☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل خواتین کچن کی دنیا سفر نامہ دین و دنیا فیشن متفرق کیرئر پلاننگ ادب
آج کیا پکائیں؟

آج کیا پکائیں؟

تحریر :

05-05-2019

آج کیا پکائیں؟

خواتین ہر روز اس پریشانی سے دو چار نظر آتی ہیں کہ''آج کیا پکائوں''ْکبھی گوشت میں سبزی،کبھی دال میں گوشت،کبھی صرف دال یا سبزی اور کبھی ان کے انتخاب میں بھی اُلجھن ہونے لگتی ہے۔دیکھا جائے تو خاتونِ خانہ کے لیے روزانہ کا مینیو ترتیب دینا واقعی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

 

یوں تو نت نئی ڈشز بنانے کے لیے خواتین کوکنگ چینلز اور کھانے پکانے کی کتابوں سے استفادہ کرتی ہیں،لیکن اس سے بھی انہیں گھر والوں کی پسند اور نا پسند کو مدِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔البتہ اگر خاتونِ خانہ اپنی مرضی سے کچھ بنا لیں تو انہیں گھر والوں کی ناراضگی مول لینی پڑتی ہے اور یہ سُننے کو ملتا ہے کہ''کل یا پرسوں بھی یہی کچھ پکا تھا،روز ایک ہی جیسا کھانا ،کھانا پڑتا ہے''۔ اب اس مسئلے کا حل زیادہ مشکل نہیں رہا کیونکہ آپ کی رہنمائی کے لیے ہم چند ایسے اصول بتا رہے ہیں جن کی مدد سے آپ کو روزانہ کا مینیو ترتیب دینے میں اُلجھن نہیں رہے گی اور اہلِ خانہ کی شکایت بھی دور ہو جائے گی۔

اس مقصد کے لیے خواتین کو چاہیے کہ اپنے روز مرہ کھانوں کی ایک باقاعدہ فہرست بنا لیں جس میں ہر کھانے کے لیے ایک دن مقرر کر لیں۔فہرست بنانے سے پہلے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ پورے ہفتے میں آپ کیا پکائیں گی۔اپنی آسانی کے لیے یہ مینیو ہفتہ وار یا ماہانہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ ڈشز کا انتخاب کرتے وقت اہلِ خانہ کی پسند نا پسند کا خیال رکھیں۔گھر کے اکثر افراد کو جو ڈش نا پسند ہو اسے فہرست میں شامل نہ کریں،لیکن اگر ان میں شامل اجزاء صحت کے لیے مفید ہیں تو اسے پکانے کے لیے ایسی تراکیب سیکھ لیں جو گھر والوں کے لیے بھی قابلِ قبول ہوں۔

بعض گھرانوں میں گوشت زیادہ پسند کیا جاتا ہے جبکہ بعض لوگ سبزی زیادہ شوق سے کھاتے ہیں۔گوشت پسند کرنے والے گھرانوں میں عموماً گوشت کی ڈشز بنتی ہیں اور سبزی خور گھرانوں میں زیادہ تر سبزیوں کی ڈشز پکتی ہیں۔فہرست ترتیب دیتے وقت دال،سبزی،گوشت کو برابر اہمیت دیں کیونکہ یہ سب جسمانی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ مینیو بنانے کے بعد اس پر کار بند رہنے کی کوشش کریں،لیکن کبھی کبھی منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے اس میں تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ کا یا گھر کے کسی فرد کا مینیو سے ہٹ کر کوئی چیز کھانے کا دل کرے تو وہ بھی پکائی جا سکتی ہے۔

خاص طور پر موسم کے لحاظ سے تبدیلی ضروری ہے۔مثال کے طور پر سردیوں میں سی فوڈ کا استعمال مفید ہے،پائے اور نہاری بھی شوق سے کھائی جاتی ہے۔گرمیوں میں دہی اور لسی کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ موسمی سبزیوں اور پھلوں کو اپنی غذا میں لازمی شامل کریں کیونکہ یہ جسم کو توانائی فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔آج کل بچے اور بڑے سب ہی فاسٹ فوڈ کے شوقین ہوتے ہیں۔اس لیے مینیو میں سینڈوچ، برگر، بروسٹ ،پیزا شامل کر کے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔اپنے دستر خوان کی رونق بڑھانے کے لیے آپ سادہ کھانے بھی فہرست میں شامل کر سکتی ہیں۔جیسے کبھی کبھار بیسن کی روٹی اور آلو کے پراٹھے کے ساتھ لذت دو چند کرنے کے لیے چٹنی کا مزہ بھی لیں۔

چھوٹے گھروں کی سجاوٹ مشکل نہیں

بڑے گھروں کی نسبت فلیٹس اور چھوٹے گھروں کو سجانا خواتین کے لیے قدرے مشکل امر ہے۔بعض اوقات وہ فیصلہ نہیں کر پاتیںکہ کس قسم کے فرنیچر سے گھر کو سجایا جائے تا کہ وہ کھلا کھلا اورہوا دار محسوس ہو۔اپُٓ بھی قدرے چھوٹے گھر میں رہائش پذیر ہیں تو آپ کی پریشانی کا آسان حل ہمارے پاس موجود ہے۔ جدید طرز تعمیر میں سٹوڈیو اپارٹمنٹس کی جمالیاتی کشش متاثر کن ہوسکتی ہے۔یہاں اگر آپ کو کم مکانیت کا سامنا کرنا پڑے تو گھبرائیے مت اور چھوٹے حجم کا فرنیچر رکھیں۔راڈ آئیرن یا سٹیل کے ریک میں کرسٹل فنشنگ کی جا سکتی ہے۔راڈ آئرن کے صوفہ سیتس،کھانے کی میز کرسیں اور بستر ہر چیز دستیاب ہے۔اگر آپ کے پاس لکڑی کا شاندار بیڈ سیٹ موجود ہو تو بس چار چھ برس بعد اس پر پالش کروا لیا کریں،یہ نیا کا نیا دکھائی دے گا۔بار بار فرنیچر بدلنا گھریلو معیشت پر بوجھ بنتا ہے۔پالش کے شیڈ فیشن کے بدلتے ہوئے رجحان کو دیکھ کر منتخب کیے جا سکتے ہیں۔

گرمیوں میںسبز اور نیلے رنگ کے پردے یا بیڈ شیٹس آنکھوں کو ٹھنڈا تاثر دیں گے۔اس موسم میں سیاہ گہرا،کتھئی یا نیوی بلیو آنکھوں کو بھلا نہیں لگتا،لیکن اگر چھوٹے بچوں والا گھر ہو تو خاتون خانہ کو رنگوں کے انتخاب پر کسی حد تک سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔آج کل تختے نما بیڈ سیٹس بھی فرنیچر مارکیٹ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔یہ بلند قامت مسہریوں کی طرح نہیں ہوتے،اور شاندا دکھائی دیتے ہیں۔اگر آپ LED بلب ہر کمرے میں نہیں لگانا چاہتے تو صرف بیڈ کے دونوں جانب رکھے ٹیبل لیمپس میں زرد بلب لگوائیے۔تاہم دودھیا یا سفید روشنی کمرے کے درجہ حرارت کو معتدل رکھتی ہے۔

پڑھائی کے لیے زرد بلب اچھے لگتے ہیں۔ اس لیے کمروں میں روشنیوں کا امتزاج ہو تو زیادہ بہتر ہے۔اپنی ضرورت کے مطابق کمرہ روشن کریں اور مرضی کے ماحول میں کام کریں۔دو رنگوں میں رنگے کمروں کی دیواریں بھی جمالیاتی حسن میں اضافہ کرتی ہیں۔ایک دیوار پر وال پیپر بھی چسپاں کیا جا سکتا ہے،یا ایک دیوار برکس کے فطری آہنگ سے بنوائی جائے تو بھی کمرے میں جاذبیت آ جاتی ہے۔دیوار کی تعمیر از سر نو ممکن نہ ہو تو تو صرف وال پیپر سے بھی یہ مقصد حل کیا جا سکتا ہے۔اگر آپ پینٹ ہائوس میں رہائش اختیار کر رہی ہیں تو اشیاء کی بھر مار بھی نہ کیجئے۔

لیمینیڈ فرش آرام دہ سادہ سے پلنگ کے ساتھ روشنی کا معقول انتظام آپ کی تھکان دور کرنے کے لیے بہترین ہے۔کچھ لوگ گھروں کی آرائش میں تجریدی مصوروں کو دیواری آ رائش کے لیے پسند کرتے ہیں،کچھ کو فن خطاطی میں روحانیت کا رمز متاثر کرتا ہے اور کچھ پرنٹس ہی لگا لیتے ہیں۔اب دکانوں پر قدیم عماراتی نقوش کے ساتھ آئینے بھی دستیاب ہیں اور جدید تراش خراش کے سورج کی شباہت کے لیے ڈیکوریشن مرر بھی دستیاب ہیں۔یہ آپ کی صوابدید پر ہے کہ آپ کس طرح کی آرائش سے تسکین محسوس کرتی ہیں۔

بیوٹی ٹپس

آنکھیں ہمارے چہرے کا سب سے حسین حصہ ہیں۔ہمیں کسی شخص کے چہرے میں سب سے زیادہ پر کشش آنکھیں ہی معلوم ہوتی ہیں۔بعض آنکھیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی مقناطیسی قوت ہمیں اپنی جانب کھینچتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔یہ انسان کے جذبات اور کیفیات کی آئینہ دار ہوتی ہیں ۔اسی لیے انہیں روح کی کھڑکی بھی کہا جاتا ہے۔ذہن پر کسی قسم کے دبائو ، جسم میں کھنچائو ،صحت خراب ،خوف یا کوئی درد ہو غرض ہر طرح کی کیفیت انسان کی آنکھوں سے آشکار ہو جاتی ہے،لیکن کیا آنکھیں اپنی انفرادی حیثیت میں ہی خوبصورت ہیں؟کمرے کی دیوار پر لگی کسی پینٹنگ کا تصور کریں،وہ نہ صرف دیوار بلکہ پورے کمرے کے حُسن میں اضافہ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں،لیکن اگر پینٹنگ کا فریم ٹوٹا ہو یا وہ تصویر کے ساتھ میچ نہ کرتا ہو تو پھر آپ کیسا محسوس کریں گی؟یقینا آنکھوں پر بوجھ سا پڑتا ہوا محسوس ہو گا۔

لہٰذا جس طرح نا موزوں فریم تصویر کے حسن کو ماند کر دیتا ہے ،اسی طرح اگر ہماری آنکھوں کا فریم ان سے مناسبت نہ رکھتا ہو تو وہ بڑی حد تک اپنا حسن کھو دیتے ہیں۔ بھنویں ہماری آنکھوں کا فریم ہوتی ہیں۔وہ نہ صرف آنکھوں کے جذبات میں رنگ بھرتی ہیں بلکہ ہمارے چہرے کے خدو خال کو متوازن بھی بناتی ہیں۔خوبصورت اور پُر کشش بھنوئوں کے لیے ہمیں سب سے پہلے ان کی شکل و صورت اور ساخت کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔قدرت نے بھنوئوں کو ہلکی خم دار شکل عطا کی ہے۔بھنویں پتلی ہوں یا موٹی، اس بات کا انحصار بالوں کے گھنے پن پر ہوتا ہے۔تاہم بھنوئوں کا موٹا یا پتلا پن ہمیشہ قدرتی نہیں ہوتا۔دنیا بھر کی حسن پرست خواتین بھنوئوں کو تراش کر یا تھریڈنگ کروا کے انہیں مختلف شکل دیتی ہیں۔

جس کا انحصار ان کی پسند یا نا پسند کے علاوہ رائج فیشن پر بھی ہوتا ہے۔ہم میں سے اکثر نے مونا لیزا کی تصویر دیکھی ہو گی۔ سولہویں صدی کے معروف آرٹسٹ لیونا روڈائچی کا ایک اچھوتا شاہکار ہے۔ اس تصویر میں بھنوئوں کا مکمل صفایا کر دیا گیا ہے ۔جو غالباً اس زمانے کے فیشن کی عکاسی کرتا ہے۔تاہم آج کی فیشن کی دنیا پہلے سے یکسر مختلف ہے۔تھریڈ نگ کے ذریعے بھنوئوں کو شکل دینے کا عمل ذرا تکلیف دہ ضرور ہے مگراس کے باوجود خواتین حسین نظر آنے کے لیے یہ تکلیف سہتی ہیں۔اس مقصد کے لیے ٹوئزر سے بھی مدد لی جاتی ہے۔

بھنوئوں کو درست کرنے کے لیے بھنوئوں کی ساخت کا دھیان رکھنا بے حد ضروری ہے۔اگر آپ کا چہرہ پتلا اور نازک ہے ،لیکن بھنویں گھنی اور بڑی ہیں تو اس سے نہ صرف چہرے کی نزاکت ختم ہو جاتی ہے بلکہ چہرہ بھدا سا بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔اس کے برعکس بھاری بھرکم خواتین گھنی بھنوئوں کو باریک بنا لیں تو یہ بھی چہرے کی ساخت سے میل نہیں کھاتی۔آپ کو کس قسم کی بھنوئیں چاہیے۔آئیے اس کا انتخاب کرنے میں ہم مندرجہ ذیل نکات سے آپ کی مدد کرتے ہیں۔ اگر آپ کا چہرہ مستطیل ہے تو تھوڑی سی گھنی بھنوئوں کا انتخاب کریں جو کنپٹی کی طرف جاتی نظر آئیں۔مربع شکل کے لیے بھنوئوں کے خم میں تھوڑا سا اضافہ کر دیں۔چہرے کے خدو خال اجاگر کرنے کے لیے بھنوئوں کے خم کو اوپر کی طرف موڑ دیں۔

بیضوی چہرے کے لیے بھنوئوں کو پپوٹوں کے متوازے رکھے اور انہیں کنپٹی کی سمت موڑ دیں۔گول چہرے پر بھنوئوں کو محراب داراہونا چاہیے اور خم کو تھوڑا سا ترچھا کر کے اسے کنپٹی کی طرف موڑ دیں۔دوسرے فیشنز کی طرح بھنوئوں کا فیشن بھی بدلتا رہتا ہے۔آج کل گھنی بھنوئوں کا فیشن ہے۔پتلی بھنوئوں کا فیشن بھی آتا جاتا رہتا ہے۔اگر آپ کی بھنویں ہلکی یا چھدری ہیں تو انہیں تھریڈ کروانے کی بجائے بڑھانے کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں سب سے پہلے اپنی غذا کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔اگر آپ کی غذا میں پروٹین کم ہے تو اس کی مقدار بڑھا دیں۔ پروٹین متوازن بالوں کی افزائش کے لیے بہت ضروری ہے۔

اس کے علاوہ رات کو سوتے وقت تھوڑا سا زیتون کا تیل ہلکا سا گرم کر کے بھنوئوں پر لگائیں اور انگلیوں کی مدد سے بھنوئوں کی ہلکی ما لش کریں۔اس عمل سے بھنویں سیاہ ہو جائیں گی۔اس مالش کا اثر جلد ظاہر نہ ہو تو بھی ہمت نہ ہاریں۔اس علاج میں چند ہفتے بلکہ مہینے بھی لگ سکتے ہیں،لیکن یہ علاج کار گر ہے۔مالش کرتے وقت خیال رکھیں کہ انگلیوں کی حرکت جڑ سے کنپٹی کی طرف یعنی بالوں کے رخ کے ساتھ ہو۔اگر زیتون کا تیل دستیاب نہ ہو تو خالص سرسوں کا تیل بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ٭٭٭

نس دب جانے کا علاج

نس دب جانے کا علاج اگر آپ کی کوئی نس دب جائے تو جسم بہت زیادہ کمزوری کا شکار ہونے لگتا ہے اور ساتھ اعضاء بھی سُن ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ کام کاج کرنے میں بھی بہت مشکل پیش آتی ہے۔اکثر کیسوں میں ایسا ہوتا ہے کہ دبی ہوئی نس کچھ دنوں یا ہفتوں میں خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے،لیکن اگر ایسا نہ ہو تا معاملہ پیچیدہ ہو جاتا ہے اور نوبت سرجری تک پہنچ جاتی ہے۔ایسی صورت میں معالج کئی طرح کے ٹیسٹ بھی کرواتے ہیں جس میں کثیر رقم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ دماغی کوفت بھی ہونے لگتی ہے۔آپ چاہیں تو اس مشکل سے نجات کے لیے ذیل میں دیئے گئے قدرتی طریقے بھی آزما سکتے ہیں۔

بہت زیاد ہ آرام کریں: اگر آپ بھی ایسی صورتحال سے دو چار ہو ں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کو بہت زیادہ آرام کرنا ہے اور رات کو پُر سکون نیند لینی ہے۔آرام کا دورانیہ دو سے تین دن ہو سکتا ہے اس دوران نس آہستہ آہستہ واپس اپنی جگہ پر آنے لگے گی اور درد میں بھی فرق محسوس ہو گا۔اس کے باوجود اگر درد ٹھیک نہ ہو تو مزید آرام کیا جا سکتا ہے۔

آلو کے قتلے: نس دب جانے کے باعث ہونے والی تکلیف سے نجات کے لیے آلو کے قتلوں کا استعمال بھی بے حد مفید ثابت ہوتا ہے ۔متاثرہ جگہ پر آلو کاٹ کر لگائیں۔جب یہ خشک ہو جائے تو اسے اُتار دیں اور مزید آرام کریں۔

سرد اور گرم پٹیاں: اس مشکل سے نجات کے لیے سرد اور گرم پٹیوں کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ایک پٹی کو گرم پانی میں ڈال کر متاثرہ جگہ پر پندرہ منٹ تک رکھیں اور پھر پندرہ منٹ انتظار کے بعد ٹھنڈی پٹی یا برف سے ٹکور کریں۔یہ عمل دن میں دو بار کیا جا سکتا ہے۔

ہلکی پھلکی ورزش: اگر آپ کی گردن میں یہ مسئلہ در پیش ہے تو اپنی گردن کو ایک ہی جگہ رکھنے کی بجائے ہلانے جُلانے کی کوشش کریں۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہلکی پھلکی ورزش سے دبی نس کی تکلیف میں آرام آ جاتا ہے۔آپ کو چاہیے کہ اپنی گردن کو آرام سے دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں گھمائیں۔اس دوران ہو سکتا ہے کہ آپ کو ہلکی تکلیف محسوس ہو ،مگر اس کے باوجود گردن کو حرکت دینے کی کوشش کریں۔اگر یہ مسئلہ گھٹنے میں ہو تو آہستہ سے کندھوں کو جھٹکیں۔کمر میں نچلے حصے میں اس در د کی صورت میں زمین پر چت لیٹ جائیں اور گھٹنوں کو تھوڑا سا اوپر اُٹھا لیں۔

ہلکا مساج: زیتون کے تیل کو تھوڑا سا گرم کریں اور متاثرہ جگہ پر اس کا ہلکا مساج کریں۔یہ مساج وقفے وقفے سے دُہرائیں۔

شہد اور دار چینی: ان دونوں اجزاء کو برابر مقدار میں ملا کر ایک مرہم بنا لیں اور اسے درد والی جگہ پر لگائیں۔یہ دونوں چیزیں سوزش میں تیزی سے آرام دیتی ہیں۔ خوراک میں یہ کھائیں: ایسی غذائیں کھائیں جس سے سوزش کم ہو۔اپنے کھانوں میں براکلی،لہسن اور ہلدی کی مقدار بڑھا دیں کہ یہ سوزش میں کمی کرتی ہیں۔

ادرک والی چائے: ادرک کے ایک ٹکڑے کو گرم پانی میںکچھ منٹوں کے لیے بھگو دیں اور پھر اس پانی کو پی لیں۔ادرک والی چائے بھی اس تکلیف کو کم کرنے میں کافی مدد گار ہو گی۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 چند غذائیں جنہیں کبھی محفوظ نہ کریں

 

روزانہ کھانا پکانے والی خواتین اکثر اپنی آسانی ک ...

مزید پڑھیں

چہرہ جاذب نظر بنائیں

چہرے کی تازگی برقرار رکھنے کے لیے ہفتے میں دو سے تین ...

مزید پڑھیں

سہانجنہ کے پھول اور پتیوں کے طبی فوائد

 

جوڑوں کے درد میں مبتلا ا ...

مزید پڑھیں