☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل فیشن صحت دین و دنیا متفرق خواتین کیرئر پلاننگ ادب
تیزابیت سے بچنے کے گھریلو نسخے

تیزابیت سے بچنے کے گھریلو نسخے

تحریر :

05-26-2019

تیزابیت کے سبب سینے میں پیدا ہونے والی جلن ایک ایسی پریشانی ہے جو کہ زیادہ ترکو کبھی نہ کبھی اور بعض کو اکثر در پیش رہتی ہے۔سینے کی جلن کی بنیادی وجہ تیزابیت ہی ہے۔جب آپ کا پیٹ خوراک کو ہضم کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو خوراک کو ہضم کرنے والا تیزاب آپ کے کھانے کی نالی میں آ جاتا ہے۔

جس سے آپ کو سینے میں اور بعض اوقات حلق میں بھی جلن محسوس ہوتی رہتی ہے۔وہ افراد جنہیں کبھی کبھار یہ مسئلہ در پیش آتا ہے اور ڈاکٹر کے پاس جانے سے کتراتے ہیں ان کے لیے ہمارے پاس چند ایسے طریقے پیش خدمت ہیں جن کے ذریعے آپ تیزابیت اور سینے کی جلن پر فوری قابو پا سکتے ہیں۔

کھانے کا سوڈا: آدھا چمچ کھانے کا سوڈا آپ کی مشکل آسان کر سکتا ہے۔یہ ہاضمے کے لیے پیدا ہونے والے تیزاب میں شامل ہو کر اس کی تیزابیت ختم کر دیتا ہے۔آدھا چمچ کھانے کا سوڈا ایک گلاس پانی میں اچھی طرح سے حل کر کے اسے پی لیں ،کچھ ہی دیر میں آپ سینے کی جلن میں کمی ہوتی محسوس کریں گے۔یا درہے کہ یہ نسخہ ایک ہفتے سے زیادہ استعمال نہ کریں۔

ایلو ویرا کا جوس: کوارگندل یا ایلوویرا کا پودا جلن کے علاج کے لیے ایک بہترین قدرتی شے ہے۔یہ نہ صرف سورج سے جھلسنے میں کار آمد ہوتا ہے بلکہ سینے کی جلن میں بھی بہترین دوا ہے۔آدھا کپ ایلوویرا کو جوس کھانے سے پہلے اور سینے کی جلن سے نجات دلانے کے لیے پی لیں۔یہ قدرتی دست آور ہے لہٰذا اس کا جوس خریدتے وقت ایسا برانڈ منتخب کریں جس میں لیکزیٹو یعنی دست آور مادہ ختم کیا جا چکا ہو۔

چیونگم: جدید تحقیق سے ثابت ہو اہے کہ کھانے کے بعد آدھا گھنتی چیونگم کا استعمال خوراک کے انہضام کے لیے پیدا ہونے والے تیزاب کو ختم کرتا ہے۔اس مقصد کے لیے شوگر فری چیونگم استعمال کرنی چاہیے۔اس کے علاوہ سوتے وقت ٹھوڑی اوپر رکھیے۔سینے کی جلن رات میں عموماً شدید ہو جاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ لیٹتے ہیں تو کششِ ثقل کے سبب آپ کے پیٹ میں موجود تیزاب کھانے کی نالی میں آ جاتا ہے۔اس کا آسا ن علاج یہ ہے کہ اپنے بستر کے سرہانے کے پائے کسی لکڑی کے ذریعے چھ انچ اوپر کر دیں۔اس کے علاوہ خاص خیال رکھیں کہ رات سونے سے کم از کم تین چار گھنٹے پہلے کھانا کھا لیا جائے،اور ہمیشہ چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر کھائیں۔اپنی خوراک کا معائنہ کریں اکثر اوقات ٹماٹر،ترش پھل اور چٹ پٹی اشیاء بھی تیزابیت کا سبب بنتی ہیں،لہٰذا ان سے پرہیز کر کے بھی آپ تیزابیت سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

سیب اور کیلا:سیب اور کیلے کا استعمال تیزابیت کے خلاف انتہائی موثر ہے۔دن بھر میں چند کیلوں کا استعمال یا سونے سے چند گھنٹے قبل ایک سیب کا استعمال آپ کو تیزابیت کی شکایت سے نجات دلا سکتا ہے۔

ادرک کی چائے:کھانے سے بیس منٹ قبل ایک کپ ادرک کی چائے آپ کو تیزابیت سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔اس کا طریقہ کار انتہائی آسان ہے،ادرک کے تین چھوٹے ٹکڑے دو کپ پانی میں آدھا گھنٹہ اُبال کر اسے ٹھنڈا کیجئے اور کھانے سے بیس منٹ پہلے استعمال کریں۔

سرسوں کا استعمال: سرسوں کا استعمال انسانی صحت کے لیے بے پناہ مفید ہے ،اور ا س کا استعمال تیزابیت سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ایک چمچ اعلیٰ کوالٹی کا پیلا سرسوں آپ کو تیزابیت سے فوری نجات دلا سکتا ہے۔استعمال کے لیے ایک چائے کا چمچ سرسوں کا تیل پی لیں۔

بادام کا استعمال:بادام ایک بے پناہ مقوی غذا ہے اور کھانے کے بعد چند باداموں کا استعمال آپ کے نظامِ انہظام کو قوت بخشتا ہے اور تیزابیت سے نجات دلا کر سینے کی جلن سے آرا م دلاتا ہے۔

کچنار کے طبی فوائد

 

کچنار موسم بہار کی عمدہ سبزی ہے۔کچنار کے پھول اور چھال طبی خصوصیات کے باعث بہت کار آمد ہوتے ہیں۔ کچنار کی پھلیوں کا اچار بنایا جاتا ہے جو آنتوں کے امراض کے لیے بہت اچھا ہے۔بیکٹیریل انفیکشن، انفلیمنٹری مسائل، قوتِ مدافعت کی کمی،جگر،ذیا بطیس، السر،ٹیومر اور معدہ کے دیگر مسائل کے لیے اس موسمی سبزی کا استعمال ضرور کریں۔کچنار کی کلیوں سے نہایت مزیدار سبزی بنتی ہے۔

کچنار کی کلی جتنی نازک اور خوبصورت ہوتی ہے پکنے کے بعد اتنی ہی لذیذ ہو جاتی ہے۔آج کل سبزی والوں کے پاس آپ کو آسانی سے یہ سبزی مل جائے گی۔یہ سبزی گوشت یا قیمہ میں پکائی جاتی ہے۔چونکہ یہ دیر سے ہضم ہوتی ہے اس لیے اس کا سالن پکاتے وقت ادرک،دہی اور گرم مصالحہ ضرور شامل کریں،اور جتنا بھی گوشت یا قیمہ ہو اس کا آدھا حصہ آپ کچنار شامل کریں تو آپ کاسالن زیادہ اچھا بنے گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہر موسم کی سبزی یا پھل آپ ضرور استعمال کریں کیونکہ وہ آپ کو اُس موسم کے اثرات اور مختلف بیماریوں سے بچاتی ہے۔اس لیے آپ کی معلومات کے لیے ہم کچنا ر کے فائدے بیان کر رہے ہیں تا کہ آپ اس سے مستفید ہو سکیں۔

یہ اپنی بائیو گلیسیمک خصوصیات کے باعث ذیا بیطس کے لیے بہت مئوثر ہے۔بواسیر کے مرض میں کچنار کا استعمال بہت مفید رہتا ہے۔یہ بواسیر کا خاتمہ کر دیتی ہے۔کچنار اور اس کی پھلیوں کا اچار آنتوں کے لیے مفید ہے۔اس کے استعمال سے اسہال بھی رُک جاتے ہیں۔

کچنار جسم اور معدے کو تقویت دیتی ہے اور خون کو صاف کرتی ہے۔اینٹی انفلیمنٹری خاصیت کے باعث جلد کی بیماریوں کے لیے اچھی ہے۔یہ منہ کے السر اور منہ کی سوزش سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھی بے حد فائدے مند ہے۔کچنار عملِ انہضام کے نظام کو منظم رکھتی ہے۔آنتوں کے اندرونی انفیکشن اور کیڑوں کو ختم کرتی ہے۔یہ قے روکنے میں ادویات کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

یہ سوجن یا بڑھے ہوئے غدود ختم کرتی ہے۔یہ جسم میں موجود چربی کو گھلاتی ہے اس لیے وزن میں کمی کرتی ہے۔اس کا استعمال جگر کے لیے نہایت مئوثر ہے ،یہ جگر کے نظام کو مجموعی طور پر کنٹرول کرتی ہے۔پیشاب کے جملہ امراض میں کچنار مفید دوا کا کام کرتی ہے۔کچنار کھانے سے پھوڑے اور پھنسیاں وغیرہ بھی ختم ہو جاتے ہیں۔خواتین کے عام امرض سے نجات کے لیے کچنار کا استعمال بہترین ہے۔کچنار کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر کر جسم سے خارج ہو جاتے ہیں۔اس میں جسم کے اندرونی زخموں کو بھرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔اگر کچنار کی کلیوں کا جوشاند ہ بنا کر پیا جائے تو بھی آنتوں کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں۔اگر آپ کا منہ پک جائے تو کچنار کا جوشاندہ پینے سے زبان اور منہ کے زخم ٹھیک ہوجاتے ہیں۔پتھری کے مریضوں کے لیے کچنار کی سبزی مفید ثابت ہوتی ہے۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پانی کی کمی سے عا م طور پر ہر عمر کے لوگ ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہوسکتے ہیں،لیکن بچوں اور بوڑھوں پر یہ بیماری زیادہ جلدی اثر انداز ہوتی ہے۔یہ ...

مزید پڑھیں

اکثر ہم جان نہیں پاتے کی ہمارے چہرے پر دانے کیوں بننے لگے ہیں۔دانت بننے کی کوئی ایک خاص وجہ نہیں لیکن اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔جن میں ...

مزید پڑھیں

آج تک آپ نے یقینا مونگ پھلی کے مکھن کو صرف سینڈوچ وغیرہ میں اور کھانے کے لیے ہی استعمال کیا ہو گا،لیکن آپ کو شاید معلوم نہیں کہ اسے صرف ...

مزید پڑھیں