☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل) دین و دنیا(طاہر منصور فاروقی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(سید وقاص انجم جعفری) کچن خواتین فیشن(طیبہ بخاری ) تاریخ(عذرا جبین) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) متفرق(اسد اسلم شیخ)
بچوں‌ میں کھانے کا شوق پیدا کریں

بچوں‌ میں کھانے کا شوق پیدا کریں

تحریر :

04-28-2019

بہت سے بچے آج کل کھانے پینے کے معاملے میں لاپرواہی دکھاتے ہیں۔وہ بچے جن کی عمریں دو سے پانچ سال کے درمیان ہوتی ہیں وہ خاص طور پر کھانے پینے سے جان چھُڑاتے ہیں،مگر گھبرانے کی کوئی ضرور ت نہیں۔یہاں ہم آپ کو پانچ ایسی باتیں بتا رہے ہیں جن پر عمل کر کے آپ بھی اپنے بچوں کو خو ش خوراک بنا سکتی ہیں۔

اگر آپ کا بچہ فروٹ کھانا پسند نہیں کرتا تو آپ فروٹ کسٹرڈ تیار کر لیں،ملک شیک بنا لیں یا فروٹ چاٹ اور فروٹ جیل تیار کر لیں۔آپ مختلف پھلوں کے ٹکڑوں کو ٹوتھ پکس پر رکھ کر بھی پیش کر سکتی ہیں۔ان کی مختلف شکلیں بنا کر بھی اپنے بچے کو کھانے کی جانب مائل کر سکتی ہیںمثلاًچیریز کو آنکھیں بنا لیں،سٹرابیریز کو ناک اور کیلے کے ٹکڑوں کو منہ بنا کر پیش کریں۔

اگر آپ کے بچے کو سبزیاں پسند نہیں ہیں تو آپ سبزیوںکوکاٹ کر ان کا پراٹھا بنا سکتی ہیں۔روٹی میں سبزیاں بھر کر رول بنا سکتی ہیں۔سبزی میں چاول شامل کر کے ڈال سکتی ہیں یا پاستہ کے ساتھ سبزیاں شامل کر کے پیش کر سکتی ہیں۔

اگر آپ کا بچہ دودھ پسند نہیں کرتا تو آپ بچے کو پینے کے لیے ملک شیک دے دیں۔اس کے علاوہ کھانے کی ٹیبل پر بھی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جنہیں فنگر فوڈز کہہ سکتے ہیں بچے کو پیش کیے جا سکتے ہیںجنہیں وہ خود اپنے ہاتھ سے کھائے،مثلاً اُبلے ہوئے انڈے،مرغی کے چھوٹے ٹکڑے،سبزیوں کے کٹلس،رولز اور سینڈوچز چھوٹے ٹکڑوں میں بچے کو کھانے کے لیے دیں۔

بچے کو کھانے پینے کے متعلق پوچھے جانے والے سوالات کے جواب ضرور دیں،مثلاً اگر بچہ جاننا چاہتا ہے کہ کون سی چیز کہاں اُگتی اور کس طرح پکائی جاتی ہے تو اس بارے میں بچے کو ضرور معلومات دیں اور ساتھ ہی اُسے اشیاء کی افادیت سے بھی آگاہ کریں،کہ کن چیزوں کو کھانے سے اُس کے جسم کو کس طرح فائدہ حاصل ہو گا۔

بچے سب سے زیادہ اپنے والدین سے ہی مُتاثر ہوتے ہیں اور بچوں کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں ۔اس لیے ضروری ہے کہ آپ خود اچھی اور صحت مند غذائیں استعمال کر کے ان کے لیے مثال قائم کریں مثلاً اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ اپنی غذا میں مٹھائیوں اور فرائی فوڈ کا استعمال کم کرے تو آپ کو بھی اپنی خوراک میں ان چیزوں کی کمی کرنی ہو گی۔آپ کا بچہ دودھ پینے لگے تو پھر آپ کو بھی دودھ کا استعمال روز کرنا ہو گا۔

بچو ں میں صحت مند خوراک کے رجحان کا آخری طریقہ کھانے کی ٹائمنگ ہے۔آپ اپنے بچے کو ٹی وی دیکھتے یا کوئی کتاب پڑھتے ہوئے کھانے کو کہیں گی تو وہ یقینا بُرا محسوس کرے گا۔کوشش کریں کہ بچے کو ہر تین گھنٹے بعد کچھ نہ کچھ کھانے کو ضرور دیں۔کھانے کا وقت قریب ہو تو اسے سنیکس کھانے کے لیے ہر گز نہ دیں۔اگر آپ کا بچہ تین وقت پابندی سے کھانا نہیں کھا رہا مگر اس کے باوجود چُست اور صحت مند ہے تو ضروری نہیں کہ بچے کو زبردستی تین وقت ہی کھانے کو دیا جائے بلکہ وہ خوشی سے جتنا کھا لے اُسے مرضی کے مطابق اُتنا ہی کھانے دیں۔

مزید پڑھیں

سبز مرچ کو فریج میں رکھنے سے پہلے دھو کر اس کی اوپر والی ڈنڈی اتار دیں۔ اس طرح مرچیں کافی دیر کے لیے فریش رہتی ہیں۔

مزید پڑھیں

بہت سی مائیں اپنی بچیوں کے لیے میک اپ کے سلسلے میں بہت پریشان رہتی ہیں کہ وہ کوئی ایسی چیز استعمال نہ کریں جس سے ان کی جلد کو کوئی نقصان پہنچے،لیکن ان مائوں کی یہ پریشانی اب بڑی حد تک کم ہو جائے گی کیونکہ مارکیٹ میں اب میک اپ کے حوالے سے بہت سی ایسی پروڈکٹس دستیاب ہیں جو صرف اور صرف نو جوان بچیوں کو ہی ذہن میں رکھ کر تیار کی گئی ہیں۔اپنی جلد کی حفاظت کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے چہرے کو روزانہ صاف کریں ۔

مزید پڑھیں

ذرا سی لاپرواہی یا بچوں کی کوئی حرکت آپ کی پسندیدہ چیزوں کی سطح پر خراشیں ڈالنے کا باعث بن سکتی ہیں۔تاہم اس کے لیے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی آپ کو نشان دور کرنے کے لیے زیادہ خرچہ کرنا پڑے گا۔آپ نہایت آسانی سے گھر میں موجود اشیاء کی سطح پر موجود خراشوں کو گھریلو استعمال کی اشیاء سے دور کر سکتی ہیں۔جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  دن کے آغاز کا بہترین طریقہ

مزید پڑھیں

 مائیں بچوں کی صحت کے لیے ہمیشہ پریشان رہتی ہیں۔ایسے میں اگر بات ہو شیر خوار بچوں کی صحت کی تو ان کی فکر میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔معمولی بیماریوں یا تکلیف کے لیے بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا یا دوائیں کھلانا ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ برسوں سے آزمودہ گھریلو ٹوٹکوں سے استفاہ حاصل کیا جائے۔

مزید پڑھیں

 شیر خوار بچوں کی بہترین افزائش اور پُر سکون نیند کے لیے مساج ضروری ہوتا ہے۔اس سے نہ صرف ان کے اعضاء چُست و توانا رہتے ہیں بلکہ یہ عمل ان کے جسم کے دورانِ خون کو بھی تیز کرتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر مائیں روزانہ صحیح طریقے سے نوزائیدہ کا مساج کریں تو وزن بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی جسمانی نشو و نما بھی بہترین انداز میں ہو سکے گی،لہٰذا شیر خوار کا مساج کرتے وقت مائوں کو کن کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے آئیے جانتے ہیں۔

مزید پڑھیں