☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا شخصیت عالمی امور سنڈے سپیشل یوم عاشور کچن کی دنیا صحت تحقیق غور و طلب تاریخ
چرخ نوع ِبشر کے تارے ہیں حسینؓ۔۔۔

چرخ نوع ِبشر کے تارے ہیں حسینؓ۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

09-08-2019

امام حسین ؓ کا ’’تعارف‘‘ علم اور قلم دونوں کے بس کی بات نہیں

علم کو الم عطا کیا حسین ؓ نے۔۔۔

کربلا کومقتل سے عظیم ’’درسگاہ‘‘ میں بدل دیا

اس درسگاہ کا’’معلم ‘‘۔۔۔’’نصاب‘‘ ۔۔۔ ’’اصحاب‘‘ ۔۔۔’’سند ‘‘ ۔۔۔۔’’وفد‘‘ سب حسین ؓ

’’ فکر ‘‘ حسین ؓ۔۔۔’’ذکر ‘‘ حسینؓ۔۔

صبر کی انتہا ، شہیدِ لافتح ، ادائے مرتضیٰؓ ، رضائے مصطفی ؐ، بِنائے لا الہ

سب حسین ؓ ۔۔۔۔حسین ؓ سب کا ۔۔۔۔حسین ؓ رب کا

شہادت کا حُسن ۔۔۔۔حسین ؓ

انسانیت کا نظم اور ضبط حسین ؓ

بندگی اور زندگی میں ربط حسین ؓ

حق اور باطل میں سرحد حسین ؓ

جس سے اصول۔۔۔جس سے رسول ؐ

کربلا میں لازوال ابدی قربانیوں کا آغاز یوم عاشور کی صبح شبیہہ رسول ؐحضر ت علی اکبر 18سال کے کڑیل جوان کی اذان سے ہوا اوروقتِ نمازِعصر نواسہ رسول ؐجگر گوشۂ حیدرؓ و بتول ؓ حضرت امام حسین ؓکے سجدے پر تمام ہوا ۔۔۔۔کائنات قیامت تک ایسی اذان اور ایسی نماز کی مثال پیش کرنے سے قاصر رہے گی بلکہ اس اذان اور نماز کے درمیان وقفے میں جس جوش و جذبۂ ایمانی سے خدائے بزرگ و برتر کے حضور اپنے خون سے شہادتوں کی تاریخ رقم کی گئی اسے یوم محشر تک ہر زمانے میںعقیدتوں بھری سلامی پیش کی جاتی رہے گی۔

نواسہ رسولؐ جگر گوشہ بتولؓ‘ فرزند مرتضیٰ حسین ابن علیؓ کی قربانی کوصرف مسلمانوں کیلئے مخصوص و محدود سمجھنا حسینیت کو نہ سمجھنے کے مترادف اور نا انصافی ہے ۔ اسے قرین ِ انصاف کہا جائے یایوں کہا جائے کہ حسینیت انسانیت کی معراج، ہر رنگ و نسل کیلئے حق کا معیار، زندگی اور موت کو سمجھنے کا شعور ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے گوشے گوشے میں ہر زبان ، ادب اور مذہب سے وابستہ انسان امام مظلوم ؓ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کیونکہ امام حسینؓ نے اپنے اصحابِ باوفا اور خاندان اہل ِ بیتؓکی ہمراہی میں جو اصولوں کی جنگ لڑی اس کے اثرات پوری دنیا ہی نہیں کائنات پر نقش ہیں۔ آپؓ کے اصول اور آپؓ کی قربانی جہاں اسلام کی بقا ء کی ضمانت ہیں وہاں بلاتفریقِ مذہب و ملت اور علاقہ و ملک عدل و انصاف کی فراہمی‘ آزادی کے حصول‘ حقوق کی جنگ‘ فرائض کی ادائیگی‘ جذبہ ایثار و قربانی‘ عزم وہمت اور جوش وولولہ کے جاویدانی پیغام بھی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر طبقہ فکر اور مذہب و ملت سے تعلق رکھنے والے مشاہیر آپؓ کی بارگاہ میں زانوئے ادب تہہ کرتے ہیں ۔ مختلف مذاہب کے پیشوا‘ دانشور‘ مفکر اور شعراء نے امام حسینؓ کی بارگاہ میں جس عقیدت کا اظہار کیا یہاں ان کی تفصیل پیش نہیں کی جا سکتی لیکن مختصراً ذکر کرتے چلیں تو ہندو شاعروں میں منشی دیشو پرشاد ماتھر لکھنوی کو اہل بیت اطہار ؓکی شان بیان کرنے کی وجہ سے خاص شہرت حاصل ہوئی وہ کہتے ہیں:

 

 

 

انسانیت حسینؓ تیرے دم کے ساتھ ہے

 

 

ماتھر بھی اے حسینؓ تیرے غم کے ساتھ ہے

 

 

انہی کاایک اور شعر کچھ یوں ہے کہ

 

 

مسلمانوں کا منشاء عقیدت اور ہی کچھ ہے

 

 

مگر سبطِ نبیؐ سے میری نسبت اور ہی کچھ ہے

معروف مصنف تھامس کارلائل اپنی کتاب Heroes and Heroes Worship میں کربلا سے حاصل ہونیوالے درس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’کربلا کے المیے سے ہمیں سب سے بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ امام حسینؓ اور آپؓ کے ساتھیوں کو خدا تعالیٰ پر کامل یقین تھا۔ آپؓ نے اپنے عمل سے ثابت کر دکھایا کہ حق اور باطل کی کشمکش میں تعداد کی برتری کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور بہادری کا جو سبق ہمیں تاریخ کربلا سے ملتا ہے وہ کسی اور تاریخ سے نہیں ملتا۔‘‘۔۔۔ایک اور عیسائی دانشور ڈاکٹر کرسٹوفر اپنا نظریہ یوں بیان کرتے ہیں ’’کاش دنیا امام حسینؓ کے پیغام‘ ان کی تعلیمات اور مقصد کو سمجھے اور ان کے نقش قدم پر چل کر اپنی اصلاح کرے۔‘‘۔۔۔ عیسائی مبلغ ڈاکٹر ایچ ڈبلیو بی مورنیو نے اپنی عقیدت کچھ اس طرح قلم بند کی کہ ’’امام حسینؓ صداقت کے اصول پر سختی کے ساتھ کاربند رہے اور زندگی کی آخری گھڑی تک مستقل مزاج اور اٹل رہے۔ انہوں نے ذلت پر موت کو ترجیح دی۔ ایسی روحیں کبھی فنا نہیں ہوسکتیں اور امام حسینؓ آج بھی انسانیت کے رہنمائوں میں بلند مقام رکھتے ہیں۔‘‘۔۔۔جے اے سیمسن کہتے ہیں ’’حسینؓ کی قربانی نے قوموں کی بقاء اور جہاد زندگی کیلئے ایک ایسی مشعل روشن کی جو رہتی دنیا تک روشن رہے گی‘‘۔۔۔۔جی بی ایڈورڈ کا کہنا ہے’’تاریخ اسلام میں ایک باکمال ہیرو کا نام نظر آتا ہے جس کو حسینؓ کہا جاتا ہے۔ یہ محمدؐ کا نواسہ‘علیؓو فاطمہؓکا بیٹا‘ لاتعداد صفات و اوصاف کا مالک ہے جس کے عظیم واعلیٰ کردار نے اسلا م کو زندہ کیا اور دین خدا میں نئی روح ڈال دی۔ حق تو یہ ہے کہ اسلام کا یہ بہادر میدانِ کربلا میں شجاعت کے جوہر نہ دکھاتا تو آج محمدؐ کے دین کا نقشہ کچھ اور نظر آتا‘ وہ کبھی اس طرح کہ نہ تو قرآن ہوتا اور نہ اسلام ہوتا‘ نہ ایمان‘ نہ رحم و انصاف‘ نہ کرم و وفا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انسانیت کا نشان تک دکھائی نہ دیتا۔ ہر جگہ وحشت و بربریت اور درندگی نظر آتی۔‘‘۔۔۔

مشہورافسانہ نگار منشی پریم چند لکھتے ہیں’’معرکہ کربلا دنیا کی تاریخ میں پہلی آواز ہے اور شاید آخری بھی ہو جو مظلوموں کی حمایت میں بلند ہوئی اور اس کی صدائے بازگشت آج تک فضائے عالم میں گونج رہی ہے۔‘‘۔۔۔مشہور جرمن فلاسفر نطشے بلاامتیاز مذہب و ملت ہر قوم کی نجات کو فلسفہ حسینیت ؓمیں یوں بیان کرتے ہیں’’زہد و تقویٰ اور شجاعت کے سنگم میں خاکی انسان کے عروج کی انتہا ہے جن کو زوال کبھی نہیں آئے گا۔ اس کسوٹی کے اصول پر امام عالی مقامؓ نے اپنی زندگی کی بامقصد اور عظیم الشان قربانی دے کر ایسی مثال پیش کی جو دنیا کی قوموں کی ہمیشہ رہنمائی کرتی رہے گی۔‘‘۔۔۔اردو ادب کے شہرہ آفاق نقاد اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر گوپی چند نارنگ اپنی کتاب ’’سانحہ کربلا بطور شعری استعارہ‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ ’’ راہِ حق پر چلنے والے جانتے ہیں کہ صلوٰۃعشق کا وضو خون سے ہوتا ہے اور سب سے سچی گواہی خون کی گواہی ہے۔ تاریخ کے حافظے سے بڑے سے بڑے شہنشاہوں کا جاہ و جلال‘ شکوہ و جبروت‘ شوکت و حشمت سب کچھ مٹ جاتا ہے لیکن شہید کے خون کی تابندگی کبھی ماند نہیں پڑتی۔ اسلام کی تاریخ میں کوئی قربانی اتنی عظیم‘ اتنی ارفع اور اتنی مکمل نہیں ہے جتنی حسین ؓابن علیؓ کی شہادت۔ کربلا کی سرزمین ان کے خون سے لہولہان ہوئی تو درحقیقت وہ خون ریت پر نہیں گرا بلکہ سنتِ رسولؐ اور دین ابراہیمیؑ کی بنیادوں کو ہمیشہ کیلئے سینچ گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خون ایک ایسے نور میں تبدیل ہوگیا جسے نہ کوئی تلوار کاٹ سکتی ہے نہ نیزہ چھید سکتا ہے اور نہ زمانہ مٹا سکتا ہے۔ اس نے اسلام کو جس کی حیثیت اس وقت ایک نوخیز پودے کی سی تھی‘ استحکام بخشا اور وقت کی آندھیوں سے ہمیشہ کیلئے محفوظ کردیا۔‘‘

اسی طرح رائے بہادر بابو اتاردین لکھتے ہیں

وہ دل ہو خاک نہ ہو جس میں اہل بیتؓ کا غم

وہ پھوٹے آنکھ جو روئی نہ ہو محرم میں

ہندو شاعر منشی لچھمن داس مرثیہ گوئی میں منفرد مقام رکھتے ہیں ان کا ایک قطعہ ملاحظہ ہو:

کم جس کی خیالیں ہوں‘ وہ تنویر نہیں ہوں

بدعت سے جو مٹ جائے وہ تصویر نہیں ہوں

پابند شریعت نہ سہی گو لچھمن

ہندو ہوں مگر دشمن شبیرؓ نہیں ہوں

عقل و آگہی کے انہی افکار ونظریات کو دیکھتے ہوئے جوش ملیح آبادی نے لازوال جملے کہہ ڈالے

کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسینؓ

چرخ نوع بشر کے تارے ہیں حسینؓ

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ

 

 

حسینؓ آئینِ

 

حق پرستی۔۔۔

نہ پوچھ میرا حسینؓ کیا ہے؟

جہانِ عزمِ وفا کا پیکر

خِرد کا مرکز، جنوں کا محور

جمالِ زھراؓ، جلالِ حیدر

ضمیرِ انساں، نصیرِ داور

زمیں کا دل، آسماں کا یاور

دیارِ صبر و رضا کا دلبر

کمالِ ایثار کا پیمبر

شعورِ امن و سکوں کا پیکر

جبینِ انسانیت کا جھُومر

عرب کا سہرا، عجم کا زیور

حسینؓ تصویرِ انبیاء ؑہے

نہ پوچھ میرا حسینؓ کیا ہے؟

حسینؓ اہلِ وفا کی بستی

حسینؓ آئینِ حق پرستی

حسینؓ صدق و صفا کا ساقی

حسین ؓچشمِ اَنا کی مستی

حسینؓ پیش از عدم تصور

حسینؓ بعد از قیامِ ہستی

حسینؓ نے زندگی بکھیری

فضا سے ورنہ قضا برستی

عروجِ ہفت آسمانِ عظمت

حسین ؓکے نقشِ پا کی مستی

حسینؓ کو خُلد میں نہ ڈھونڈو

حسین ؓمہنگا ہے خُلد سستی

حسین ؓمقسومِ دین و ایماں

حسین ؓمفہوم ’’ھَل اَتٰی‘‘ ہے

نہ پوچھ میرا حسینؓ کیا ہے؟

محسن نقوی

کیا غازیان ِ فوجِ خدا نام کر گئے

کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے

لاکھوں سے تشنہ کام لڑے کام کر گئے

امت کی مغفرت کا سر انجام کر گئے

فیض اپنا مثلِ ابر کرم عام کر گئے

پڑھتے ہیں سب درود جو ذکر اُن کے ہوتے ہیں

ایسے بشر وہ تھے کہ ملک جن کو روتے ہیں

دیندار و سرفروش و شجاع و خوش اعتقاد

ہاتھوں میں تیغیں اور دلوں میں خدا کی یاد

زخموں کو نخلِ قد پہ وہ سمجھے گلِ مراد

مردانگی یہ پیاس میں فاقوں میںیہ جہاد

تیغوں سے بند کون سا ان کا کٹا نہ تھا

پر معرکے سے پائوں کسی کا ہٹا نہ تھا

برسوں رہے گا چرخ میں ، گر آسمانِ پیر

لیکن نظر نہ آئے گا ان کا کہیں نظیر

گورے نہ ان کے پائوں ، نہ روئے مہِ منیر

خورشید جن کے سامنے اک ذرۂ حقیر

پرخوں قبائیں جسم میں ، سینے تنے ہوئے

پہنچے ریاضِ خلد میں دولہا بنے ہوئے

رستم اٹھا نہ سکتا تھا سر ان کے سامنے

شیروں کے کانپتے تھے جگر ان کے سامنے

پھیکی تھی روشنی ٔقمر ان کے سامنے

اڑتا تھا رنگ روئے سحر ، ان کے سامنے

بخشا تھا نور ، حق نے ہر اک خوش صفات کو

ہوتا تھا دن ، جو گھر سے نکلتے تھے رات کو

پیشانیوں پہ جلوہ نما اختر سجود

دیکھیں جو ان کا نور تو قدسی پڑھیں درود

رخ سے عیاں جلال و جوانمردی و نمود

شیدائے آل ، شیفتۂ واجب الوجود

جینے کی شاہ دیں کو دعا دے کے مر گئے

ایماں کے آئینہ کو جِلا دے کے مر گئے

تاثیر کر گئی تھی انہیں صحبتِ امام

تھا نزع میں بھی خشک لبوں پہ خدا کا نام

لبریز تھے محبت حیدرؓ سے دل کے جام

ذی قدر ، ذی شعور ، دلاور خجستہ کام

لشکر جو ان پہ ٹوٹ پڑے شام و روم کے

تلواریں کھائیں جسم پہ کیا جھوم جھوم کے

لاکھوں میں انتخاب ہزاروں میں لاجواب

تھا خشک و تر پہ جن کا کرم صورت ِ سحاب

وہ نور ، وہ جلال ، وہ رونق ، وہ آب و تاب

بس یک بہ یک جہاں میں اندھیرا سا چھا گیا

دن بھی ڈھلا نہ تھا کہ زوال ان پہ آ گیا