☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(طاہر محمود) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) عالمی امور(محمد ندیم بھٹی) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(محمدریحان ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
Dunya Magazine
Loading...
Loading...
Loading...

دیگر خصوصی مضامین اور مستقل سلسلے

 ’’پس سیدھا کرو اپنا رخ سب طرف سے یکسو ہو کر دین حق کی طرف اللہ کی بنائی فطرت جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی نہیں، یہ دین ہے سیدھا پکا۔‘‘  

مزید پڑھیں

کورونا وائرس 29ممالک اور خطوں سے ہوتا ہوا ہمارے ہمسائے افغانستان اور ایران میں بھی پہنچ گیا ہے۔ مین لینڈ چائنا سے باہر کم از کم 1000کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ مین لینڈ چائنامیں اس پر قابو پالیا گیاہے وہاں نئے کیسز کی تعداد ایک ہزار سے گر کر 500کے قریب رہ گئی ہے۔ دوسرے ممالک میں انتظامات نہ ہونے کے باعث چین سے باہر زیادہ جانی نقصان ہو رہا ہے ۔    

مزید پڑھیں

 قدرتی آفات ایک عالمگیر حقیقت ہیں، زمانہ ازل سے  انسان کو غیرمعمولی قدرتی حادثات اور آفات کا سامنا رہا ہے۔ آج کے دور میں قدرتی آفات بڑے پیمانے پر انسانی زندگی کے ضیاع اور املاک کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں۔    

مزید پڑھیں

مدینۃ الاولیا ملتان کے پر رونق اور پر ہجوم حسین آگاہی بازار میں کبھی جانے کا اتفاق ہو تو ہمیں اس بازار کو گھیرے ’’ریڑھی والے ‘‘نظر آئیں گے دکانوں کے آگے یہ بازار ’’ریڑھی بازار ‘‘کہلاتا ہے وطن عزیز کے چند بڑے شہروں میں جہاں آبادی کی کثرت دیکھنے میں آئی وہاں ان ’’ریڑھی بازاروں ‘‘ نے بھی ترقی کرلی اس کا پس منظر یہ ہے کہ غریب طبقہ اور اس سے منسلک خواتین اپنی تمام شاپنگ ریڑھیوں سے کرتی ہیں۔    

مزید پڑھیں

 خطے کو ایک بڑی خوشی مبارک ہو۔جمعہ اورہفتہ کے روز بھی کافی سرگرمیاں رہیں ، مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔17جنوری کوامریکہ اور طالبان جنگ بندی پر آمادہ ہوگئے ہیں ۔دونوں نے خود جنگ کا آغازکیا تھا اب دونوں خود ہی جنگ بندی پر آمادہ بھی ہو گئے ہیں ۔۔دنیا کو امن مبارک ہو!    

مزید پڑھیں

محسن نقوی نے کیا خوب کہا تھا کہ    

مزید پڑھیں

      چھولے چاول اجزاء:اُبلے چھولے1/2کلو،پیاز چار عدد،ٹماٹر چار عدد،ثابت دھنیا(کُٹا ہوا)ایک کھانے کا چمچ،کُٹا ہوا زیرہ ایک کھانے کا چمچ،ادرک لہسن ایک کھانے کا چمچ،ہلدی ایک چائے کا چمچ،پسا دھنیا ایک کھانے کا چمچ،کڑی پتے آٹھ عدد،لال مرچ 2-3عدد،ہری مرچ چار عدد،ہرا دھنیا1/2گٹھی،تیل1/2کپ،پسی الائچی دو چائے کے چمچ، باریک کٹی ادرک ایک کھانے کا چمچ،پسا گرم مصالحہ ایک چائے کا چمچ    

مزید پڑھیں

نیم گرم پانی کے حیران کن فوائد سب ہی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ پانی پینا ہماری زندگی کے لیے کس قدر ضروری ہے،اور اسی لیے اکثر ڈاکٹر صحت مند زندگی کے لیے زیادہ پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں،لیکن کیاآپ اس بات سے واقف ہیں کہ صرف ٹھنڈا پانی ہی نہیں بلکہ نیم گر م پانی پینا بھی ہمیں متعدد حیرا ن کن فوائد پہنچا سکتا ہے۔  

مزید پڑھیں

 تاج محل محبت اور مودی نفرت کی نشانی ہیں:غیر ملکی ٹی وی کے مایہ ناز اینکر جان اوولیور نے اسی حوالے سے پورا ایک پروگرام نشر کیا،انہوں نے مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت اب پر امن ملک نہیں رہا ۔    

مزید پڑھیں

 یقین کامیابی کی بنیادہے اور شک ناکامی کی بنیادہے۔ دوسروں پریقین اور شک کاخاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب اللہ پر ایمان پختہ ہوایمان کامل ہو۔جب انسان کے دل میں ایمان گھر کرجاتاہے تووہ انسان کی سوچ اوراسکے ارادوں میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔    

مزید پڑھیں

بھارت میں انڈین پریمیئر لیگ شروع ہوئی تو پوری دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کو اس میں شامل کیا گیا۔ پاکستان سے شاہد آفریدی ، شعیب اختر، عمران نذیر، انضمام الحق، سہیل تنویر، کچھ عرصہ تک آئی پی ایل کا حصہ رہے لیکن بعد میں پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔    

مزید پڑھیں

مونا لیزا نے سارہ لورین کے نام سے ٹی وی ڈراموں میں عمدہ پرفارمنس کے ذریعے جو شہرت پائی ۔اس کا چرچا بولی ووڈ تک پہنچ گیا جہاں سنی دیول کی بطور ہیر و فلم ’’قافلہ ‘‘ میں سارہ لورین نے 2007 میں پہلی بار کسی بھارتی فلم میں کام کیا ،    

مزید پڑھیں

جیسا کرو گے ویسا بھروگے

 حکایت شیخ سعدیؒ   ایک راجہ بڑا بے رحم اور ظالم تھا۔ اپنی رعایا پر بہت ظلم اور تعدی روا رکھتا تھا۔ رعایا تنگ آکر ہمیشہ دست بد دعا تھی کہ کسی طرح ان کو ایسے ظالم کے ظلم سے پنا ہ ملے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ شکار کو گیا۔ جب واپس آیا تو اپنی بادشاہت میں سب جگہ منادی کرا دی کہ آج تک جو ظلم وستم میں اپنی رعایا پر کر چکا ہوں اس کی تلافی کرنا محال ہے لیکن آئندہ میری طر ف سے سب لوگ اطمینان رکھیں کہ ان کی کبھی کوئی حق تلفی نہ ہوگی اور نہ ان پر کبھی ظلم وستم ہونے پائے گا۔ مجھے کئی واقعات سے کافی عبرت مل گئی ہے۔ اب میں ظلم نہ کروں گا‘ اپنی رعایا کے حقوق کا خیال رکھوں گا۔ ان پر کسی طرح آنچ نہ آنے دوں گا اور اپنے کاموں سے ان کے دلوں کو اپنانے کی کوشش کروں گا۔ راجہ کی اس غیر معمولی منادی سے لوگوں میں ہلچل مچ گئی۔ لوگ راجہ کی عادتوں سے بخوبی واقف تھے۔ انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ ایک دن میں راجہ کی زندگی ایسا پلٹا کھا جائے گی کہ وہ ظلم سے دستبردار ہو کر رعایا کا بھی خیر خواہ بن جائے؟ مگر راجہ اپنے قول و اقرار پر قائم رہا۔ اس دن سے ملک کی بہبود میں مصروف ہوا کہ سب لوگ امن وآرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔ رعایا بھی اسے دل سے چاہنے لگی اور اس کی درازی عمر اور سلطنت کے قیام کے لیے دعائیں مانگنے لگی۔ وزیر ومشیر حیران تھے کہ راجہ میں یک لخت ایسی تبدیلی ہونے کی کیا وجہ ہے؟ ایک دن وزیر نے عرض کی کہ جہاں پناہ! اگر جاں بخشی ہو تو ایک سوال کروں؟ راجہ نے بڑی خوشی سے اجازت دی۔ وزیر نے عرض کی’’ عالی جاہ! ہم حیران ہیں کہ منادی کے دن سے آپ کیونکر ہر ایک برائی سے ہاتھ اٹھا کر لوگوں کی بھلائی میں ہمہ تن کوشاں رہنے لگے۔یہ اسرار ہمارے لیے معمہ ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر آپ سمجھا دیں تو نوازش شاہانہ سے بعید نہ ہوگا۔‘‘ راجہ نے فرمایا’’ اے وزیر! جس دن کا تم ذکر کرتے ہو میں جنگل میں شکار کھیلنے کے لیے گیا تھا۔ وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کتا لومڑی کے پیچھے دوڑا چلا جاتا ہے‘ آخر کتے نے لومڑی کی ٹانگ پکڑ لی۔ وہ غریب لومڑی ٹانگ کتے کے منہ میں چھوڑ کر جان بچا کر بھاگی۔ یہ تماشا دیکھ کر میں چند ہی قدم آگے بڑھا ہوں گا کہ ایک شخص نے دل لگی میں ایک پتھر اس طرح گھما کر مارا کہ کتے کا سر پھٹ گیا۔ایک گھوڑا سرپٹ دوڑتا ہوا آتا تھا‘ پتھر مارنے والا اس کے جھپٹ میں آ گیا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ گھوڑا بھی بہت دور نہ گیا تھا کہ خود اس کی ٹانگ ایک سوراخ میں پھنس کر ٹوٹ گئی۔ یہ ماجرا دیکھ کر میرے دل میں بہت سخت چوٹ لگی اور میری آنکھوں کے سامنے فوراً اپنی برائیوں اور بے رحمیوں کا نقشہ کھنچ گیا۔ میں نے سمجھ لیا کہ اس دنیا میں برے کام کا نتیجہ جلد ہی مل جاتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بدی کا انجام بدی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس دن سے دل پر چوٹ کھا کر برائی سے بچتا اور اپنی رعایا کی بہبود کی فکر میں رہتا ہوں۔‘‘ مثل مشہور ہے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔  

مزید پڑھیں

’’العظیم ‘‘ کی تاثیر اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات فہم و شعور کی رسائی سے بھی زیادہ بزرگ و برترہے۔ یعنی اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے اس کی بزرگی و بڑائی اور عظمت اتنی زیادہ ہے کہ انسان کی عقل اور اس کی فہم و شعور اس کی عظمت و بڑائی کا ادراک بھی نہیں کر سکتا۔اس اسم کو پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ عظمت الٰہی کے آگے کونین کو بھی حقیر جانے، دنیا کے لئے کسی کے آگے اپنا سر نہ جھکائے۔ اپنے نفس کو حقیر جانے اور اﷲ تعالیٰ نے جن چیزوں کو کرنے کا حکم کیا ہے ان کو اختیار کر کے اور جن چیزوں سے بچنے کا حکم دیا ہے ان سے اجتناب کرے اور جو چیزیں خدا کو محبوب ہیں ان میں مشغول رہے۔ تاکہ خدا کی رضا و خوشنودی حاصل ہو۔خاصیت:جو شخص اس اسم پاک کو پڑھنے پر مداومت و ہمیشگی اختیار کرے وہ مخلوق خدا کی نظروں میں عزیز و مکرم ہو گا۔     

مزید پڑھیں

رنگ پڑھتے تھے آنچلوں میں اُسے ۔۔۔۔

دنیا فیشن

ماڈل : پلواشہ
فوٹو گرافی : عامر چشتی
میک اپ : K R CREW