زیادتی سیاہ رنگت کا سبب بن جا تی ہے۔
سیاہ رنگت کے تدارک میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کوحاصل ہے کہ مختلف طریقوں سے میلانن کی تیاری میں کمی کر دی جائے۔یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ بعض افراد کی جلد پیدائشی طور پر سانولی یا سیاہ ہو تی ہے،کچھ افراد کی جلد وقت کے ساتھ ساتھ سیاہی مائل ہو جاتی ہے،اور بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کی جلد پیدائشی طور پر صاف رنگت کی حامل ہوتی ہے اور دھوپ کے ساتھ وقت کا بھی جلد پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا ۔ایسے افراد میں جلد کے خلیات میلانن کی تیاری بہت کم کرتے ہیں لیکن ایسے افراد کی جلد سورج کی شعاعوں سے زیادہ متاثر ہوتی ہے،اور انہیں جلدی امراض کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔بہر حال سیاہ رنگت چاہے پیدائشی ہو یا وقتی دونوں میں یکساں احتیاطیں اور علاج کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔اس میں سب سے اہم تو یہ ہے کہ سورج کی شعاعوں کے عکس سے ممکنہ حد تک خود کو محفوظ رکھیں اور اگر سورج کی روشنی میں نکلنا ضروری ہے تو سورج کی کرنوں کو روکنے والی حفاظتی اشیاء مثلاً سن بلاک یا سن سکرین وغیرہ لگا کر باہر نکلیں۔
سن سکرین کی دوائوں کا انتخاب کرتے وقت ان باتوں کا ضرور خیال رکھیں کہ وہ سورج کی شعاعوں کو مئوثر طریقے سے روک سکیں اور ایسی دوائیں جلد میں پانی کی کمی نہ پید اکریں۔کیمیکلز سے تیار شدہ دوائیں عموماً جلد میں خراش بھی پیدا کر دیتی ہیں جبکہ قدرتی اشیاء سے تیار ہونے والی دوائیں اس قسم کے مسائل سے محفوظ ہوتی ہیں۔قدرتی سن بلاکس میں صندل اور شہد کا آمیزہ سر فہرست ہے ،شہد میں روغنی صندل اچھی طرح ملا کر رکھ لیں اور دھوپ میں جانے سے پہلے جلد پر آمیزہ لگا لیں اس آمیزے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی حفاظتی تہہ نظر نہیں آتی اور رنگت صاف رکھنے کے لیے یہ طریقہ بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔
بالوں کی کمی کا سبب بننے والی بیماریاں
ایک انسان کے سر پر عموماً ایک لاکھ بیس ہزار بال ہوتے ہیں اور تقریباً پچا س سے سو بال روزانہ جھڑ جاتے ہیں۔کیا آپ جانتی ہیں کہ ہرگزرتے سال کے ساتھ عورتوں کے بال گرنے کی شرح میں اضافہ ہو تا جاتاہے اور ایک خاص عمر کے بعد بال کچھ اس طرح گرنا شروع ہو جاتے ہیں کہ گھنا پن یکدم ختم ہو جاتا ہے ۔عورتوں میں بال گرنے کے تین اسبا ب ہیں عمر رسیدگی،جینز اور ہارمونز۔
بڑھاپے میں چونکہ سارے جسم کا نظام سست پڑ جاتا ہے لہٰذا بالوں کی نشونما بھی اس کی زد میں آ جاتی ہے۔جبکہ وراثتی طور پر بال ان تمام عوامل سے اثر پذیر ہو سکتے ہیں جو آپ کے والدین میں پائے جاتے ہیں،مثلاًاگر آپ کے والدین کے بال جلد سفید ہو جاتے یا گر گئے ہیں تو یقینا اس کا اثر آپ کے بالوں کی صحت پر بھی ضرور پڑے گا۔جہاں تک ہارمونز کا تعلق ہے تو ہر عورت کے جسم میں موجو ہارمونز دیگر عناصر کے ساتھ مل کرFollickesکو سکیڑ کر بالوں کی نشو نما کے قدرتی دائرے کو مختصر کر دیتے ہیں،گو یہ عام بات ہے اور ضروری بھی ہے مگر’’ٹیسوس ٹیرون‘‘نامی یہ ہارمون حیاتیاتی اعتبار سے غیر متحرک ہوتے ہیں۔ہارمونز خرابی کا شکار ہوتے ہیں تو اس کے نتیجے میں بال بہت زیادہ تعداد میں گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔اینڈروجن کی زیادتی نہ صرف عورتوں کے بالوں کو تباہ کر دیتی ہے بلکہ وہ دیگر جلدی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جاتی ہیں۔
جگر اور تھائی رائیڈ کی خرابی بھی بالوں کی بیماری کے اہم اسباب میں شامل ہے۔اس کے علاوہ مختلف ادویات مثلاً آرتھرائٹس اور ہائپر ٹینشن برتھ کنٹرول میں کمی والی ادویات بھی آپ کے بالوں پر مضر اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔اگر ادویات کا استعمال چھوڑ دیا جائے تو بالوں کی نشو نما نارمل حالت میں آ سکتی ہے۔بالوں کی ایک بیماری ایسی بھی ہے جس میں خون کے خلیے،بالوں کے خلیوں کو نشانہ بنا کر کچھ اس طرح تباہ کر دیتے ہیں کہ بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں،اور جہاں جہاں سے گرتے ہیں وہاں گول دائرے بن جاتے ہیں۔یہ بیماریAlopecia Areateکہلاتی ہے اور اس کے نتیجے میں انسان گنجے پن کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔یوں تو اس بیماری کی اصل وجوہات سامنے نہیں آئیں لیکن سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسلسل ذہنی تنائو اور دبائو کی کیفیت اس بیماری کو جنم دیتی ہے۔اس کے علاوہ نوکری کرنے والی خواتین بھی بالوں کے پتلے ہو جانے کی  شکایت کرتی ہیں۔اس کا اہم سبب ذہنی تنائو ہے کیونکہ دفتری ماحول ،زیادہ کام کا بوجھ،مقابلہ آ رائی کا رجحان اس قدر دبائو ڈالتا ہے کہ وہ اپنی خوبصوتی سے محروم ہونے لگتی ہیں۔ذہن پر مسلسل دبائو کی کیفیت تنائو پیدا کرنے والے ہارمونز کو بڑھنے میں مدد دیتی ہے اور بال تیزی سے گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مسلسل بالوں پر مختلف کیمیکل کا استعمال بھی ان کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔جہاں تک علاج کا تعلق ہے مکمل تشخیص اور ٹریٹمنٹ کے ذریعے ہی بالوں کی بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  چینی کا بہترین متبادل   خالص گنے کے رس سے تیار کیے جانے والے گڑ کو چینی کا بہترین متبادل کہا جائے تو ہر گز غلط نہیں ہو گا۔گڑ میں کیروٹین،نکوٹین،تیزاب،وٹامن بی ون،وٹامن بی ٹو ،وٹامن سی کے ساتھ ساتھ آئرن اور فاسفورس وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔  

مزید پڑھیں

جس طرح ہر چیز کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں اسی طرح سوشل میڈیا کے بھی مثبت اور منفی پہلو اس کے استعمال پر منحصر ہیں۔ اگر مثبت پہلو کی بات کی جائے تو سوشل میڈیا کئی لحاظ سے ہر ایک کے لیے مفید ہے۔ چند پہلو درج ذیل ہیں۔    

مزید پڑھیں

بچوں کے لیے بہترین غذائیں بچوں کے لیے کھانے کی چیزیں خریدتے وقت غذائیت کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے۔والدین مارکیٹ میں متعارف ہونے والی نئی غذائوں یا نئے ذائقوں کو آزمانا چاہتے ہیں۔    

مزید پڑھیں