☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) تجزیہ(ابوصباحت(کراچی)) کچن کی دنیا() دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) قومی منظر(محمد سمیع گوہر) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) زراعت(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) کھیل(عابد حسین) متفرق(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) فیشن(طیبہ بخاری )
ترقی کیا کچھ کھا گئی۔۔۔؟

ترقی کیا کچھ کھا گئی۔۔۔؟

تحریر : شہروزنوازسرگانہ/خانیوال

05-10-2020

  سائنس نے جس تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں اسی رفتار سے ہمارے کلچر اور انسانی زندگی کے طور طریقوں میں بھی تبدیلیوں کے واضح آثار پائے جاتے ہیں بالخصوص جنوبی پنجاب میں بلاشبہ اس ترقی سے انکار ہرگز نہیں کیاجا سکتا

انسان واقعی ہی بہت آگے نکل چکاہے۔ نت نئی ایجادات سے اپنے لیے ہر شعبہ زندگی میں آسانیاں پیدا کررہاہے

 آج جہاں قدیم بندوقوں کی جگہ زمین سے فضاء میں مارکرنے والے جدید ہتھیارایجاد کرلیے ہیں دنیاکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تباہی پھیلانے والے میزائل بناکرانسانی دماغ نے پوری دنیا کوحیران کردیاہے اور وہ بھی ایسے بم کہ جوزمین کی تہہ تک جاندار چیز وں کوختم کرنے کی صلا حیت ر کھتے ہیں یہاں تک کہ جہاں ان بمبوں کا استعما ل کیاگیاوہاں پر زمینوں نے فصلیں دینا بھی چھوڑ دیں اس کے علاوہ سیٹلائٹ نے بھی خوب ترقی کی ایک بٹن دبانے سے دنیا کے کسی بھی حصے میں آپ کی آواز پہنچا دی ان تمام ایجادات کازمانہ قدیم میں تصور بھی نہیں کیا جاتاہوگایہ سب سہولیات انسان نے صرف اپنی خاطر ہی ایجاد نہیں کیں اور نہ ہی اپنے تک محدود رکھا بلکہ تمام انسان اس سے فائدہ اْٹھارہے ہیں بلکہ دیہی علاقوں کے لوگوں کی زند گیوں میں بھی آج خاصی تبدیلیا ں رونما ہوئی ہیں خاص کر پاکستان میں زرعی شعبہ میں زرعی مشینری کی ایجادات بھی شامل ہیں آج اگرایک ستر،

اسی سال کے بزرگوں کے پاس موجودہ دور کا کوئی نوجوان بیٹھ جائے تو ان سے زمانہ قدیم کے قصے سنتے ہوئے یقین ہی نہیں آتا کہ اتنا سادہ دور بھی گزرا ہے اور اس قدر مشقت بھی ماضی کا انسان کرتا تھادیہی گنجان آباد علاقوں کے رہن سہن کے طور طر یقے اور وہاں آبادلوگوں کاذریعہ معاش سن کر بڑا عجیب سا لگتا ہے سال میں 12مہینے اور ان میں ہر مہینے کی اپنی اہمیت ہوتی تھی مگر دیہی علاقوں میں بیساکھ ،جیٹھ، ہاڑ، یعنی اپریل ،مئی، جون تک یہ 3 مہینے بہت زیادہ اہمیت کے حامل سمجھے جاتے تھے ان 3 مہینوں میں گندم کی کٹائی گہائی اور کپاس کی بیجائی کامرحلہ عرصہ 3 ماہ میں ہی مکمل ہوتابچے بوڑھے خواتین سب ان دنوں اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھارہے ہوتے اورمختلف کاموں میں مصرو ف ہوتے اکثرعلاقوں میں اپریل کے مہینے میں گندم کی فصل تیارہوجاتی تھی اوراس کی کٹائی لوگ ہاتھوں سے ہی کرتے اس زمانے میں ہارویسٹر ، ریپر، تھریشر کی سہولت میسر نہ تھی دیہاتوں کے لوگ اکٹھے ہوکرٹولیوں کی شکلوں میں گندم کی کٹائی کرتے تاکہ اس کے مختلف مرحلوں کوپایاتکمیل کوپہنچانے میں آسانی رہے اور مزدور ی سے ملنے والی گندم فی کس لوگوں میں برابر تقسیم کرلی جاتی کسا ن یہ کام زیادہ تر نوجوان کرتے گندم کواکٹھاکرنے کیلئے کسان کسی ایک پکی جگہ کاانتخاب کرتے جہاں گندم کاٹ کر لوگ رسیوں میں باندھ کراسے اکٹھا کرتے اسے عام زبان میں پڑ کہا جاتا گندم کی کٹائی کایہ بھی ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتاتھاجب اسے ایک جگہ اکٹھا کیاجاتاتھاجس میں سب نوجوان مرد خواتین گڈے سروں پہ اٹھاکر کئی کئی ایکڑ دورجہاں پڑبنایاگیاہوتاوہاں لے جاتے ان تمام کاموں میں دیہی خواتین کا کرداربے حداہمیت کاحامل ہوتاجوکئی محاذوں پر اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیتیں تھیں خانہ داری جانوروں کی دیکھ بھال چارے ڈالنے تک کی ذمہ داری کے علاوہ دیگر کئی گھریلو امور شامل ہوتے یہ ماہ اس لیے بھی خاصے مصروفیات کے سمجھے جاتے کہ کئی طبقوں نے سال بھر کی اپنی روزی جمع کرنی ہوتی تھی جن میں اکثر یت غریب طبقوں کی شامل ہوتی جن میں ترکھان، لوہار،ماچھی ،کمہار، نائی وغیرہ شامل ہوتے جو سارا سال زمیندارو ں اورکسانوں کے کام کرتے اورسال بعد گندم کی صور ت میں اپنی مزدوری وصول کرتے ان دنوں گاؤ ں کے بچوں کے بھی موج میلے ہوتے کیوں کہ ایک مخصوص طبقہ کے افراد جلیبی نکال کر گاؤں کے گھروں میں گندم کے دانوں کے عوض دیتے تھے اورشاید یہاں کے بچوں کوسال بعد مٹھائی کھانے کا موقع ملتاتھا اور ان مہینوں کابچوں کوبھی بڑی بے چینی سے انتظار رہتا جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا کسان کی مصروفیات میں بھی اضافہ ہوتاجاتاکیوں کہ اب ناڑ سے دانے الگ کرنے کاوقت آچکاہوتاجس کیلئے کسان بیری کے درختوں کے تنے کاٹ کران کوگندم کے ناڑاور سوتر کی رسیوں کی مدد سے انتہائی کمال مہارت سے پھلے تیار کرتے اوربیلوں کی جوڑی کے ذریعے ناڑ سے دانے الگ کرنے کاکام شرو ع ہوجاتاجو انسانوں سے زیادہ ان جانوروں کیلئے مشکل مرحلہ ہوتاپورا پورا دن مئی جون کی تپتی دھوپ میں گول چکر کاٹتے یہ چلتے رہتے تب جاکرکئی دنوں یاہفتوں بعد سٹے سے دانے باہر آتے پھرگاؤں کے ماچھی کی مدد لی جاتی جو کراہی سے ہوامیں دانے الگ اوربھوسہ الگ کرتااوردانوں کوڈھیر ی کی شکل میں تیار کرکے دیتا دانوں کیساتھ بھوسہ بھی بڑی کار آمد چیز ہوتی جوپورا سال جانور کھاتے بہرحال اس تمام صورتحال سے گزرنے کے بعد لوگوں کوسال بھر کی روزی ملتی اس دن کسان اور اس کے کامے انتہائی خوش ہوتے

جس دن گندم کی ڈھیر ی اٹھائی جاتی اوراسی دن ان کی مصروفیات میں بھی قدرے کمی واقع ہوتی ان دنوں اس پیشہ سے وابستہ لوگ کوئی دوسرا کام نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ اپنے بچوں کی شادیاں تک ملتوی کردیتے تھے آپ تاریخ اٹھاکے دیکھ لیں ان مہینوں میں میلوں کی تاریخیں کم ملیں گی جون کے آخر میں میلے لگنا شروع ہوتے کیوں کہ اپریل مئی جون میں پنجاب کاکسان فارغ نہیں ہوتاتھااپنی فصل کی کٹائی اوربیجائی میں مصروف ہوتاپھر میلے تو سجتے ہی کسانوں کے ساتھ تھے کبڈی ،لمی کھیڈں،گھوڑوں، کاناچ تھیٹروغیرہ انہی کے دم سے آبادتھے پھر وقت نے کروٹ لی توانسانوں کیساتھ تھوڑا جانوروں کو بھی سکون ملا کہ تھریشر ایجاد ہوگیا تو بیلوں کی جان چھوٹی اورکسانوں نے بھی سکھ کاسانس لیا کہ جو طویل عرصہ اپنے بیلوں کے ذریعے گندم کی گہائی کرتے وہ کام گھنٹوں میں سرانجام پانے لگاجس سے ٹائم کی بھی بچت ہوجاتی اور گندم بھی پڑوں میں زیادہ دیر تک پڑی نہیں رہتی تھی البتہ یوں ایک وقت گزرنے کیساتھ ساتھ گہہ کے کلچر کابھی خاتمہ ممکن ہوا جو کئی صدیوں سے چلا آ رہا تھا بڑے زمینداروں نے تو تھریشر کو بطور بزنس بھی اپنایا وہ چھوٹے کسانوں کو اسے کرایے پہ دینے لگے جو مزدوری میں اچھی خاصی گندم جمع کرلیتے تھے اور دوسر ی جانب کسان جلدی میں اپنی کپاس کی فصل کی بیجائی بھی مکمل کر لیتے مگرترقی کا یہ سفریہیں رکانہیں تھا بلکہ اس نے جدید مشینری کی شکل اختیار کرلی اورہارویسٹرکو متعارف کرایاگیا

جس نے دیکھتے ہی دیکھتے تھریشر کوبھی اپنی لپیٹ میں لے کر کسانوں کے لیے مزید سہولیات فراہم کردیں آج صبح گندم کے جو کھیت دیکھ کر آپ گئے تھے تو اگلے دن وہ خالی میدانوں میں تبدیل ہوچکے ہوتے اسی افراتفری کے عالم میں میلوں کارواج بھی اپنے اختتام کوپہنچامیلے لگتے تو ہیں مگروہ رونقیں اب نہیں ہوتیں اوروقت کیساتھ ساتھ تقریباًوہ دیسی کلچر بھی دفن ہوچکے ایک موبانہ گزارش اپنی حکومتوں سے بھی ہے کہ جس تیزی سے پنجاب کے کلچر ختم ہوتے جا رہے ہیں اسی تیزی سے پنجاب بلکہ پاکستان کے اندر زرعی رقبے بھی ختم ہورہے ہیں مستقبل میں اناج پورا کرنے کے لیے بھی نہ جانے ہمیں کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گایایوں کہہ لینا بھی بیجا نہ ہوگا کہ اس کیلئے بھی ہمیں چند برسو ں بعد دوسرو ں کے مرہون منت یا پاؤں پکڑنا پڑھیں گے کیوں کہ زرعی رقبے بڑی تیزی کے ساتھ ختم ہو رہے ہیں اور ہمیں اس کااحساس تک نہیں سوا ل تویہ ہے کہ ہماری حکومتوں اور حکمرانوں کواس کااحساس بھی ہونا چا ہیے تھا اور اس کیخلاف اقداما ت بھی اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہیں چنانچہ ملک میں فوری قا نو ن پاس کیاجائے کہ زرعی اراضی پر نہ توکوئی صنعتی یونٹ لگا یاجاسکے گااورنہ ہی قابل کاشت رقبوں پہ رہائشی کالو نیوں کی اجاز ت ہو گی البتہ پاکستان میں ایسے رقبوں کو استعمال میں لایا جائے جن پر فصلیں کاشت نہیں ہوتیں تاکہ وہ رقبے بھی زیر استعمال لائے جاسکیں اور یوں زرعی رقبوں میں کمی کا رحجا ن بھی ختم کر نے میں مدد ملے ورنہ پنجاب میں ہمارے کلچرو ں کیساتھ ساتھ زرعی رقبے بھی کم عرصے میں ختم ہو جائیں گے۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

صبح سویرے ماں جی کی آواز کانوں سے ٹکراتی کہ اٹھو نماز پڑھو اور قرآن پاک پڑھنے کیلئے مسجد جائو۔ گرمیوں میں گائوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی اور دلکش صبحوں کا اپنا ہی نظارہ ہوتا ہے جو مشام جاں کو معطر کردیا کرتی تھی۔

مزید پڑھیں

 تازہ ترین اندازوں کے مطابق پاکستان کی کل آبادی لگ بھگ 22 کروڑ ہے جس میں سے 37 فیصد شہروں جبکہ63 فیصد دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ اس تناسب کے حساب سے تقریباََ 14کروڑ افراد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ان دیہی علاقوں میں آباد افراد کا براہ راست دارومدار زراعت پر ہے۔    

مزید پڑھیں

 فصلوں کی کاشت، نشوونما اور پیداوار کی پیش گوئی بنیادی طور پر زرعی شعبے میں فیصلہ سازوں کو فصل کی متوقع پیداوار کے ابتدائی اور حتمی اشاریے فراہم کرتی ہے۔ فصلوں کے تخمینوں کی مدد سے اجناس کی درآمدوبرآمدات، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور مارکیٹنگ وغیرہ کے لئے بروقت فیصلے کرنے اور حکمت عملی بنانے میں مدد ملتی ہے۔    

مزید پڑھیں