☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل صحت فیچر کیرئر پلاننگ رپورٹ ہم ہیں پاکستانی فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل خواتین متفرق روحانی مسائل ادب
تعلیم و تربیت

تعلیم و تربیت

تحریر : انعم ثناء

07-28-2019

آج کل کے جدید دور میں جہاں تعلیم ضروری ہے وہاں تربیت بھی ضروری ہے۔تعلیم وہ ہے جو کتاب میں لکھی ہے۔استاد نے پڑھایا ،بچے نے یاد کیا ،امتحانی پرچے میں لکھا ،پاس یا فیل ٹھہرا۔ڈگری ہاتھ میں آئی جس کے ذریعے اس نے زندگی میں روزی کمانی ہے۔

جب کہ تربیت لکھی،پڑھی ،پڑھائی یا بتائی نہیں جاتی ہے بلکہ یہ ایک عملی رویہ ہے۔ بچوں کی زندگیاں والدین کے گرد گھومتی ہیں بچہ ہر معاملے میں ان کا محتاج نظر آتا ہے اپنی زندگی کا ہر مشورہ اور فیصلہ اپنے ماں باپ کی مرضی سے کرتے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ تعلیم کے بغیر دنیا میں رہنا بہت مشکل ہے۔جونہی بچہ تین سال کا ہوتا ہے والدین کو اس کی تعلیم کی فکر ہو جاتی ہے۔بچوں کو بہترین تعلیم دینے کے لیے اچھے سے اچھے اسکول کا انتخاب کرتے ہیں۔بہترین کتابیں خرید کر دی جاتی ہیں،پھر سالانہ امتحانات کی رپورٹ گھور گھور کر دیکھی جاتی ہے۔اگر ایک نمبر بھی کم ہوا تو پوچھ گچھ کی جاتی ہے لیکن کیا اس کے ساتھ ہم بچوں کی تربیت میں بھی اتناتردد کرتے ہیں؟

یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تربیت نہیں کر رہے بلکہ وہ صرف تعلیم دینے پر زور دے رہے ہیں کہ ان کا بچہ کسی اچھی فیلڈ میں جا کر ان کا نام روشن کرے۔ہم جسے تعلیم کہتے ہیں وہ صرف اور صرف روزگار کے حصول کا ذریعہ بن گئی ہے جب کہ تربیت وہ شے ہے جو صرف روزگار کی جگہ ہی نہیں معاشرے میں ،گھر میں ،سڑک پر، بیگانوں کے ساتھ معاملات طے کرنے میں کام آتی ہے بغیر تربیت کے تعلیم اتنی ادھوری شے ہے کہ وہ آپ کو مکمل طور پر روزگار کے قابل بھی نہیں بنا سکتی ۔فرض کریں آپ کو نوکری مل گئی ہے مگر جب آپ کام ایمانداری سے نہیں کریں گے تو آپ کی نوکری برقرار نہیں رہے گی۔

اولاد کی صحیح تربیت والدین پر فرض ہے۔بچے وہی سیکھتے ہیں جو اس کے آس پاس ہوتا ہے اگر والدین خود نیک ہو گے تو بچوں کی تربیت بھی اچھے سے کر سکیں گے۔نیک اولاد نہ صرف دنیا میں فائدہ دیتی ہے بلکہ آپ کے دنیا سے جانے کے بعد صدقہ جاریہ بھی بنتی ہے۔مشہور قول ہے ’’جو باپ اپنے بچوں کو ادب سکھاتا ہے وہ اپنے دشمن کو نیست و نابود کرتا ہے‘‘،کیونکہ جب بچہ ادب سیکھ جاتا ہے تو دولت ،شہرت ،اور عزت سب حاصل کر لیتا ہے۔اگر آپ خود بچوں کے سامنے جھوٹ بولیں گے تو بچے بھی وہی سیکھیں گے ایک طرف تو ہم بچو ںکو کہتے ہیں کہ ’’سچ بولنا اچھی بات ہے‘‘ اور اگر ہمارے گھر پر کوئی دستک دے تو ہم بچے کو کہہ دیتے ہیں کہ ’’جاؤ اور کہہ دو ابو گھر پر نہیں ہیں‘‘۔بچے کی اچھی تربیت کرنے کے لیے ہمارا خود اچھا ہونا ضروری ہے۔انسانوں سے محبت کرنا ،ان کے درد کو اپنا درد سمجھنا ان کی خوشی میں خوش ہونا ۔بچہ حقوق العباد صرف اس وقت سیکھ سکے گا جب والدین خود سیکھیں گے۔

ایک دانشور نے کہا ہے ’’یتیم وہ بچہ نہیں جن کے والدین دنیا سے چلے گئے بلکہ اصل یتیم تو وہ ہے جن کی ماؤں کو اولادکی تربیت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور باپ کے پاس انہیں دینے کے لیے ٹائم نہیں ہے‘‘۔والدین بچوں کی تربیت سکول و کالج کی ذمہ داری نہ سمجھیں بلکہ اپنی نگرانی میں اولاد کی شخصیت سازی کریں۔بچے کی تعلیم کی ذمہ داری تو کسی پر چھوڑی جا سکتی ہے مگر تربیت ہمیں خود کرنی ہوگی۔آج کل کے دور میں تعلیم اور تربیت دونوں ہی ضروری ہیں کیونکہ اچھی تعلیم و تربیت سے بچے میں خود اعتمادی پیدا ہو گی اور اسے زندگی میں مشکلا ت کا سامنا کرنے میں آسانی ہو گی۔

مزید پڑھیں

اُبلتے ہوئے دودھ کو گرنے سے بچانے کے لیے دیگچی کے کنارے پر تھوڑا سا گھی یا مکھن لگا دیں ،اُبلتے وقت دودھ نیچے نہیں گرے گا۔

...

مزید پڑھیں

پانی جلد کی قدرتی چمک اور صحت کے لیے کتنا ضروری ہے یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں،روزانہ آٹھ سے دس گلاس پانی پینے سے نا صرف جسم کے اندر موجود مُ ...

مزید پڑھیں

ہنر ایک ہیرا ہے یہ جس کے پاس بھی ہے وہ خوش قسمت اور مالدار انسان ہے۔یہ ابن آدم پر مبنی ہے کہ وہ اپنے ہیرے کو کیسے قیمتی سے قیمتی بنا کر اس س ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

استعمال کے بعد رنگ کرنے کے برش کو صاف اور نرم رکھنے کے لیے تھوڑے سے سرکہ میں بھگو دیں،دس منٹ بعد صابن اور گرم پانی سے دھوئیں بالکل نئے ہو ج ...

مزید پڑھیں

سبزیاں قدرت کے انمول تحفوں میں سے ایک ہیں۔سبزی چاہے کوئی بھی ہو اس کا استعمال انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے ۔سبزیوں کا استعمال نہ ...

مزید پڑھیں

دل کی دھڑکن ہی انسان کے زندہ ہونے کا ثبوت ہے۔یہ رک جائے تو بشر بھی خاک میں جا لیٹتا ہے۔انسانی جسم میں دل و دماغ وہ دو عضو ہیں جو سب سے اہم س ...

مزید پڑھیں