☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ کھیل فیشن خواتین دین و دنیا کچن کی دنیا طنزومزاح ادب کیرئر پلاننگ
Dunya Magazine
Loading...
Loading...
Loading...

دیگر خصوصی مضامین اور مستقل سلسلے

پاکستان کے 21کروڑ عوام کہاں رہیں،رہنے کے لئے کوئی گھر کوئی ٹھکانہ ہونا چاہیے یا نہیں، کوئی جگہ ہے جو حکومت نے انہیں مہیا کر رکھی ہے۔ اپنے ہی پرانے مکان پر ایک پورشن ڈال لے یا حکومت ان کیلئے کوئی اچھی بستی بسانے کا ارادہ رکھتی ہے؟۔

مزید پڑھیں

٭:انڈیا کے لوک سبھا الیکشن 2019ء اپنے انجام کو پہنچے ،7دور مکمل۔۔۔انتخابی دوڑ ختم ۔۔۔اب سب کو انتظار ہے نتائج کا۔۔۔ ٭:قسمت کی دیوی کس پر ہو گی مہربان ۔۔۔کس کا ہو گا دھڑن تختہ ۔۔۔کس نظرئیے کی ہو گی فتح ۔۔۔۔ سیکولر ازم ، جمہوریت یا راشٹر وادہندو ریاست ؟

مزید پڑھیں

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹائن لاگارڈ(Christine Lagarde)کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد وطن واپس آ چکے ہیں۔مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف سے نیا پیکج 12مئی کو مل چکاہے ۔یہ ادارہ اگلے 39مہینوں میں ہمیں6ارب ڈالردے گا،آئی ایم ایف کی اپنی کوئی شرط نہیں تھی وہ تو ہم نے اتنی پیاری باتیں کی تھیں جو آئی ایم ایف نے مان لی ہیں ۔

مزید پڑھیں

کرکٹ کی تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھیں تو ہمیں بڑے شاندار آل رائونڈرز ملتے ہیں جنہوں نے اپنی بے مثال کارکردگی کی بدولت بہت نام کمایا اور کرکٹ کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گیا۔ اب بھلا سر گیری سوبرز‘ آئن بوتھم‘ عمران خان‘ کپل دیو‘ رچرڈ ہیڈلی‘ شاہد آفریدی‘ اینڈریو فلنٹوف‘ جیک کیلس‘ لانس کلوزنر‘ سنت جے سوریا کو بطور آل رائونڈر کون فراموش کر سکتا ہے۔ ان میں ایک نام اگر شامل نہیں ہوگا تو یہ فہرست ادھوری رہے گی اور وہ نام ہے پاکستانی آل رائونڈر عبدالرزاق۔

مزید پڑھیں

کبھی آپ سب نے غور کیا کہ بڑھتی ہوئی مغربی ثقافتی یلغار کے باوجود خواتین میں سکارف اور حجاب پہننے کی عادت تیزی سے فروغ پانے کی وجوہات آخر کیا ہیں؟ صاف ظاہر ہے کہ جس لباس میں آپ کی شخصیت کو سکون اور وقار محسوس ہو گا آپ اسے اپنائیں گی بالکل ایسا ہی سکارف اور عبایا کیساتھ ہے

مزید پڑھیں

آنکھوں کی حفاظت

آنکھیں قدرت کی طرف سے بخشا ہوا ایسا عطیہ ہے جس کا نعم البدل ممکن نہیں ہے۔چہرے کے حسن میں آنکھوں کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ہم میں سے بہت سے افراد ایسے ہیں جو اپنی آنکھوں کی صحت کا خیا ل نہیں رکھتے اور اس کے نتیجے میں چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد مسائل سر اُبھارتے ہیں،تب ہم آنکھوں کے معالج سے رجوع کرتے ہیں یاکہ اپنی آنکھوں کے مسائل سے نمٹا جا سکے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اپنی آنکھوں اور نظر کی حفاظت ابتداء سے ہی کرنی چاہیے۔لہٰذا جس طرح اپنی آنکھو ں کے حسن پر توجہ دی جاتی ہے اسی طرح بینائی پر بھی خاص توجہ دیں۔

مزید پڑھیں

ام المؤ منین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ اور ’’ام المؤمنین‘‘ ہونے کا شرف اور ازواج مطہرات میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔

مزید پڑھیں

 

دہی پھلکی رائتہ

اجزاء:دہی 1/2کلو،پیاز ایک عدد،ٹماٹر ایک عدد،اُبلا آلو ایک عدد،باریک کٹی ہری پیاز دو عدد،کھانے کا سوڈا ایک چٹکی،پھلکی کے لیے بیسن 1/2کپ،کُٹی کالی مرچ ایک چائے کا چمچ،نمک1/4چائے کا چمچ،زیرہ1/2چائے کا چمچ،پسی لال مرچ1/2چائے کا چمچ،بھنا زیرہ دو چائے کے چمچ،پودینے کی پتیاں د و کھانے کے چمچ،تیل تلنے کے لیے ترکیب:پہلے1/2کپ بیسن میں1/4چائے کا چمچ نمک ،1/2چائے کا چمچ زیرہ،1/2چائے کا چمچ پسی لال مرچ اور ایک چٹکی کھانے کا سوڈا ڈال کر تھوڑے پانی کی مدد سے ملا کر گھول لیں،پھر تلنے کے لیے تیل گرم کر کے اس میں چھوٹی چھوٹی پھلکیاں بنا لیں۔اب1/2کلو دہی میں ایک کپ پانی شامل کر کے پھینٹ لیں۔اس کے بعد ایک عدد پیاز،ایک عدد ٹماٹر اور ایک عدد اُبلا آلو باریک کاٹ لیں،پھر دہی میں پھلکیاں،حسب ذائقہ نمک ،دو چائے کے چمچ بھنا زیرہ،دو عدد باریک کٹی ہری مرچ اور باریک کٹے آلو،پیاز اور ٹماٹر ڈال کر ڈش میں نکال لیں۔آخر میں اسے دو کھانے کے چمچ پودینے کی پتیوں سے گارنش کر کے افطاری میں کھائیں۔

مزید پڑھیں

میرے کالج کے دوست شوکت بٹ دنیا کا آٹھواں عجوبہ تھے۔ لمبا سا قد، دائیں کندھے کی طرف جھکی ہوئی اونٹ مارکہ گردن، چہرے پر بے شمار جھریاں، آدھا سر یورپی مفکّروں کی طرز کا (یعنی بالکل صاف) اور بقیہ پر کہیں کہیں بے ترتیب بال جیسے اولے پڑنے سے برباد ہونے والے کھیت کی بچی کھچی فصل، چھوٹی چھوٹی بٹن مارکہ آنکھیں (جن کو شاید خوردبین کی مدد سے دیکھ کر ہی فیصلہ کیا جاسکتا تھا کہ یہ بند ہیں یا کھلی)، گینڈے کی طرح چہرے میں دھنسی ہوئی ناک، چھوٹے چھوٹے ہاتھ جو کہ شاید لوگوں سے ملا ملا کر گھس چکے تھے، کمر اور ٹانگیں خط مستقیم کی سیدھ میں جڑے ہونے کی بجائے کسی زگ زیگ نشان کی عکّاس…… الغرض میرے یہ دوست عجیب حلیے کے مالک تھے۔ انسان اور بندر کے تعلق کے کئی ثبوت شاید اب بھی غور کرنے والے لوگوں کو نظر آسکتے ہیں!

مزید پڑھیں

انگریز نے کچھ لمحے توقف کیا جیسے سوچ رہا ہو، پھر بولا۔’’کیا خیال ہے، دس ہزار ڈالر کافی رہیں گے؟‘‘ اس نے لوگوں کی ’’ہا، اوہ‘‘ کو ختم ہونے کا موقع دیا۔ پھر کہا’’لیکن صرف اس صورت میں اگر آپ کو اپنے مرغے پر اعتماد ہو۔ مسٹر لی۔‘‘ وہ مالک کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ تھی۔

مزید پڑھیں

زندگی میں کاموں کو مشکل بنا لینا تو کوئی بڑا معرکہ اور کارنامہ نہیں بلکہ مشکل کاموں کو آسان بنانا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ بحیثیت انسان ہم نے ہر معاملے میں خود کو مشکلوں کا عادی بنالیا ہے۔ بناوٹ ، تصنع اور پیچیدگیوں میں انسان اس قدر گھر چکا ہے کہ آسانی کے راستے ہی مٹنے لگے ہیں

مزید پڑھیں

حکایت مولانا رومیؒ

کڑوا خوبوزہ

حضرت لقمانؒ کی قدرو منزل آپ ؒکے آقا کے دل میں بیٹھ گئی۔ بادشاہ پر حضرت لقمانؒ کی خوبیاں واضح ہوگئی تھیں۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ غلام حرص و ہوس سے پاک صاف ہیں، آپ ؒکے دل میں کھوٹ نہیں اور زبان پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔ بظاہر وہ بادشاہ حضرت لقمان ؒکا آقا تھا، لیکن حقیقت میں وہ آپ ؒ کا غلام ہوگیا تھا۔ اسے حضرت لقمانؒ سے یہاں تک تعلق ہو گیا تھا کہ جب نوکر چاکر کھانا لے کر آتے تو وہ سب سے پہلے حضرت لقمانؒ کی خدمت میں پیش کرتا تاکہ آپ ؒ کھائیں اور جو کھانا بچ جاتا، وہ خوش ہو کر کھاتا تھا۔ اگر کبھی حضرت لقمان ؒکھانا نہ کھاتے تو بادشاہ بھی نہ کھاتا۔

ایک دفعہ بادشاہ کے کسی دوست نے اپنے باغ میں سے ایک بڑا ہی خوش رنگ خربوزہ اس کو تحفے میں بھیجا۔ بادشاہ نے ایک غلام سے کہا کہ جائو اور میرے بیٹے لقمان کو بلا لائو۔ بادشاہ کا حکم پاتے ہی حضرت لقمان ؒآئے اور ادب سے بادشاہ کے سامنے بیٹھ گئے۔ بادشاہ نے ہاتھ میں چھری پکڑی اور خربوزہ کاٹ کر ایک قاش حضرت لقمانؒ کو پیش کی۔ انہوں نے مزے سے وہ قاش کھائی۔ بادشاہ نے دوسری قاش کاٹ کر انہیں دی۔ وہ بھی آپؒ نے نہایت رغبت سے کھائی۔ پھر اس نے تیسری قاش کاٹی۔ پھر چوتھی یہاںتک کہ بادشاہ نے سترہ قاشیں کاٹ کر دیں اور انہوں نے ہر قاش بڑی رغبت سے کھائی۔ آخر میں جب ایک قاش باقی رہ گئی۔ بادشاہ نے کہا ’’جی چاہتا ہے ،یہ قاش میں خود کھائوں۔ لگتا ہے خربوزہ بہت میٹھا ہے، جبھی آپ ؒنے سترہ قاشیں اتنے مزے لے لے کر کھائی ہیں۔‘‘

حضرت لقمان نے وہ آخری قاش بھی کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ لیکن بادشاہ نے نہ دی اور اپنے منہ میں رکھ لی۔ قاش کا منہ میں رکھنے کی دیر تھی کہ سارا منہ حلق تک کڑوا ہوگیا۔ اس نے جلدی سے وہ قاش تھوک دی اور پانی منگا کر خوب کلیاں کیں، لیکن دیر تک اس کی کڑواہٹ نہ مٹی اور منہ کا سارا مزا خراب ہوگیا۔ اس نے نہایت تعجب سے حضرت لقمانؒ کی طرف دیکھا اور کہا : ’’اے عزیز فرزند! آپؒ نے کمال کیا کہ یہ زہریلا خربوزہ اتنے شوق و رغبت سے کھا گئے اور اپنے چہرے سے ذرا ناگواری ظاہر نہ ہونے دی کہ اس کی خوش رنگی اور خوش نمائی محض فریب ہے۔ کیا یہ بھی برداشت کی کوئی نرالی قسم ہے؟ حیرت ہے کہ تو نے کوئی حیلہ اس کڑوے خربوزے سے محفوظ رہنے کا نہ پیش کیا۔ اتنا ہی اشارہ کر دیا ہوتا کہ یہ ناپسندیدہ ہے اور میں اس کے کھانے سے معذور ہوں۔‘‘

حضرت لقمان ؒنے جواب دیا۔ ’’ کچھ کہتے ہوئے حیا آتی ہے۔ میں نے ہمیشہ آپ کے ہاتھ سے اتنا کھایا ہے کہ گردن نہیں اٹھا سکتا۔ یہ سوچ کر کڑوی قاشیں کھائیں کہ جب تمام عمر اس ہاتھ سے طرح طرح کی لذیذ نعمتیں کھاتا رہا ہوں تو افسوس ہے مجھ پر کہ صرف ایک کڑوا خربوزہ کھا کر اُودھم مچانے لگوں ۔حقیقت یہ ہے کہ تیرے میٹھے ہاتھ نے اس خربوزے میں کڑواہٹ چھوڑی ہی کہاں تھی کہ میں شکایت اپنی زبان پر لاتا۔‘‘

مزید پڑھیں

رمضان المبارک میں سکارف اور عبایا خواتین کی اولین پسند

دنیا فیشن

ماڈل : عروسہ خان
فوٹو گرافی : عامر چشتی
میک اپ : K R CREW عبایا +سکارف : حجاب النساء