☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل رپورٹ سنڈے سپیشل
Dunya Magazine
Loading...
Loading...
Loading...

دیگر خصوصی مضامین اور مستقل سلسلے

آج سے ہزاروں سال قبل کسی زمانہ میں قبیلہ بنو جرہم کے کچھ لوگ عرب کے مشہور شہر ’’مکہ مکرمہ‘‘ میں آباد ہوگئے تھے، جن کی اولاد سے آگے چل کر فہر یا نضر بن کنانہ نے جنم لیا ، ان کی اولاد کو ’’قریش‘‘ کہاجاتا ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺکا تعلق اسی قریش کے قبیلہ سے تھا ۔آپؐ مؤرخہ 12 ؍ربیع الاوّل 20؍ اپریل 571 ء بمطابق یکم جیٹھ 628 بکرمی پیر کے دن صبح صادق کے بعد آفتاب نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کے وقت 4:25 منٹ پر اس دنیا میں تشریف لائے ۔ساتویں دن قربانی ہوئی ، جس میں تمام قریش کو دعوت دی گئی ۔

مزید پڑھیں

حکایت ِ مولانا رومؒ

گریہ ستون مسجد

حضرت محمدؐ ایک خشک خرما کے درخت کے ساتھ کھڑے ہو کر مسجد میں وعظ فرماتے تھے، پھر جب منبر بن گیا تو آپؐ اس پر تشریف فرما ہوئے۔ آپؐ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے کہ رونے کی اس طرح آواز آئی، جس طرح کوئی بچہ بے خود ہو کر گریہ و زاری کرتا ہے۔ مجلس وعظ میں حیرت چھا گئی کہ یہاں رونے والا کون ہے؟ آخر معلوم ہوا کہ یہ صدائے گریہ ستون مسجد سے آ رہی ہے اور وہی حنانہ (نالاں) ہے۔ حضورؐ منبر سے اتر کر ستون کے پاس آئے اور پوچھا روتے کیوں ہو؟ کیا چاہتے ہو؟ اس نے عرض کیا؛ حضورؐ کے غمِ فراق سے دل خون اور آتش ہجر سے جگر جل کر کباب ہو گیا ہے۔ آپؐ میرے ساتھ ٹیک لگا کر قیام فرماتے تھے اوراب مجھے چھوڑ کر منبر پر جا بیٹھے۔ میں روئوں نہ تو اور کیا کروں؟ حضورؐ نے فرمایا؛ اے پیارے درخت !تو بڑا خوش قسمت ہے، اب بتا کیا چاہتا ہے؟ اگر تو کہے تو پھر تجھے ہرا بھرا کر دیا جائے اور تو اس قدر پھلے کہ مشرق اور مغرب کے رہنے والے تیرے میوے سے شاد کام ہوں اور اگر تیری مرضی ہو تو تو دوسرے جہاں میں سروسہی بنا دیا جائے تاکہ تو وہاں ہمیشہ تروتازہ رہے۔ ستون حنانہ نے عرض کیا مجھے بقائے دوام مطلوب ہے۔ حضورؐ نے اسے زمین میں دفن کردیا کہ وہ روزِ قیامت آدمیوں کی طرح محشور ہو۔رسول اکرمؐ کی محبت اور خواہش بقائے دوام میں اے غافل! تو ستون سے کم نہ ہو ،جو خدا کا بندہ بن جاتا ہے، اسے اس دنیا کی کچھ محبت نہیں رہتی:

تابدانی ہر کہ ایزد آں بخواند

از ہمہ کار جہاں بے کار ماند

مزید پڑھیں

موت کو روکا نہیں جا سکتا، یہ برحق ہے ،مگر ناگہانی موت سے بچنے کا بھی حکم ہے۔آگ بھی ایک خوفناک حقیقت ہے ،دنیا بھر میں ہر سال آتشزدگی کے لاکھوں واقعات میں1.21 لاکھ افرادموت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔1990کی دہائی میں آتشزدگی سے ہلاکتوں کی تعدا دڈیڑھ گنا تھی مگر سائنسی ترقی کے بعد بہت سوں کوآگ سے بچالیا گیا۔

مزید پڑھیں

ٹی بی،ہیپاٹائٹس اور سڑکوں پر حادثات سے لاکھوں افراد سالانہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ مگر انسانوں کا ایک اور قاتل خاموشی سے ہر سال لاکھوں بچوں اور بڑوں کو مار رہا ہے، وہ ہماری نظروں میں بھی نہیں ہے، ہم اس سے غافل ہیں۔برطانوی جریدہ ’’لانسٹ‘‘(Lancet) نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں65 لاکھ افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں

٭:’’آزادی ‘‘کے نام پہ دھرنا بھی ۔۔۔جلسہ بھی۔۔۔ مارچ بھی ۔۔۔ کنٹینر بھی ۔۔۔تقریریں بھی ۔۔۔دھمکیاں بھی۔۔

مزید پڑھیں

امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ