☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غورطلب(ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() خواتین(نجف زہرا تقوی) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) ستاروں کی چال(مرزا وحید بیگ)
چُستی کا ضامن بے بی مساج

چُستی کا ضامن بے بی مساج

تحریر : نجف زہرا تقوی

06-21-2020

 شیر خوار بچوں کی بہترین افزائش اور پُر سکون نیند کے لیے مساج ضروری ہوتا ہے۔اس سے نہ صرف ان کے اعضاء چُست و توانا رہتے ہیں بلکہ یہ عمل ان کے جسم کے دورانِ خون کو بھی تیز کرتا ہے۔

اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر مائیں روزانہ صحیح طریقے سے نوزائیدہ کا مساج کریں تو وزن بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی جسمانی نشو و نما بھی بہترین انداز میں ہو سکے گی،لہٰذا شیر خوار کا مساج کرتے وقت مائوں کو کن کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے آئیے جانتے ہیں۔

 مساج کرنے سے پہلے ضرورت کی تمام چیزیں مثلاً بے بی آئل،ٹشو پیپر، ڈائپر، بچے کے صاف کپڑے اور تولیہ وغیرہ نکال کر اپنے پاس رکھ لیں تا کہ مساج کے بعد چیزیں ڈھونڈنے میں مشکل نہ ہو۔
چھوٹے بچوں کی جلد بہت نرم و نازک ہوتی ہے،ذرا سی بے احتیاطی ا ن کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے،چنانچہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں سے جیولری وغیرہ اُتار لیں اور ناخنوں کی لمبائی کو حتی الامکان چھوٹا رکھیں،تا کہ مساج کے دوران ناخن بچے کو زخمی نہ کر دیں۔
بچے کو لٹانے کے لیے نرم تولیہ یا ریپنگ شیٹ کو ہموار سطح پر بچھائیں تا کہ بچہ گرنے سے محفوظ رہے۔بچے کے کپڑے اُتار کر اسے سر کے بل سیدھا لٹا لیں۔مساج کے لیے اپنی ہتھیلی پر پہلے تقریباً آدھا چائے کا چمچ آئل لیں۔اسے اپنی ہتھیلیوں پر مل کر بچے کے جسم پر لگائیں۔مساج کے دوران آئل کی مقدار ناکافی محسوس ہو تو مزید لے لیں،اور دورانِ مساج بچے کو مصروف رکھنے کے لیے اس کے ہاتھ میں کوئی کھلونا دے دیں یا بچے سے باتیں کرتی رہیں تو بھی وہ اُلجھن کا شکار نہیں ہو گا اور آپ کی طرف متوجہ رہے گا۔اس سے بچہ جسم میں سکون محسوس کرے گا اور خوش دلی سے مساج کروائے گا۔
مائیں اپنی انگلیوں اور ہتھیلیو ں کی مدد سے ہلکے ہلکے گولائی میں بچے کے سینے اور پیٹ کا مساج کریں۔کاندھوں پر بھی اسی انداز سے مساج کریں،جبکہ ہاتھوں اور پیروں پر اوپر سے نیچے کی جانب مالش کریں۔پیٹھ کے حصے پر نیچے سے اوپر کی جانب مساج کرنا بہتر رہتا ہے۔
مساج کے دورا ن بچوں کی ملائم جلد پر زور آزمائی سے گریز کریں۔خاص طور پر ریڑھ کی ہڈی والے حصے کو زیادہ زور سے نہ رگڑیں۔بچے کی ہڈیاں بھی نرم ہوتی ہیں اور ویسے تو بچے کا پورا جسم ہی نازک ہوتا ہے لیکن کچھ حصے زیادہ حساس ہوتے ہیں جو سخت ہاتھ لگنے سے بچے کو نقصا ن پہنچا سکتے ہیں۔
چھوٹے بچوں کو انگلیاں منہ میں ڈالنے کی عادت ہوتی ہے،اکثر وہ ہاتھوں سے آنکھیں بھی ملتے ہیں لہٰذا ان حصوں پر آئل کا استعمال مت کریں ۔عموماً شیر خوار بچوں کی جلد پرجلدی ریش پڑ جاتے ہیں اور انہیں حفاظتی ٹیکے لگنے کا عمل بھی جاری رہتا ہے،لہٰذا ضروری ہے کہ مائیں ان متاثرہ حصوں پر مساج کرنے سے احتیاط برتیں۔
جب مساج مکمل ہو جائے تو بچے کو کپڑے پہنا کر تولیے میں لپیٹ لیں ،تولیے کی گرماہٹ سے بچہ پُر سکون ہو جائے گا۔فیڈنگ سے پہلے اور فوراً بعد مساج ہر گز نہ کریں۔

جنت کے میوے میں چھپے صحت کے راز

کھجور کو اس کی بیش بہا افادیت کے باعث جنت کا میوہ کہا جاتا ہے۔اس چھوٹے سے میوے کو اگر طاقت کا خزانہ بھی کہا جائے تو ہر گز غلط نہ گا۔اس میں پوٹاشیم،فاسفورس،آئرن،وٹامن سی اور وٹامن بی کی موجودگی انسانی صحت کے بیشتر مسائل کو حل کرتی ہے۔اس میوے میں انسان کی تمام غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے ۔قدرت کی بنائی ہرغذ ا صحت کے لیے مفید ہے لیکن بعض غذائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں مخصوص اوقات میں کھانا ہی مناسب ہوتا ہے،یا ا ن کا خالی پیٹ استعمال نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔جبکہ کھجور قدرت کا وہ خاص میوہ ہے جسے بھوک کے وقت کھانے پر زور دیا گیا ہے،کیونکہ اس میں طاقت کا خزانہ موجو دہے اور کئی گھنٹے بھوکے رہنے کے بعد کھجور سے کھانے کا آغاز کرنا نہ صرف آپ کے جسم کی توانائی بحال کرتا ہے بلکہ متعدد بیماریوں سے بھی بچائے رکھتا ہے۔سعودی عرب،مصر،ایران،پاکستان،سپین ،اٹلی ،چین اور روس میں پیدا ہونے والی کھجور 70فیصد شکر پر مشتمل ہوتی ہے۔ کھجور کھانے سے بھی آپ کاجسم توانا رہتا ہے اور کئی گھنٹے بھوک محسوس نہیں ہوتی۔
جسمانی لحاظ سے کھجور کے چند دوسرے فوائد کا ذکر کریں تو یہ دل کی کمزوری کے علاوہ دیگر بیماریوں کے لیے بھی اکسیر مانی جاتی ہے۔ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق ایسے افراد جن کا دل بڑھ جاتا ہے ان کے لیے عجوہ کھجور کا استعمال بہترین ہے،کیونکہ پھیلے ہوئے دل کو سکڑنے اور توانا کرنے میں مدد کرتی ہے۔عرب ممالک میں دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کو عجوہ کھجور گٹھلیوں سمیت کوٹ کر کھانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
ایسے افراد جو گلے کی تکالیف میں مبتلا ہوتے ہیں مثلاً گلے میں ریشہ اکٹھا ہونا یا سینے پر بلغم جم جانا ،ایسے افراد کے لیے بھی کھجور کا استعمال بہترین مانا جاتا ہے۔یہ بلغم کو پگھلا کر باہر نکالنے کی عمدہ صلاحیت رکھتی ہے،اور مسلسل استعمال سے آہستہ آہستہ سینہ صاف ہونے لگتا ہے،چونکہ اس کی تاثیر گرم ہوتی ہے لہٰذا کھجور کھانے سے ریشہ با آسانی دور کیا جا سکتا ہے۔
پیٹ کے امرا ض سے نجات کے لیے بھی کھجور کا استعمال بہترین مانا جاتا ہے۔بڑوں کے پیٹ کے مسائل دور کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے پیٹ کے کیڑے بھی کھجور کھانے سے ختم ہو جاتے ہیں۔
چونکہ کھجورمیں بے پناہ طاقت اور توانائی کا خزانہ پوشیدہ ہے،لہٰذا جسمانی کمزوری میں مبتلا افراد کو کھجور کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔ایسے افراد جو کسی بھی قسم کی جسمانی کمزوری کا شکار ہوں جان لیں کہ روزانہ دو کھجوریں کھانا آپ کی بیشتر جسمانی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔کھجور میں موجود آئرن ما ں بننے والی خواتین کو بے پناہ توانائی اور زچگی میں آسانی دیتا ہے۔اس کے علاوہ بادام کے ساتھ کھجور ملا کر کھانا بھی جسم کو طاقت فراہم کرتا ہے۔ایسے افراد جو شوگر کے مرض میں مبتلا ہوں انہیں چاہیے کہ کھجور کھانے سے پہلے اپنا شوگر لیول لازمی ٹیسٹ کر لیں۔ایسے مریضوں کو زیادہ تر ڈاکٹر ایک کھجور کھانا تجویز کرتے ہیں۔

آنکھوں کے مسائل اور ان کے اسباب

گہرے حلقے: آ نکھوں کے نیچے گہرے حلقے اکثر افراد کے پڑ جاتے ہیں جس کی وجہ عام طور پر نیند کی کمی ہوتی ہے،یعنی رات گئے تک جاگنا اور جلد اٹھ جانا آنکھوں کے گرد حلقوں کا باعث بن جاتا ہے،تاہم اگر یہ حلقے مناسب نیند لینے کے باوجود ختم نہ ہوں تو طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دیگر طبی مسائل کا اشارہ ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ تھائی رائیڈ یا خون کی کمی جیسے امراض کی علامت بھی ہو سکتے ہیں۔ان کے مطابق اگر آپ مناسب نیند لیتے ہیں مگر پھر بھی خود کوتھکاوٹ کا شکار محسوس کرتے ہیں تو یہ تھائی رائیڈ یا خون کی کمی ہو سکتی ہے،ایسی حالت میں اپنے ڈاکٹر سے لازمی رجوع کریں۔
آنکھوں میں پیلاہٹ: اگر آپ کی آنکھوں کا سفید حصہ زرد یا پیلاہٹ زدہ نظر آنے لگے تو یہ جان لیوا جگر کے امراض کی ممکنہ علامت ہو سکتی ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔طبی ماہرین کے مطابق آنکھوں کا یہ رنگ ہیپاٹائٹس،جگر کے صحیح کام نہ کرنے یا دیگر امراض کے باعث ہو سکتی ہے۔ایسی صورت میںبھی فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ ضرور ی نہیں کہ آپ جگر کے امراض کا ہی شکار ہوں تا ہم ایسا ہو بھی تو ابتدائی سطح پر ہی ان پر زیادہ مئوثر طریقے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ؔ
آنکھوں کی سرخی: اگر آپ کی آنکھیں بہت سرخ ہیں یا ان میں سرخ لکیریں سی بن گئی ہیں تو پہلی فرصت میں ڈاکٹر کے پاس پہنچ جائیں کیونکہ یہ سنگین امراج جیسے آشوب چشم،پپوٹوں کی سوزش،آنکھ کے پردے کے ورم اور کسی قسم کے موتیا کی جانب اشارہ ہو سکتی ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق آنکھوں کی سرخی کچھ کم سنگین وجوہات کی بناء پر بھی ہو جاتی ہے۔جیسے آٹھ گھنٹے کمپیوٹر پر کام کرنے سے آنکھوں میں درد کے باعث سرخ لکیریں بن سکتی ہیں اور اس صورت میں آنکھوں کا معائنہ کروانا بہتر ہے،کیونکہ اس کی وجہ بینائی کی کمزوری بھی ہو سکتی ہے،اسی طرح کسی قسم کی الرجی کی صورت میں بھی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔
خشک آنکھیں: اکثر افراد کو اس قسم کی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے جس کے دوران لگتا ہے کہ آنکھیں بالکل خشک ہو گئی ہیں۔اس کی وجہ اکثر وٹامن ا ے کی کمی ہوتی ہے ،تاہم یہ شکایت عمر بڑھنے اور کچھ خاص ادویات کے استعمال کے باعث لاحق ہو سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی بیماری کا باعث ہو سکتا ہے جو خاص طور پر ایسے گلینڈز کو متاثر کرتا ہے جو آنسوئوں اور لعاب دہن کو بنانے کا کام کرتے ہیں۔عام طور پر اس کے دوران ایسا لگتا ہے کہ جیسے آنکھوں میں کوئی کنکر چلا گیا ہو اور چبھن محسوس ہونے لگتی ہے۔وٹامن اے کے ساتھ غذا میں صحت بخش چربی کی کمی بھی اس کا باعث بن سکتی ہے۔
سوجی ہوئی آنکھیں: گہرے حلقوں کی طرح آنکھوں کاسوج جانا بھی چہر ے کی کشش کو ماند کر دیتا ہے۔اس کے لیے اکثر برف کی ٹکور،کھیرے کا ٹکڑا یا دیگرٹوٹکے استعمال کیے جاتے ہیں،مگر جب یہ کسی صورت ختم نہ ہوں تو زیادہ سنگین طبی مسائل کی علامت ہو سکتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق یہ گردوں میں کسی قسم کی خرابی کی جانب اشارہ ہو سکتا ہے جس کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر رہتا ہے جبکہ نمککا زیادہ استعمال بھی اس کا سبب ہو سکتا ہے۔

  مٹی کی ہانڈی،۔۔۔محفوظ ترین انتخاب

 

 ہمارے گھروں میں آج کھانا پکانے کے لیے نان سٹک اور سٹیل کے برتنوں کو فوقیت دی جا رہی ہے،اور اس کی وجہ محض یہ ہے کہ بہت سی خواتین مٹی کے برتن میں پکے کھانوں کے ذائقے اور افادیت سے واقف نہیں ہیں۔آئیے اس بارے میں آپ کو قدرے تفصیل سے بتائیں۔
ذائقے کی ضمانت:کوئی بھی چیز اس وقت ذائقے دار معلوم ہوتی ہے جب اس میں تمام اجزاء مناسب مقدار میں یا ترکیب کے مطابق شامل کیے گئے ہوں۔اس کے ساتھ ایک اور اہم چیز جسے ہم زیادہ تر نظر انداز کر جاتے ہیں وہ پکانے والے برتن کی اہمیت ہے۔بہت سی خواتین شاید اس بات سے واقف نہیں ہوں گی کہ پُرانے وقتوں میں خواتین مٹی کے برتنوں میں ہی کھانا پکانے کو کیوں اہمیت دیتی تھیں۔دراصل اجزاء کے ساتھ ساتھ برتن کا ذائقہ بھی کھانے میں شامل ہوتا ہے اور ذائقے پر اثر ڈالتا ہے۔آپ نے شاید کبھی غور کیا ہو کہ ڈھابہ نُما ہوٹلوں پر چائے ایک مخصوص دیگچی میں بنائی جاتی ہیں اور اسے دھویا نہیں جاتا۔مسلسل چائے پکتے رہنے سے اس برتن میں چائے کا ذائقہ رچ،بس جاتا ہے اور اسی کے باعث ڈھابوں پر ملنے والی چائے کا ذائقہ گھر میں تیار کی جانے والی چائے سے مختلف ہوتا ہے،بالکل اسی طرح آپ کبھی کوئی سالن سٹیل یا میٹالک کی دیگچی میں پکا کر دیکھیں اور پھر وہی کھانا مٹی کی ہانڈی میں پکائیں آپ کو ذائقے میں زمین آسمان کا فرق محسو س ہو گا،کیونکہ دھات کا ذائقہ سالن میں لازمی شامل ہوتا ہے۔ہانڈی میں تیار ہونے والے کھانوں کی قدرتی نمی اور ذائقہ پکانے کے عمل میں ضائع نہیں ہوتا،کیونکہ شرو ع کے چند سیکنڈ ہانڈی اس نمی کو اپنے اندر جذب کرتی ہے اور جوں جوں کھانا پکتا جاتا ہے ہانڈی اپنے اندر جذب ہونے والی نمی کو لوٹانا شرو ع کردیتی ہے۔اس طرح گوشت یا مرغی کی قدرتی نمی اور روغن ضائع نہیں ہوتے۔ہانڈی میں کھانا پکانے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس میں پکانے کے دوران زائد پانی بھی در کار نہیں ہوتا اور روغن یا تیل کی کم مقدار میں با آسانی کھانا تیار کیا جا سکتا ہے۔
پکانے کا دورانیہ: ایسا مانا جاتا ہے کہ جو کام تیزی یا جلدی میں ہو وہ بے برکت بھی ہوتا ہے او ر دیر تک قائم بھی نہیں رہتا۔مٹی کی ہانڈی میں کھانا پکانابھی ایک ایسا ہی تجربہ ہے۔اس میں حرارت زیادہ وقت لے کر کھانا تیار کرتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مٹی جلدی گرمائش نہیں پکڑتی لیکن جوں جوں یہ اچھی طرح گرم ہوتی جاتی ہے کھانا تیار ہو جاتا ہے۔اس میں کھانا پکاتے ہوئے وقت چاہے زیادہ لگے لیکن ذائقہ بھی دوسرے برتنوں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
کیمیائی اثرات سے محفوظ: ہانڈی میں کھانا پکانے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہانڈی میں کھانا پکانے سے کسی قسم کے کیمیائی اثرات کھانے میں شامل نہیں ہوتے جبکہ دوسرے برتنوں کے بارے میں سو فیصد ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ یہ آپ کی صحت کے لیے کس قدر محفوظ ہیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  دن کے آغاز کا بہترین طریقہ

مزید پڑھیں

 مائیں بچوں کی صحت کے لیے ہمیشہ پریشان رہتی ہیں۔ایسے میں اگر بات ہو شیر خوار بچوں کی صحت کی تو ان کی فکر میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔معمولی بیماریوں یا تکلیف کے لیے بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا یا دوائیں کھلانا ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ برسوں سے آزمودہ گھریلو ٹوٹکوں سے استفاہ حاصل کیا جائے۔

مزید پڑھیں

فراغت کے باعث ڈپریشن کا شکار ہونے سے بچیں کورونا وائرس سے بچائو کے پیشِ نظر حکومتی اقدامات پر عمل کرتے ہوئے بیشتر لوگ پچھلے کئی روز سے گھروں میں مقید ہیں۔مصروف زندگیوں میں آنے والے اس قدر بڑے بدلائو کو اکثر لوگ آسانی سے قبول کر رہے ہیں ،جبکہ بعض کے لیے اس طرزِ زندگی کو اپنانا مشکل ہو رہا ہے،اور بدلائو ان کے ذہن پر اس قدر سوار ہونے لگا ہے کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔  

مزید پڑھیں