☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(ڈاکٹر اسرار احمد) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) غور و طلب(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(ڈاکٹر محمد نوید ازہر) متفرق(ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا دلچسپ رپورٹ(خالد نجیب خان) زراعت(صابر بخاری) سپیشل رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) کھیل(منصور علی بیگ) طب(حکیم نیازاحمد ڈیال) تعلیم(عرفان طالب) صحت(نغمہ اقتدار) سیاحت(وقار احمد ملک)
Dunya Magazine
Loading...
Loading...
Loading...

دیگر خصوصی مضامین اور مستقل سلسلے

 کلام اللہ کی بھی وہی کیفیت اور تاثیر ہے جو کیفیت و تاثیر تجلی ذاتِ الٰہی کی ہے، اس لئے کہ قرآن اللہ کا کلام اور اللہ کی صفت ہے، تو تجلی ذات میں کوئی فرق نہیں

مزید پڑھیں

 رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کی دعا جو دوسرے عشرے کے اختتام تک روزہ داروں اور نمازیوں کے زبان زدِ عام ہے :  ترجمہ:’’ میں اللہ سے تمام گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں جو میرا رب ہے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں‘‘۔  

مزید پڑھیں

مکمل لاک ڈائون یا سمارٹ لاک ڈائون ۔ ۔ ؟  لاک ڈائون ہونا چاہیے یا نہیں ۔۔۔جواب کسی کے پاس نہیں ۔  لگتا ہے ڈاکٹرز ، ماہرین اور عالمی ادارے کسی اور پیج پر ۔۔۔اور عوام، تاجروں  میں بحث کسی اور پیج پر ہو رہی ہے ۔۔جواب اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جا رہا ہے ۔۔۔کیونکہ اکیلے کورونا سے مقابلہ نہیں ، بھوک ، غربت ، بے روزگاری نے بھی سر ُاٹھا لیا ہے۔۔۔    

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کی وبائی بیماری نے اس وقت پورے کرہ ارض کو جکڑا ہواہے ، مگراس موقع پر یورپی ملک سوئیڈن ایک محدودپیمانے پر لاک ڈاون کرکے اپنے پڑوسی ممالک کے درمیان کھڑا ہے۔    

مزید پڑھیں

 مشکل حالات ، غیر یقینی صورت حال میں سخت فیصلے او ر فی الفور عملی نفاذ ریاست کا استحقاق ہے۔ شہریوں کی جان ومال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ وبائی حالات میں شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کیلئے ریاست سخت ترین اقدام سے بھی گریز نہیں کرتی۔    

مزید پڑھیں

 میری طلب بھی انہی کے کرم کا صدقہ ہے ،یہ قدم اٹھتے نہیں اٹھا ئے جاتے ہیں۔رمضان المبارک کی ابتدا ہے اور ہر کوئی اس مہینے کی برکات حاصل کرنے کیلئے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق سحری و افطاری کا اہتمام کرتا ہے کرنا بھی چاہئے کہ بیشک رمضان المبارک تمام مہینوں میں سے افضل ترین مہینہ ہے اور اس مہینے میں عبادت کی جو فضیلت و اہمیت ہے بلاشبہ وہ کسی حجت کی محتاج نہیں۔    

مزید پڑھیں

 کورونا وائرس دیکھتے ہی دیکھتے ایک ناگہانی وبا ء کی صورت اختیار کر چکا ہے اور آناً فاناً پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔    

مزید پڑھیں

 گوگا بنیادی طور پر ایک پہلوان ہے اور اپنے اکھاڑے سے اس کی وابستگی اتنی ہی گہری ہے جتنی اپنے خاندان سے ہے۔ یوں وہ ایک خاندانی پہلوان ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو اس کا اکھاڑا رہا ہے نہ ہی خاندان بچا ہے۔ دونوں کی مدتوں پہلے اکھاڑ پچھاڑ ہو چکی ہے۔    

مزید پڑھیں

 سال رواں کے آغاز تک یہ تصور بھی محال تھا کہ سماجی اور معاشی سرگرمیاں پوری دنیا میں محدود ہوجائیں گی۔۔ چند ماہ میں ہی کورونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کے لوگوں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشرتی طور پر خود میل جول میں فاصلہ رکھیں اور گھروں سے کام کریں۔    

مزید پڑھیں

نہ جانے کون سے لمحے میں ۔۔۔ہم سب راکھ ہو جائیں چلو کچھ کام کر جائیں۔۔۔کسی کے کام آجائیں کوئی رستہ سُجھا جائیں ۔۔۔کوئی بستہ تھما جائیں کسی کی رہنمائی اور۔۔۔کسی کا گھر بنا جائیں کہیں فکری ضرورت ہے۔۔۔کہیں عملی ضرورت ہے نئی فکریں جگا جائیں ۔۔۔چلو کچھ کام کر جائیں

مزید پڑھیں

 بھنی کلیجی کا سالن اجزاء: بیف کلیجی1/2کلو،دہی ایک پائو،پیاز دو عدد،پسی لال مرچ ایک چائے کا چمچ،کُٹی لال مرچ ایک چائے کا چمچ،ہلدی ایک چائے کا چمچ،قصوری میتھی ایک کھانے کا چمچ،لہسن ایک کھانے کا چمچ،ادرک لہسن پیسٹ دو چائے کے چمچ،ہرا دھنیا 1/2گٹھی،ہری مرچ چار عدد،لیموں کا رس دو کھانے کے چمچ،پسی اجوائن ایک چائے کا چمچ،نمک ایک چائے کا چمچ،تیل1/2کپ    

مزید پڑھیں

آئس لینڈ میں گذشتہ دنوں کوروناوائرس کی وجہ سے9افرادکی موت کی خبر ملنے کے بعد وہاں کے محکمہ جنگلات نے اپنے ملک کی عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جنگلات میں جا کر درختوں سے بغلگیر ہوں۔

مزید پڑھیں

صبح سویرے ماں جی کی آواز کانوں سے ٹکراتی کہ اٹھو نماز پڑھو اور قرآن پاک پڑھنے کیلئے مسجد جائو۔ گرمیوں میں گائوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی اور دلکش صبحوں کا اپنا ہی نظارہ ہوتا ہے جو مشام جاں کو معطر کردیا کرتی تھی۔

مزید پڑھیں

           کوویڈ ۔19کا عذاب بدستور دنیا کے سر پر منڈلا رہا ہے ، یہ وہ وبا ء ہے جس نے دنیا کی ترقی کا راز ایسے ا فشا کیا کہ ہر ملک اور ہر طاقت کو اپنی صلاحیت نظر آ گئی ،    

مزید پڑھیں

 کسی بھی سڑک یا شاہراہ پر دوران سفر ’’رانگ سائیڈ ‘‘سے سامنے آنے والا کوئی شخص اچانک آپ کو بوکھلاہٹ کا شکار تو کر ہی سکتا ہے لیکن اس کی جانب سے گھورنا زیادہ حیران کن ہوتا ہے    

مزید پڑھیں

امراض خواہ وبائی ہوں یا موسمی یا پھر غذائی بے اعتدالی اور روزمرہ معمولات کی کمی وکوتاہی کے نتیجے میں سامنے آئیں تکلیف دہ ہی ہو اکرتے ہیں،لیکن وبائی امراض اس لحاظ سے خطرناک ثابت ہوتے ہیں کہ اکثرو بیشتر یہ لا علاج ہواکرتے ہیں اور ہیلتھ سسٹم میں موجود ادویات اور طریقہ کار ان پر کار گر نہیں ہو پاتے۔

مزید پڑھیں

یہ اس زمانے کی بات ہے جب گاؤں میں مسجد کے خطیب بچوں کو قران شریف پڑھانے کے ذمہ دار ہوتے تھے۔ ان کی زوجہ محترمہ بچیوں کو پڑھانے کا فریضہ سر انجام دیتی تھیں۔    

مزید پڑھیں

 کرونا وبا ء نے جہاں پوری دنیا کومتاثرکیاہے وہاں ہماری ریاست، سیاست اورمعاشرت پربھی گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ ایسادکھائی دیتاہے کہ اس سے پاکستانی ریاست کی شکل میں تبدیلی ناگزیر ہے۔    

مزید پڑھیں

  صحرائے گوبی زمین کے بڑے صحرائوں میں سے ایک ہے۔ یہ صحرا اپنے حسن، وسعت، موسم اور طلسماتی ماحول کے باعث ہمیشہ سے دلچسپی اور کشش کا حامل رہا ہے۔

مزید پڑھیں

تیرے در کی فضاؤں کو سلام

 تابندہ خالد اسلامی ریاست میں مسجد کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور اقامت الصلوٰۃ اسلامی حکومت کا پہلا کام ہوتا ہے۔حضرت آدمؑ زمین پر اﷲ رب العزت کے پہلے خلیفہ تھے۔ انہوں نے بھی حضرت جبرائیلؑ کی راہنمائی میں مکہ مکرمہ میں دنیا کی پہلی مسجد بنائی تھی۔ تعمیر کعبہ سے آغاز کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ مقصود تھا کہ خلافتِ اسلامیہ کا پہلا بنیادی کام نظامِ مساجد اور مراکز عبادت کا انتظام و اہتمام ہے۔ پہلے نبیؑ کی طرح آخری نبی محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مدینہ منورہ میں پہلا کام یہ کیا کہ قبا میں اپنے مبارک ہاتھ سے مسجد قبا کا سنگ بنیاد رکھا اور پھرمسجدِ نبویؐ کی تعمیر مکمل کی۔ اس کے بعد اپنے لیے حجرے بنوائے۔ دنیادار اور بادشاہ پہلے اپنے لیے محل بنواتے ہیں اور اس کے بعد اور کام کرتے ہیں لیکن اسلامی ریاست کے سربراہ سرورِ کائنات صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے مساجد کی تعمیر کروائی اور پھر دوسری حوائج کی طرف متوجہ ہوئے۔ مدینہ میں قیام کے بعد سب سے پہلا کام ایک خانہء خدا کی تعمیر تھی۔ اب تک یہ معمول تھا کہ مویشی خانہ میں (یا جہاں موقع ملتا تھا) آپ نماز پڑھا کرتے تھے۔ دولت کدہ کے قریب خاندان نجار کی زمین تھی جس پر کچھ قبریں تھیں، کچھ کھجور کے درخت تھے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو بلا کر فرمایا: ’’میں یہ زمین بہ قیمت لینا چاہتا ہوں‘‘۔ وہ بولے کہ ’’ہم قیمت لیں گے لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم  سے نہیں بلکہ خدا سے‘‘۔ چونکہ اصل میں وہ زمین دو یتیم بچوں کی تھی، آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے خود ان یتیموں کو بلا بھیجا۔ ان یتیم بچوں نے بھی اپنی کائنات نذر کرنی چاہی لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے گوارا نہ کیا۔ اس مقام کے نشیب و فراز کو دور کر کے اس کی سطح برابر کر دی جو درخت بے موقع تھے کاٹ ڈالے پھر مسجد کی بنیاد رکھی۔ بقیع کے قریب، مسجد ابراہیم کے شمالی جانب، بیرایوب کے پاس اینٹیں تیار کی جاتی تھیں۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم بہ نفس نفیس اور صحابہؓ کا ایک گروہ اینٹ پتھر ڈھوتے تھے۔ صحابہؓ کے شوق اور تسلی کی خاطر آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم  یہ پڑھتے تھے۔ ’’اے اﷲ! کامیابی صرف آخرت کی کامیابی ہے۔ اے اﷲ! انصار و مہاجرین کو بخش دے۔‘‘  یہ مسجد سادگی کا بہترین نمونہ تھیں۔ مسجد کی چھت کھجور کی چھال سے اور ستون کھجور کی لکڑیوں سے تیار کیے گئے۔ حدیث میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی بنیاد رکھ رہے تھے تو جبرائیلؑ امین خدا کی جانب سے حکم لائے کہ اس کا عریش موسیٰ کلیم اﷲ کے عریش کے مطابق بنائیے اس کی بلندی سات گز سے زیادہ نہ ہو اور اس کی تزئین اور آرائش میں تکلف کا کام نہ کیا جائے۔  حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مسجد کی چھت ایسی تھی کہ اگر بارش ہوتی تو اوپر سے لوگوں کے سر پر مٹی گرا کرتی تھی۔ جب پہلے پہل مسجد نبویؐ کی بنیاد ڈالی گئی تھی تو اس کی نیوکا طول قبلہ سے حدِ شمال تک چون گز اور مشرق سے مغرب تک تریسٹھ گز تھا۔ سید امیر علی مسجد نبویؐ کی بناوٹ کے متعلق لکھتے ہیں کہ: ’’مسجد کی وضع قطع اور بناوٹ ہر قسم کے تکلفات سے بری الزمہ اور مذہب اسلام کی سادگی کی تصویر تھی۔ دیواریں کچی اینٹوں کی تھیں اور ان پر برگ خرما کا چھپر تھا۔ مسجد کا ایک حصہ ان لوگوں کے رہنے سہنے کے لیے مخصوص کر دیا گیا جن کا اپنا کوئی گھر بار نہ تھا۔ اس غریبانہ عبادت گاہ میں ہر کام نہایت سادگی سے کیا جاتا تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم زمین پر کوئی فرش بچھائے بغیر نماز ادا کرتے اور کھجور کے ایک ستون کے سہارے کھڑے ہو کر وعظ فرماتے اور جو جان نثار آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد جمع تھے ان کے دل آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے روح کی گہرائیوں میں تلاطم پیدا کر دینے والے الفاظ کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دھڑکنے لگتے‘‘۔ مسجد نبویؐ جب تعمیر ہو چکی تو مسجد سے متصل ہی آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ازواج مطہرات رضی اﷲ عنہما کے لیے مکان بنوائے اس وقت تک حضرت سودہ رضی اﷲ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا عقد نکاح میں آچکی تھیں۔ اس لیے دو ہی حجرے/مکانات بنے جب اور ازواج مطہرات رضی اﷲ عنہما آتی گئیں تو اور مکانات بنتے گئے۔ یہ مکانات کچی اینٹوں کے تھے ان میں سے پانچ کھجور کی ٹٹیوں سے بنے تھے جو حجرے اینٹوں کے تھے ان کے اندرونی حجرے بھی ٹٹیوں کے تھے۔ ترتیب یہ تھی کہ حضرت ام سلمہؓ، حضرت ام حبیبہؓ، حضرت زینبؓ، حضرت جویریہؓ، حضرت میمونہؓ، حضرت زینبؓ بنت حجش کے مکانات شامی جانب تھے اور حضرت عائشہؓ، حضرت صفیہؓ، حضرت سودہؓ کے مکانات مقابل جانب تھے۔ یہ مکانات چھ چھ، سات سات ہاتھ چوڑے اور دس دس ہاتھ لمبے تھے۔ چھت اتنی اونچی تھی کہ آدمی کھڑا ہو کر چھت کو چھو لیتا تھا۔ دروازوں پر کمبل کا پردہ پڑا رہتا تھا۔ راتوں کو چراغ نہیں جلتے تھے۔  

مزید پڑھیں

چلو کچھ کام کر جائیں۔۔۔کسی کے کام آجائیں

دنیا فیشن

ماڈل : اقراء
فوٹو گرافی : عامر چشتی
میک اپ :K R CREW