☰  
× صفحۂ اول (current) خواتین دنیا اسپیشل کھیل سائنس کی دنیا ادب روحانی مسائل فیشن کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ صحت دین و دنیا
Dunya Magazine
Loading...
Loading...
Loading...

دیگر خصوصی مضامین اور مستقل سلسلے

اکثر لڑکیاں میک اپ تو کسی نہ کسی طرح کر لیتی ہیں ،لیکن کنسیلر لگانے کے فن سے آگاہ نہیں ہوتیں۔آئیں آج ہم آپ کو کنسیلر لگانے کا طریقہ بتاتے ہیں۔داغوں کو چھپانے کے لیے باریک برش کی مدد سے کنسیلر کو صرف نشان والی جگہ پر لگائیں،نہ کہ اسے ارد گرد پھیلا لیں۔کنسیلر کا رنگ،فائونڈیشن کا ہم رنگ ہوتا ہے

مزید پڑھیں

جنوابی ایشیاء میں اِن دنوں سیاسی قیادتوں کی جانب سے ’’زبان کے کمال‘‘ دیکھنے کا موسم ہے ۔۔۔ منہ میں زبان رکھنا کمال نہیں ۔۔۔ اسے سنبھال کر رکھنا کمال ہے۔۔۔ ضبط کرنا کمال ہے اور پھر زیادتی کرنے والوں کے انجام کو دیکھ کر طنز کے تیر نہ چلانا کمال ہے ۔۔۔۔ناصر کاظمی نے برسوں پہلے کہا تھا کہ زندگی بھر وفا ہمیں سے ہوئی سچ ہے یارو خطا ہمیں سے ہوئی دل نے ہر داغ کو رکھا محفوظ یہ زمیں خوشنما ہمیں سے ہوئی ہم سے پہلے زمینِِ شہرِ وفا خاک تھی کیمیا ہمیں سے ہوئی بے غرض کون دل گنواتا ہے تیری قیمت ادا ہمیں سے ہوئی ستمِ ناروا تجھی سے ہوا تیرے حق میں دعا ہمیں سی ہوئی سعیِٔ تجدیدِ دوستی ناصر آج کیا بارہا ہمیں سے ہوئی یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ سرحدیں پر گھن گرج ہو۔۔۔بارود کا شور شرابا ہو۔۔۔ اور امن کے دیوانے اور نفرت کے پجاری میں لفظوں کی جھڑپ نہ ہو ۔۔۔

مزید پڑھیں

کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس میں بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ تینوں یکساں اہمیت کی حامل ہیں۔ اگر کوئی ٹیم ان تینوں شعبوں میں سے ایک میں بھی کمزور کارکردگی دکھائے تو اُس کی فتح کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ 1992 سے پہلے ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا دو ایسی ٹیمیں تھیں جن کی فیلڈنگ لاجواب ہوتی تھی اور ان ٹیموں کی فتوحات میں ان کے فیلڈرز کا بڑا ہاتھ ہوتا تھا۔ لیکن 1992 میں جب جنوبی افریقہ کی ٹیم پر کرکٹ کھیلنے کی پابندی کا خاتمہ ہوا تو یہ ٹیم 1992 کا ورلڈ کپ کھیلی، اس ورلڈ کپ کا انعقاد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہوا تھا۔ ایک طویل عرصے بعد کرکٹ کے شائقین نے جنوبی افریقہ کی ٹیم کا کھیل دیکھا تو ششدر رہ گئے۔ یہ ٹیم ہر شعبے میں حیران کن صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی تھی اور اپنی بے مثال کارکردگی کی وجہ سے اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک پہنچ گئی۔ بدقسمتی سے اس کی فتح میں بارش کا قانون آڑے آ گیا ورنہ اس کا فائنل تک پہنچنا یقینی تھا۔

مزید پڑھیں

سائنسدان آئے روز نت نئے تجربات کرتے رہتے ہیں بظاہر یہ بہت عجیب سی بات لگتی ہے کہ آپ کے کچن میں رکھے ہوئے مائیکروویو میں انگور کے چند دانے ایٹم بم کی طرح پھٹ پڑیں اور اس سے بہت سی دوسری چیزوں نے آگ پکڑ لی ۔آپ کو یہ بات بھی بہت عجیب لگے کی کہ آپ اپنے گھر میں پلازما پیداکرسکتے ہیں ۔یہ کوئی مشکل کام نہیں، اس کے لیے آپ کو زیادہ سے زیادہ 2انگوروں کی ضرورت ہے۔ اگر دو انگور میسرنہ ہوں تو ایک سے بھی کام چل جائے گا۔ایک انگورکو دو برابر حصوں میں کاٹ کر مائیکروویو میں رکھنے کے بعد اُسے آن کرنے سے خوفناک دھماکہ ہوسکتاہے ۔ ایسے ایک تجربہ میں ایک مائیکرووویو کیساتھ رکھے ہوئے درجنوں مائیکروویو بھی جل کر راکھ ہوگئے تھے۔ امریکہ کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔سائنس دان یہ بات بہت پہلے سے جانتے تھے مگر وہ اس بات سے و اقف نہ تھے کہ ایسا ہوتا کیوں ہے؟جب بجلی کی لہریں مائیکر ویوومیں پڑے انگوروں کے دو دانوں میں سے گزرتی ہیں تو وہ آگ کیوں پکڑ لیتے ہیں یا پھٹ کیوں جاتے ہیں۔انہیں اب پتہ چلا ہے کہ انگوروں میں سے پلازما پیدا ہوتا ہوتا ہے،اور دھماکہ اسی کا پیدا کردہ ہوتا ہے۔ تین ماہرطبیعات دان نے بھی انگوروں سے پلازما بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ کنکورڈیا یونیورسٹی کے آرون سیلے پکوف اورحمزہ ۔کے۔ خٹک نے یہ حیران کن تجربہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مائیکرو ویو میں دوبرابر حصوں میں کٹے ہوئے انگوروں میں سے بجلی کی لہریں پلازماکو پیداکرتی ہیں۔یہ تجربہ سائنسی میلوں میں دلچسپی کا مرکز بنارہا۔کئی سائنسی بلاگس نے اسے اپنے پیچ پر ڈالا، کچھ نے اسے پلازما مائیکروویو کا نام دیا تو کچھ نے اسے ’’انگوروں کی ایٹمی طاقت‘‘ سے تعبیر کیا۔ بہرکیف یہ ایک زبردست سائنسی تجربہ ہے ۔یہ بات محض آپ کی معلومات کے لیے درج کی جارہی ہے ایساکوئی تجربہ کرنے کی کوشش ہرگز نہ کی جائے۔

مزید پڑھیں

’’اساس‘‘ (Roots) ایک شہرئہ آفاق ناول ہے۔ ایلکس ہیلی نے اسے بارہ سال کی تحقیق و جُستجوکے بعد لکھا ہے ۔اس ناول کودنیا بھر میں کروڑوں قارئین نے پذیرائی بخشی اور اس ناول پر فلم بنی جسے ناظرین نے بے حد پسند کیا۔ 1970ء کے آخری نصف میں یہ کتاب شائع ہوئی تو فوراً ہی بیسٹ سیلر بن گئی۔ امریکا اور دنیا بھر میں اس کی مقبولیت کی دو وجہتیں تھیں۔ ایک تو بطور ناول یہ بے حد دل چسپ اور سنسنی خیز کتاب تھی۔ دوسرے تاریخی اعتبار سے بھی اس کی اہمیت و افادیت مسلمہ تھی، مؤرخین کے مطابق یہ صرف افسانہ نہیں، اس میں حقیقت بھی ہے۔ناول کے مترجم عمران الحق چوہان ایک قانون دان، شاعر، کالم نگار، معلم ،سفرنامہ نگار اور ادیب ہیں ۔وہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں پر عبور رکھتے ہیں ۔ ’’بُک ہوم لاہور‘‘ نے اس کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔

مزید پڑھیں

نافرمان اولاد جس شخص کی اولاد نافرمان ہو وہ اس آیت کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرے پڑھتے وقت ذُرِیَّتِیْ کے لفظ پر اپنی اولاد کا خیال کرے: رَبَّ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ، اِنِّیْ تُبْتُ اِلِیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (سورۃ الاحقاف ۱۵) ظالم کے دل میں ہیبت اگر کسی شخص کا واسطہ کسی ظالم سے پڑ گیا ہو تو اس ظالم کے سامنے پچاس مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لے ظالم کے دل میں خوف پیدا ہوگا اور انشاء اللہ تعالیٰ ہر طرح کے ظلم سے محفوظ رہے گا۔ حسد و حاسد بعدنماز صبح و بعد نماز مغرب اول و آخر درود شریف گیارہ بار اور یا مدل ستر بار پڑھے اور دعا کرے انشاء اللہ حاسد دفع ہوگا۔ خواص سورۃ الاعراف آنکھ کی تکلیف اور زخم کے آرام کے لیے: اگر کوئی شخص باوضو عرق گلاب اور زعفران سے سورۃ الاعراف کو پاک کاغذ پر لکھے اور موم جامہ کر کے اپنے پاس رکھے وہ انشاء اللہ تعالیٰ آنکھ کی تکلیف اور آنکھ کے زخم سے صحت یاب ہوگا۔

مزید پڑھیں

خوبصورت چہروں پر شاعری کی دنیا میں بہت کچھ لکھا گیا ، اُسی بہت کچھ میں سے چند اشعار کا ذکر کیا جائے تونظیر اکبر آبادی نے یہ شعر شائد بینیش کیلئے ہی کہا تھا کہ

مزید پڑھیں

انسان زمانہ قدیم سے ہی اپنے مقاصد کے حصول کیلئے انفرادی اور اجتماعی طور پر دوسرے انسانوں، گروہوں، قبیلوں اور قوموں سے لڑتاجھگڑتا آیا ہے۔اس لئے انسان دوسروں سے خودمختاری اور آزادی کا حق چھیننے پر بھی آمادہ نظر آیا ہے ۔ اس نے کبھی نظریات کے نام پر دوسروں سے جنگیں کی ہے تو کبھی شخصیات کے نام پر دوسروں سے لڑنا اس کا وطیرہ رہا ہے۔جنگیں ہر دور میں ہوتی رہیں اور شائد آنے والے مستقبل میں بھی ان سے بچا نہ جاسکے اور شائد انسان کی حتمی بربادی اور تباہی بھی انہی جنگوں کی وجہ سے ہی ہو گی۔لیکن ان جنگوں سے بھی بطور فرد ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور اپنی عملی زندگی میں بہت بہتری اور ترقی لا سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہم جنگوںکی تاریخ اور ان کے احوال سے سیکھنے میں میں سنجیدگی اوربلوغت کامظاہرہ کریں۔ ذیل میں ان دس اصولوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو فرد جنگی تاریخ اور واقعات سے سیکھ کر اپنی عملی زندگی میں اگر ان کا اطلاق کر لے تو کامیابی ان کا پتہ پوچھتے اُس سے آن ملے گی یعنی انہیں کامیابی کیلئے تگ و دو نہیں کرنا پڑے گی بلکہ یہ ایسے عمل کو جنم دیگا کہ کامیابی خود ان کے پیچھے بھاگنے لگے گی ۔ بس آپ کا کام اتنا ہے کہ ان اصولوں کو پڑھنے اور یاد رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کو جینا شروع کر دیں باقی نتائج آپ کو حیران و پریشان کر دیں گے ۔آپ کو یقین نہیں آتا تو آزما کر دیکھ لیں۔

مزید پڑھیں

یوں تو بھارت گزشتہ کئی عشروں سے پاکستان میں دراندازی کررہاہے۔ 26فروری کو پاکستانی حدود کی خلا ف ورزی بھی اس سلسلے کی پہلی (اورشائد آخری )کڑی ہرگز نہیں ہے۔ اس روزبھارت کی تین فارمیشنز میں سے ایک نے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ۔اس کی دو فارمیشنز بھارتی حدود میں تیار کھڑی تھیں۔جن میں Sukhio-30اوراواکس طیارے بھی شامل تھے۔ بھارت نے ری فیولنگ کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔مگر پاکستان کو اس تمام منصوبے کی خبر پہلے سے ہی تھی۔اسی لئے اس نے بھارت کو بھی ممکنہ حملے کے بعد کے نتائج سے آگاہ کر دیا تھا۔پاکستان کی مکمل تیاری دیکھ کر بھارت گھبرا گیا۔ ایک فارمیشن نے پے لوڈ پھینک کر بھاگنے میں ہی عافیت جانی ۔اس کے اگلے روز 27فروری کی صبح 10:05منٹ پربھارتی فضائیہ کے دو طیارے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوشہر ہ سیکٹر میں داخل ہوگئے۔ پاکستان کے جے ایف تھنڈرنے انہیں ’’دبوچ‘‘ لیا۔ پاکستانی پائلٹ نے کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مگ 21کو گرالیا ۔بھارتی میڈیا نے پہلے مگ 29کے لاپتہ ہونے کی خبر جاری کی جو بعدازاں واپس لے لی گئی ۔بھارتی میڈیا کبھی مگ 21اور کبھی مگ 29کہتارہا۔مگ کو لے بھارتی میڈیا نے اپنی حکومت کے بھی ’’لتے‘‘ لئے ہیں۔فضائیہ کو زبردست تنقید کا سامناہے ۔فضائیہ کے سربراہ نے 12طیاروں کی ’’بمباری‘‘ سے مرنے والوں کی تعداد بتانے کی بجائے پریس کانفرنس سے ہی چلے جانے میں ہی عافیت جانی۔ ایک اہم سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ مودی انتظامیہ نے 56سال پرانے ’’فلائنگ تابوت ‘‘کو پاکستانی حدود میں کیوں داخل کیا ؟۔179بھارتی ہواباز ان ’’فلائنگ تابوتوں‘‘ میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔میڈیا کی تنقید پر بھارتی حکومت اتنا کہہ کرچپ ہو گئی ہے کہ ’’ 14فروری کے بعد سوے تمام ماڈلز کے طیارے ہائی الرٹ ہیں، ہر ماڈل کے طیارے باری باری پرواز کرتے ہیں۔ ایس یو ۔30اور مگ 29 منگل کی رات بھر فضاء میںپرواز کرتے رہے ۔اگلے روزیہ ڈیوٹی مگ 21نے سنبھال لی ‘‘۔

مزید پڑھیں

چھوٹی سی بچی، عمر 14 سال، بابا جب بھی شام کو آتے بابا کا موبائل فون لے کر بیٹھ جاتی۔ گیم کھیلتی، ایک دن گیم کھیلتے کھیلتے کسی کا نمبر مل گیا۔ باتیں شروع ہو گئیں۔ جب بھی بابا گھر آتے فون لے کر بیٹھ جاتی اور کسی نہ کسی بہانے گھنٹوں باتیں ہوتی رہتیں۔ فون پر رابطے کے ساتھ ساتھ بازار اور سکول میں ملاقاتیں شروع ہو گئیں۔ ایک دن پرچہ دینے گئی۔ شام گئے تک نہ لوٹی تو گھر والے ادھر ادھر بھاگے۔ پریشان ہوئے۔ رات گئے بُرے حالات میں گھر واپس آئی۔ فون والا لڑکا بہلا پھسلا کر لے گیا تھا اور یوں تباہی کا آغاز ہوگیا۔

مزید پڑھیں

حضرت عمر ؓبیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : ترجمہ:’’ اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن کریم ) کے ذریعے بہت سی قوتوں کو اونچا اُٹھاتے ہیں، اور دوسری قوموں کو اس ( پر عمل نہ کرنے ) کی وجہ سے نیچے گراتے ہیں۔‘‘ تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمان قرآن پاک کی پاکیز ہ تعلیمات اور ارشادات نبوی ﷺپر زندگی کے تمام شعبوں میں عمل کرتے رہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسی ترقی اور ایسا عروج عطا فرمایا جس کی نظیر پیش کرنے سے تمام اقوام عالم عاجز ہیں ، اور آج مسلمان کتاب و سنت کو چھوڑ کر ذلیل وخوار ہورہے ہیں ۔ حضرت علی ؓسے مروی ہے ، کہ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سناہے،

مزید پڑھیں

خوابوں کے اُفق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ ۔۔۔۔

دنیا فیشن

ماڈل : بینیش
فوٹو گرافی : عامر چشتی
میک اپ : K R CREW

گذشتہ شمارے