☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم نیازاحمد ڈیال) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(ایم آر ملک) کھیل(منصور علی بیگ) دنیا کی رائے(فرحان شوکت ہنجرا) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) ستاروں کی چال()
Dunya Magazine
Loading...
Loading...
Loading...

دیگر خصوصی مضامین اور مستقل سلسلے

 ہمدردی، رحم، فیاضی اور فراخ دلی کی ہمیشہ قدر کی گئی ہے۔ خود غرضی، سنگ دلی، بخل اور تنگ نظری کو کبھی عزت کا مقام حاصل نہیں ہوا۔ صبر و تحمل، اخلاق و بُردباری، اولوالعزمی و شجاعت ہمیشہ سے وہ اوصاف رہے ہیں جو داد کے مستحق سمجھے گئے

مزید پڑھیں

 جولائی کے آخر ، اگست میں کورونا کیسز عروج پر ہونگے ،فرنٹ لائن پر حالات تسلی بخش نہیں،بے احتیاطی کی تو سب کی زندگی اور ملک کو خطرے میں ڈالیں گے

مزید پڑھیں

 امراض خواہ وبائی ہوں یا موسمی ہر دو طرح کی پیدائش اور افزائش میں ہماری خوردو نوش کی عادات، غذائی معمولات،طرز بود و باش ،معاشرتی طور طریقے،سماجی میل جول، جسمانی حرکات وسکنات، ذہنی کیفیات، روحانی معاملات اور ہمارے ماحولیات کو بنیادی عمل داخل حاصل ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

  سراج الدین ظفر نے کیا خوب کہا تھا کہ ذوقِ نمُو کو منزلِ دوست میں آکے بھول جا اِس طرح بے نیاز ہو سر کو جُھکا کے بھول جا داغِ فراق کے سِوا حاصلِ عشق کچھ نہیں پردۂ جان و دل میں یہ شمع جلا کے بھول جا اُس کے حریم ِ ناز تک کوئی پہنچ سکا کہاں راہ گزارِ شوق کی خاک اُڑا کے بھول جا

مزید پڑھیں

  تانگہ کی تاریخ قدیم سنگی دور کا خاتمہ دس ہزار سال پہلے شروع ہوتا ہے اس دور کا انسان جانور مثلاً بھیڑ ،بکریاں اور گھوڑے وغیرہ پالتا تھا پہیہ بھی اسی دور میں معرض وجود میں آچکا تھا تب پہیہ پہلی بار کسی خاص مقصد کیلئے استعمال ہوا اور دو پہیوں سے چھکڑا بنانے کا کام لیا گیا اس چھکڑے کو گھوڑے اور بیل کھینچتے تھے جو سواری اور بار برداری کیلئے استعمال کیا گیا گھوڑے گاڑی کو تانگہ کا نام دیا گیا جو اشوریوں کے عہدِ حکمرانی میں ایجاد ہوا

مزید پڑھیں

  پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی چپقلش کوئی نئی بات نہیں لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کھیلوں اور شوبز سمیت اب کسی بھی سطح پر تعلقات بہتر نہیں رہے اور حد تو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے کھلاڑیوں میں قائم پرانی دوستی بھی داؤ پر لگ چکی ہے جس کی وجہ ظاہر ہے کہ بھارتی حکومت کا رویہ ہی ہے جو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے اور دشمنی پر مبنی بیانات کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اور اس طرز عمل کی حمایت بھارت میں رہنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کو کرنا ہی پڑتی ہے جو اکثر اوقات حقائق کے منافی باتیں کرتے ہوئے حد سے گزر جاتے ہیں

مزید پڑھیں

 ملک میں ٹڈی دل کے حملوں نے کسان کا برا حال کر دیا ہے جس سے فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے جس کی وجہ زراعت میں ناکام پالیسیاں نافذ کرنا ہے۔ زرعی سیکٹر کا جی ڈی پی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے تاہم ایگری کلچر سیکٹر اب بھی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ تمام حکومتوں نے زراعت کو نظر انداز کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ موسمی تبدیلیاں اور حشرات کے حملوں نے کسانوں کو ناقابل تلافی معاشی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ریسرچ کا نہ ہونا آبپاشی کے نظام کو جدید تقاضوں پر آپریشنل نہ کرنا اور ناکام حکومتی پالیسیوں سے نہ تو روایتی فصلوں کی پیداوار بڑھی اور نہ ہی کسانوں کی توجہ دیگر غیر روایتی کیش کراپس کی جانب دلوائی گئی ہے۔

مزید پڑھیں

  کورونا وائرس کے آنے سے پہلے ہی ملکی معیشت ہچکولے کھا رہی تھی جس کو کورونا نے آکر ایک ہی دھکے میں گرا دیا ہے۔ہماری معیشت مزید کسی بھی دھچکے کی متحمل نہیں ہے۔کورونا وائرس نے معیشت کا جنازہ تو نکال دیا ہے مگر اس کی وجہ سے ہم غذائی قلت کا شکار ہونے سے ابھی تک بچے ہوئے تھے،لیکن ٹڈی دل کے اس نئے عذاب نے اس غذائی بحران کے پیدا ہونے کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں

 25مئی کو ایک سیاہ فام باشندے جارج فلائیڈ کی پولیس تشدد سے ہلاکت کے بعد31مئی 2020ء تک نیشنل گارڈز کے 30 ہزارارکان اور 1600باقاعدہ فوجی مختلف ریاستوں میں پہنچ گئے تھے۔بعد ازاں فوج کے علاوہ نیشنل گارڈز کی تعداد 66700 ہو گئی ،اکثر کورونا سے بچائو کے لئے لائے گئے تھے ،جن کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ امریکی سڑکیں ’’میدان جنگ ‘‘ کا منظر پیش کرنے لگی تھیں۔جس پر امریکہ کے 16شہروں میں کرفیو لگانا پڑا جبکہ کل 23ریاستوں میں نیشنل گارڈز(فوج )بلانا پڑی۔نیشنل گارڈز بھی دراصل فوج ہی کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھیں

  سورج گرہن کا یہ سائیکل 19سال بعد آیاہے ۔19جون 2001کو بھی ایساہی ہوا تھا ۔ ہم 19سال بعد نائن الیون جیسی صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ فل مون چاند گرہن اور اس کے بعد سورج گرہن اہم خفیہ معلومات منظر عام پر آنے کی علامت ہوسکتے ہیں،دنیا بھر میں غیر متوقع نئی تبدیلیوں کا امکان ہے ۔ چاند برج جدی کے خانے میں ہے لیکن یہ برج جدی میں مشکلات پیدا ہونے کا اشارہ بھی ہوسکتا ہے ، دوسروں سے بات چیت میں مسائل رونما ہونے کی علامت ہے، کسی بھی رہنما کا غیر منطقی رویہ عالمی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

اُس کے حریم ِ ناز تک کوئی پہنچ سکا کہاں ۔۔۔۔

دنیا فیشن

ماڈل : صائمہ آذر
فوٹو گرافی : عامر چشتی
میک اپ : K R CREW