☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ عید اسپیشل غور و طلب فیشن صحت دین و دنیا کیرئر پلاننگ ادب
Dunya Magazine
Loading...
Loading...
Loading...

دیگر خصوصی مضامین اور مستقل سلسلے

قطب مینار کس نے بنایا ، کیوں بنایا ، یہ ملکیت کس کی ہونا چاہئے اس بارے میں مسلمان اور بعض ہندو مفکرین اور مورخین نے کئی اعتراضات کھڑے کر دئیے۔ کسی نے اسے مسلمانوں کی مسجد قرار دیا تو کسی نے قطب مینار کو سلطنت غلاماں کی یادگار قرار دیا۔ سب سے اہم نکات سر سید احمد خان نے اپنی تصنیف’’ آثارالصنادید‘‘ میں اٹھائے ۔

مزید پڑھیں

مفکر پاکستان، علامہ محمد اقبالؒ (۹، نومبر، ۱۸۷۷ء - ۲۱، اپریل، ۱۹۳۸ء) نے اپنے ۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنے شہرہ آفاق خطبۂ آلہ آباد میں شمال مشرقی ہندوستان (پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان ) پر مشتمل الگ وطن کا تصور پیش کیا۔

مزید پڑھیں

مہنگائی کے بھنور میں پھنسے مفلوک الحال عوام کی عید کیا ہو گی ۔

غربت کی دلدل میں دھنسے عوام کی عید کیا ہو گی ۔۔۔

لبوں پہ رنگ تبسم نہ دل میں موجِ سرور ۔۔۔

میرے وطن کے غریبوں کی عید کیا ہو گی ۔۔۔

جب تک تمام شہر مہکتا نہ پائیں ہم ۔۔۔

کیسے یہ عید کی خوشیاں منائیں ہم ۔۔۔

مزید پڑھیں

ہمارا ملک معدنی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے ۔صرف صوبہ بلوچستان کی سرزمین میں اسقدر معدنیات کے ذخائرموجود ہیں جو ملک بھر کے معاشی مسائل کا خاتمہ کرکے یہاں خوشحالی لانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ زمین کی تہوں میں معدنی ذخائر پوشیدہ ہیں جن میں پٹرولیم سب سے اہم ہے۔

مزید پڑھیں

عید کی آمد اورملبوسات کی تیاریوں کے سلسلے میں عائشہ، ، منزہ ، زری اور سلمان کہتے ہیں کہ ’’ عید الفطر خدائے بزرگ و برتر کی جانب سے اپنے بندوں کوبلا تفریق دیا جانیوالا ایساخوشیوںبھرا انمول مقدس تہوار ہے

مزید پڑھیں

غصّہ ایک فطری نفسیاتی کیفیت ہے لیکن جب یہ بار بار پیدا ہوتی ہے تو اس سلسلے میں پیدا ہونے والے کیمیاوی اجزا ء کی مقدار بدن میں مستقل بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میںضغط الدم قوی(Hypertension)اورخفقان ‘حرکت قلب کا بڑھ جانا (Trachycardia)نیز مختلف امراض کلیہ پیدا ہو جاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں

جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرمؐ صاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔ روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ ﷺ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے۔

مزید پڑھیں

کامیابی کیا ہے؟ اس سوال کا جواب دینا بہت مشکل ہے ۔کیونکہ ہر کسی کے لئے کامیابی کی تعریف الگ ہے اورکامیابی ایک موضوعی عنوان ہے کہ اِسے ہر فرد مختلف انداز اور تناظر میں دیکھتا ہے ۔کسی کے خیال میں دولت پا لینا کامیابی ہے تو کوئی آخرت میں بڑا مقام پالینے کو کامیابی تصور کرتا ہے۔کسی کیلئے اپنے خاندان کو کامیاب دیکھنا کامیابی ہے تو کسی کیلئے اعلیٰ تعلیم یا گریڈ پالینا ترقی اور کامیابی ٹھہرا۔

مزید پڑھیں

نئے رقبے پر ایک ہفتہ بعد جب نئے مالک مرے اور مالکن بگھی میں گرجا گھر گئے تو سب کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔ ’’میں جلدی فیصلہ نہیں دینا چاہتی۔‘‘مٹلڈا نے اپنے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا’’لیکن پورا ہفتہ میں اور مالکن باورچی خانے میں بہت باتیں کرتی رہی ہیں۔ مجھے لگا ہے کہ نئی مالکن اور مالک بہت اچھے ہیں۔

مزید پڑھیں

حکایت شیخ سعدیؒ

ابو القاسم عبید اللہ بن خفاف نے ایک چور دیکھا اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس کے خلاف گواہی دی گئی کہ اسے پڑوس کے گھروں میں چوری کرتے پکڑا گیا ہے۔ اس کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ جب کسی گھر میں پھلانگ کر داخل ہو تاتو ایک چھوٹا سا گڑھا کھودتا جس طرح گولیاں کھیلنے کے لیے ہوتا ہے۔اس میں چند اخروٹ ڈال دیتا جیسے کوئی شخص یہاں کھیل رہا ہے۔ پھر ایک رومال نکالتا اس میں تقریباً دو سو اخروٹ ہوتے۔وہ انہیں ایک طرف ڈال دیتا۔ پھر گھر میںچپکے سے ادھر ادھر چکر لگاتا اور ہر وہ چیز جسے اٹھا کر لے جانا ممکن ہوتا اسے اکٹھا کر لیتا۔

اگر کسی کواس کا پتہ نہ چلتاتوسب کچھ اٹھا کر لے جاتا اور اگر گھر کا مالک آجاتا تو اس پر ایک کپڑا ڈال دیتا اور اس سے رقم واپسی کا مطالبہ کرتا۔ اگر مالک طاقت ور ہوتا اور وہ مزاحمت کرتا تو وہ چور چیخنے لگتا۔ پڑوسی شور سن کر جمع ہو جاتے۔ وہ کہتا اب تم پیچھے کیوں ہٹتے ہو؟ کئی ماہ سے میں تمہارے ساتھ اخروٹ پر جوا کھیل رہا ہوں۔ تم نے مجھے کنگال کر دیا ہے۔ میرے سارے مال پر قبضہ کر کے میری ہلاکت کا باعث بنے ہو۔

میں تمہیں تمہارے پڑوسیوں کے سامنے ضرور رسوا کر دوں گا۔ اب میں جیتنے لگا تو چلانا شروع کر دیا۔ اور مجھ پر چوری کا الزام لگا دیا اور مال بچانے کے لیے اخروٹوں پر چادر ڈال دی۔ میں تمہیں اس وقت سے جانتا ہوں جب کئی ماہ بیشتر جوئے کے اڈے پر ہماری ملاقات ہوئی تھی۔ وہ مالک مکان کہتا یہ چور ہے یہ چور ہے۔ پڑوسی سمجھتے کہ واقعی یہ آدمی جوا کھیلتا ہے اور اپنی رسوائی سے بچنے کی خاطر اس پر چوری کا الزام لگا رہا ہے۔ وہ مالک مکان کو لعن طعن کرتے اس کے اور چور کے مابین حائل ہو جاتے۔ تا آنکہ چور پیچھے ہٹتا، اپنے اخروٹ اٹھاتا اور دروازہ کھول کر اپنی راہ لیتا۔ وہ شریف آدمی اپنے پڑوسیوںمیں رسوا ہو جاتا۔

مزید پڑھیں

سجتی ہے تیرے بر میں سراپا قبائے عید ۔۔۔۔

دنیا فیشن

ماڈلز : عائشہ ، منزہ ، زری ، سلمان
فوٹو گرافی : عامر چشتی
میک اپ : K R CREW