☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل متفرق غور و طلب فیچر فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا خواتین کھیل ادب کیرئر پلاننگ
سدا کم عُمر نظر آئیں مگر کیسے؟

سدا کم عُمر نظر آئیں مگر کیسے؟

تحریر : نجف زہرا تقوی

06-23-2019

ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی عمر سے کم عمر نظر آئے اور دیکھنے ولااس کی تعریف ضرور کرے۔آپ کو جان کر خوشی ہو گی کہ اب یہ صرف خواب نہیں بلکہ ہر وہ عورت اپنی اس خواہش کو پورا کر سکتی ہے جو کھانا پکانا جانتی ہے۔ہم میں سے بہت کم خواتین جانتی ہیں کہ کون سا کھانا ایسا ہے کہ جس سے کم عمر نظر آیا جا سکتا ہے۔

آئیے اس معاملے میں آپ کو چند اہم باتوں سے آگاہ کرتے ہیں۔اگر خواتین یہ جان لیں کہ انہیں کیا کھانا ہے اور کیسے پکانا ہے تو پھر ہر عورت ہی اپنی عمر سے کم نظر آ سکتی ہے،نہ صرف عمر میں بلکہ ایک صحت مندانہ زندگی بھی گزار سکتی ہیں۔کھانا ایک طاقتور چیز ہے لیکن اکثر خواتین یہ بھول جاتی ہیں کہ اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کا چہرہ ہمیشہ روشن اور تروتازہ رہے ،آپ کی آنکھیں چمکتی ہوئی دکھائی دیں اور آپ ہر کام چستی پھرتی سے کریں تو آپ قدرتی غذائوں کو اپنی زندگی میںشامل کریں۔

اگر ہم ڈھونڈنا چاہیں تو مارکیٹ میں سینکڑوں سبزیاں مل جائیںگی لیکن ہم سبزی خریدتے وقت یہ سوچ کر پریشان ہو جاتے ہیں کہ یہ سبزی کس طرح سے تیار ہو گی۔اکثر خواتین کھانوں میں نمک ،چینی اور کریم کا استعمال بہت زیادہ کرتی ہیں۔اس کے علاوہ کھانے کو بہت زیادہ پکا لیتی ہیں جبکہ یہ طریقہ کار درست نہیں ہے۔اگر ہم کھانوں کی تیاری اور اجزاء کا استعمال صحیح طریقے سے کریں تو یہ ہمارے لیے ہی فائدے مندثابت ہو گا۔صحت منداور نوجوان رہنے کے طریقے مندرجہ ذیل ہیں۔

ہمیشہ وہ کھانا کھائیں جس میں نمک اور چینی ہو کیونکہ اس کے ذریعے کیلوریز بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے جو موٹاپے کا سبب بن سکتا ہے۔خشک میوہ جات کا استعمال کریں،ایک پیالی بادام اور کاجو کو دو گلاس پانی ملا کر پیس لیں۔یہ مشروب آپ کو متوازن رکھے گا۔تکونی اخروٹ کے استعمال سے آپ کے بال سفید نہیں ہوں گے اور پستہ کھانے سے آپ کا چہرہ ترو تازہ رہے گا۔

روز مرہ کی غذا میں جڑی بوٹیوں کے استعمال سے پٹھوں اور جوڑوں میں سوجن نہیں ہوتی۔سونف اور زیرے کے استعمال سے نہ صرف آپ کا معدہ صاف رہتا ہے بلکہ آنکھوں،بالوں ، جلد اور ناخنوں کے لیے بھی مفید ہے۔ اجوائن اور دھنیے کا استعمال بھی آپ کو جوان رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ،لہٰذا سبزیوں اور گوشت کی طرح جڑی بوٹیوں کو بھی اپنے کھانے میں شامل کریں۔ہمیشہ اپنے کھانوں کو سٹیم فرائی کریں کیونکہ اس میں تیل کا استعمال کم ہوتا ہے جو آپ کے جسم میں چربی کو کم کرتا ہے۔ ایسی سبزیاں اور پھل جو آپ کو جوان رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ان میں سرخ ٹماٹر قابلِ ذکر ہیں۔

اس کے علاوہ ناشپاتی کو بطور سلاد اپنی غذا میں شامل کریں۔کھیرا جلد کے لیے سب سے فائدے مند ہے۔یہ آپ کے ٹشوز کوطاقتور بناتا ہے،اسے سوپ یا آملیٹ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔گاجر کینسر جیسی مہلک بیماری اور آنکھوں کے لیے مفید ہے،اسے ہمیشہ چھیل کر استعمال کریں۔اس کا رس آنکھوں کے لیے اکسیر ہے۔اس کے علاوہ سلاد اورسوپ میں بھی گاجر کا استعمال کریں۔

ناریل کا دودھ چربی نہیں بننے دیتا اس کے علاوہ مچھلی اور گوبھی بھی بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ چقندر اور انار بے انتہا خون اور فولاد پیدا کرتے ہیں۔یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو با آسانی دستیاب ہوتی ہیں اور انہیں پکانا بھی نہایت آسان ہے۔اس لیے محض ان چند چیزوں کا اپنی خوراک میں مناسب استعمال کر کے ہر عورت اپنی جوانی کو قائم رکھ سکتی ہے۔

کانٹیک لینز ضرورت یا فیشن

 

آنکھیں خوبصورت ہوں تو چہرے کے دیگر عیب ماند پڑ جاتے ہیں۔روشن اور چمکتی ہوئی آنکھیں ہر ایک کو اپنی طرف کھینچتی اور شخصیت کے سحر کو بڑھاتی ہیں۔آنکھوں کو پُر کشش بنانے کے لیے صرف میک اپ اور کاجل سے ہی کام نہیں لیا جاتا بلکہ اب تو اس کے لیے جدید طریقے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ان میں کانٹیکٹ لینز سرِ فہرست ہیں۔کانٹیکٹ لینز کے بغیر اب آنکھوں کے میک اپ کو ادھورا خیال کیا جا تا ہے۔یہ خیال کسی حد تک درُست بھی ہے۔دُلہنوں کے میک اپ میں بھی لینز کا استعمال مسلسل بڑ ھ رہا ہے۔لینز صرف فیشن کے لیے ہی نہیں لگائے جاتے بلکہ انہیں نظر کی کمزوری میں عینک سے چھُٹکارے کے لیے بھی استعمال کیا جاتاہے۔عینک سے نجات پانے کے لیے بہت سے خواہش مند افراد تو شفاف یا ٹرانسپیرنٹ کانٹیکٹ لینز بھی آنکھوں میں لگاتے ہیں۔دورِ حاضر میں کوئی تقریب ہو یا تہوار لینز کا استعمال اتنی ہی اہمیت اختیار کر چُکا ہے جتنا کہ لبا س کے ساتھ میچنگ جیولری یا جوتے۔

بیشتر خواتین تو لینز کے بنا آنکھوں کے میک اپ کو ہی ادھورا خیال کرتی ہیں۔ان کے مطابق اگر لباس کے ہم رنگ یا اپنے بالوں سے ملتے جلتے لینز کا استعمال کیا جائے تو آنکھوں کا ہلکا سا میک اپ بھی بہت خاص نظر آنے لگتا ہے۔تاہم کانٹیکٹ لینز کے استعمال کے سلسلے میں احتیاط اور حفاظتی اقدامات کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے،ذرا سی غلطی کے باعث بصارت کھو جانے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔کانٹیکٹ لینز کے استعمال سے قبل آنکھوں کا معائنہ کروانا ضروری ہے کیونکہ یہ ہر کسی کی آنکھوں کو سوٹ نہیں کرتے۔لینز لگانے والے افراد مختلف جراثیمی انفیکشن کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔اس لیے ہمیں خبر ہونا ضروری ہے کہ یہ فیشن کہیں ہماری آنکھوں کے لیے نقصان کا باعث تو نہیں بنے گا۔اگر آپ نے لینز استعمال کیے ہیں اور آپ کو انفیکشن محسوس ہو رہا ہے تو فوراً آنکھوں سے لینز اُتار دیں۔

انفیکشن میں پپوٹوں پر خارش محسوس ہوتی ہے اور وہ سُرخ ہو جاتے ہیں۔اگرآنکھوں میں انفیکشن زیادہ محسوس ہو تو لینز کا استعمال ترک کر کے فوری طور پر ماہرِ امراضِ چشم سے رجوع کریں۔مختلف کانٹیکٹ لینز استعمال کر نے کے دورانیے الگ ہوتے ہیں۔جس وقت تک کے لیے کانٹیکٹ لینز کار آمد ہیںاس وقت تک ہی انہیں استعمال کریں۔لینز کو تازہ سلوشن سے بھرے صاف سُتھرے کیس میں محفوط رکھیں اور ان کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھیں،ہر بار استعمال کرنے کے بعد اپنے کانٹیکٹ لینز کو سلوشن سے صاف کریں اور اسے ہوا میں ہلکا سا خشک ہونے کے بعد کنٹینر میں رکھیں۔اپنے کانٹیکٹ لینز پر براہِ راست سادہ پانی کبھی استعمال نہ کریں،نہ ہی انہیں نم کر نے کے لیے اپنے منہ میں رکھیں۔کسی دوسرے شخص کا کانٹیکٹ لینز کبھی استعمال نہ کریں،بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ انہیں پہلے استعمال کیا جا چُکا ہوا۔اس طرح انفیکشن ایک دوسرے میں منتقل ہو سکتا ہے۔

کانٹیکٹ لینز پہننے کی وجہ سے آپ کی آنکھیں سورج کی روشنی سے زیادہ حساس ہو سکتی ہیں۔دھوپ میں نکلنے کی صورت میں کانٹیکٹ لینز لگانے کے بعد الٹرا وائلٹ شعاعوں سے تحفظ فراہم کرنے والے دھوپ کے چشمے اور دھوپ سے بچائو والے ہیٹ پہن کر باہر نکلیں۔ہمیشہ میک اپ صاف کرنے سے پہلے کانٹیکٹ لینز اُتار لیں اور انہیں لگا کر کبھی تیراکی نہ کریں،اس سے بھی انفیکشن کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

موسم گرما کی بیوٹی ٹپس 

 

  موسم گرما کی طرح کچھ خاص قسم کے بیوٹی ٹپس کے متقاضی ہوتا ہے۔گرمیو ں میں آپ کا آئی شیڈو پپوٹوں پر پگھل کر گریس بن جاتا ہے۔آپ کے بال خشک اور کھُردرے ہو جاتے ہیں اور ان کی رنگت آپ کی جلد کے مقابلے میں نہایت عجیب نظر آنے لگتی ہے۔تاہم آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اگر آپ بھی گرمیوں کے موسم میں انہی مسائل کا شکا ر ہیں تو ہمارے پاس ان مسئلوں کا آسان حل موجود ہے۔

بالوں کو رنگنا:  ہر دوسرے ہفتے بالوں کی ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ سپیشلسٹ کے پاس جانے کی ضرورت پیش آنے لگتی ہے۔آپ خود اس کا تجربہ کر سکتی ہیں۔آپ بس اتنا کریں کہ بالوں کے دونوں اطراف ہاتھ پھیریں آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ انہیں نگہداشت کی ضرورت ہے یا نہیں۔یاد رکھیں کہ گرمیوں میں بالوں کو جس قدر ہلکا رکھیںگے آپ کے لیے اسی قدر اچھا ہو گا۔گرم موسم میں اچھا ہو گا کہ بالوں کو ہلکے برائون رنگ میں ڈائی کر لیا جائے ۔ یہ ہر طرح کی رنگت پر سج جاتے ہیں۔

فائونڈیشن آئوٹ:  اگر آپ میک ا پ کے بغیر گرمیوں میں باہر نہیں نکلنا چاہتیں اور فائونڈیشن کے بغیر زندگی کو بے مقصد سمجھتی ہیں تو ہمارا مشورہ ہے کہ اس سیزن میں فائونڈیشن کو بھول جائیں اور ٹن ٹیڈ موئسچرائزر کا استعمال کریں۔ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ایک بار اس کا استعمال کرنے کے بعد آپ پھر کبھی فائونڈیشن کی طرف نہیں جائیں گی۔یہ موئسچرائزر فائونڈیشن سے ہلکا ہوتاہے اور اس کے باوجود یہ جلد کی خامیوں کو چھپا دیتا ہے او ر آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ آپ نے چہرے پر ضرورت سے زیادہ میک اپ مل رکھا ہے۔فائونڈیشن وقت گزرنے کے ساتھ پگھلنے لگتا ہے جبکہ ٹن ٹیڈ موئسچرائزر پورا وقت تازہ لُک دیتا ہے۔

نیل پالش:  اگر آپ اس موسم گرما میں اپنے ناخنوں کو خوبصورت بنانا چاہتی ہیں تو ناخنوں پر برائٹ کلر لگائیں۔موسم گرما میں برائٹ پنک کلر بہت زبر دست لگتا ہے اور ناخنوں پر خوب جچتا بھی ہے۔گرمیوں کے کلر شیڈ کا انتخاب کرتے وقت اپنے سینڈل کو ذہن میں رکھیں۔ا ن کا نیل پالش سے میچ ہونا ضروری ہے۔

مت بھولیئے:  خواتین کی اکثریت چہرے پرتو سن سکرین لگاتی ہے لیکن ہاتھوں اور گردن پر لگانا بھول جاتی ہیں۔کبھی بھی میک کرتے ہوئے ہاتھوں اور گردن کو نظر انداز مت کریں ورنہ پچیس سالہ چہرے کے ساتھ تیس سال کی گردن اور ہاتھ نہایت عجیب لُک دیتے ہیں۔ہمیشہ اپنے چہرے کے ساتھ نہ صرف گردن بلکہ ہاتھوں اور پیروں کا بھی پورا خیال رکھیں۔

بال:  گرمیوں میں بالوں کو چہرے اور گردن سے دو ر رکھیں۔ہینڈ بینڈ،پونی ٹیل یا بالوں کا جوڑا بنا لیں۔آپ چاہیں تو رومال استعمال کر کے بھی یہ مقصد حاصل کر سکتی ہیں۔یہ سب گرمیوں میں آپ کی لُک کو نکھارنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

گُلابی گال:  گرمیوں میں گُلابی رنگ کے علاوہ اور کوئی رنگ نیچرل لُک نہیں دیتا۔پنک شیڈ حاصل کرنے کے لیے ہر اس جگہ برش لگائیں جہاں دھوپ حملہ آور ہو سکتی ہے۔

 گھریلو ٹوٹکے

 

 روزانہ  صبح لہسن کے دو جوئے اور ایک چائے کا چمچ شہد کھانے سے بلڈ پریشر بالکل نارمل رہتا ہے۔

شہد کو سرکہ میں گھول کر کُلیاں کرنے سے دانت اور مسوڑھے مضبوط ہو جائیں گے۔

اکثر ٹماٹر کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں ایسے میں جب سستے داموں مل رہے ہوں تو تب زیادہ خرید لیں،اور گرائینڈ کر کے فریزر میں برف جمانے والی کیوب ٹرے میں جما لیں۔اس کے بعد تھیلے میں نکال کر رکھ لیںبعد میںجتنا استعمال کرنا ہو کیوب کی شکل میں ڈال دیں تازہ ٹماٹر کا ذائقہ ملے گا۔ لیموں سستے ہوں تو انہیں بھی آپ اسی طرح فریز کر کے استعمال کر سکتی ہیں۔

آلو قیمہ پکائیں تو اسے اُتارنے سے پہلے اس میں آدھی گٹھی ہرا دھنیاکاٹ کر ڈال دینے سے مصالحے دار بریانی کی خوشبو آئے گی۔

 کپڑے پر ہلدی کا داغ پڑ نے کی صورت میں متاثرہ حصے کو لیموں کے رس سے تر کریں اور کچھ دیر بعد اسے صابن سے دھو لیں۔ داغ غائب ہو جائے گا۔

استری کے جلنے کا نشان پڑ جائے تو متاثرہ حصے پر ٹشو پیپر رکھ کر اس پر دو سے تین قطرے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ ٹپکائیں۔اب گیلی حالت میں ہی اس کاغذ کے اوپر استری پھیریں داغ دور ہو جائے گا۔

بعض اوقات جوتا پڑے پڑے تنگ ہو جاتا ہے۔آپ فلالین کے کپڑے کو گرم پانی میں بھگو کر نچوڑلیں اور گرم گرم جوتے کے اندر ٹھونس دیں۔کپڑے کی گرمی کی وجہ سے جوتا پھیل جائے گا اور اس کی تنگی دور ہو جائے گی۔

بسکٹ ،نمکویا چپس وغیرہ کو خستہ رکھنے کے لیے جار کی شکل کے پلاسٹک کے ڈبوں میں رکھ دیں تو یہ نرم اور خراب نہیں ہو ں گے۔

فریج سے کسی بھی قسم کی بد بو دور کرنے کے لیے ایک پیالی میں سرکہ لے کر فریج میں رکھ دینے سے بد بو دور ہو جائے گی۔

اگر سالن میں مرچیں زیادہ پڑ جائیں تو اس میں گرم مصالحہ سارا نہ ڈالیں بلکہ صرف دار چینی،سفید زیرہ،بڑی الائچی اور ایک عدد لونگ پیس کر ڈال دیں۔سیاہ زیرہ اور سیاہ مرچ نہ ڈالیں۔جب خوشبواُٹھے تو مناسب مقدار میں گھی نتھار لیں۔

خوب محنت یا چلنے سے تھکن طاری ہو جائے تو ٹھنڈے پانی میںبیس گرام گُڑ اور الائچی کے دانے پیس کر ملا کے پی لیں۔اس سے تھکن دور ہو جائے گی اور قوت بحال ہو گی۔

آلو اُبالتے وقت پانی میں چُٹکی بھر نمک ملا دیں،آلو جلدی گل جائیں گے اور برتن بھی سیاہ نہیں ہو گا۔

ٹوتھ پیسٹ اور میٹھے سوڈے کو یکساں مقدار میں لے کر ملا لیں،پھر ریفریجریٹر کے تمام حصوں میں پیلے رنگ کے دھبوں پر رگڑ کے صاف کر لیں۔ریفریجریٹر کے تمام نشانات ختم ہو جائیں گے۔

اکثر لوگوں کی محنت طلب کام کرتے وقت سانس پھولنے لگتی ہے تو ان کے لیے آزمودہ نسخہ ہے کہ کریلے کے پانی میں تھوڑا سا شہد ملا کر کھائیں ،پھر دار چینی کا پائوڈر بنائیں اس میں بھی شہد ملا کر کھانے سے سانس نہیں اُکھڑے گی۔

 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سورج کی روشنی ہم سب کے لیے نُقصان دہ ہوتی ہے،مگر چھوٹے بچے اور ٹین ایجر اس سے زیادہ مُتاثر ہوتے ہیں۔اگر سورج کی روشنی یعنی دھوپ ابتدائی ع ...

مزید پڑھیں

جلد کی خشکی کے لیے

موسم تبدیل ہونے پر اکثر جلد خشکی کا شکار ہو جاتی ہے۔جس کے باعث خارش محسوس ہونے ...

مزید پڑھیں

گھر کسے پیارا نہیں ہوتا۔اگر یہ واقعی گوشئہ عافیت ہوتو اس سے بڑھ کر اور نعمت کیا ہوسکتی ہے ،مگر ممکن ہے کہ آپ کی صحت کے لیے گھر میں ہی ایسی ...

مزید پڑھیں