☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل) دین و دنیا(طاہر منصور فاروقی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(سید وقاص انجم جعفری) کچن خواتین فیشن(طیبہ بخاری ) تاریخ(عذرا جبین) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) متفرق(اسد اسلم شیخ)
بیوٹی ٹپس

بیوٹی ٹپس

تحریر :

04-28-2019

بہت سی مائیں اپنی بچیوں کے لیے میک اپ کے سلسلے میں بہت پریشان رہتی ہیں کہ وہ کوئی ایسی چیز استعمال نہ کریں جس سے ان کی جلد کو کوئی نقصان پہنچے،لیکن ان مائوں کی یہ پریشانی اب بڑی حد تک کم ہو جائے گی کیونکہ مارکیٹ میں اب میک اپ کے حوالے سے بہت سی ایسی پروڈکٹس دستیاب ہیں جو صرف اور صرف نو جوان بچیوں کو ہی ذہن میں رکھ کر تیار کی گئی ہیں۔اپنی جلد کی حفاظت کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے چہرے کو روزانہ صاف کریں ۔

ایک نارمل جلد کے لیے دن میں دو سے تین مرتبہ چہرے کو دھونا ضروری ہے۔اگر آپ کی جلد خشک ہے تو بہتر ہے کہ اسے زیادہ نہ دھوئیں ۔اپنی خشک جلد کے لیے آپ کو کوئی بہتر لوشن استعمال کرنا چاہیے۔نوجوان بچیوں کے لیے میک اپ کرتے وقت ایسے رنگوں کاانتخاب ضروری ہے جس سے وہ اپنی عمر سے بڑی بھی دکھائی نہ دیں اور ان کے چہرے پر معصومیت بھی قائم رہے۔لہٰذا ایسا میک اپ کلر استعمال کریں جو آپ کی جلد سے ملتا ہو اور قدرتی نظر آئے۔ذیل میں دیے گئے چندضروری ٹپس پر عمل کر کے ہر نوجوان لڑکی خوبصورت دکھ سکتی ہے۔

آنکھوں کا میک اپ کرتے وقت بھنوئوں کی شیپ درست کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ایسے میں انہیں مناسب شکل میں لانے کے لیے میک اپ برش کی بجائے کسی ٹوتھ برش کا استعمال کریں۔بھنوئوں کے ارد گرد خالی جگہوں کے لیے گرے رنگ کی پنسل کا استعمال کریں۔

پلکوں کو اٹھانے کے لیے برائون مسکارے کا استعمال بہترین ہے،لیکن اگر آپ کی پلکوںکا رنگ کالا ہے تو کالا مسکارا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔گالوں پر میک اپ کرتے ہوئے خیال رکھیں کہ اگر آپ کا چہرہ گرمی کی حدت سے جلد لال ہو جاتا ہے یا آپ کا خون گرم ہے تو گالوں پر پیچ ٹچ دیں۔اگر آپ کی جلد سرد پہلو کی ہے تو پھر پنک ٹچ اپنائیں۔لپ سٹک کے لیے قدرتی رنگوں کو استعمال کریں یا پھر کوئی سادہ سا ہلکے رنگ کا لپ گلوس بھی قدرتی لُک دینے کے ساتھ آپ کی شخصیت میں نکھار پیدا کرے گا۔

بات کی جائے جلد کو محفوظ بنائے رکھنے کی تو اس کے لیے آپ ابتدائی عمر میں بھی ہائیڈ کریم کا استعمال کر سکتی ہیں۔مگر خیا ل رکھیں کہ گریسی کریم کا استعمال نہ کریں جو کہ خشک جلد کے لیے کار آمد ہوتی ہے۔ایسے پراڈکٹس کا استعمال ہر گز نہ کریں جو آپ کے چہرے کے مساموں کو بند کر دے،اور کریم کا استعمال دن میں صرف ایک مرتبہ ہی کریں وہ بھی رات بستر پر جانے سے پہلے۔نوجوانی کا سب سے اہم مسئلہ چہرے پر کیل مہاسوں کا نکلنا ہوتا ہے۔اس کے لیے آپ کے بال اور چہرہ ہمیشہ دھلا ہوا رہنا چاہیے،کوشش کریں کہ چہرے پر ہاتھوں کا استعمال کم سے کم کیا جائے،مثلاً روز مرہ کے کام کرتے ہوئے چہرے سے پسینہ یا گرد صاف کرنے کے لیے ہاتھوں کا استعمال ہر گز مت کریں۔اس سے ہاتھوں پر موجود جراثیم چہرے کی جلد میں داخل ہو کر کیل مہاسے اور بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ایسے میں بجائے اس کے کہ ان مسائل کو دور کرنے کے لیے آپ مارکیٹ پراڈکٹس کا استعمال کریںپہلے سے احتیاط کر لینا زیادہ بہتر ہے۔

مزید پڑھیں

سبز مرچ کو فریج میں رکھنے سے پہلے دھو کر اس کی اوپر والی ڈنڈی اتار دیں۔ اس طرح مرچیں کافی دیر کے لیے فریش رہتی ہیں۔

مزید پڑھیں

ذرا سی لاپرواہی یا بچوں کی کوئی حرکت آپ کی پسندیدہ چیزوں کی سطح پر خراشیں ڈالنے کا باعث بن سکتی ہیں۔تاہم اس کے لیے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی آپ کو نشان دور کرنے کے لیے زیادہ خرچہ کرنا پڑے گا۔آپ نہایت آسانی سے گھر میں موجود اشیاء کی سطح پر موجود خراشوں کو گھریلو استعمال کی اشیاء سے دور کر سکتی ہیں۔جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔

مزید پڑھیں

بہت سے بچے آج کل کھانے پینے کے معاملے میں لاپرواہی دکھاتے ہیں۔وہ بچے جن کی عمریں دو سے پانچ سال کے درمیان ہوتی ہیں وہ خاص طور پر کھانے پینے سے جان چھُڑاتے ہیں،مگر گھبرانے کی کوئی ضرور ت نہیں۔یہاں ہم آپ کو پانچ ایسی باتیں بتا رہے ہیں جن پر عمل کر کے آپ بھی اپنے بچوں کو خو ش خوراک بنا سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  دن کے آغاز کا بہترین طریقہ

مزید پڑھیں

 مائیں بچوں کی صحت کے لیے ہمیشہ پریشان رہتی ہیں۔ایسے میں اگر بات ہو شیر خوار بچوں کی صحت کی تو ان کی فکر میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔معمولی بیماریوں یا تکلیف کے لیے بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا یا دوائیں کھلانا ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔اس سے کہیں بہتر ہے کہ برسوں سے آزمودہ گھریلو ٹوٹکوں سے استفاہ حاصل کیا جائے۔

مزید پڑھیں

 شیر خوار بچوں کی بہترین افزائش اور پُر سکون نیند کے لیے مساج ضروری ہوتا ہے۔اس سے نہ صرف ان کے اعضاء چُست و توانا رہتے ہیں بلکہ یہ عمل ان کے جسم کے دورانِ خون کو بھی تیز کرتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر مائیں روزانہ صحیح طریقے سے نوزائیدہ کا مساج کریں تو وزن بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی جسمانی نشو و نما بھی بہترین انداز میں ہو سکے گی،لہٰذا شیر خوار کا مساج کرتے وقت مائوں کو کن کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے آئیے جانتے ہیں۔

مزید پڑھیں