☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ غور و طلب کھیل کچن کی دنیا فیشن صحت کیرئر پلاننگ ادب دین و دنیا روحانی مسائل
Dunya Magazine
Loading...
Loading...
Loading...

دیگر خصوصی مضامین اور مستقل سلسلے

روشنی کی اِک کرن کوئی مرے گھر پھینک دے

اِک زمانہ ہو گیا شمس و قمر دیکھے ہوئے

ختم کرو دھمکیوں ، الزامات ،

 

مزید پڑھیں

اقوام متحدہ کے زیراہتمام 22 مارچ پانی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ نے ہدف طے کیا ہے کہ 2030تک دنیا کہ ہر انسان تک صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولت فراہم کرنے کی جدوجہد کر نا ہے۔ 2019 کے پانی کے عالمی دن کا اسی مناسبت سے تھیم ہے ۔’’Leaving no one behind‘‘ کسی کو پیچھے نہ چھوڑو ،ہر شخص کو صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولت فراہم کرنے کا مشن ہم سب کو جاری رکھنا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر کے انسانوں کو پانی کے مسائل کی سنگینی سے آگاہ کرنا اور ان کومسائل کے حل کی کا شعور دیناہے تاکہ وہ ان ماحولیاتی مسائل کے نقصانات سے آگاہ ہوں اور ماحول کے تحفظ کی جدوجہد میں شامل ہوں۔ اقوام متحدہ کے زیراہتمام اس دن دنیا بھر میںحکومتی اور غیر حکومتی اداروں کی جانب سے پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

عمران خان نے حال ہی میں بہادر شاہ ظفر اور ٹیپو سلطان کا ذکرکیا ہے۔بھارتی میڈیا حیران ہے کہ ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہائی کے موقع پر بھی انہوں نے بہادر شاہ ظفر اورٹیپو سلطان کا ذکر کیا،ایسا کیوں ؟ دونوں تاریخی کرداراپنی اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں ۔ٹیپو سلطان 18ویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے غاصبانہ کردارکے سامنے ڈٹ گئے ۔’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے‘‘ ان کا یہ قول ہر پاکستانی کی رگ وپے میں دوڑرہاہے ۔وہ بہادر شاہ ظفر کے بالکل الٹ ہیں۔ 1837ء میں بادشاہ بننے والے 62سالہ بہادر شاہ ظفر ناتواں اورکمزور حکمران تھے ۔1857ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزو ں نے انہیں کالا پانی بھیج دیا،

مزید پڑھیں

صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے رواں برس یومِ پاکستان 23مارچ 2019ء کو زندگی کے مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی جن 127پاکستانی شہری وغیرملکی شخصیات کو سول ایوارڈز دینے کی منظوری دی ہے ان میں کھیلوں سے وابستہ صرف چار قومی ہیروز ہی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں اوران میں بھی تین اسٹارز وسیم اکرم، وقاریونس اوریاسرشاہ کاتعلق کرکٹ سے ہے جب کہ ایک ستارے محمد انعام بٹ کا تعلق فنِ پہلوانی سے ہے۔ افسوس ناک امریہ ہے کہ قومی کھیل ہاکی، سنوکر،اتھلیٹکس، سکواش، کبڈی،ویٹ لفٹنگ،باکسنگ اورمارشل آرٹس سمیت کسی دوسرے کھیل سے وابستہ شخصیات کی وطنِ عزیز کے لئے خدمات کوخاطر میں نہیں لایاگیا حالانکہ ہمارے سینکڑوں ایسے مرد وخواتین انٹرنیشنل اتھلیٹس ہیں جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لئے متعدد میڈلز جیتے، گرین شرٹس کو سائوتھ ایشیاء،ایشیاء اورعالمی چیمپیئن بنایا اورسبزہلالی پرچم کو پوری دنیا میں سربلندکیا لیکن ان کی خدمات ایوارڈز کی فہرست مرتب کرنے والی کمیٹی کی نظروں میں نہ آسکیں یاانہیں اس قابل ہی نہیں سمجھاگیاکہ ان کی گراں قدر خدمات کو بھی قومی سطح پرسراہا جائے، جب کہ کھیلوں کے مقابلے میں اداکاروں، گلوکاروں اورموسیقاروں سمیت ثقافت کے شعبے سے سول ایواردز کے لئے منتخب شخصیات کی تعداد بھی کئی گنا زیادہ ہے، جن کی خدمات بلاشبہ پاکستان کے لئے بڑی نمایاں ہیں اورانہیں ایوارڈز بیشک میرٹ پردئیے گئے ہیں لیکن اگر کھیلوں سے وابستہ قومی سپراسٹارز کو بھی کم ازکم فن کاروں کے مساوی ایوارڈز عطا کئے جاتے تو اس سے نہ صرف پاکستانی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی اور عالمی سطح پر کھیلوں میں پاکستان کی گرتی ہوئی ساکھ کوبحال کرنے میں یقیناََ مدد ملتی بلکہ ہمارے قومی اورروایتی کھیلوں کوملک میں دوبارہ فروغ بھی ملتا۔ یہاں یہ امربھی قابلِ ذکر ہے کہ کرکٹ بلاشبہ اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول کھیل بن چکاہے اوراس کی سب سے بڑی مثال پاکستان کرکٹ کے سابق کپتان عمران خان نے مقبولیت کی وہ معراج پائی جس نے انہیں پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچادیااور جن تین کرکٹرز کو رواں برس ایوارڈز کے لئے منتخب کیاگیا انہوں نے دنیابھرمیں پاکستان کانام روشن کیا لیکن ان کے ساتھ صرف ایک مایہ نازقومی پہلوان ہی اس فہرست میں جگہ بناسکے اور دیگر کھیلوں کونظراندازکیاگیا۔ ایشیاء کے سابق تیزترین انسان عبدالخالق (برڈآف ایشیاء) سمیت ہمارے کئی انٹرنیشنل سٹارز اوراولمپیئنز ایسے ہیں جو اس معیار پرپورا اترتے ہیں اور ان کی خدمات کوسراہنا ہم پرفرض ہے، تاہم حکومت وقت کی جانب سے کھیلوں سے وابستہ جن چارشخصیات کوسول ایوارڈز کے لئے منتخب کیاگیا بلاشبہ وہ چاروں ہمارے قومی ہیروز اورشاید اس سے بھی زیادہ حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں۔یوں توپاکستان کا بچہ بچہ اپنے ان ہیروز کاپرستار ہے لیکن پھربھی ہم اپنے قارئین کے لئے ان چاروں شخصیات کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

چکن چنگیزی

اجزاء:چکن ایک کلو،برائون پیا ز 1/2 کپ، ٹماٹر (سلائس)تین عدد،کوکونٹ مِلک1/2کپ، کریم 1/4 کپ، دہی 1/2 کپ،ادرک لہسن کا پیسٹ ایک کھانے کا چمچ،لیموں کا رس دو کھانے کے چمچ،نمک 1/2چائے کا چمچ، پسی لال مرچ 1-1/2چائے کا چمچ،پسا دھنیا ایک چائے کا چمچ، گر م مصالحہ1/2چائے کا چمچ،چاٹ مصالحہ 1/2چائے کا چمچ،قصوری میتھی ایک چائے کا چمچ،کٹی ہری مرچیں تین عدد، کاجو چار عدد ترکیب:پہلے بلینڈر میں برائون پیاز،کاجو اور کوکونٹ مِلک ڈال کر اچھی طرح بلینڈ کر لیں،پر چکن پر نمک،پسی لال مرچ، کریم، دہی،لیموں کا رس اور ادرک لہسن کا پیسٹ ڈال کر اسے تیس منٹ کے لیے رکھ دیں۔اب چکن کو ہلکی آنچ پر اتنا پکائیں کہ پانی خشک ہو جائے،پھر تیل گرم کر کے اس میں ادرک لہسن کا پیسٹ ،ٹماٹر،پسا دھنیا،گرم مصالحہ،قصوری میتھی،چاٹ مصالحہ،پسی پیازاور کاجو کا پیسٹ ڈال کر اتنا پکائیں کہ تیل اوپر آ جائے۔اس کے بعد اس میں چکن اور1/2کپ پانی ڈال کر دس منٹ پکائیں۔آخر میں ہری مرچوں سے گارنش کر کے نان کے ساتھ سرو کریں۔

مزید پڑھیں

شاعر نے شاید یہ بینیش کیلئے ہی کہا تھا کہ پہنچ سے دور چمکتا سراب ،یعنی تُو مجھے دِکھایا گیا ایک خواب ،یعنی تُو میں جانتا ہوں ببول اور گلاب کے معنی ببول یعنی زمانہ ، گلاب ،یعنی تُو جمالیات کو پڑھنے کا شوق تھا سو مجھے عطا ہوا ہے مکمل نصاب،یعنی تُو کہاں یہ درۂ تاریک بخت یعنی میں کہاں وہ نُور بھرا ماہتا ب ،یعنی تُو بدل گئی ہے بہت مملکت میرے دل کی کہ آ گیا ہے یہاں انقلاب ،یعنی تُو ہر اِک غزل کو سمجھنے کا وقت ہے نہ دماغ مجھے بہت ہے فقط انتخاب ،یعنی تُو کبھی تو میرے اندھیروں کو روشنی دے گا گریز کرتا ہوا ماہتاب ،یعنی تُو اِدھر سے کوہ کن دشتِ عشق یعنی میں اُدھر ہے حسنِ نزاکت مآب ،یعنی تُو اُجاڑ گلشنِ دل کو بڑی دعائوں کے بعد ہُوا نصیب گُلِ باریاب ،یعنی تُو بہت طویل سہی داستان ِ دل ، لیکن بس ایک شخص ہے لُبِ لباب ،یعنی تُو کبھی کبھی نظر آتا ہے دشتِ ہجراں میں جنوں کی پیاس بڑھاتا سراب ،یعنی تُو

مزید پڑھیں

ڈاکٹر صاحب! ہم چار بہن بھائی ہیں ماں کی زیادہ تر توجہ بڑی بہن کی طرف ہے۔ اس کی ساری خواہشات پوری ہوتی ہیں جبکہ میری طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ میں کوئی فرمائش کرتی ہوں تو ڈانٹ دیا جاتا ہے۔ اپنی بڑی بہن سے میری گہری دوستی تھی اور ہے مگر مسلسل نظرانداز کیے جانے کی وجہ سے میں اب زیادہ تر اس سے الگ تھلگ رہتی ہوں اور کسی سے بات نہیں کرتی۔

مزید پڑھیں

کامیابی کے حصول اور منزل کو پالینے کی خواہش کس فرد میں نہیں ہے۔ کامیابی ہمیشہ اپنے نشان چھوڑ جاتی ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ کسی کامیاب فرد سے ملیں اوراُس سے اُس کی زندگی کے بارے میں دریافت کریں اور آپ کو کچھ ایسی باتیںاور اس فرد کی زندگی کی کچھ خوبیاں اور صفات نہ پتہ چلیں کہ جواُسے دوسروں سے الگ کرتی ہیں۔یہ تو اصل میں اُس کی کامیابی کی حقیقی وجہ اور بنیاد ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں

یہ بھی مشہور تھا کہ مرغ باز کو پتہ لگ جائے کہ کہیں مرغوں کی اہم لڑائی ہے تو وہ وقت اور فاصلے کی پرواہ نہیں کرتا۔ ان پیدل غریبوں میں سے بھی کوئی بعد میں زمین دار بن سکتا ہے، مالک کی طرح۔دو گھنٹے کے سفر کے بعد جارج کو مرغوں کی مدھم سی بانگیں سنائی دینے لگیں۔ ویگن چیڑھ کے گھنے جنگل کے پاس پہنچی تو یہ شوربے حد اونچا ہو گیا۔ اس کے ناک میں گوشت بھننے کی خوش بو آئی۔ پھر ویگن روکی گئی۔ ہر طرف گھوڑے، خچر بندھے ہوئے تھے اور لوگ باتیں کر رہے تھے۔’’ٹام لی!‘‘ نیچے کھڑے غریب کریکروں نے مالک کو دیکھ کر پہچان لیا جو ویگن میں کھڑے ہو کر ٹانگیں سیدھی کر رہے تھے۔ مالک ویگن سے کود کو نیچے اترے اور بھیڑ میں شامل ہو گئے۔ سینکڑوں لوگ، بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، ادھر ادھر کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ جارج نے ادھر ادھر دیکھ کر اندازہ لگایا کہ تمام غلام گاڑیوں میں ہی رکے ہوئے مرغوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ اور لگتا تھا کہ سینکڑوں مرغوں میں بانگیں دینے کامقابلہ ہو رہا ہے۔ کئی ویگنوں کے نیچے سفری بستر بچھے نظر آئے۔ جس کا مطلب تھا کہ بعض مالک اتنی دور سے آئے ہیں کہ وہ رات یہیں رکیں گے۔

مزید پڑھیں

’’رجب ‘‘میں رحمتوں کا نزول تیز

ہوجاتا ہے اور عبادت کرنے والوں

پر قبولیت کے انوار کا فیضان ہوتا ہے

مزید پڑھیں

حکایتِ سعدیؒ

ایک دن اکبر اور بیربل باغ میں چہل قدمی کر رہے تھے اور بیربل اکبر کو ایک مزاحیہ کہانی بیان کررہا تھا جس سے اکبر بڑا لطف اندوزہو رہا تھا۔ اچانک اکبر کو بانس کی چھڑی نظر آئی جو کہ زمین پر پڑی ہوئی تھی۔ اس کے ذہن میں بیربل کو تنگ کرنے کاخیال آیا۔

مزید پڑھیں

نیند نہ آنا

ابودائود ، ترمذی ،نسانی اورمسند احمد میں یہ حدیث شریف لکھی ہے کہ رسول اللہﷺ یہ دعا سکھاتے تھے کہ ’’ اگر کسی کی نیند اچاٹ ہو جائے اور وہ اس مرض سے نجات پانا چاہتا ہو تویہ لوگ سوتے وقت یہ دعا پڑھا کریں ‘‘ (بِسْمِ اللّٰہِ اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِہٖ وَعِقَابِہٖ وَمِنْ شَرِّ عِبَادِہٖ وَمِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَاَنْ یَّحْضُرُوْنِ)۔حضرت ابن عمرو ؓ کا دستور تھا کہ اپنی اولاد میں سے جو ہوشیار ہوتے ان کو یہ دعا سکھادیا کرتے تھے اور جو چھوٹے نا سمجھ ہوتے یادنہ کرسکتے ان کے گلے میں اس دعا کو لکھ کر لٹکادیتے۔

مزید پڑھیں

پہنچ سے دور چمکتا سراب ،یعنی تُو۔۔۔

دنیا فیشن

ماڈل : بینیش ( کراچی )
فوٹو گرافی : ناہید صدیقی
میک اپ :روز بیوٹی پارلر